showcase demo picture

موٹاپا ۔ 35 کلوگرام وزن کم ۔۔ شوگر، بلڈ پریشر، پینک اٹیک، انگزائٹی، شدید کھانسی اور معدہ خرابی مکمل کنٹرول ۔ کامیاب کیس، دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی

اٹک کے رہائشی، دو بچوں کے والد، چالیس سالہ احمد زمان (مریض کی خواہش پر نام دیا جا رہا ہے)، پیشے کے لحاظ سے معلم ہیں۔ جاسوسی کہانیاں پڑھنے کے شوقین ہیں۔ موٹاپے کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ پہلے بھی ہومیوپیتھک علاج (Homeopathic Treatment) کروا چکے تھے لیکن کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا۔ ویب سائٹ پر کیسز پڑھنے کے بعد رابطہ کیا۔ ان کے مطابق، سب سے بڑا مسئلہ بڑھتا ہوا وزن تھا جو کسی بھی طرح کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔ مستقل خشک کھانسی نے بھی تنگ کر رکھا تھا۔ معدہ اکثر خراب رہتا تھا۔ ساتھ ہی انزائٹی (Anxiety) اور پینک اٹیک (Panic Attack) بھی ہوتے تھے۔

گھنٹہ بھر تفصیلی انٹرویو کے بعد اور اگلے چند سیشن میں یہ مسائل بھی سامنے آئے۔
1 ۔بھوک بہت شدید (extreme hunger) لگتی تھی۔ شدت کا ندیدہ پن (pinched for food) رہتا تھا اور کبھی بھوک مٹنے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ کھانے پر درندوں کی طرح ٹوٹ پڑنے کی عادت تھی۔ بڑے بڑے نوالے بغیر زیادہ چبائے نگل لیتے تھے۔ کافی مقدار میں کھانے (over eating) کے باوجود پیٹ نہیں بھرتا تھا۔ روزے نہیں رکھ پاتے تھے۔
2۔سستی  (laziness) بہت زیادہ رہتی تھی۔ کسی کام کو دل نہیں کرتا تھا۔ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر بھی بائیک یا گاڑی پر جاتے تھے۔ چلنے پھرنے کی طرف طبیعت مائل نہیں ہوتی تھی۔ قریب پڑا ہوا پانی بھی خود نہیں پیتے تھے بلکہ دل کرتا تھا کہ کوئی اور پانی پلا دے۔ سکول میں پڑھانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔
3۔ پیاس شدید لگتی تھی۔ بڑے بڑے گھونٹ لینے کی عادت تھی۔ ایک گلاس پانی دو گھونٹ میں ختم کرتے تھے لیکن پیاس پھر بھی نہیں بجھتی تھی۔ ٹھنڈے پانی کی طلب رہتی تھی۔
4۔ معدہ خراب (stomach disorder) رہتا تھا۔ گیس (gastric issue) ہوجاتی تھی۔ معدے میں جلن (Heartburn) کا احساس ہوتا تھا۔ کھٹے ڈکار آنے لگتے تھے۔ حلق میں کڑوا پانی محسوس ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی چیز ابل کر باہر آ رہی ہو۔ کھانے کے بعد پیٹ پتھر کی طرح سخت ہو جاتا تھا اور ہلا جلا بھی نہیں جاتا تھا۔
5۔ شوگر(diabetes) کا مرض لاحق تھا۔ جب معدہ ڈسٹرب ہوتا تو شوگر لیول زیادہ ہو جاتا تھا۔ عام طور پر نہار منہ شوگر لیول 200 (Fasting Sugar Level 200) تک رہتا تھا random 350 ہوتا۔ پیشاب بہت زیادہ (excessive and frequent urine) آتا تھا۔  
6 ۔ جب بھی معدہ تنگ کرتا تو کھانسی شروع ہو جاتی تھی۔ خشک کھانسی(dry cough) ہوتی اور دمہ (Asthma) والی کیفیت ہو جاتی تھی۔ لیٹنے سے کھانسی بڑھ جاتی اور دم گھٹنے لگتا تھا۔ بیٹھ کر کچھ بہتر محسوس ہوتا تھا۔ ان ہیلر (Inhaler) استعمال کرنا پڑتا تھا۔ جب بھی کھانسی کی شدت ہوتی دماغ میں اندھیرا سا چھا جاتا تھا۔
