showcase demo picture

موروثی اور لاعلاج بیماریاں – ہومیوپیتھی اور ہومیوپیتھک نقطہ نظر

فی زمانہ بنی نوعِ انسان انواع و اقسام کی بیماریوں سے جتنی پریشان آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ عجیب و غریب ناموں سے طرح طرح کی خوفناک بیماریاں سامنے آ رہی ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق جینز کی خرابی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ان پر لا علاج کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ یا کچھ حد تک سرجری کی مدد لی جاتی ہے۔ تاہم طبِ ایلوپیتھی ایسی لا علاج اور آٹو امیون بیماریوں کا حتمی حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ لوگ تشخیص تو بہت اچھی کر لیتے ہیں لیکن اس کے بعد ان کی کارکردگی کے آگے بہت بڑا سوالیہ نشان موجود ہے جو آئے دن اور بڑا ہوتا جا رہا ہے۔ یہاں ہم ہومیوپیتھی طریقِ علاج کے بارے میں کچھ بیان کرناضروری سمجھتے ہیں۔ ہماری سوچ اور معلومات کی مطابق مذکورہ بیماریوں میں ہومیوپیتھی نہایت مثبت رول ادا read more [...]

بے اولادی، ہارمون سسٹم کے مسائل اور ہومیوپیتھک علاج کے تقاضے – ایک خط اور جواب – حسین قیصرانی

السلام علیکم ڈاکٹر حسین قیصرانی صاحب میرا مسئلہ بے اولادی ہے۔ میری شادی کو تقریبا دس سال ہو گئے ہیں۔ شادی کے چار سال بعد ایک بیٹا ہوا تھا۔ میں اس کے بعد اب تک حاملہ نہیں ہو سکی۔ بظاہر کوئی خرابی بھی نہیں ہے۔ پہلی دفعہ بھی ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر نے ایام کے بعد کچھ عرصہ تک مجھے اور میرے شوہر کو کھانے کی دوا دی تھی۔ جس سے میں نے کنسیو کر لیا تھا۔ اب وہ ہومیوپیتھی ڈاکٹر حیات نہیں ہیں۔ میری عمر اس وقت 36 سال ہے۔ ماہانہ ایام بہتر ہیں۔ تقریبا ہر ماہ اپنے وقت پہ آتے ہیں مگر دو دن میں ہی مکمل ختم ہو جاتے ہیں۔ چہرے پہ فالتو بال بڑھتے جا رہے ہیں۔ مہربانی مجھے مزید اولاد ہونے کے لیے کوئی نسخہ تجویز کر دیں۔ مجھے ہومیوپیتھک دوا راس آتی ہے۔ میرے شوہر کے لیے بھی اگر کوئی دوا تجویز read more [...]

خود اعتمادی کی کمی – فیڈبیک، ہومیوپیتھک دوا اور علاج – حسین قیصرانی

آئیے آج آپ کو مسٹر ۔۔۔۔۔ سے ملواتے ہیں۔ یہ پنجاب کے مشہور کاروباری، سماجی اور سیاسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ عمر چوبیس سال ہے مگر لگتے بیس سال کے بھی نہیں۔ بہت ہی نفیس طبیعت کے مالک ہیں۔ آواز، انداز اور چال ڈھال سے بھی نزاکت جھلکتی ہے۔ پرورش بڑے ناز و نعم سے ہوئی کیونکہ گھر کے اندر اہم کردار اور کنٹرول والدہ ہی کا رہا۔ باہر کے معاملات کے لئے نوکر چاکر اور خدمت گار ہمہ وقت میسر تھے۔ انہیں طنز و طعنہ کے نشتر سہنے پڑے کہ تم لڑکیوں کی طرح ہو۔ لڑکوں کی عجیب نظروں اور چھیڑ چھاڑ سے وہ بچپن ہی سے ڈسٹرب رہتے تھے؛ اِس لئے سکول کالج سے سیدھا گھر ہی پہنچتے۔ والدہ اور بہنوں کے ساتھ ہی اُن کا وقت گزرتا۔ باہر کے کھیلوں اور دوستداریوں سے کوئی شغف نہ تھا سو پڑھائی پر بھرپور توجہ read more [...]

