showcase demo picture

مائیگرین، درد شقیقہ یعنی آدھے سر کا درد ۔ کامیاب کیس، ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج ۔ حسین قیصرانی

وہ مرکز تھی
کالج کی ساری سکھیوں کا
کیوں نہ ہوتی
وہ تھی ہی ایسی
قدرت نے دلکش رنگوں سے
اسے تراشا تھا
کشمیری چہرے پہ آنکھیں
غزل سناتی تھیں
ہنستی تھی تو
جھرنوں سے آوازیں آتی تھیں
سنگی ساتھی سارے
اس کے گرد منڈلاتے تھے
اس کے ناز اٹھاتے تھے

وہ مرکز جو تھی
نازاں تھی اور ناداں بھی
بھول گئی تھی
مرکز کو تو بالآخر
تنہا جلنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!۔

اہم ہونا کسے اچھا نہیں لگتا لیکن اگر ہم اہم ہونے کے ساتھ ساتھ حساس بھی ہوں تو نتائج مختلف بلکہ پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ ہمارے دوست، ہمارے چاہنے والے اور دکھ سکھ کے ساتھی ہمارے دل میں ایک خاص جگہ بنا لیتے ہیں۔ ہمیشہ یہ احساس دلانے والے ساتھی کہ وہ ہمارے بغیر نہیں رہ سکتے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اپنی منزل کی جانب ہجرت کرنے لگتے ہیں لیکن ان کے پیچھے رہ جانے والے دکھ ہجرت نہیں کرتے بلکہ اندر سرایت کرنے لگتے ہیں۔ اور غیر محسوس انداز میں ہمارے ذہن کے کسی کونے میں اپنا ٹھکانہ بنا لیتے ہیں؛ خاموشی سے ہماری شخصیت کے تانے بانے بکھیرنے لگتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے تاوقتیکہ کوئی ان کے ٹھکانے تک نہ پہنچ جائے ۔۔۔۔۔۔ شدید سر درد میں مبتلا ڈاکٹر “ف” کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ میرے پاس اپنے میگرین (Migraine) کے علاج کے لئے آئی تھی۔ کہنے لگیں:میں سال بھر سے مستقل سر درد میں مبتلا ہوں۔ پہلے تو یہ کسی نہ کسی دوائی سے وقتی طور پر کنٹرول ہو جاتا تھا لیکن اب شاید ہی کوئی دن ہو کہ جب درد کے بغیر تھوڑا سا وقت ہی گزر پایا ہو۔ کہنے لگیں کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ سائیکالوجسٹ (Psychologist) اور سائیکوتھراپسٹ (Psychotherapist) بھی ہیں؛ اس لئے اس مسئلے کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ میں سر درد کی وجہ سے اتنی تنگ ہوں کہ اب زندگی میں میری کوئی دلچسپی نہیں رہی؛ حالانکہ میری زندگی تو ابھی شروع ہونی ہے۔
انہیں یقین دلایا کہ اگر آپ وہ سب کھول کھول کر بتا سکیں کہ ایسا کیا واقعہ زندگی میں ہوا کہ جو سر درد کی وجہ بنا تو آپ بہت جلد صحت یاب ہو سکتی ہیں۔