7۔ کھانسی کے دوران جلد کے اندر خارش (itching) شروع ہو جاتی تھی۔ خاص طور پر کندھوں کے اگلی طرف سینے کے اوپری حصے میں15 سے 20 منٹ تک شدید خارش (Itching) ہوتی۔ چونکہ یہ خارش سکن کے اندر محسوس ہوتی تھی تو کھجانے سے ہلکا سا بھی آرام محسوس نہیں ہوتا تھا۔
8۔ نیند بہت زیادہ (sleepy) آتی تھی۔ ساری رات سو کر دن کو بھی سو جاتے تھے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے آنکھ کھل جاتی تو دوبارہ نیند نہیں آتی تھی۔
9۔ حافظہ کمزور (poor memory) تھا۔ بازار سے کچھ لینے جاتے تو بھول جاتے کہ کیا لینے آیا تھا۔ رٹا نہیں لگا سکتے اور نہ ہی کچھ یاد کر پاتے تھے۔
10۔ ہر وقت عجلت (always in hurry) رہتی تھی۔ بے صبری طبیعت تھی۔ کھانے پینے میں بھی جلدی کرتے تھے۔ گفتگو کے دوران دوسرے کی  بات کاٹ کر اپنی بات شروع کر دیتے تھے۔ اگر کوئی کتاب پڑھتے تو اختتام پہلے پڑھ لیتے تھے اور باقی کتاب بعد میں پڑھتے تھے۔
11۔ بلا وجہ ٹینشن (anxiety and Stress) رہتی تھی۔ اگر کوئی فون نہ اٹھاتا تو پریشانی ہوتی۔ وہم ہونے لگتا کہ کوئی حادثہ نہ ہو گیا ہو۔
12۔ کام کا پریشر رہتا تھا (stress management issue) کہ ٹائم پہ کام ختم ہو جائے۔ کہیں جانا ہوتا تو انگزائٹی ہوتی کہ وقت پر پہنچ جاؤں۔ یہ سوچ کر ساری رات نیند نہ آتی کہ صبح لیٹ نہ ہو جاؤں۔ اگر کسی سے لڑائی جھگڑا کا معاملہ ہو جاتا تو یکدم اپنی غلطی کا احساس ہوتا اور اگلے دن جا کر معافی مانگ لیتے تھے۔
13۔ غصہ دبانے کی عادت تھی۔ کسی سے بھی اپنے احساسات شئیر نہیں کرتے تھے۔ (introvert)
14۔ بلڈ پریشر ہائی (high blood pressure) رہتا تھا۔ اکثر 100/180 اور کم سے کم 90/165 رہتا تھا۔ اس دوران نبض کی رفتار تیز (rapid pulse rate) ہو جاتی تھی اور گھٹن کا احساس ہوتا تھا۔
15۔ اکثر سانس پھول (shortness of breath) جاتی تھی۔ بیٹھے بیٹھے ہی سانس کی تنگی کا احساس ہونے لگتا اور تازہ ہوا کی خواہش ہوتی۔
16۔ سر میں اکثر درد (headache) رہتا تھا۔ صبح اٹھتے ہی تمام مسائل میں شدت آ جاتی تھی۔ کمر میں اکڑاؤ (stiffness in backbone) محسوس ہوتا اور ایسا لگتا جیسے پیٹ بھرا بھرا ہو۔ کمر اور گردن کے پیچھے درد (neck-ache) رہتا تھا۔
17۔ کسی بھی کام میں پابندی والا احساس پریشان کرتا تھا۔ بہت مذہبی مزاج کے ہونے کے باوجود جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا بہت مشکل تھا۔ انگزائٹی (Anxiety) ہوتی تھی کہ کس طرح اس صورت حال سے باہر نکلوں۔

پسند نا پسند
چاول شدید پسند ہیں۔ چاول کے ساتھ کچی پیاز شوق سے کھاتے رہے ہیں۔ میٹھے چاول ناپسند ہیں۔
  ہر قسم کا گوشت پسند ہے۔ بچپن میں مٹھائی اتنی پسند تھی کہ آدھا کلو مٹھائی اکیلے ہی کھا جاتے تھے۔
کھانے میں کالی مرچ کا استعمال بہت زیادہ رہا ہے۔ شدید ٹھنڈا پانی پسند ہے۔
گرمیاں سخت نا پسند تھیں۔ گرمیوں سردیوں میں کھلے کپڑے پہنتے اور شرٹ کے اوپر کے بٹن بند کرنے سے اُلجھن ہوتی تھی۔ جرسی سویٹر اور تنگ جیکٹ برداشت نہیں ہوتی تھی۔ تنگ جگہ، رش اور مجمع میں بہت ڈسٹرب ہوتے۔

