showcase demo picture

سانس کی تکلیفیں، مستقل نزلہ زکام کھانسی اور زندگی سے مایوسی – ہومیوپیتھک دوائیں، علاج اور کیس – حسین قیصرانی


کوئی ڈیڑھ ماہ پہلے کراچی سے ایک ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے علاج کے لئے بذریعہ فون رابطہ فرمایا۔ یوں تو وہ بے شمار قسم کے مسائل کا شکار تھیں لیکن جو معاملات اُن کے لئے وبالِ جان تھے اُن کی فہرست کچھ یہ ہے:
وہ اپنی صحت بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ زندگی سے مایوس تھیں۔
ہر طرح کی دوائیاں بے دریغ استعمال کر چکی تھیں اور گذشتہ کچھ عرصہ سے ہومیوپیتھک پر مکمل انحصار تھا۔ انجیکشنز اور انٹی بائیوٹکس سے مایوس تھیں اگرچہ فیملی کا اِس پر بے حد اصرار جاری تھا۔
صحت کی خرابی کے باعث اپنا کلینک اور پریکٹس تقریباً ختم کر چکی تھیں۔
دن رات نزلہ زکام کی کیفیت، شدید بلغمی کھانسی، چھینکیں اور سانس بند ہونے کا شکار تھیں۔ سینہ ایسا بھاری جیسے بلغم سے بھرا پڑا ہو۔ ہر وقت ناک صاف کرنا زندگی کا اہم ترین کام رہ گیا تھا۔ دل کرتا تھا کہ کھل کر سانس میسر آ سکے۔ آواز بھی اب واضح نہیں رہی تھی۔ بلغم گہرے پیلے اور سبز رنگ کا تھا اور چپکنے والا بھی۔ اور اب یہ منہ میں آنے لگ گیا تھا۔ کھانسی اتنی شدت سے آتی کہ پیشاب کے قطرے اکثر نکل جاتے۔ ہونٹ خشک ہو چکے تھے۔ بلغم کی اتنی کثرت اور زیادتی کہ ہر وقت جاری رہتا مگر صبح سویرے تو بہت ہی زیادہ دیر تک نکالنا پڑتا تھا۔
لیکوریا – کافی زیادہ اور تقریباً ہر وقت۔
پیاس بالکل بھی نہیں۔
چہرے پر بے رونقی اور گہرے نشانات۔
گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے شاور نہیں لے سکی تھیں کہ نہانے سے حالت بہت خراب ہو جاتی تھی۔ چونکہ جب جب نہائی تھیں تب تب زندگی اجیرن ہوئی سو اب نہانا تو دور کی بات؛ نہانے کا تصور بھی عذاب ناک تھا۔ ویسے پوری سردیوں میں صرف دو بار نہانے کی جرآت کی اور اُس کے بہت شدید اثرات پڑے۔ بلغم بے پناہ بڑھ گیا اور کھانسی مزید شدت اختیار کر گئی۔
کھانے پینے کی ہر دوسری چیز سے اُن کو الرجی تھی۔ وہ نہیں کھانا یہ نہیں پینا، اس کے کھانے سے یہ ہوگا اُس کے پینے سے وہ ہو گا۔ فوڈ الرجی (Food Allergy) کی گویا انتہائی سٹیج سے گزر رہی تھیں۔
نیند بہت ڈسٹرب تھی۔ زندگی میں سکون، اطمینان اور آرام نام کی کوئی سہولت نہ تھی۔
اگرچہ باہر جانا اچھا لگتا تھا لیکن گاڑی میں سانس بند ہوتا تھا اِس لئے باہر جانا بھی مشکل ہو گیا تھا۔
مزاج میں ہر وقت غصہ اور سختی مگر دل میں اتنی نرمی کہ بات بات پر رونا دھونا جاری ہو جاتا تھا۔
سائی نس (Sinusitis) کی شکایت بھی سالوں سے جاری تھی جو سردیوں میں بہت زیادہ بڑھ جایا کرتی تھی۔

ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج
ڈاکٹر صاحبہ کو سب سے پہلے کالی بائیکرومیکم 30 صبح دوپہر اور رات دی گئی جس سے بلغم نکلنے کی مقدار واضح طور پر بڑھ گئی۔ اس دوا کا انتخاب اِس لئے ضروری سمجھا گیا کیونکہ بلغم بہت زیادہ چپکنے والا تھا۔ دوسرے دن بلغم ڈھیلا ہو گیا اور آرام سے وافر نکلنے لگا۔ بلغم کا رنگ زردی مائل سبز تھا۔

دوسرے دن پلسٹیلا 30 صبح دوپہر اور رات جاری کی گئی۔ اِس سے بلغم تو جاری رہا مگر اُس کا رنگ کم گہرا ہوتا گیا۔ کافی عرصہ بعد پیاس کا احساس ہونے لگا۔ زندگی میں کچھ ٹھہراؤ کا احساس بیدار ہوا۔ رونا دھونا بھی کچھ کم ہوا۔
پانچویں دن تک بلغم کا رنگ سفید ہو گیا۔ مقدار بھی کافی کم ہو گئی۔ پیاس کا احساس بڑھ گیا۔ لیکوریا میں کمی ہوئی۔ نیند میں بہتری آئی۔ میٹھے کی طلب بڑھنے لگی۔ سردی کا احساس بھی اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ انہوں نے کافی عرصہ بعد سکون سے گاڑی ڈرائیو کی اور شیشے بند رکھنے کے قابل ہو سکیں۔ بچوں کو سکول کے لئے تیار کروانے کی بھی کچھ ہمت پیدا ہوئی۔

دسویں دن بسیلینم 200 کی ایک خوراک دی گئی۔
طبیعت میں واضح بہتری پیدا ہوئی۔ ہمت اور برداشت بڑھی۔ مستقل کمزوری اور سردی کا احساس جاتا رہا۔ اس دوران دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ شاور لیا جائے جو انہوں نے ڈر کی وجہ سے نہیں لیا۔ کافی عرصہ بعد اورنج کھانے کی ہمت پیدا ہوئی اور مزے سے کھائے جس سے ان کی تکالیف پہلی بار نہیں بڑھیں۔ انہوں نے بروسٹ کھایا اور بھی بہت کچھ جن کو کھائے مہینوں گزر چکے تھے۔ اپنے کلینک کا سلسلہ محدود پیمانے پر جاری کیا۔ باہر جانے کا کوئی موقع آیا تو نکل جایا کرتیں۔
صبح صبح چھینکیں آنے لگیں اور بلغم کافی پتلا ہو چکا تھا۔ لیکیوریا بھی اب کبھی کبھار ہی محسوس ہوتا۔ رونا تو بالکل ختم ہو گیا۔ خواہش کے باوجود نہانے کی ہمت مگر پھر بھی نہیں ہو سکی۔
نٹرم میور 6 ایکس صبح، دوپہر اور رات جاری کروائی گئی۔ میٹھے کی طلب اب بھی جاری تھی۔ سردی کا مستقل اندرونی احساس اب نہیں رہا تھا بلکہ کبھی کبھار گرمی محسوس ہونے لگتی حالانکہ سردی کافی شدت سے آ چکی تھی۔ رات کو پاؤں جلنے کا احساس ہونے لگا۔ کئی بار نہانے کا سوچا اور ضرورت بھی تھی مگر ہمت نہ ہو سکی۔ بلغم کافی کم ہو چکا تھا مگر ختم نہیں ہوا تھا۔ سینے میں اب وہ والی کھڑکھڑاہٹ نہ رہی۔

سولھویں دن سلفر 200 شروع کروائی صرف رات سوتے وقت۔ سلفر لینے کے دوسرے دن انہوں نے مہینوں بعد بغیر کسی ڈر کے مزے سے نہایا اور اُن کو کوئی مسئلہ نہ ہوا۔ صحت میں واضح بہتری آتی گئی۔ محترمہ نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ وہ اب ٹھیک ہو جائیں گی۔ نا اُمیدی اُمید میں بدلنے لگی۔ انہوں نے قرآن کی کلاس اٹینڈ کرنا شروع کر دی جس کی انہیں سالہا سال سے حسرت اور خواہش تھی۔ میٹھے کی طلب میں کمی آئی مگر ابھی کھا رہی تھیں۔ گھر میں مہمان آئے تو انہوں نے خود کو آزمانے کے لئے کھانا بھی پکایا۔ تھکاوٹ کا احساس ابھی بھی جاری رہتا تھا۔ نزلہ زکام کے لئے مستقل ٹشوز یا ٹاول اب چھوٹ گیا۔