کوئی گھنٹہ بھر کے انٹرویو کا نتیجہ یا خلاصہ کچھ یوں نکلا۔وہ سکول، کالج اور اب میڈیکل کالج کی ہر دل عزیز طالبہ تھی۔ بچوں کی سی سادگی، بے ساختگی، انتہا کی خوبصورتی، ہنس مکھ، ذہین اور زندہ دل۔ قدرت اس پر ہمیشہ سے کچھ خاص ہی مہربان تھی ۔۔۔۔ وہ ایک بہت مشہور کاروباری اور سیاسی خانوادہ سے تعلق رکھتی تھی۔ روپے پیسے کی بھی کمی نہ تھی۔ ہمیشہ دوستوں کا جھرمٹ رہتا تھا۔ وہ دوست دار تو تھی مگر کسی کے ساتھ گہرا تعلق بنانے اور نباہنے کا مزاج نہیں رکھتی تھی۔ میڈیکل کالج میں اس کی طرف بہت لڑکوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور چند ایک سینئرز نے باقاعدہ شادی کی خواہش کا اظہار بھی کیا مگر اُس نے ہمیشہ ہنس کر ٹال دیا کہ میری شادی تو فیملی میں ہی ہونی ہے۔
 اس جھرمٹ میں مگر ایک خاص دوست بھی تھی جو اس کی بیسٹ فرینڈ (Best Friend) بنتی چلی گئی جیسے یک جان دو قالب۔ ہاسٹل لائف تھی اس لیے چوبیس گھنٹے کا ساتھ تھا۔ یہ دونوں کبھی بھی الگ نظر نہیں آتی تھیں۔ کالج کی ہر سرگرمی میں ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتیں۔ ایک دوسرے کا خیال بھی بہت رکھتی تھیں۔ ایک کو تکلیف ہوتی تو درد دوسری کو بھی ویسے ہی محسوس ہوتا۔ ہرخوشی مشترک اور ہر غم سانجھا تھا۔ سب کہتے تھے دوستی نہیں ہے عشق ہے، عشق۔ اور واقعی تھا بھی کچھ ایسا ہی!
ڈاکٹر “ف” نے بتایا کہ اسے عشق اور محبت کہیں یا دوستی؛ یہ بہرحال مجھے نہیں بلکہ اُس کو تھا۔ مجھے تو ہمیشہ ہی بھرپور توجہ اور محبت ملی تھی۔ میری دوست نے نہایت خوبی اور خوبصورتی سے مجھے سب سے الگ تھلگ کر لیا۔ میں کہیں جانے لگتی تو وہ بھی ساتھ تیار ہو جاتی۔ میں کچھ کھانے پینے کا اظہار کرتی وہ فوراً بنا لیتی یا منگوا دیتی۔ انتہائی نفاست سے اُس نے میرا پورا چارج سنبھال لیا۔ ادھر میں نے ذرا کسی خواہش کا اظہار کیا اُدھر اُس نے پورا کرنے کا اہتمام کر لیا۔ اُس نے چارج صرف میرا ہی نہیں سنبھالا تھا بلکہ میرے پرس اور پیسوں کا مکمل کنٹرول بھی اُسی کے پاس تھا۔ نظر بظاہر یا دنیا کی نظروں میں وہ میرے اوپر بہت خرچ کرتی تھی لیکن عملاً اپنے خرچے بھی میرے پیسوں سے ہی پورے کرتی تھی۔ ادھار رقم اِس کے علاوہ تھی کہ جو کبھی واپس ہوئی اور نہ اُس کا کوئی حساب مجھے علم تھا۔ وہ میرے کھانے بناتی، نخرے اُٹھاتی اور ہر معاملے میں میرا ساتھ دیتی۔ کلاس فیلوز اور روم میٹ طنز کرتے اور خوب باتیں بناتے مگر اُس کو ذرہ بھی پروا نہ ہوتی۔ میں شاید ہی کبھی اکیلی کہیں نکل پاتی۔ سب اُسے میرا سایہ سمجھتے یہاں تک کہ پروفیسرز اور ہسپتال کا سٹاف بھی۔