ہسٹری۔
بچپن میں چھت سے گرنے کی وجہ سے تین ماہ تک کومہ میں رہے۔ اس کے بعد سے اونچائی سے ڈر (height phobia)لگتا ہے۔ اوپر سے نیچے نہیں دیکھ سکتے۔ یہاں تک کہ ٹی وی یا فلم وغیرہ میں بھی بلندی والا سین نہیں دیکھ پاتے۔
لقوہ کی شکایت بھی رہ چکی ہے۔
2014 سے شوگر کا مرض ہے۔ فیملی میں شوگر کا رحجان بہت زیادہ ہے۔ مسلسل پانچویں نسل اس موذی مرض کا شکار ہے۔
موٹاپے کا بھی ان کا خاندانی مسئلہ ہے۔

کیس کا تجزیہ، دوائیاں اور علاج ۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور سٹوڈنٹس کے لئے
احمد زمان صاحب کے زیادہ تر مسائل زنجیر کی کڑیوں طرح آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ بہت زیادہ کھانا کھاتے، کھانے سے بھاری پن اور تیزابیت محسوس ہونے لگتی، اس دوران کھانسی شروع ہو جاتی، کھانستے کھانستے جلد کے اندر خارش کا حملہ ہو جاتا۔ اس صورت حال کا نتیجہ شدید تھکاوٹ، ہائی شوگر لیول اور ہائی بلڈ پریشر (High Blood Pressure) کی شکل میں نکلتا۔ ان تمام مسائل میں ایک بات مشترک تھی کہ ساری تکالیف صبح کے وقت اور بالعموم نیند سے اُٹھتے ہی شدت اختیار کر لیتی تھیں۔ ساری فیملی میں موٹاپے (Obesity) کا رجحان بہت نمایاں تھا۔ بقول احمد زمان صاحب “پانی بھی دیسی گھی کی طرح لگتا ہے”۔
ایک نمایاں بات بے وقت اور بے تحاشا کھانا اور جسمانی ورزش کا بالکل بھی نہ ہونا تھا۔ ورزش تو درکنار ہلنا جلنا بھی طبیعت کو ناگوار گزرتا تھا۔ اہم ترین مسئلہ شدید اور خشک کھانسی تھی جس نے معیار زندگی کو متاثر کر رکھا تھا۔ کھانسی اتنی شدت اختیار کر لیتی کہ سانس لینے میں دقت ہوتی۔ بات کرتے کرتے یا ہنستے ہنستے سانس پھول جاتی تھی۔ لیٹنا مشکل ہو جاتا تھا۔ (Inhaler) استعمال کرنا پڑتا تھا۔ اور یہ صورت حال صبح کے وقت اپنی انتہا پر ہوتی تھی۔ گھٹن کا احساس بہت زیادہ تھا۔ رش والی جگہوں پر طبیعت بے چین ہوتی تھی اس لیے جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ تراویح نہیں پڑھ سکتے تھے۔ اگرچہ علاج کے بعد بقول احمد زمان صاحب ”مجھے آٹھ سال بعد تراویح پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ پانچ سال بعد میں نے روزے رکھے اور الحمد للہ اس رمضان میں قران پاک کی باقاعدگی سے تلاوت کی۔”
کیس بہت کنفوزنگ تھا کیوں کہ بے شمار ہومیوپیتھک، ایلوپیتھک اور حکیمی دوائیاں متواتر استعمال کر رہے تھے۔ مستقل مزاجی نام کو نہیں تھی اس لئے کہ تھوڑی سی تکلیف سے ہی کوئی نہ کوئی لے لیتے۔ صبح تکلیفوں کے بڑھنے، کھانسی کا معدہ کے ساتھ گہرا تعلق ہونے، ہر معاملہ میں جلد بازی، گردن کے مہروں، کمر درد اور ہر معاملہ میں شدت کا مزاج ایسی باتیں تھیں کہ جس سے میڈورائنم ۱۰۰۰ (Medorrhinum) کی ایک خوراک سے آغاز کیا گیا۔ دوسرے دن سے لائیکوپوڈیم (Lycopodium) چھوٹی پوٹینسی میں شروع کروائی گئی۔ کھانسی، معدہ اور جسمانی تکلیفوں میں واضح بہتری ہوئی تاہم ذہنی، جذباتی اور نفسایتی مسائل میں کوئی خاص فائدہ نہ ہو سکا۔
سر کی شدید چوٹ اور تین ماہ کومہ میں رہنے کے اثرات کو (اگر وہ ابھی موجود ہیں) حل کرنے کے لئے نیٹرم سلف (Natrum Sulph 200) دی گئی۔ اس سے سالوں پرانی کھانسی تو مکمل طور پر ہی ختم ہو گئی اور باقی مسائل کھل کر سامنے آ گئے کیوں کہ ذہن کھل گیا۔
میٹھے سے بے پناہ رغبت، میٹھا کھانے کے بعد تیزابیت، ایسیڈیٹی (Acidity)، جلد بازی، پینک اٹیک (Panic Attack) اور گرمی کا بے پناہ احساس سامنے آئے تو ارجنٹم نائٹریکم (Argentum Nitricum) واضح دوا بنی۔ بہت سارے مسائل حل ہوئے تو معدہ کی خرابی کا ایک پہلو اب یہ سامنے آیا کہ خالی معدہ سے طبیعت زیادہ خراب ہوتی ہے۔ وہ ہر چھوٹی بڑی بات پر کنفیوز ہونے لگے اور اُن کی اُلجھن ہو گئی۔ شکوک و شبہات بڑھنے لگے کہ ایلوپیتھک دوائی معدہ کی جاری رکھنی چاہئے۔ اگر نہ رکھی تو کوئی بڑا مسئلہ نہ ہو جائے۔ ذہن میں متواتر کشمکش، تذبذب اور الجھن جاری رہنے لگا۔ ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ کھانے کو دل کرتا ورنہ ڈر لگتا کہ کچھ ہو جائے گا۔ اس موقع پر اناکارڈیم ۱۰۰۰ (Anacardium 1M) دی گئی۔

