showcase demo picture

پیٹ کے کیڑے یا چمونے، مٹی کھانا – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی۔

پیٹ کے کیڑے (چمونے) ایک عام علامت اور بیماری ہے جو کہ خاص طور پر بچوں میں پائی جاتی ہے تاہم بعض اوقات بڑے بھی اِن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اِن کیڑوں کی کئی اقسام ہیں: چمونے، چھوٹے سفید کیڑے، چھوٹے سفید مگر کالے منہ والے کیڑے، تھوڑے سے لمبے کیڑے، زیادہ لمبے (ملہپ) کیڑے اور کدو کیڑا  وغیرہ۔ Thread Worn, Tap Worm, Round Worm, Pin worm, Hook Worm ۔
عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ مٹی وغیرہ یا میٹھا کھانے سے پیٹ میں کیڑے ہو جاتے ہیں تاہم برطانیہ اور یورپ کے بعض ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اِس سے بالکل مختلف بلکہ متضاد رائے رکھتے ہیں۔ دورانِ تعلیم اِسی موضوع ۔۔ پیٹ کے کیڑے اور اُن کا ہومیوپیتھک علاج ۔۔ پر لندن میں ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس میں یورپ، امریکہ اور برطانیہ کے ہومیوپیتھک ماہرین اور سکالرز نے میٹھا کھانے اور پیٹ کے کیڑوں کے باہمی تعلق پر اپنی تحقیقات پیش کیں۔ اُن میں سے اکثر ماہرین کا رجحان اِس طرف تھا کہ پیٹ کے کیڑوں کی اکثریت میٹھا کھانے سے بڑھتی نہیں بلکہ مرتی ہے۔ مریض جب میٹھا کھاتے ہیں تو ایسے کیڑے اپنی جان بچانے کے لئے اِدھر اُدھر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیڑوں کی اِس نقل و حرکت سے مریض کی بے چینی اور خارش چونکہ بے حد شدید ہو جاتی ہے سو میٹھا کھانے کی وجہ سے ظاہری علامات کے اِس طرح اچانک بڑھنے کو کیڑوں میں اضافہ سے تعبیر کیا جانے لگا۔ یہ بات ضمناً اِس لئے عرض کردی کہ پاکستان کے ہومیوپیتھک محققین اِس پہلو پر بھی غور کریں۔
قطع نظر اِس کے کہ میٹھا کھانے سے کیڑوں میں اضافہ ہو سکتا ہے یا نہیں؛ یہ دونوں صورتوں میں، بہرحال، اصل سبب نہیں ہے۔ اصل سبب موروثی مزاج ہے اور وہ بھی خاص طور پر ٹی بی یا سرطان (کینسر)۔ اول تو مٹی کھانا یا زیادہ میٹھا کھانا بذاتِ خود غیر فطری علامات و عادات ہیں ۔ اِن کا بھی کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے۔ مٹی کھانے کا سبب اگر کیلشیم کی کمی کہا جائے تو یہ کمی کیوں؟ بچہ دودھ پیتا ہے اور کئی ایسی چیزیں کھاتا پیتا ہے جن میں کیلشیم موجود ہوتا ہے تو پھر کمی رہ جانے کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟ دراصل کیلشیم جذب نہیں ہوتا اور جذب نہ ہونے کی وجہ پھر وہی موروثی مزاج ہے۔ علامات کے مطابق کسی اَور مرض کا علاج کرتے ہوئے ہومیوپیتھک ادویات سورینم یا بسیلینم یا ٹیوبرکولینم دینے سے بہت سے کیڑے پاخانہ کے ساتھ خارج ہوتے مریضوں نے دیکھے ہیں — اور ایسے مریضوں کا موروثی مزاج یا تو سرطانی (کینسر) تھا یا مدقوق (ٹی بی)۔
