showcase demo picture

ہومیوپیتھک دوائی سے کوئی افاقہ یا فائدہ کیوں نہیں ہوتا اور غلطی کہاں ہوتی ہے؟ (حسین قیصرانی)۔

اوورسیز پاکستانی بھائی کا ایک پیغام کل رات موصول ہوا ہے جو ہومیوپیتھک علاج اور اُس کے تقاضوں کو سمجھنے کے حوالہ سے بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ایسے پیغامات اور سوالات اکثر پوچھے جاتے ہیں؛ اِس لئے اس معاملہ کو تفصیلاً عرض کیا جاتا ہے۔
السلام عليكم و رحمت الله و بركاته
میں پاکستان سے باہر رہتا ہوں۔ میری بہن کا کیس ہے تفصیل سے معلوم ہوا لیکسس ہے۔ میں ڈاکٹر تو نہیں ہوں لیکن ھومیوپیتھی سے خصوصی لگاؤ ہے۔ میں نے لیکیسس 200 طاقت میں تجویز کی لیکن کچھ بھی افاقہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد میرے مشورہ پر بھائی نے شہر کے نامور ھومیوپتھ سے بھی علاج کروایا لیکن کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ میرے گھر والے بہت پریشان ہیں۔
آپ سے معلوم کرنا ہے اگر اس دوائی کو اونچی طاقت میں استعمال کرنا ہے تو کس طرح کرنا ہوگا۔ جواب کا منتظر۔ جزاک اللہ خیر

وعلیکم السلام بھائی صاحب!
آپ کے اندازِ بیان سے معلوم پڑتا ہے کہ آپ کو ہومیوپیتھی پر اچھی دسترس ہے۔ اِس امر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، میں ذرا تفصیل سے عرض کر رہا ہوں۔
لیکیسس بہت گہرا، دُور اور دیر تک اثر کرنے والی دوا ہے۔ ہومیوپیتھک لٹریچر میں لیکیسس کی 200 پوٹینسی ہی کو بڑی طاقت تصور کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ولیم بورک نے اپنے میٹریا میڈیکا میں لیکیسس پر تفصیلی بحث کے بعد لکھا ہے کہ اسے 200 کی پوٹینسی تک ہی استعمال کرنا چاہئے۔ دوا کو بار بار نہیں دینا چاہئے۔ اگر لیکیسس کی ضرورت تھی تو ایک ہی خوراک کافی ہے، اِسے کام کرنے دیا جائے۔
(Eighth to 200th potency. Doses ought not be repeated too frequently. If well indicated, a single dose should be allowed to exhaust its action.) ۔

میں نے اپنی پوری پریکٹس کے دوران لیکیسس 200 سے زائد پوٹینسی کبھی استعمال نہیں کروائی۔ اور نہ ہی اِس کی دوسری خوراک کبھی دینے کا ابھی تک اتفاق ہو سکا ہے۔ اگر مہارت نہ ہو تو عام طور پر 30 طاقت اور ایک ہی خوراک کافی ہوتی ہے۔ اُس کے بعد اگر ضرورت ہو تو کسی دوسری دوا سے فالواَپ کیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اگر آپ مکمل طور پر مطمئن ہیں کہ لیکیسس کا انتخاب صحیح ہے تو 200 کی طاقت دی جا سکتی ہے تاہم ضروری ہے کہ مریضہ کے تمام مسائل کو تحریر میں لایا جائے۔ اس دوران کسی قسم کی اَور دوا استعمال نہ کی جائے۔ طبیعت میں جو تبدیلی (مثبت یا منفی) آئے اُسے نوٹ کیا جانا ضروری ہے۔ دس پندرہ دن بعد دوبارہ کیس لیں۔ ریکارڈ میں چیک کریں کہ جن علامات کی وجہ سے آپ نے لیکیسس کا انتخاب کیا تھا اُن میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ وہ بڑھی ہیں یا کم ہوئی ہیں — دونوں صورتوں میں مزید انتظار کرنا ہوگا۔ اگر کسی بھی حوالہ سے کوئی فرق نہیں پڑا تو دوائی کا انتخاب صحیح نہیں تھا؛ اِس لئے دوبارہ کیس لیں۔ اِس کے باوجود اگر ڈاکٹر ہر پہلو سے غور کرنے کے بعد اِس نتیجہ پر پہنچے کہ دوا لیکیسس ہی ہے تو پوٹینسی کو ایک درجہ نیچے یا اوپر صرف ایک خوراک دی جا سکتی ہے۔ اگر پھر بھی فرق نہ پڑے تو سلفر یا کوئی میازمیٹک دوا دینے کی ضرورت پڑتی ہے جو کیس کو کھولنے میں بنی رکاوٹ کو دور کرنے میں معاون ہو۔

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ پراسیس اور تقاضے پورے کیے جائیں اور کوئی فرق ظاہر نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ سارا عمل صرف دوا دیتے رہنے سے مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے مندرجہ ذیل عوامل کو پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔

اِس تفصیل کے بعد عرض یہ ہے لیکیسس کے لئے 200 کی طاقت اور ایک خوراک ہی کافی ہے۔ اُس نے اگر بالکل بھی کوئی فائدہ نہیں دیا تو زیادہ امکان یہ ہے کہ پوٹینسی کی نہیں دوا تبدیل کرنے کی ضرورت ہو۔ اگر مہارت نہ ہو تو دوا کے انتخاب میں جہاں تک ممکن ہو پلانٹ کنگڈم (Plant Kingdom) یا سادہ دوائیوں تک رہیں۔ اینیمل کنگڈم (Animal Kingdom) بہت سوچ بچار کے بعد صرف اُس وقت ہی دی جانی چاہیئں کہ جب ڈاکٹر کو شرح صدر ہو۔ یہ بہت گہری دوائیاں ہیں اور ان کا غلط استعمال سارے کیس کو خراب کر دیتا ہے۔