میرے لئے یہ سب کچھ اتنا اہم نہیں تھا کہ میں شروع ہی سے ایسا ماحول دیکھتی آئی تھی۔ یوں تو رشتہ داروں، کلاس فیلوز اور ٹیچرز کی آنکھ کا تارا سکول کے زمانہ ہی سے تھی لیکن میڈیکل میں داخلہ ملنے کے بعد تو جب جہاں جاتی ایک خاص پروٹوکول اور توجہ ملتی۔ ہم کالج کے آخری سال میں تھے تو میری بہن لاہور شفٹ ہو گئی۔ گھر والوں کی خواہش تھی کہ میں ہوسٹل کی بجائے اُن کے ہاں رہائش اختیار کر لوں۔ اس پر میری دوست نے میری منت زاری شروع کر دی کہ ایک ہی تو سال ہم مزید اکٹھے رہ سکتے ہیں اس لئے تم نہ جاؤ۔ میں نے بہن اور گھر والوں کو اس پر راضی کر لیا کہ ہوسٹل میں رہنا میری تعلیم کے لئے ضروری ہے۔ لیکن —— اور یہ لیکن بہت ہی اہم ہے۔

لیکن کوئی دو ماہ ہی گزرے ہوں گے کہ خیر سے اُس کی منگنی طے پا گئی۔ اب وہ دن رات فون اور میسیج پر اپنے منگیتر کے ساتھ لگی رہتی۔ میں کسی سے گپ شپ کرتی تو ناراض ہو جاتی اور لڑائی جھگڑے پر اتر آتی۔ ایک بار میں ایک کلاس فیلو کے ساتھ کھانے پر چلی گئی تو وہاں پہنچ کر بازو سے کھینچ کر باہر لے آئی اور لڑنے لگ گئی کہ اُسے بتائے بغیر کیوں آ گئی۔ لمبی داستان کا خلاصہ یہ کہ اب یہ ہر دوسرے دن کا مسئلہ تھا۔ وہ مجھے لفٹ بھی نہ کرواتی مگر کسی اَور کے ساتھ جانے یا گپ شپ بھی نہ کرنے دیتی۔ ہر دوسری بات پر یہ طعنہ بازی شروع کر دیتی کہ تم بے وفا ہو اور پھر وہ ساری باتیں دہرانے پر لگ جاتی کہ کیسے پورے پانچ سال خدمت کی ہے۔ میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی وہ ہر وقت اپنے فون پر لگی رہتی۔ اُس کے حصار سے نکلی ہوں تو اندازہ ہوا کہ وہ کس طرح میرے پیسوں پر عیاشی کرتی رہی تھی۔ میرے ساتھ بدتمیزی کرنا اور موقع بے موقع میری بے عزتی کر دینا اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔ میں غصہ کرتی تو وہ رونے دھونے لگ جاتی۔ وہ مجھے وقت اور توجہ بھی نہیں دیتی تھی مگر مجھے اپنے کنٹرول میں بھی رکھنا ضروری سمجھتی تھی۔ مجھے اُس سے کوئی محبت یا دلچسپی نہیں تھی لیکن میں اس لئے برداشت کر سکتی تھی کہ میرے اوپر بے وفائی اور چھوڑنے کا الزام بھی نہ آئے۔ مگر اُس کا ہر جگہ لڑنا جھگڑنا اور طعنے مارنا میرے لئے دردِ سر بنتا گیا۔ جی ہاں! یہ میرے سر درد کا آغاز تھا۔