اہم بات سمجھنے کی یہ بھی ہے کہ عام دواؤں سے (چاہے وہ ہومیوپیتھک ہوں یا ایلوپیتھک یا ٹوٹکے وغیرہ) کیڑے نکالنے کا فائدہ زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اِن ادویات سے جسم میں کیڑوں کی افزائش کا ماحول یعنی مریض کا مزاج تبدیل نہیں ہو پاتا۔ علاج کا باقاعدہ اور مستقل طریقہ صرف یہی ہے کیس کو اچھی طرح سمجھ کر ایسی دوا کا اِنتخاب کیا جائے کہ جو پیٹ کے اندرونی ماحول کو کیڑوں کی رہائش اور افزائش  کے لئے ناقابلِ برداشت بنا دے۔
ہومیوپیتھک ادویات کلکیریا کارب یا الیومینا دینے سے بچے مٹی وغیرہ کھانا چھوڑ جاتے ہیں۔ اِن دواؤں کی پیٹ کے کیڑوں کے ضمن میں یہ علامات قابلِ غور ہونی چاہئیں کہ کلکیریا کے مریض کا پاخانہ ڈھیلا ہوتا ہے اور الیومینا کے مریض کو ہمیشہ قبض کی شکایت رہتی ہے۔ اِس تشخیص کو پیشِ نظر رکھ کر دوا دینی چاہئے۔
بعض اوقات ان دواؤں ہی سے مزاج بدل جاتے ہیں بشرطیکہ مریض مٹی وغیرہ کھانا چھوڑ دے۔ لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ کچھ عرصہ بعد مریض پھر سے مٹی کھانے لگتے ہیں۔ ایسی صورت میں مزاج کی تبدیلی کے لئے حسبِ علامت کسی نوزوڈ کی ضرورت لاینفک ہو جاتی ہے۔۔۔ خاص طور پر وہ نوزوڈز جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔
ذکر کیڑوں کا ہو رہا تھا مٹی وغیرہ کھانے کی بات بیچ میں آ گئی۔ یہ اچھا ہی ہوا۔ ایسے بچے یا بڑے جو مٹی وغیرہ کھاتے ہیں یا جن کے پیٹ میں کیڑے اور چمونے وغیرہ پرورش پا رہے ہوں، ہومیوپیتھک علاج سے اُن کا مزاج بدلنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اگر اُن بچوں کا موروثی مزاج بدل دیا جائے تو وہ مستقبل میں کئی خبیث، موذی اور خطرناک اَمراض سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
پیٹ کے کیڑوں کو خارج کرنے کے لئے عام اِستعمال کی جانے والی اَدویات مندرجہ ذیل ہیں:
سائنا۔ ٹیوکریم ۔ سنٹونن۔ کلکیریا کارب۔ نیٹرم فاس۔ سٹینم۔ کیوپرم آکس نگx ۳
میرے تجربے کے مطابق کیوپرم آکس نگ (یہ دوائی پاکستان میں شاید ہی کسی ہومیوپیتھک سٹور سے مل سکے۔ یورپ اور خاص طور پر برطانیہ کے ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اِس کے بہت قائل ہیں؛ اِس لئے وہاں یہ عام دستیاب ہو جاتی ہے) تمام قسم کے کِرم (کیڑے) ختم کر دیتی ہے۔ نکس وامیکا ۳۰ کے ساتھ باری باری دینے سے کدو کیڑا تک بھی ختم ہو جاتا ہے۔ مگر اگر کیڑے دوبارہ پیدا ہوجائیں تو پھر حسبِ علامت نوزوڈ کا اِستعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اِس صورتِ حال میں اپنے اعتماد کے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے مشورہ کر کے باقاعدہ علاج کروائیں۔
—————-
(اکثر پوچھا جاتا ہے کہ اگر  ہومیوپیتھک کنسلٹینسی کے ذریعہ علاج کروانا چاہیں تو  کیا طریقہ ہو سکتا ہے۔ اِس ضمن میں عرض یہ ہے کہ اپنا کیس ڈسکس کرنے کے لیے فون کر کے وقت طے کر لیا جائے۔ تفصیلی کیس انٹرویو کے بعد دوائی بذریعہ ڈاک / کورئیر بھجوا دی جاتی ہے۔
حسین قیصرانی فون نمبر 03002000210)۔