میرے علاج کا طریقہ کار اور فیس – ایک خط اور اُس کا جواب – حسین قیصرانی

حسین قیصرانی صاحب! السلام علیکم امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کی ویب سائٹ کا تفصیل سے مطالعہ کیا، ان تحاریر سے آپ اچھے، دیانت دار اور مخلص معلوم ہوتے ہیں۔ میں کچھ مسائل میں مبتلا ہوں، اگر آپ کو مختصر انداز میں تمام باتیں لکھ دوں تو کیا آپ مجھے ہومیو دوائی تجویز فرما دیں گے تاکہ صحت یاب ہو سکوں۔ امید ہے آپ جواب ضرور عنایت فرمائیں گے، بندہ منتظر اور ممنون رہے گا۔ والسلام ---------- محترم --------- وعلیکم السلام آپ کے جذباتِ خوش گمانی کا شکریہ آپ نے مجھے اچھا، دیانت دار اور مخلص سمجھا ہے تو میری ان خصوصیات کا تقاضا ہے کہ آپ کو واضح بتا دوں کہ ہومیوپیتھک دوائی بتانے سے آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہونا۔ دوائی بتانے کا فائدہ صرف تب ہوتا ہے کہ جب تکلیف محض وقتی اور عارضی ہو یعنی read more [...]

فسچولا یا ناسور – ہومیوپیتھک دوا اور علاج – حسین قیصرانی Anal Fistula

فسٹولا / فسچلا / فسچولا لاطینی زبان میں پائپ یا نلی کو کہتے ہیں۔ میڈیکل کی اصطلاح میں یہ وہ نالی یا غیر قدرتی راستہ ہوتا ہے کہ جو جسم کے اندرونی دو اعضاء کے درمیان یا جسم کے کسی اندرونی حصہ سے باہر کی سطح تک پیدا ہو جاتا ہے۔ فسٹولا یا فسچولا کئی قسم کا ہوتا ہے مثلاً دانت، ہڈی (گھبیر)، ناف اور آنسو کی تھیلی کا ناسور یا فسچولا۔ ہمارے ہاں عام طور پر اِس سے مراد مقعد کا ناسور لیا جاتا ہے۔ مقعد کے ناسور (Anal Fistula) کو بھگندر بھی کہتے ہیں۔ یہ دراصل پرانا زخم ہوتا ہے جس سے پتلا یا گاڑھا مواد (پیپ یا خون آلود پیپ) بہتا رہتا ہے۔ بعض اوقات یہ بہت بدبودار ہوتا ہے۔ اگر یہ بہتا رہے تو تکلیف یا درد نہیں ہوتا۔ اگر مواد بہنا رک جائے تو بہت تکلیف دیتا ہے۔ اِس کا بہنا ختم ہونے کا نام ہی read more [...]

Tarentula hispanica (tarent.) – ٹیرنٹولا – the-essence-of-materia-medica-george-vithoulkas/

Tarentula hispanica, although it has many symptoms in common with other remedies mentioned, it also has a particularly distinctive personality. The primary focus of action of Tarentula, especially in the first stages, is on the nervous system. The nervous system in Tarentula seems wound up tight like a coiled spring, tense with boundless energy which must be expended to prevent it from breaking. The Tarentula patient is compelled to be busy, to act, to move constantly without ceasing. The early stages may be found most characteristically in people in occupations requiring much detailed work while under great pressure and responsibility, such as air traffic controllers or news journalists confronted with deadlines. The constant pressures results in a keyed up, oversensitive nervous system. Like Nux vomica, the Tarentula patient may initially be a compulsive worker. Such people seem to have super-human stamina, capable of and even compelled to work day and night, perhaps without sleep for weeks on end. They are industrious, capable, efficient; but unlike Nux vomica which is driven by a mental ambition and competitiveness, the Tarentula patient is driven by the nervous tension, the read more [...]

Platinum Metallicum (plat.) – پلاٹینا پلاٹینم میٹالیکم – The essence of Materia Medica George Vithoulkas

Platina is a remedy which exemplifies the process of perversion of an conflict between normal functions which can occur in a particular type of individual. The Platina patient, on the one hand, is driven by a powerful, excessive sexual desire; on the other hand, she is strongly idealistic and romantic in her amorous relationships. The tension, and eventual conflict, between these two aspects of her nature, the repeated disappointments, inevitable for a person of such intensity and sensitivity, leads to the pathology which is the essence of this remedy. As a general rule, Platina most readily affects a particular personality type. Physically, this person tends to be lean, of dark hair, eyes, and complexion. The face is usually round, with full sensual lips. It most readily affects women of a sensitive nature, at once sensual and idealistic. In children, the Platina type may display the traits of pride and integrity. The Platina pathology shows itself on two levels, primarily the sexual and the mental. From a young age, the Platina woman feels a strong sexual desire, which can be distractingly intense. Throughout life, and beginning at a young age, there may be great hyperaesthesia read more [...]