میں شدید ڈپریشن کا شکار ہو گئی تھی۔ کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا تھا۔ درد میرے اندر اتر رہا تھا اور بالآخر یہ دردِ دل، درد سر بن چکا تھا۔ شروع میں تو یہ درد تو صرف اُس وقت ہوتا کہ جب وہ اونچا بولتی یا زور زور سے روتی تھی لیکن پھر معمولی شور اور اونچی آواز سے بھی (Severe Constant Headache) رہنے لگا تھا اور آدھے سر کا درد (Migraine) تو شدید جان لیوا تھا۔ جانے کیوں ہر دوا بے اثر تھی۔ ٹینشن تو ویسے بھی بہت تھی لیکن سر درد سے میں ذہنی طور پر مزید ڈسٹرب رہنے لگی۔ ایلوپیتھک دوائیوں کے کورسز کیے لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ سر درد کے ساتھ ساتھ میری انگزائیٹی (Anxiety) بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ پھر حکیموں کو آزمایا۔ حکیموں کی دوائیں استعمال کیں مگر بے سود۔ گھر والے پریشان تھے ان کی ہنستی کھیلتی بچی کو کس کی نظر لگ گئی۔ ہر قسم کے ٹیسٹ کروائے مگر کچھ سامنے نہیں آ سکا۔ سر درد کے دم درود بھی کروائے لیکن جیسے سب کچھ بے اثر ہو گیا تھا۔ اب کمر میں بھی درد رہنے لگا تھا خاص طور پر جب صبح اٹھتی تو جیسے کمر کا ایریا بے جان سا ہو۔ مسلسل سر درد نے میری زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔ ڈپریشن (depression) کی گولیاں کھاتی تھی۔ زندگی اس اذیت میں گزر رہی تھی۔ میں ہر ایک سے یہی پوچھتی کہ کوئی ہے جو میرا سر درد ٹھیک کر سکے۔ ایک سینئر ڈاکٹر کے بارے میں پتہ چلا کہ ان کو بھی ایسا ہی سر درد تھا جو ہومیوپیتھی علاج سے ٹھیک ہوا تھا۔ میں نے فوراً ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر حسین قیصرانی سے علاج کروایا تھا اور میں بالکل ٹھیک ہو گئی ہوں۔ ان سے تفصیلات لے کر آپ کے پاس آئی ہوں۔
تفصیلات لینے کے دوران اندازہ ہوا وہ ذہنی طور پر بہت ڈسٹرب تھی۔ وہ مختلف ڈر، خوف اور فوبیاز (phobia)  کا شکار بھی تھی۔ اسے بارش، بادل، بجلی وغیرہ سے بہت ڈر لگتا تھا۔ کہنے لگی کہ میں بہت چھوٹے دل کی ہوں۔ رات کو خوابوں میں خون نظر آتا ہے اور ہر وقت موت، آخرت اور جہنم کی آگ کے خوف میں مبتلا رہتی ہوں۔ دل بند ہو جانے سے موت کا ڈر (Fear of Death) اور  قبر کے عذاب کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ شدید emotional imbalance  کا شکار ہوں۔ مسائل مزید کھلے تو معلوم ہوا کہ اکثر قبض کی شکایت رہتی تھی۔ شدید ٹھنڈا پانی پسند تھا۔ برف کھانے کو دل کرتا تھا اور کھاتی بھی تھی۔ نمک کی طلب زیادہ تھی۔ وائرل انفیکشنز کا شکار تھی جن کے اثرات چہرے پر نظر آتے تھے۔ depression زیادہ تھا یا بہت زیادہ دوائیاں (Pain Killers) کھانے کی وجہ تھی کہ اکثر باتیں بھولنے لگی تھی۔ Inderal کے تین ماہ اور پھر چھ ماہ کے کورسز کر چکی تھی۔ مسلسل anti depressants بھی کھا رہی تھی۔ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نےان کا علاج شروع کیا۔ ہومیوپیتھک (homeopathic) دوائی کے ساتھ ساتھ سائیکوتھراپی (psychotherapy) بھی مطلوب تھی تاکہ ان کی غیر متوازن ذہنی حالت کو سمجھا اور متوازن کیا جا سکے۔ صرف دس دن کے علاج سے واضح فرق تھا۔ اللہ کریم کی مدد سے یہ محترمہ زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔ انہیں مختلف فوبیاز سے چھٹکارا ملا۔ سر درد اور migraine بھی ٹھیک ہو گئے کیونکہ ہم اس درد کے ٹھکانے تک پہنچ گئے تھے جہاں وہ مورچہ بنائے بیٹھا تھا۔

