showcase demo picture

ہومیوپیتھک پریکٹس اور کیس ٹیکنگ – ڈاکٹر بنارس خان اعوان

میں آپ سے مخاطب ہوں، آپ جو ابھی اس فیلڈ میں کم تجربہ رکھتے یا ابھی سٹوڈنٹس ہیں اور عملی زندگی میں قدم رکھیں گے۔ آپ کے پاس ابھی انتخاب کا موقع ہے۔
 

میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں اگر آپ نے اس فیلڈ میں رہنا ہے، سنجیدہ پریکٹس کرنی ہے، نیک نامی کمانا ہے تو پھر آپ کو کچھ اصول و قوانین اپنانا ہوں گے، ان کی پابندی کرنا ہو گی۔ کیونکہ کائنات خود اصول و قوانین کی پابند ہے اور جو اس کے بنائے ہوئے اصول و قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے خسارے میں رہتا ہے۔ ہومیوپیتھی پریکٹس بھی آپ سے سنجیدگی اور دیانت داری کا تقاضا کرتی ہے۔ ہومیوپیتھی پریکٹس میں دو طریقے رائج ہیں۔ ایک سنگل ریمیڈی اور دوسرا کمبینیشن  یا مکسوپیتھی (اسے جو بھی نام دیں)۔ انتخاب آپ کا ہے۔ ہمارے ہاں اکثریت کمبینیشن پریکٹس کرتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کمبینیشن پریکٹس بہت آسان ہے اور اس سے جز وقتی نتائج بھی حاصل ہوتے ہیں۔اور یہ شارٹ کٹ بھی ہے۔ مریض دوائیں کھاتا رہتا ہے، کھاتا رہتا ہے۔ اور یوں اس کا کام اور ڈاکٹر کی دکانداری چلتی رہتی ہے۔اگرچہ آپ Palliation کر رہے ہوتے ہیں یا Suppresion یہ ایک الگ بحث ہےبلکہ میرا تو یہ کہنا ہے کہ اگر کسی نے کمبینشن پریکٹس ہی کرنی ہے تو اسے ہومیوپیتھی سمجھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
کتاب یا رسالے کی ورق گردانی کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس کے لیے تو فارماسیوٹیکل کمپنی کا لٹریچر ہی کافی ہے۔

 

دوسری پریکٹس سنگل ریمیڈی پریکٹس ہے جو میرے نزدیک درست اور صحیح ترین ہے۔اسی میں مریض کی فلاح، آپ کی نیک نامی اور آپ کے ضمیر کا سکون ہے۔اسی میں قاعدے قانون کی بات ہوتی ہے۔
 

میں اپنے مطالعہ کی بنا پر بلا خوف و خطر کہہ سکتا ہوں کہ ہومیوپیتھی کا اصل چہرہ اور شناخت صرف سنگل ریمیڈی پریکٹس ہی ہے۔دوسری پریکٹس ایلوپیتھی کی نقل میں، بیماریوں کے نام پر مکس دواؤں کا استعمال شروع کیا گیا۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سنگل ریمیڈی پریکٹس اور لمبے چوڑے اور طویل انٹرویوز کے لیے ڈاکٹر کے پاس ٹائم ہوتا ہے، نہ مریض کے پاس۔اگرغور کیا جائے تو اس دلیل میں کوئی وزن نہیں۔ کیونکہ اگر آپ شارٹ کٹ کے ذریعے اپنا اور مریض کا ٹائم بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو مریض (ہومیوپیتھی نظریہِ علاج کے مطابق) مزید خراب تر اور اس کا مرض پیچیدہ تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ لہٰذا ایسا ٹائم بچانے کا کیا فائدہ؟ پنجابی ضرب المثل ہے (ترجمہ) جو سونا آپ کے کانوں کو تکلیف دے، اسے بھٹی میں ڈال دیں۔ لہٰذا ایسے شارٹ کٹ کا کیا فائدہ جو زندگی بھر مریض کو بیماری کی دلدل میں دھکیل دے۔ اور ہمارے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ ایسے مریض، زندگی میں جن کے پاس ٹائم نہیں ہوتا، بالاخر اپنا زیادہ وقت ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کے کلینکس کے چکر لگانے میں گذارتے ہیں۔
 