دبلی پتلی اور کمزور جسم نوجوان بچی کا ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی

آج ایک بچی کا کیس ڈسکس کرتے ہیں جس کی عمر تیرہ سال ہے اور وہ کئی قسم کے ذہنی، جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ اُس کے والدین کراچی کے تھے تاہم گذشتہ بیس سال سے لندن میں ہیں۔ بیٹی وہیں پیدا ہوئی، پلی بڑھی ہے۔ برطانیہ میں ایسے بچوں کو برٹش بارن (British Born) کہا جاتا ہے۔ یہ بچی بہت ذہین ہے اور محنتی بھی۔ اُس کا قد ابھی سے ہی اپنے ماں باپ سے بڑا ہے تاہم وہ بہت زیادہ دبلی پتلی اور سمارٹ ہے۔ اُس کی ماں کے بقول ایسے جیسے کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو۔ کھایا پیا اُس کے جسم کو لگتا ہی نہیں۔ ہر وقت ڈسٹرب، بے چین اور غصہ سے بھری رہتی ہے۔ ذرا سی بات کسی نے کہہ دی تو منہ بسور کر رونا دھونا شروع کر دیتی ہے۔ بات مزاج کے ذرا سا خلاف ہو تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔ کسی کام یا چیز read more [...]

بخار – ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج – حسین قیصرانی

ہومیوپیتھک علاج کا بنیادی اصول تو یہی ہے کہ کسی بھی معاملہ یا تکلیف کو اچھی طرح سمجھ کر یعنی علامات کے مطابق دوا دی جائے۔ تاہم ایمرجنسی یا وقتی (Acute) تکالیف کے حوالہ سے ہر وقت ایسا ممکن نہیں ہو پاتا۔ ظاہر ہے کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز تک رسائی بھی بعض اوقات ممکن نہیں ہو پاتی۔ میری تحریروں کا مقصد ہومیوپیتھی کو آسان ترین انداز اور زبان میں عام کرنا ہے تاکہ وقتی تکالیف میں سادہ ترین دوا سے مسئلہ حل کیا جا سکے۔ ہمارا آج کا موضوع وقتی یا موسمی بخار ہے۔ بخار کی تکلیف پرانی ہو یا بار بار ہوتی ہو تو ڈاکٹر کے مشورہ سے ہی علاج ہونا چاہئے۔ اگر بخار کے پیچھے کوئی خاص وجہ نہ ہو؛ تو مندرجہ ہومیوپیتھک دواؤں میں سے علامات کے مطابق جس دوا کی ضرورت ہو تو دن میں تین چار مرتبہ دینے سے read more [...]

نیند سے بار بار جاگنا – ہومیوپیتھک دوا اور علاج – حسین قیصرانی

بلی کی طرح سونا جاگنا مریض بتاتا ہے کہ میں سوتا جاگتا رہتا ہوں۔ اُس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ دو تین گھنٹے سونے کے بعد مکمل جاگ جاتا ہے۔ یعنی ہر رات وہ تین چار بار جاگتا ہے اور نیند پوری طرح کھل جاتی ہے اور وہ نئے سرے سے سوتا ہے۔ اسے بلی کی طرح سونا جاگنا کہتے ہیں۔ یہ علامت Rubric ہومیوپیتھک لٹریچر میں نہیں تھی۔ جارج وتھالکس George Vithoulkas نے اسے شامل کیا ہے۔ وتھالکس لکھتا ہے کہ مریض سوتا جاگتا، سوتا جاگتا اور سوتا جاگتا رہتا ہے۔ اس سونے جاگنے میں پوری طرح جاگنے کی خصوصیت بہت ضروری ہے۔ مریض جس وقت بھی جاگے؛ پوری طرح جاگتا ہے۔ وہ ہر تین چار بار مکمل جاگتا ہے۔ اتنا جاگتا ہے کہ اپنا کوئی چھوٹا موٹا کام کر لیتا ہے یا باقاعدہ اُٹھ کر کھاتا پیتا ہے اور پھر سو جاتا ہے۔ ایسے مریضوں read more [...]
About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]