showcase demo picture

فوڈ الرجی، گندم ویٹ گلوٹن الرجی، دودھ الرجی، معدہ کے شدید مسائل ۔ کامیاب کیس دوائیں اور علاج ۔ حسین قیصرانی

(کمپوزنگ و کیس پریزینٹشن: محترمہ مہرالنسا)
آج پھر اس کی آنکھ کچن سے آنے والی پراٹھوں کی مہک سے کھلی۔ اس کا سارا جسم دکھ رہا تھا۔ اس نے بستر چھوڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ بڑی مشکل سے وہ ٹیک لگا کر بیٹھ سکا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ناشتے میں ابلے ہوئے چاول حلق سے اتار رہا تھا۔ گلی میں کھلنے والی کھڑکی سے بچوں کے کرکٹ کھیلنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ کیا وہ دوبارہ کبھی اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل پائے گا۔۔۔۔! وہ اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا لیکن اس کے پاس اپنے کسی سوال کا جواب نہیں تھا۔ موسم خاصا خوشگوار ہونے کے باوجود وہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ اپنی حالت پر آنسو بہانے کے علاوہ اس کے بس میں تھا ہی کیا۔ وہ اپنی ہی ذات میں مقید ہو کر رہ گیا تھا۔ زندگی ایک بند گلی کے دہانے پر تھی جس کی دوسری جانب روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی تھی۔ چاروں جانب اندھیرا تھا صرف گھپ اندھیرا۔۔۔۔!۔
چوبیس سالہ نوجوان مسٹر RS کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ مارکیٹنگ کا بزنس کرتے تھے لیکن پچھلے دو سال سے کام کاج چھوڑ چکے تھے اور اپنے کمرے اور بستر تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ ذہنی، جذباتی، نفسیاتی اور جسمانی حوالے سے اُن کے مسائل کافی گھمبیر تھے۔ دو سال سے مختلف ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کے چکر کاٹ رہے تھے۔ وہ شدید قسم کی گندم، گلوٹن الرجی (Gluten, wheat allergy) کا شکار تھے۔ معدہ بہت زیادہ ڈسٹرب رہتا تھا۔ عجیب وغریب قسم کے وسوے، منفی خیالات، وہم، ڈر، خوف، انزائٹی اور فوبیاز اُن کے حواس پر ہمہ وقت طاری رہتے تھے۔ صحت کے حصول کے لئے اٹھنے والا ہر قدم اسے مزید بیمار کر دیتا تھا۔