غلطی کہاں ہوتی ہے؟

آج سارا معاشرہ ایلوپیتھک طریقہ علاج سے ہی متاثر ہے جس میں بالعموم کیس ٹیکنگ گہرائی میں نہیں ہوا کرتی۔ مریض اپنے چند مسائل بیان کرتا ہے اور دوائیاں دے دی جاتی ہیں۔

ہومیوپیتھی علاج کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس میں صرف مرض یا تکلیفوں کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ مریض کا علاج ہوتا ہے۔ اِس میں کیس ٹیکنگ، مریض کے ہر پہلو کو مدِ نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ مریض کو کوئی ایک دوا دی جاتی ہے جو اُس کی موجودہ کنڈیشن یا سطح کی دوا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لیکیسس کا مریض ہے لیکن اس کی اوپر کی سطح نکس وامیکا، اِگنیشیا یا پلساٹیلا کی ہو سکتی ہے۔ جب تک اوپر کی تہہ کو صاف نہیں کریں گے لیکیسس کماحقہٗ کام نہیں کرے گی یا کم از کم مریض کی نظر میں دوا یا علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کوئی مریض اپنی اصل صورتِ حال (دل و دماغ اور جسم کی) ایسے یا یونہی چلتے پھرتے نہیں بتاتا۔ اُس کے لئے مخصوص مہارت اور ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر اپنے قریبی رشتہ دار ڈاکٹر یا فرد کو صرف سطحی کیس دیا جاتا ہے اور اصل تکلیفوں کو ظاہر نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں مریض کا کیس باقاعدہ لکھا جانا تو خیر ہے ہی اولیں شرط۔

ڈاکٹر جیمز کینٹ کا کام اور نام ہومیوپیتھی لٹریچر میں بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ کے ہومیوپیتھک فلاسفی پر لیکچرز دنیا بھر میں ہومیوپیتھک کورس کا حصہ ہیں۔ ان کی اس موضوع پر شہرہ آفاق کتاب کا آخری سے پہلے والا لیکچر (Lecture 36: The Second Prescription) “دوسرا نسخہ” پر ہی ہے۔ فرماتے ہیں کہ دوسرا نسخہ لکھنے سے پہلے کیس کا از سر نَو مطالعہ کرنا ضروری ہے اور یہ نوٹ کرنا بھی بے حد اہم ہے کہ کیا کیا تبدیلیاں رُونما ہوئیں۔ بعد میں چاہے وہی دوا دہرائی جائے، اُس کا توڑ کیا جائے یا کوئی معاون دوا دینے کی ضرورت پڑے۔

(The second prescription may be a repetition of the first, or it may be an antidote or a complement ; but none of these things can be considered unless the record has been again fully studied, unless the first examination, and all the things that have since arisen, have been carefully restudied that they may be brought again to the mind of the physician.)۔

اگر باقاعدہ کیس لیا ہی نہیں گیا، اُس کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے اور نئی دوا دینے سے پہلے پچھلا ریکارڈ توجہ سے دیکھا نہیں گیا تو جو بھی دوا دی جائے گی وہ ہومیوپیتھک دوا تو ہو سکتی ہے لیکن یہ ہومیوپیتھک علاج نہیں کہلائے گا۔ یہ جو بھی علاج ہے؛ اِس سے صحت یابی کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔

مجھے روزانہ کئی فون یا پیغامات موصول ہوتے ہیں کہ فلاں فلاں مسئلہ کی دوا بتا دیں۔ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اِس طرح کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا لیکن کوئی سمجھنا ہی نہ چاہے تو پھر دوائی بتا دیتا ہوں۔

اِس سے یہ بھی واضح ہو جانا چاہئے کہ جو ڈاکٹر (چاہے وہ کتنا ہی مشہور یا قابل کیوں نہ ہو) مریض کا کیس نہیں لیتا، ریکارڈ نہیں رکھتا اور نیا نسخہ لکھتے یا دوا دیتے وقت پچھلا ریکارڈ ملاحظہ نہیں کرتا وہ ہومیوپیتھک علاج کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔

بہت دفعہ تو فالواَپ نشستوں یا انٹرویوز میں ہی کیس سمجھ آتا ہے۔ کئی بار دوسرے یا تیسرے انٹرویو میں اِدھر اُدھر کی بات چیت کے دوران معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ اَور ہی تھا۔ ہومیوپیتھی میں کسی مسئلے کی وجہ سمجھ آ جائے تو کیس واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ اِس ضمن میں میرے آرٹیکل ہومیوپیتھک طریقہ علاج اور تشخیص میں سبب کی اہمیت مطالعہ مفید رہے گا۔

(حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ اینڈ ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ بحریہ ٹاؤن لاہور، پاکستان فون نمبر 03002000210)۔

Related Posts

Posted in: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu Tagged:
Return to Previous Page

Comments: ہومیوپیتھک دوائی سے کوئی افاقہ یا فائدہ کیوں نہیں ہوتا اور غلطی کہاں ہوتی ہے؟ (حسین قیصرانی)۔

    Anonymous
    Commented:  December 17, 2017 at 10:18 AM

    Bhutt aaala

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published.

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]