کیس کا تجزیہ، علاج اور ہومیوپیتھک دوائیں:
محترمہ اگرچہ بہت ملنسار، ہنس مکھ تھیں مگر حساس بھی بہت تھیں۔ دوسروں کے دکھ درد اور تکالیف کو دل پر لینے کا مزاج تھا۔ زندگی کچھ اس ڈھب سے گزری تھی کہ اُن کو زندگی کے حقیقی مسائل کا اندازہ ہی نہ تھا۔ میڈیکل کی تعلیم انہوں نے صرف خاندان کی خوشی کے لئے جاری رکھی ہوئی تھی۔ اُن کے اصل شوق تو سونا، خوب گپ شپ کرنا، ہنسنا کھیلنا، مَن کی موج میں رہنا، بننا سنورنا اور عالی شان ڈریس تیار کرنا ہیں۔ وہ اگرچہ پہلی بار میرے آفس تشریف لائی تھیں مگر رکھ رکھاو یا تکلف نام کو بھی نہیں تھا۔ اُن کے ہر انداز میں ایک واضح بے ساختگی اور والہانہ پن تھی ۔۔۔ بولنے، سننے، اُٹھنے بیٹھے، ہنسنے، پریشان ہونے اور ریسپانس میں بھی۔
سر درد، بادل بارش اور گرج چمک سے ڈرنا، شور سے ہر تکلیف مگر بالخصوص سر درد بہت بڑھنا، زیادہ نمک کی طلب، سونے اور نہانے سے طبیعت ہشاش بشاش ہونا، ہر معاملہ میں کھلے دل و دماغ کا مزاج، ہر انداز میں پُر کشش شخصیت، والہانہ پن، ٹھنڈے یخ پانی کی متواتر طلب، برف کھانے کا رجحان، آئس کریم، کولڈ ڈرنک کی خواہش، دوستوں کے ساتھ خوب انجوائے کرنے کا مزاج ایسے واضح معاملات تھے کہ جن سے اُن کی مزاجی دوا (Constitutional Remedy) فاسفورس (Phosphorus) بنتی تھی۔انہوں نے جس طرح بے دریغ ایلوپیتھک اور دوسری دواوں کا استعمال کیا تھا، اُس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، ہومیوپیتھک دوا نکس وامیکا (Homeopathic medicine Nux Vomica) سے آغاز کرنا زیادہ مناسب لگا۔ نکس وامیکا دی گئی۔ ان کے بقول سالوں بعد ایسے صحت مندانہ اور پُر سکون دس دن گزرے۔ اگلی بار بھی نکس وامیکا (Nux Vomica) ہی دی گئی کیوں کہ اُس سے بے پناہ بہتری ہوئی تھی۔ اُن کے مسائل ایک ماہ میں واضح بہتر ہو گئے اور سر درد (Headache / Migraine) بھی، اللہ کے کرم سے، بالکل ٹھیک ہو گیا۔ اگلا مہینہ انہوں نے رابطہ نہ کیا۔
اب جب وہ واپس آئیں تو اپنی دوست کے رویے سے بے پناہ ڈسٹرب ہو چکی تھیں۔ ہر چھوٹی بڑی بات اُن کے لئے پریشانی کا سبب بن رہی تھی۔ انہوں نے تو کوئی دوست بنایا ہی نہ تھا کہ سب اُس کے دوست تھے۔ روم میٹ کو ذرا فرصت ہوتی تو وہ اپنے منگیتروں کے ساتھ فون میسیج پر مصروف ہو جاتیں۔ اکیلے پن کی وجہ سے انگزائٹی اور ڈپریشن میں جانے لگیں۔ اندھیرے سے ڈر خوف اور فوبیا بڑھنے لگا، کچھ ہو جائے گا (ٖFear and Phobia something will happen)کا مستقل احساس ہر وقت دل و دماغ پر حاوی رہنے لگا۔ سر درد بھی واپس آ گیا۔ حیض بہت زیادہ مقدار میں آیا تو کمزوری شدید ہو گئی۔ دل کے دھڑکنے، گھبرانے اور ڈوبنے کی کیفیت بھی اکثر ہو جایا کرتی۔ فاسفورس (Phosphorus) دی گئی تو معاملات میں بہتری ہوتی چلی گئی۔ درمیان میں ناغے تو ہو جاتے لیکن چھ ماہ تک علاج جاری رہا۔ حسبِ ضرورت کبھی کبھار کوئی سادہ دوائیاں بھی وقتی مسائل کے لئے دی گئیں مگر عملاً انحصار فاسفورس پر ہی رہا۔ اللہ کے کرم سے وہ بالکل ٹھیک ہو کر لاہور سے شفٹ ہو گئیں کہ اُن کا ہاوس جاب مکمل ہو گیا تھا۔

—————–
حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔

——
علاج کے بعد فیڈبیک ۔ ڈاکٹر صاحبہ کے اپنے الفاظ میں:
(۔(رواں اردو ترجمہ: مہر النسا