آن لائن یعنی فون پر تفصیلی انٹرویو سے جو واضح صورت حال سامنے آئی وہ کچھ یوں ہے۔

جسمانی مسائل۔
1۔ معدہ بہت خراب (stomach disorder) رہتا تھا۔ کھانا کھاتے ہی ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے اور پسینے سے بھر جاتے تھے۔ پھر سر، چہرہ اور پیٹ بھی پسینے  (sweating) سے بھر جاتے تھے۔ کھٹے ڈکار آنے لگتے تھے۔ معدے میں سوجن کا احساس ہوتا جو ٹھنڈا پانی پینے سے شدت اختیار کر لیتا تھا۔ پیٹ میں ایک ہلچل سی مچی رہتی تھی اور کچا کچا سا محسوس ہوتا تھا۔ گیس بہت زیادہ بنتی تھی۔ وہ کئی قسم کی الرجیوں میں مبتلا تھے۔ تاہم گندم الرجی (Celiac disease  / Wheat Allergy) اور دودھ الرجی (Lactose  Intolerance /  Milk  allergy) کی وجہ سے اُن کی زندگی اجیرن بن گئی تھی۔ گندم یا گندم سے بنی کوئی بھی چیز کھانے سے ان ساری علامات اور مسائل میں بہت ہی شدت آ جاتی تھی۔ ڈاکٹروں نے گندم سے بنی ہر چیز سخت منع کر رکھی تھی۔ دودھ پیتے ہی پیٹ میں کچھ ہونے لگتا تھا۔ عجیب سے چکر چلتے، پسینے آتے اور بایاں کان گرم ہو جاتا تھا۔
۔ 2۔ پیٹ اکثر خراب (loose  motion) رہتا تھا۔ پیچش لگ جاتے تھے اور سخت بد بودار پاخانہ خارج ہوتا تھا۔ اکثر پاخانہ چکنائی والا ہوتا تھا۔ پاخانے کے بعد اٹھتے ہی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جاتا تھا۔ شدید کمزوری اور نڈھال پن ہو جاتا۔ پاخانے کے بعد پیٹ اندر کی طرف دھنسا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ مسلسل گیس  (Gastric  issue) کا مسئلہ رہتا تھا۔ گیس ہونے پر شدید غبار محسوس ہوتا تھا۔ پیشاب بھی بار بار آتا تھا۔
۔3۔ وہ روزانہ کئی قسم کی دوائیاں معدے، الرجی، انگزائٹی (Anxiety) اور پیٹ کی کھاتے تھے جس کی وجہ سے منہ کا ذائقہ کڑوا رہتا تھا۔ کبھی منہ میں بار بار پانی آنے لگتا اور کبھی منہ شدید خشک (dry mouth) ہو جاتا تھا۔ گلا اکثر پک جاتا اور حلق میں دانے بن جاتے تھے۔
۔4۔ ہر وقت پسینہ آتا رہتا تھا۔ خاص طور پر رات کو سارا جسم پسینے سے بھر جاتا۔ پیٹ پر بہت زیادہ پسینہ آتا۔ سردی کے موسم میں تو گزارا ہو جاتا تھا لیکن گرمی میں یہ صورت حال بہت تکلیف دہ ہوتی۔ نارمل موسم میں بھی گرمی بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی۔
۔5۔ بلڈ پریشر بہت لو (low blood pressure) رہتا تھا۔ ٹانگوں میں کھچاؤ رہتا۔ سارے پٹھے درد کرتے تھے۔ شدید کمزوری محسوس ہوتی تھی۔ وزن تیزی سے کم (weight  lose) ہونے لگا تھا۔ نقاہت اتنی زیادہ تھی کہ بیٹھ کر کھانا تک کھانا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ ہر وقت جسم تھکا (fatigue) رہتا تھا۔
۔6۔ نہاتے ہوئے کھڑا نہیں ہوا جاتا تھا۔ جیسے ہی جسم پہ پانی ڈالتا تو پیٹ پر گرمی محسوس ہوتی تھی۔
۔7۔ صبح کے وقت تمام تکلیفیں شدت سے نمایاں ہوتی تھیں۔ جسم میں اکڑاؤ، کھچاؤ، درد سب عروج پر ہوتے تھے۔ پیٹ میں ہلچل ہوتی تھی۔
۔8۔ اکثر پورے جسم پر کپکپی طاری رہتی اور خاص طور پر نچلے دانتوں میں کپکپاہٹ رہتی تھی۔

 