سال بھر کے علاج سے احمد زمان صاحب کی شخصیت، صحت اور مزاج میں کیا کچھ تبدیلیاں آئیں، اُس کی تفصیل اُن کے فیڈبیک میں ملاحظہ فرمائیں۔

 احمد زمان صاحب کا فیڈبیک
میری ڈاکٹر حسین قیصرانی سے شناسائی سوشل میڈیا کے ذریعے 2018میں ہوئی۔ میں ویب سائٹ پر ان کے کیسز پڑھتا رہا اور اپریل 2019 میں علاج کے لیے رابطہ کیا۔ اس وقت میرا وزن 135 کلوگرام تھا اور کمر کا سائز 54 انچ۔
میں بیک وقت شوگر، بلڈ پریشراور معدے کے لیے صبح شام کئی ایلوپیتھک ڈرگز کا استعمال کر رہا تھا مگر میرے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ  رہے تھے۔ مستقل شدید خشک کھانسی اور جلد کے اندر محسوس ہونے والی خارش بہت تکلیف دہ تھی۔ الحمدللہ ڈاکٹر صاحب کے علاج سے میرے اکثر مسائل مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں اور میں بالکل ایک نئے انداز کا انسان بن چکا ہوں۔ مجھے یہ تفصیل شئیر کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔
1۔ میرا بہت آگے نکلا ہوا پیٹ واپس اپنے مقام پر آ چکا ہے۔ بے پناہ موٹاپا اب ختم ہو گیا ہے۔ میں نے 35 کلوگرام سے زائد وزن کم کیا ہے اور میری کمر کا سائز 54 انچ سے کم ہو کر 38 انچ ہو گیا ہے۔
2۔ پہلے میں کھانے پینے میں شدید ندیدے پن کا شکار تھا۔ اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ کتنا کھا چکا ہوں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اب میری بھوک نارمل ہوتی ہے۔ بھوک اور پیاس دونوں میں اعتدال آ گیا ہے۔
3۔ میری شوگر ہائی رہتی تھی اور میں اس کے لیے مستقل دوائی کھاتا تھا۔ لیکن اللہ کے فضل اور ڈاکٹر صاحب کے علاج سے میری شوگر کنٹرول رہتی ہے اور اس کی دوائیوں جان چھوٹ گئی ہے۔ بار بار پیشاب بھی نہیں آتا۔ گذشتہ چار ماہ سے میں ایلوپیتھک میڈیسن نہیں لے رہا۔ 
4۔صبح شام ہائی بلڈ پریشر کی گولی کھانا میری روٹین میں شامل تھا۔ جب بی پی ہائی ہوتا تو شدید گھٹن کا احساس ہوتا تھا مگر اب میرا بی پی نارمل رہتا ہے اور گولی کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
5۔میری طبیعت میں ایک چستی آ گئی ہے۔ ایک کلومیٹر چلنا بھی میرے لئے ایک مصیبت تھی اور اب 8 سے 10 کلومیٹر روزانہ چہل قدمی کرتا ہوں۔  روزمرہ کے کام دلجمعی سے کرنے لگا ہوں۔ مستقل سستی، کمزوری اور تھکاوٹ کے احساس سے جان چھوٹ چکی ہے۔
6۔میری طبیعت صبح کے وقت فریش ہونے کی بجائے بوجھل ہوتی تھی۔ کمر میں اکڑاؤ، سر اور گردن میں درد، پیٹ کا بھاری پن وغیرہ جیسی کیفیات میں شدت ہوتی۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ میں صبح صبح تروتازہ محسوس کرتا ہوں۔
7۔میری مستقل جاری رہنے والی کھانسی مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے۔ حالاں کہ پہلے اتنی شدید کھانسی (Severe and Chronic Cough) ہوتی کہ لیٹنا مشکل ہو جاتا اور سانس لینے میں تنگی کا احساس ہوتا جس کی وجہ سے ان ہیلر (Inhaler) استعمال کرنا پڑتا مگر اب ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