بائیسویں دن کلکیریا کارب 200 صرف ایک خوراک رات میں شروع کروائی گئی کیونکہ طبیعت سردی کی طرف دوبارہ مائل ہو گئی۔ اُن کو کاغذ اور دوسری عجیب چیزوں کے ساتھ ساتھ انڈہ کھانے کی بھی طلب بڑھ گئی۔ میٹھے کی خواہش اور کولڈ ڈرنک پینے کو دل چاہ رہا تھا۔ چھینکیں اور نزلہ سادہ سا کسی وقت جاری ہو جاتا۔ مجموعی طور پر طبیعت میں مزید بہتری محسوس کی جاتی رہی۔

ستائیسویں دن لائیکوپوڈیم 200 کی ضرورت محسوس ہوئی۔ یہ وہم تو جیسے دل و دماغ سے چپک گیا تھا کہ میرے اوپر بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ میں یہ سب کیسے کروں گی۔ میں اب اس قابل نہیں رہی کہ سب کام نبھا سکوں۔ صبح سویرے بچوں کی سکول تیاری کی ذمہ داری بوجھ محسوس ہونے لگی اور وہ مغرب کے وقت سے رات سونے تک ڈسٹرب رہنے لگیں۔ سردی کا احساس بھی ابھی جاری تھا اور میٹھے کی طلب بھی۔ کاغذ اور انڈہ کھانے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی۔ صبح اُٹھتے ہی روزانہ یہ سوچ پریشان کر دیتی کہ اُٹھنا ہے اور بچوں کو ناشتہ کروا کر سکول بھیجنا ہے۔ بچوں پر بے حد غصہ اور ناراضگی کا دورہ سا پڑتا۔ دن میں سب ٹھیک ٹھاک رہتا مگر بچوں کے سکول سے آنے پر انگزائٹی (Anxiety) سی شروع ہو جاتی جو اُس وقت تک رہتی کہ جب تک بچے سو نہ جاتے یعنی تقریباً رات دس بجے تک۔

ایک ماہ ہومیوپیتھک علاج کے بعد
نزلہ، زکام، کھانسی اور میٹھے کی طلب تقریباً سب کچھ ٹھیک ہو گیا۔ زندگی میں رونق جیسے واپس آ گئی۔ نیند میں واضح بہتری اور سکون کی کیفیت ہو گئی۔ یہ کھاؤ وہ نہ کھاؤ والی باتیں اب خواب خیال لگنے لگیں۔ جب دل کیا نہا لیا؛ جہاں دل کیا گاڑی نکالی اور پہنچ گئے۔ کلینک دوبارہ شروع کیا جا چکا ہے۔ زندگی میں زندہ دلی واپس آ رہی ہے۔ سالوں پرانا نزلہ زکام اور کھانسی اگرچہ اپنا احساس دلاتا رہتا ہے مگر اب یہ ڈسٹرب کرنے والا نہیں رہا ہے۔
مریضہ کا فیڈ بیک نیچے منسلک ہے۔

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔

Related Posts

(Visited 43 times, 1 visits today)
Posted in: Cases, Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Respiratory, Testimonials
Return to Previous Page

2 Responses to سانس کی تکلیفیں، مستقل نزلہ زکام کھانسی اور زندگی سے مایوسی – ہومیوپیتھک دوائیں، علاج اور کیس – حسین قیصرانی

    Eisha Bhatti
    Commented:  March 20, 2019 at 6:14 AM

    Nice post sir

    Reply
    Kalsum Basit Buzdar
    Commented:  March 20, 2019 at 9:39 AM

    Best Homeopathic Doctor Sir Hussain Qaisrani

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]