جذباتی، ذہنی اور نفسیاتی مسائل
۔1۔ وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے کہ میرے پیٹ کو کیا ہو گیا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی یہی خیال آتا کہ میرا پیٹ خراب ہے۔ کسی بھی لمحے اس انگزائٹی (anxiety) سے چھٹکارہ نہ ملتا کہ پتہ نہیں میرے پیٹ کو کیا ہو گیا ہے۔ مجھے لوز موشن کیوں آتے ہیں۔ میں اتنا کمزور کیوں ہوں، مجھے اتنی اعصابی کمزوری کیوں ہے۔ لوز موشن، پیٹ خرابی اور معدہ کے مسائل اُن کی زندگی کا محور تھے۔ وہ دن رات اِن کا سوچتے رہنے میں گزار دیتے۔ گندم کھانے کا بہت دل کرتا مگر نہیں کھاتے تھے۔ پیٹ پھر بھی خراب ہی رہتا تھا۔ معدے کی کئی ایلوپیتھک دوائیاں اور سیرپ اُن کو کئی بار لینے پڑتے مگر بہتری نہ آ پاتی۔ اُن کو وہم ہو گیا تھا کہ وہ جو کچھ کھاتے ہیں، ہو نہ ہو کہ اُس میں کچھ نہ کچھ گندم کا ملا ہوا ہو گا۔ پھر خود کو تسلی دینے کے ہر معاملہ پر غور کرتے اور اپنے آپ کو سمجھاتے کہ نہیں گندم کی وجہ سے نہیں ہوا ہو گا۔ ایک مستقل کشمکش اور جنگ دل و دماغ میں جاری رہتی تھی۔
۔2۔ مارکیٹ جاتے تو یہ خیال آتا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو کیا ہو گا۔ مجھے کون سنبھالے گا۔۔ میں گھر واپس کیسے جاؤں گا۔۔۔ اور آنے جانے کا سارا راستہ انہی سوچوں میں پریشان گزرتا۔ کئی بار پینک اٹیک (Panic Attack) بھی ہوا۔ اب اکیلے کہیں جاتے ہی نہیں تھے۔ کسی کے ساتھ بھی جاتے تو اپنے آپ کو تسلیاں دیتے بمشکل گھر واپس پہنچتے تھے۔
۔3۔ کہیں بھی جاتے تو کھانے کی کوئی چیز ساتھ لازمی رکھتے کہ کہیں بھوک نہ لگ جائے۔ اگر بھوک لگ گئی اور کھانے کو کچھ نہ ہوا اور مجھے کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔۔! لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔ کسی خوشی یا غم کے موقع پر بھی نہیں جاتے تھے کہ کہیں مجھے کچھ ہو نہ جائے۔ دوست احباب، جاب اور تعلق داری سب چھوٹ گیا تھا۔ ہر وقت انگزائٹی اور منفی سوچیں ذہن کو جکڑے رکھتیں۔ کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کی طلب ہوتی ہی رہتی۔ تھوڑا سا کچھ کھا لیتے تو تھوڑا سا وقت سہولت کا گزر جاتا۔
۔4۔ مسٹر RS کو اپنے وجود کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہ وہم بہت شدید تھا کہ اس کا جسم اس کے ساتھ نہیں ہے۔ ان کو لگتا  جیسے ان کا سر ہوا میں معلق ہو۔ عجیب سا خالی پن (emptiness) محسوس ہوتا تھا۔
۔5۔ انہیں لگتا تھا کہ جیسے زلزلہ آ گیا ہے۔ کبھی لگتا کہ زمین نیچے کی طرف جا رہی ہے اور زمین کے ساتھ ساتھ وہ بھی نیچے جا رہا ہے۔
۔6۔ رونا بہت آتا تھا۔ والدہ کی وفات کے بعد ان کے غم میں روتے ہی رہتے تھے۔ اپنی حالت پر رونا آتا تھا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے ۔۔ کیا میں کبھی ٹھیک ہو بھی پاؤں گا یا نہیں۔ وہ اسلام آباد کے بہترین ہسپتال سے ہر قسم کے ٹیسٹ اور علاج کروا چکے تھے مگر بہتری کے بجائے صحت خطرناک صورت اختیار کر گئی تھی۔
۔7۔ جمعہ پڑھنے جاتے تو لمبے لمبے سانس لینے لگتے۔ پیٹ اندر کی طرف چلا جاتا، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی، شدید پسینہ آتا اور یہ بے ہوش ہو جاتے۔ گھر پر بھی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔

 

