showcase demo picture

Cases

Solved Cases

سانس میں رکاوٹ، کمر درد، انگزائٹی، الرجی، غصہ، کان کی آوازیں اور معدے کی سخت خرابی – کامیاب کیس – حسین قیصرانی

کیس پریزینٹیشن، فیڈ بیک کے رواں اردو ترجمہ اور کمپوزنگ کے لئے محترمہ مہرالنسا کا شکریہ۔ ------------ آپ نے کبھی کسی ماہر شعبدہ باز کو دیکھا ہے جو ہاتھوں میں لمبی چھڑی تھامے ایک تنی ہوئی رسی پر، ہزاروں کے مجمع میں انتہائی پُر اعتماد انداز، انتہائی پھرتی اور کامیابی سے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ وہ ایسا کیسے کر لیتا ہے۔ جی ہاں! آپ کی سوچ بالکل صحیح ہے کہ یہ سارا کھیل توازن کا ہے؛ جہاں توازن بگڑا وہاں کھیل خراب ہو جائے گا۔ زندگی کی تنی ہوئی رسّی پر کامیابی سے چلنے کے لئے بھی دل و دماغ میں توازن برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے۔ جب تک توازن قائم رہے گا تب تک زندگی میں راحت اور سکون رہے گا۔ جیسے ہی ذرا سی لغزش ہوئی، زندگی کی کشتی ہچکولے لینے لگتی read more [...]

فسچولا بھگندر کا علاج – ہومیوپیتھک دوائیں اور کامیاب کیس – حسین قیصرانی

(کیس کی تحریر اور کمپوزنگ کے لئے محترمہ مہرالنساء کا خصوصی شکریہ!) اسلام آباد کے پُرفضا ماحول میں بچپن گزارنے والے اس نوجوان کو شروع سے ہی محنت اور اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کرنے کی لگن تھی۔ اپنی دنیا خود تخلیق کرنے کے ولولہ اور عزم نے اُنہیں اپنے گھر بار تک کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ اور امریکہ میں سالہا سال گزارنا بھی اِسی جذبہ کی تکمیل کے لئے تھا۔ عین نوجوانی میں، انہوں نے اپنے شب و روز انتہائی وضع داری، شرافت و نجابت سے گزارے۔ اصول پسندی اور روایات کی پاسداری تو سکول کے زمانہ سے مزاج کا حصہ تھی اور ترقی یافتہ ممالک میں رہائش نے اس کو مزید نکھار دیا۔ یہ سب کچھ بہت زبردست تھا تاہم اس کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ گھر کے کھانے اور فیملی کے read more [...]

ایک بے قرار جسم و روح کی کہانی؛ اُس کی ماں کی زبانی

میرا بیٹا شروع سے ہی بہت ایکٹو تھا ۔۔۔۔ ہر وقت کھیل کود کے لیے تیار ۔۔۔۔ ذہین ۔۔۔ اور شرارتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی چستی میں مزید اضافہ ہو رہا تھا اور میری توقعات میں بھی ۔۔۔۔۔ تھوڑا بڑا ہوا تو ایک اچھے سکول میں داخل کروایا لیکن سکول سے آ کر بھی اس میں تھکاوٹ کے ذرا سے آثار بھی نظر نہیں آتے تھے ۔۔۔۔ نیند کم ہوتی جا رہی تھی اور میرے خیالات بھی تبدیل ہو رہے تھے۔ جس کو مَیں چستی سمجھتی تھی وہ دراصل بے چینی تھی۔ مسلسل کھیلنا اور بے تکان کھیلتے چلے جانا اور اگر کوئی کھیلنے والا نہیں ہے تو سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہنا۔ وہ باقی بچوں کی طرح ایک جگہ بیٹھ کے ٹی وی وغیرہ نہیں دیکھتا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ سکول میٹنگ میں بتایا جاتا کہ پڑھائی کی read more [...]

ناپاکی، ٹچ کرنے، بار بار کپڑے بدلنے اور ہاتھ دھونے کا وہم، عجیب ڈر اور خوف – علاج اور ہومیوپیتھک دوائیں – حسین قیصرانی