Related Posts

Posted in: Autism ASD ADHD, Children's Diseases, Gastrointestinal, Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Mental Health Tagged: ,
Return to Previous Page

10 Responses to پیٹ کے کیڑے یا چمونے، مٹی کھانا – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی۔

    Major Anwar Malik
    Commented:  December 21, 2016 at 4:38 AM

    AOA Dr Qaisrani, Do you have any office in Islamabad? Please share its contact information. I need to get my son checked up. He is too weak and hyper.
    If no office in Rawalpindi / Islamabad then how can we get treatment – Online option available. Please advise!

    Reply
      Hussain Kaisrani
      Commented:  December 22, 2016 at 2:14 PM

      Salaam Major Sahib, We don’t have any setup in Rawalpindi or Islamabad. We can discuss the case of your son on phone after setting a time suitable for both of us. WhatsApp is equally fine. If case is clear to me then medicines would be sent through courier on your address.
      Thanks and regards,
      Hussain Kaisrani
      email: kaisrani@gmail.com
      Phone: 03002000210

      Reply
    Anonymous
    Commented:  May 16, 2017 at 2:37 PM
    محترم قیصرانی صاحب اسلام علیکم !
    چمونوں کے بارے میں آپ کا ایک مضمون نظر سے گزرا۔ آپ نے ایک دوا کیوپرم آکس نگ کا ذکر کیا جسے نکس وامیکا 30 کے ساتھ لینا چاہیے۔
    ڈاکٹر صاحب! میں چمونوں کے خاتمے کے لئے ہر قسم کا علاج کروا چکا ہوں پچھلے ایک ماہ سے ھومیو علاج بھی کروا رہا ہوں، تقریبا 12 یا 14 سال سے اس بیماری میں مبتلا ہوں، اور اب یہ بیماری میرے بیٹے میں بھی نمودار ہو گئی ہے۔ برائے مہربانی بازار میں دستیاب کسی دوا کا نام بتائیں جس کے استعمال سے ہم لوگ اس بیماری سے نجات پا سکیں۔
    جزاک اللہ ۔
    Reply
    Hussain Kaisrani
    Commented:  May 16, 2017 at 3:34 PM
    مکرمی —- صاحب، السلام علیکم
    جیسا کہ میں نے بڑی وضاحت سے اُسی آرٹیکل میں لکھا ہے کہ جس کا آپ نے ذکر فرمایا ہے، یہ دوائیاں مزاج کو سمجھ کر منتخب کی جا سکتی ہیں۔ ایسا تبھی ممکن ہے کہ جب تفصیلی کیس لیا جائے اور مسئلے کی جڑ بنیاد کو سمجھا جائے۔ پھر مریض اور مرض کی کیفیت کے مطابق دوائی کی پوٹینسی اور خوراک کا تعین کیا جائے۔ یہ ایک محنت اور وقت طلب کام ہے۔ اگر کوئی علاج اِن تقاضوں کے بغیر ہو گا یعنی صرف کیڑوں یا چمونوں کا مارنا (اگرچہ یہ آسانی سے مرتے نہیں ہیں) یا نکالنا تو وہ بالکل وقتی اور عارضی ہو گا اور کچھ عرصہ بعد یہ چمونے اور کیڑے دوبارہ پیدا ہو جائیں گے۔
    یاد رہے کہ جس اِنسان کا جسمانی نظام کیڑوں کی پیدائش کے لئے سازگار ہے یا رہے گا؛ وہ کسی بڑی بیماری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
    عام استعمال کی دوائیاں جو میرے زیرِ استعمال رہتی ہیں وہ سب لکھ دی ہوئ ہیں۔ ہومیوپیتھک علاج میں ہر شخص کے کیڑے اور اُن کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ ایک ماہر ڈاکٹر کا کام ہر مریض کے تقاضوں، جسمانی صحت، موروثی مزاج کو اچھی طرح سمجھ کر دوا کی پوٹینسی اور خوراک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
    آپ جہاں سے علاج کروا رہے ہیں، بہت اُمید ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب اِن تقاضوں کو مدِنظر رکھ کر ہی آپ کا علاج کر رہے ہوں گے۔ اگر ایسا ہے تو آپ کو دو ماہ میں واضح فرق نظر آ جائے گا۔ نہ صرف کیڑے نکلیں گے بلکہ آپ کی مجموعی صحت، موڈ مزاج، نیند خوراک اور شکل شباہت بھی واضح بہتر ہوگی۔ مزید براں آپ آئندہ کی کسی بڑی اِمکانی بیماری سے بھی، اللہ کے فضل و کرم سے، بچ جائیں گے۔
    نیچے کے لنک پر کلک کر کے مضمون ایک بار پھر توجہ سے پڑھ لیں۔ شکریہ!
    والسلام
    حسین قیصرانی
    http://www.kaisrani.com
    facebook.com/hussain.kaisrani
    http://kaisrani.com/%D9%BE%DB%8C%D9%B9-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%DB%8C%DA%91%DB%92-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DB%81%D9%88%D9%85%DB%8C%D9%88%D9%BE%DB%8C%D8%AA%DA%BE%DA%A9-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D8%AC/
    Reply
    Mrs Rubab
    Commented:  August 23, 2017 at 10:56 AM

    Hello dear Doctor Hussain Kaisrani! I want to say that this article is awesome, nice written and include approximately all vital information on this subject. I would like to see more posts like this.

    Reply
    Anonymous
    Commented:  August 28, 2017 at 11:11 PM

    decent site and very helpful

    Reply
    Naseem
    Commented:  August 30, 2017 at 9:05 PM
    بہت شکریہ – آپ کے علاج سے اللہ نے میری بیٹی کو صحت دی
    Reply
    Qaisar Khan Awan
    Commented:  August 31, 2017 at 9:59 AM

    Please write about kids slow learning and homeopathic treatment

    Reply
    Fazil Indrabi
    Commented:  February 14, 2018 at 12:58 PM

    Thanx Dr Sahib G

    Reply
    Iqbal Ahmad
    Commented:  February 15, 2018 at 11:35 PM

    My 7 year daughter got treated by Homeopathy medicines three years ago. Her restlessness, irritation, too much love for sweets and all the time crying attitude got cured.
    She is happy and healthy child now. Alhamd o Lillah.
    Thank you Doctor Hussain Kaisrani. You are the best homeopathic dr.
    Iqbal Ahmad, Karachi

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]