ہسٹری
مریض کے بیان کے مطابق تین سال قبل کسی دوائی کے استعمال سے معدہ ڈسٹرب ہوا۔ اس کے بعد سے پیٹ کا مسائل شروع ہوئے۔ گیس اور قبض رہنے لگی۔ 2016 میں پیلا یرقان ہوا۔ ڈاکٹرز اور میڈیکل ٹیسٹ کے مطابق معدے کا السر، چھوٹی آنت، آنتوں کی تکالیف، آئی بی ایس (IBS – Irritable bowel syndrome) اور انتڑیوں کی سوزش (intestinal inflammation and infection) کا مسئلہ بھی رہا۔ 2018 میں اسلام آباد الرجی سنڑ سے ٹیسٹ کروائے تو رپورٹ کے مطابق ایچ پائیلوری  H. pylori پازیٹو تھا۔ وٹامن ڈی 3 کی کمی تھی اور گندم الرجی  (Wheat / Gluten Allergy) تھی۔ ڈاکٹرز نے گندم اور تمام بیکری آئٹمز سے مکمل پرہیز بتایا اور الرجی کی ویکسین شروع ہوئی۔ فرانس میں اُن کی فیملی تھی سو اپنی رپورٹس وہاں کے سپیشلسٹس کو بھجوائی۔ انہوں نے بھی گندم ویٹ الرجی کو کنفرم کرتے ہوئے حتمی فیصلہ دیا کہ گندم سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ دوائی بھی تجویز کی لیکن ساتھ ہی اس کے سائڈ ایفیکٹ (Side affects) کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ والد صاحب کو شوگر (Diabetes) کا عارضہ تھا۔ والدہ بلڈپریشر (Blood Pressure) کی مریضہ تھی۔

کیس کا تجزیہ، دوائیں اور علاج (ہومیوپیتھک سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)
۔مسٹر RS نے جب فون پر رابطہ کیا تو اُن کی جسمانی، جذباتی اور ذہنی صورت حال کافی خراب تھی۔ وہ بہت کنفیوز تھے؛ اس لئے کیس دینا تو کجا، بات سمجھنا اور سمجھانا بھی، اُن کے لئے بہت مشکل تھا۔ گندم الرجی، لوز موشن، پیٹ اور معدہ کی خرابی پر ہی اُن کی بات کا آغاز اور اختتام ہوتا۔ وہ ہر چھوٹی بڑی بات میں ڈبل مائنڈڈ تھے۔ اُلجھن اُن کی ہر ادا، انداز اور پہلو سے واضح تھی۔ پہلے تو کچھ عرصہ علاج کرنے اور نہ کروانے کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ جب حتمی فیصلہ کر ہی لیا تو اب یہ مسئلہ پھنس گیا کہ فیس جاز کیش سے بھجوائیں یا بینک کے ذریعہ۔ اتنی ساری ایلوپیتھک دوائیاں جو دو سال سے کھا رہے ہیں وہ یکدم چھوڑ دیں یا آہستہ آہستہ کر کے۔ گندم الرجی کی وجہ سے بے اولادی کا مسئلہ ہے یا دودھ الرجی اصل وجہ ہے۔۔ وہ میڈیکل ٹیسٹ کرواتے رہتے۔ ٹیسٹ ٹھیک آتے تو بھی پریشانی نہ جاتی۔ کوئی کہتا کہ جگر میں خرابی ہے تو کوئی اس کو (intestinal  inflammation  / colon  Inflammation) بتاتا۔ کہیں چھوٹی آنت کا مسئلہ بتایا جاتا تو کہیں بڑی آنت کی کہانی سنا دی جاتی۔ کوئی معدہ کی سوجن وجہ بتاتا تو کوئی خوراک کی نالی کے مسائل کی بات کرتا۔ وہ انٹرنیٹ پر متواتر سرچ کرتے رہتے تھے۔ اپنے مسائل کی اتنی ساری مختلف وجوہات بڑے ڈاکٹرز سے سن سن کر بہت کنفیوز ہو گئے تھے۔ گھر والے اور دوست دار یہ کہتے کہ تمہیں کچھ نہیں ہے، محض تمہارا وہم ہے۔ وہ خود دو دِلے (Double  Minded) ہو جاتے کہ کیا واقعی مجھے کچھ نہیں ہے۔ اگر مجھے کچھ نہیں ہے میرے لوز موشن کیوں ہیں، میرا معدہ اتنا خراب کیوں ہے، اتنی کمزوری کیوں ہے، میں ٹھیک کیوں نہیں ہو رہا۔ اُن کے اندر خود اعتمادی بالکل نہیں رہی تھی۔ وہ بہت نرم دل تھے اور کسی کا دل دکھانے سے ڈرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اُن سے کوئی گناہ غلطی سرزد ہوئی ہے جس کی یہ پکڑ ہے۔