ایک ماہ قبل کی بات ہے کہ ایک محترمہ نے سیالکوٹ سے فون کیا۔ وہ رو رہی تھیں۔ یاس و نا اُمیدی، غم اور پریشانی اُن کے ایک ایک لفظ سے جھلک رہی تھی۔ کہنے لگیں کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ عجیب و غریب بلکہ بہت ہی بے ہودہ باتیں کرتا ہے جن میں سے اکثر کسی کو بتائی بھی نہیں جا سکتی ہیں۔ یوں تو اُس کی صحت بچپن سے ہی ڈسٹرب رہی ہے-- کبھی جگر معدہ خراب تو کبھی لمبا اور لگاتار نزلہ زکام کھانسی بخار۔ خاندان میں سانس کی تکلیفیں، ٹی بی اور نفسیاتی جذباتی مسائل کی ہسٹری بھی ہے تاہم گزشتہ ایک سال سے معاملات ہماری برداشت سے باہر ہو چکے ہیں۔ ہر بڑے اور مشہور ڈاکٹر سے علاج کروایا ہے مگر بہتری نہیں ہو رہی بلکہ مسائل انتہائی خراب ہونے لگ گئے ہیں۔ ڈاکٹرز کی ہدایت یہ بھی تھی کہ بچے سے اُس کی فضول read more [...]

چھوٹے قد میں اضافہ: ایک کیس – ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج – حسین قیصرانی

کوئی پانچ ماہ اُدھر کی بات ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فیملی اپنے سترہ سالہ بیٹے کے ساتھ تشریف لائی۔ اُن کو میرے ایک محترم مہربان نے بھیجا تھا حالاں کہ وہ خود پاکستان میں صف اول کے ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور استادوں کے استاد ہیں۔ میرے دل میں ان کا بہت احترام ہے۔ ماں باپ کے بقول بچے کا مسئلہ صرف اور صرف ایک ہی تھا اور وہ یہ کہ اُس کا قد چھوٹا رہ گیا تھا اور اب کافی عرصہ سے بالکل ہی رکا ہوا تھا۔ انہوں نے اس حوالہ سے ہر طرح کے علاج کروائے اور ہومیوپیتھک شرطیہ اونچا قد لمبا کورس بھی جاری رکھے۔ اُن دوائیوں سے قد اور جسامت میں تو معمولی اضافہ تک نہیں ہوا لیکن بیٹے کی ٹینشن اور بے قراری پریشان کن حد تک بڑھ گئی۔ چھوٹے یا لمبے قد کا مسئلہ اب جسمانی سے زیادہ جذباتی اور نفسیاتی مسئلہ read more [...]

بچوں میں شدید غصہ، چیزیں پھینکنا، نوچنا، اعتماد کی کمی، معمولی بات پر رونا اور چیخنا چلانا – کامیاب کیس، دوا اور علاج – حسین قیصرانی

مارچ کے ابتدائی دنوں میں ایک فیملی اپنے ڈھائی سالہ بیٹے کے مسائل ڈسکس کرنے تشریف لائی۔ اُن کی نظر اور خیال میں بیٹے کی تکالیف یہ تھیں: 1۔ رات کے دوسرے پہر بچے کو بخار ہو جاتا تھا اور بچہ ٹانگوں / ہڈیوں کے درد کی شکایت بھی کرتا تھا۔ یہ بخار اور ٹانگوں کا درد بغیر کوئی دوائی دیے سورج نکلتے ہی بالکل ٹھیک بھی ہو جاتا تھا۔ 2۔ منہ میں متواتر چھالے اور السر (Ulcers) بن رہے تھے یعنی منہ پک جاتا تھا۔ 3۔ بچے کو سانس کی تکلیف تھی جس سے دودھ وغیرہ پینا مشکل ہو رہا تھا۔ شاید گلا (Throat) بھی خراب تھا۔ 4۔ ناک بند ہونے (Nose Blockage) کی شکایت تھی۔ 5۔ شدید غصہ، چیزیں اُٹھا اٹھا کر پھینکنے اور نوچنے کی عادت بہت ہی خطرناک صورت حال اختیار کر گئی تھی۔ مستقل بے چینی (Restlessness) اور بے قراری تھی ۔ 6۔ بال بہت read more [...]

سانس کی تکلیفیں، مستقل نزلہ زکام کھانسی اور زندگی سے مایوسی – ہومیوپیتھک دوائیں، علاج اور کیس – حسین قیصرانی

کوئی ڈیڑھ ماہ پہلے کراچی سے ایک ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے علاج کے لئے بذریعہ فون رابطہ فرمایا۔ یوں تو وہ بے شمار قسم کے مسائل کا شکار تھیں لیکن جو معاملات اُن کے لئے وبالِ جان تھے اُن کی فہرست کچھ یہ ہے: وہ اپنی صحت بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ زندگی سے مایوس تھیں۔ ہر طرح کی دوائیاں بے دریغ استعمال کر چکی تھیں اور گذشتہ کچھ عرصہ سے ہومیوپیتھک پر مکمل انحصار تھا۔ انجیکشنز اور انٹی بائیوٹکس سے مایوس تھیں اگرچہ فیملی کا اِس پر بے حد اصرار جاری تھا۔ صحت کی خرابی کے باعث اپنا کلینک اور پریکٹس تقریباً ختم کر چکی تھیں۔ دن رات نزلہ زکام کی کیفیت، شدید بلغمی کھانسی، چھینکیں اور سانس بند ہونے کا شکار تھیں۔ سینہ ایسا بھاری جیسے بلغم سے بھرا پڑا ہو۔ ہر وقت ناک صاف کرنا زندگی کا اہم ترین read more [...]