اگر آپ غور کریں تو ہانیمن نے دواؤں کے مجموعے کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا اور سنگل ریمیڈی کا نظریہ پیش کیا۔ ہم کس منہ سے دوبارہ کمبینیشن میں جا سکتے ہیں؟
 

آپ لوگ چونکہ ابھی جوان ہیں۔ آپ کے پاس محنت کرنے کا موقع اور وقت ہے۔ جی لگا کر پڑھیں، شہر کے اچھے ہومیوپیتھس سے رابطے میں رہیں، ان سے سیکھیں، لیکچرز، ورکشاپس اور سیمینارز میں شرکت کیا کریں۔اور یوں ایک اچھا ہومیوپیتھ بننے میں آپ کو سات سے دس سال لگیں گے۔صبر اور مستقل مزاجی شرط ہے۔ اپنی پریکٹس کے شروع میں مشکل اور پیچیدہ کیس لینے سے پرہیز کریں۔
 

مایوس نہیں ہونا، ہمت نہیں ہارنی، بددل نہیں ہونا۔ کیونکہ یہ علم بہت گہرا، اس کے نتائج دیر پا اور اس کی پریکٹس نتیجہ خیز ہے۔ اس سسٹم میں بڑا Potential ہے۔ اللہ کی طرف سے بنی نوعِ انسان کو انمول تحفہ ہے۔اور اس علم کو سمجھنے کی پہلی سیڑھی کیس ٹیکنگ ہے۔ آپ نے نوٹ کیا ہو گا میری پوسٹس میں اکثر کیس ٹیکنگ کا ذکر ہوتا ہے۔ میری نظر میں کوئی ایسا کامیاب ہومیوپیتھ نہیں گذرا جسے کیس ٹیکنگ نہ آتی ہو۔ کیس ٹیکنگ دراصل مریض، مرض اور دوا کو سمجھنے اور ان تینوں کے مابین رشتوں کو سمجھنے کا نام ہے۔میں نے کیس ٹیکنگ پر لاتعداد اور طویل دورانئیے کے لیکچرز دیے ہیں اور دیتا رہتا ہوں۔
 

سنگل ریمیڈی پریکٹس جو بظاہر بہت مشکل لگتی ہے ،وقت گزرنے کے ساتھ آسان ہونے لگتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب آپ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔کیونکہ تب آپ اس کے آرٹ کو سمجھنے لگ جاتے ہیں۔دورانِ انٹرویو جب آپ مریض کی شخصیت کو سمجھنے لگ جاتے ہیں تو آپ مریض کو اس کے مزاج اور روئیے ، اس کی پسند ناپسند اور بہت سی عادات و اطوار کے بارے میں آگاہ کر کے اسے خوشگوار حیرانیوں میں ڈال دیتے ہیں۔مریض کا آپ کی ذات پر اعتماد پختہ ہو جاتا ہے۔اور (ایک وقت میں ) محض ایک خوراک تجویز کر کے مریض کو بتدریج صحت یابی کی طرف گامزن دیکھتے ہیں تو آپ کو خوشی ہوتی ہے۔ ایسی خوشی اور شفایابی کمبینیشن پریکٹس میں نہیں ملتی۔
 

اگر کوئی میری باتوں سے متفق نہیں اور کمبینیشن پریکٹس میں خوش ہے تو خوش رہے۔ ممکن ہے زندگی میں کبھی اسے احساس ہو کہ اس کی زندگی کا سفر رائگاں گیا۔ اس کا فیصلہ ہم وقت پر چھوڑتے ہیں۔

Related Posts

(Visited 3 times, 1 visits today)
Posted in: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Professional, Uncategorized Tagged: , , ,
Return to Previous Page

Comments: ہومیوپیتھک پریکٹس اور کیس ٹیکنگ – ڈاکٹر بنارس خان اعوان

    Qaisara Batool
    Commented:  June 13, 2017 at 10:15 PM

    Perfectly Right

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]