وہ گارنٹی چاہتے تھے کہ گندم الرجی (Gluten  Allergy  / Gluten-sensitive  enteropathy) ٹھیک ہو جائے گی۔ اگرچہ اُن کا کیس کلئیر تھا مگر انہیں بتا دیا گیا کہ ایک معالج کا کام علاج کرنا ہے اور بس۔ شفا دینا اللہ کا کام ہے۔ اِس لئے کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ وہ پھر شش و پنج میں مبتلا ہو گئے۔ جب جب آن لائن بات ہوئی؛ تذبذب، کشمکش اور الجھن اُن کے ہر کام اور معاملہ میں واضح جھلک رہی ہوتی تھی۔

زبان مکمل سفید تھی۔ بار بار برش کرنے کے باوجود صاف نہیں ہو پاتی تھی۔ اُن کو اپنے تمام مسائل کی جڑ بنیاد معدہ ہی نظر آتا تھا۔ وہ بار بار کچھ کھاتے رہنے چاہتے تھے کیوں کہ جب معدہ خالی ہوتا تو انہیں بہت کمزوری اور بے چینی محسوس ہوتی تھی۔

ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق گندم مکمل طور پر چھوڑ چکے تھے۔ چاول اور مکئی کی روٹی پر گزارا ہو رہا تھا۔ صرف پرہیزی کھانا کھاتے لیکن پیٹ پھر بھی ٹھیک نہیں ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے معدہ کھانے پینے کی کوئی بھی چیز قبول نہیں کرتا۔ ہر کھانے کی چیز صورت حال کو مزید بگاڑ رہی تھی۔ پیٹ مسلسل خراب رہتا تھا۔ پیٹ میں چکر چلتے رہتے تھے۔ بار بار واش روم (dysentery) جاتے اور فارغ ہوتے ہی چکر آنے لگتے۔ کمزوری بڑھتی جا رہی تھی۔ وزن کم ہو رہا تھا۔ معدے اور پیٹ کے مسائل بہت سی نفسیاتی الجھنوں کا باعث بن رہے تھے۔ اس خوف نے ان کو بری طرح گھیر لیا کہ ”مجھے کچھ ہو جائے گا”۔ یہ خوف اتنا بڑھا کہ کام کاج بلکہ گھر سے باہر جانا چھوڑ دیا۔ سوشل لائف ختم ہو گئی۔ بے شمار قسم کی دوائیاں کھانے سے مختلف وسوسے، واہمے اور فوبیاز بڑھنے لگے۔ قدم بڑھاتے تو لگتا قدم جیسے زمین میں دھنس جائے گا۔ زمین نیچے کو جاتی ہوئی محسوس ہونے لگتی۔ کبھی لگتا کہ زمین پیروں کے نیچے سے نکل جائے گی اور میں اندر چلا جاؤں گا۔ ایسا بھی ہوتا کہ انہیں اپنا جسم ساتھ محسوس نہ ہوتا۔ ایسا لگتا جیسے ان کا جسم صرف سر پر مشتمل ہے، سر ہوا میں معلق ہے اور باقی دھڑ نہیں ہے۔ پسینے آتے رہتے، نچلے دانتوں میں کپکپاہٹ رہتی۔ پیٹ میں گیس بھری رہتی۔