8۔ معدہ اب مکمل طور پر تندرست ہو چکا ہے۔ کھانا آرام سے ہضم ہو جاتا ہے۔ کوئی جلن یا تیزابیت نہیں ہوتی۔ بھاری پن تو بالکل غائب ہو گیا ہے۔  معدہ بگڑتے ہی کھانسی اور خارش میں شدت آ جایا کرتی تھی، شوگر ہائی ہو جاتی تھی اور پیٹ پتھر کی طرح سخت ہو جاتا تھا۔ اب جو معدہ بہتر ہوا ہے تو یہ ساری تکالیف دور ہو چکی ہیں اللہ کے فضل سے۔
9۔ جب بھی کھانسی شدید ہوتی تو جلد میں خارش شروع ہو جاتی۔ یہ خارش جلد کے اندر ہوتی تھی اور خارش کرنے سے افاقہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ مگر اللہ کے کرم سے کھانسی کے ساتھ ساتھ خارش سے بھی مکمل آرام آ چکا ہے۔
10۔ مزاج میں ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ ہر کام تیز تیز کرنے کی عادت اب بہتر ہو چکی ہے۔ اب میں جلدی جلدی کھانا نہیں کھاتا اور باقی کام بھی سکون سے کر لیتا ہوں۔ پینک (Panic Attack) نہیں ہوتا۔
11۔بہت زیادہ سونے کی عادت بھی نہیں رہی۔ اب میں 6 سے 7 گھنٹے سکون سے سوتا ہوں اور ہشاش بشاش فریش اُٹھتا ہوں جبکہ علاج سے پہلے کئی کئی گھنٹے سونے کے باوجود تازگی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔  اپنے آپ کو گھسیٹ کر بستر سے نکالنا پڑتا تھا۔
الحمد للہ میں ایک بھرپور زندگی کی طرف لوٹ آیا ہوں۔ دواؤں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحب کی سائیکوتھراپی نے بھی میرے علاج میں بھرپور کردار ادا کیا۔
میں نے ڈاکٹر حسین قیصرانی کو ایک ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر، محنتی سائیکالوجسٹ (Psychologist)، بہت ذمہ دار سائیکوتھراپسٹ (Psychotherapist) اور بے حد شفیق انسان پایا۔ مجھے کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں کہیں دور دراز کسی شخص سے بات کر رہا ہوں۔ جب بھی بات کرنا چاہتا؛ ڈاکٹر صاحب مصروفیت کے باوجود مجھے باقاعدہ وقت دیتے۔ کبھی بھی جلد بازی یا بیزاری کا مظاہرہ کر کے جان نہیں چھڑوائی۔ یہ آن لائن علاج بالکل ایسا رہا کہ جیسے کوئی انسان ساتھ والے کمرے میں بیٹھا ہو اور میں بات کرنے اس کے پاس چلا جاؤں۔ بس اتنا ہی وقت لگتا تھا ڈاکٹر صاحب سے رابطہ کرنے میں جتنا ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک جانے میں لگتا ہے۔ مجھے بیماریوں اور ایلوپیتھک دواؤں سے چھٹکارہ مل گیا ہے۔
 شکریہ ڈاکٹر صاحب!

——————
حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور، پاکستان فون نمبر 03002000210۔

Related Posts

(Visited 1 times, 1 visits today)
Posted in: Cases, Homeopathy in Urdu, Mental Health, Respiratory Tagged:
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]