میں درد شقیقہ، میگرین (Migraine) اور شدید سر درد (Headache) میں مبتلا تھی جس نے میری زندگی مفلوج کر دی تھی۔ یہ درد میری جسمانی اور ذہنی صحت (Physical, emotional and mental health) کو بری طرح متاثر کر رہا تھا۔ بہت سارے ڈاکٹرز سے علاج کروایا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

میں ہر ایک سے پوچھتی پھرتی کہ کسی اچھے ڈاکٹر کا بتائیں جو مجھے اس مائیگرین، درد شقیقہ سے چھٹکارہ دلائے۔ پھر ایک دن ایک سینئر ڈاکٹر کے توسط سے میں ڈاکٹر حسین قیصرانی سے ملی اور انہیں اپنا مسئلہ بتایا۔ صرف پندرہ دن میں مجھے ان کے ہومیوپیتھک دوا علاج سے واضح فرق محسوس ہوا۔
حالانکہ میں متواتر انٹی ڈپریسنٹ (Anti Depressants) کھاتی تھی۔ اس سے پہلے ٹاپ سپیشلسٹ ڈاکٹرز نے مجھے انڈیرال (Anderol) کے تین ماہ اور چھ ماہ کے کورسز کروائے۔ میں مسلسل کیفلام (Caflam) لیتی تھی لیکن درد پھر بھی بے انتہا رہتا تھا۔

میں اتنے لمبے عرصے بعد جسمانی اور ذہنی طور پر اتنی تیزی سے صحت یاب ہوئی ہوں۔ ڈاکٹر حسین قیصرانی ایک منفرد ہومیوپیتھک ڈاکٹر، سائیکالوجسٹ اور سائیکوتھراپسٹ ہیں۔ میں ان کے علاج سے %101 مطمئن ہوں۔

جہاں تک ذہنی صحت کا تعلق ہے، حالات کچھ بھی ہوں وہ امید کی کرن دکھا کر آپ کی زندگی کو بہتر کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ دکھا دیتے ہیں۔ جب آپ کے ارد گرد بلکہ ہر طرف مایوسی کا اندھیرا چھا جائے تو وہ روشنی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ جب سب دروازے بند ہوں تو وہ امید کی کرن ہیں۔ ہم سب کو اپنی زندگی میں ایک مشعلِ راہ کی ضرورت ہوتی ہے میں نے اپنی مشعلِ راہ ان میں پائی۔

ان کے مہیا کردہ پُر سکون ماحول میں بات کرنا بہت آسان ہے۔ آپ ان سے کوئی بھی بات کر سکتے ہیں۔ وہ انسانیت کی بہترین خدمت کر رہے ہیں۔

اگر آپ کسی بھی قسم کے جسمانی، جذباتی، نفسیاتی اور ذہنی مسائل کا شکار ہیں تو جتنی جلدی ہو سکے ان سے رابطہ کریں۔ وہ میرے لیے بہترین ڈاکٹر ہیں۔

I was suffering from migraine, severe headache that just stopped my life, it was badly affecting my physical and emotional health, consulted a lottt of doctors but all in vain, no noticeable difference..

I used to ask every second person of my life to recommend me to any dr so that I could get rid of this severe torture.. Then, through one of my senior colleagues I finally reached Dr Hussain Kaisrani and presented my chief complain to him.. In just 15 days I saw noticeable difference by getting treatment from him whereas I was on anti depressants once, I did 6 months course of inderol, 3 months course of inderol, was taking caflam continuously whenever the pain is beyond limits as prescribed from other doctors but nothing worked.. After so long, it was for the first time I recovered so fast not only physically but also emotionally…

He is a great homeopathic and psychotherapist.. I’m 101% satisfied with his treatment..

As far as emotional health is required, whatever the situation is, he will definitely find the way to liven up your life and give you hope. Also be a source of light when darkness prevails around you.. he is the ray of hope when all doors are closed. We all need a beacon of light to guide our way back to sanity. I found mine in him.

He is very easy to talk to, provides a comfortable environment. One can confide anything to him… He serves humanity in the best of interests. If you are facing any kind of emotional turmoil or stress, contact him ASAP. He was the best doctor for me….

Related Posts

(Visited 1 times, 1 visits today)
Posted in: Cases, Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Mental Health, Neurological
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]