سانس میں شدید رکاوٹ، ہارٹ اٹیک کا وہم، سونے کے دوران موت کا ڈر، خوف اور فوبیا – کامیاب کیس، علاج اور ہومیوپیتھک دوائیں – حسین قیصرانی

یہ گذشتہ اگست کے پہلے ہفتہ کی بات ہے کہ جب مسز "ت" نے فون پر بتایا کہ وہ علاج کروانے کا حتمی فیصلہ کر چکی ہیں اور اپنا کیس ڈسکس کرنا چاہتی ہیں۔ اِس سے پہلے بھی دو تین مرتبہ انہوں نے رابطہ کیا اور یہی کہا تھا کہ وہ میری تحریریں باقاعدگی سے پڑھتی ہیں اور علاج کروانے میں سنجیدہ ہیں۔ اب کی بار انہوں نے اکاؤنٹ کی تفصیل معلوم کی اور کچھ دیر بعد رابطہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فیس جمع کروا چکی ہیں۔ اپنا کیس آن لائن (Online Treatment) ڈسکس کرنے کی خواہش کا اظہار کیا کیونکہ وہ راولپنڈی سے تھیں۔ چار بچوں کی ماں، لمبا قد، وزن 70 کلوگرام اور عمر 38 سال۔ شوہر ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے کنٹری ہیڈ ہونے کی وجہ سے اکثر سفر پر رہتے تھے۔ ہر دوسرے مہینے ہفتہ دس دن کے لئے ملک سے باہر جانا اُن کی روٹین تھی۔ read more [...]

موت کا ڈر، خوف، فوبیا، مثبت اور منفی کی مستقل ذہنی کشمکش – ہومیوپیتھک دوا، علاج اور کامیاب کیس – حسین قیصرانی

نظامی کی کہانی؛ خود اُس کی اپنی زبانی السلام علیکم ۔۔ محترم المقام جناب قیصرانی صاحب۔۔ محترم! میرے شب و روز بہت زیادہ بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔۔ مثبت اور منفی کی جنگ اور کشمکش تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ منفی حملہ آور ہوتا ہے یا پچھلے دو تین دنوں میں ہوا لیکن وہ رکا نہیں۔۔ مثبت بہت جلد اس کو کور کر لیتا ہے۔۔۔ مثبت قیام کرتا ہے اور زیادہ دیر قیام کرتا ہے منفی نکل جاتا ہے۔۔ منفی کا دورانیہ بہت کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ جیسے جیسے آپ نے فرمایا تھا ویسے ویسے مثبت اور منفی کی کشمکش ختم ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ باوجود اس کے آپ کی میڈیسن کٹ میرے پاس ہمہ وقت موجود ہے لیکن مجھے اس کے استعمال کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔ مَیں ایک ماہ کے علاج کے بعد میڈیسن اور ٹینشن فری زندگی read more [...]

فوڈ الرجی، سٹریس، ٹینشن اور ڈیپریشن دور زندگی بھرپور – ہومیوپیتھک علاج کے بعد فیڈبیک – حسین قیصرانی

میری کوشش زندگی کے مسائل اور رکاوٹوں کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے اور حل کر کے آگے بڑھنے کی ہوا کرتی ہے۔ مسائل کا رونا روتے رہنا مجھے کبھی بھی پسند نہیں رہا۔ سسرال میں "کاسمیٹک سرجری" اور”ڈنگ ٹپاؤ“ پالیسی پر زور تھا۔ میرے جیسی حقیقت پسند اور پریکٹیکل اپروچ رکھنے والی لڑکی سسرال کے سسٹم کے لیۓ تو خطرہ تھی ہی؛ مگر اس پریکٹیکل اپروچ نے مجھے بھی بہت overburden کر دیا تھا۔ گھر، بچوں اور فیملی کی ساری ذمہ داری نبھانے کی توقع آج بھی مجھ سے ہی رکھی جاتی ہے۔ مدد اور سپورٹ کرنے کا رجحان سسرال میں نہیں ہے۔ اگر کبھی تعاون اور مدد کا معاملہ درپیش ہو تو وہ صرف دکھاوے اور احسان جتانے کی حد تک کی جاتی ہے۔ اس بھاگ دوڑ اور افراتفری کے ماحول میں، میری صحت بری طرح متاثر ہو رہی تھی لیکن مجھے read more [...]
About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]