ہومیوپیتھی دوائیں

یہ ایک پیچیدہ کیس تھا مگر اِس کی اپر موسٹ لیئر واضح طور پر اناکارڈیم (Anacardium occidentale) کی تھی۔ تاہم میڈورائینم (Medorrhinum)، انٹی مونیم کروڈم (Antimonium crudum)، اوپیم (Opium) اور نکس وامیکا (Nux Vomica) بھی نظر آ رہی تھیں۔ بے شمار ایلوپیتھک دوائیاں کھانے کی وجہ سے کیس کا آغاز نکس وامیکا (Nux Vomica) سے کیا گیا۔ دو دن کے اندر ہی مریض کو کچھ سہولت ہو گئی۔ یہ سہولت البتہ اتنی نہیں تھی کہ جو ہومیوپیتھک علاج کا طُرہِ امتیاز ہے۔ اُن کا معدہ کچھ بہتر ہوا، نیند بھی اچھی ہو گئی لیکن وہ گو مگو کا شکار رہے۔ یہ علاج جاری رکھوں یا ڈاکٹرز کی مانوں کہ جن کے مطابق گندم الرجی کا کوئی علاج ہے ہی نہیں۔ ایک ہفتہ بعد اناکارڈیم (Anacardium  occidentale) جاری کروائی گئی جس سے اُن کی طبیعت کُھل گئی۔ اگرچہ پروگرام یہی تھا کہ وہ اگلے ماہ سے تھوڑی تھوڑی گندم لینا شروع کریں گے مگر ان کے اندر جو ذہنی سکون اور یکسوئی آئی تو انہوں نے از خود اتنا بڑا فیصلہ کیا اور گندم کی روٹی شروع کر دی۔ اُن کو بہت مزہ آیا اور اُن کا اعتماد بحال ہو گیا۔ دوسرے ہی دن انہوں نے گندم کی تین روٹیاں اکٹھی کھا لیں۔ اس طرح سے یکدم اکٹھی تین روٹیاں کھانے سے مسائل ہوئے لیکن اُن سے مسلسل رابطہ رہا اور یقین دہانی کروائی گئی کہ اگر کچھ ہوا تو اللہ کے فضل سے ہم سنبھال لیں گے۔ گندم گلوٹن الرجی اور دودھ الرجی کے مسائل، اللہ کے کرم سے، پہلے ماہ ہی سو فیصد حل ہو گئے۔ اس دوران کاربو ویج (Carbo vegetabilis) اُن کے پاس موجود رہی۔ اُن کو دو تین بار پینک اٹیک کی کیفیت ہوئی، ٹھنڈے پسینے آئے، سانس بند ہونے، موت کا شدید ڈر بھی ساتھ تھا، دل کرتا تھا کہ کھلی ہوا میں جائے یا پنکھا چلائیں۔ اِیسی ایمرجینسی میں انہوں نے کاربوویج استعمال کی اور اس سے طبیعت ہمیشہ بحال ہو جایا کرتی تھی۔
گندم دودھ بلکہ فوڈ الرجی (Food  Allergy)، معدہ اور پینک اٹیک کے معاملات، اللہ کے کرم سے، صرف دو ماہ کے اندر واضح طور کنٹرول ہو گئے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے مریض کی کونسلنگ اور سائیکوتھراپی کا کردار بھی دوائیوں سے کم نہ تھا۔
چوں کہ نیچے کافی مسائل موجود تھے اور بے اولادی بھی اہم ترین مسئلہ ہے سو علاج جاری رکھنا ضروری تھا۔ اگر تمام مسائل کا مکمل علاج نہ کیا جائے تو الرجی کے مسائل دوبارہ ہونے کا یقینی خطرہ رہتا ہے۔

دیگر مسائل یا نیچے کی لیئرز کے لئے، علامات کے مطابق جب جب ضرورت ہوئی میڈورائنم (Medorrhinum)، ایکونائٹ (Aconitum napellus)، انٹی مونیم کروڈم (Antimonium crudum)، اوپیم (Opium)، فاسفورس (Phosphorus) اور سلیشیا (Silicea) دی گئیں۔

 

مریض کے فیڈبیک کے لئے یہاں کلک کریں یا نیچے کی تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔

 

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔

Related Posts

(Visited 1 times, 1 visits today)
Posted in: Cases, Digestive System, Gastrointestinal, Mental Health
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]