اسلام علیکم سر
سر! میں ایک ماہ کے علاج سے اپنے آپ کو کافی بہتر محسوس کر رہا ہوں۔
گرد و غبار سے الرجی (Allergy)، سانس رکنا، کھانسی، چھینکیں، ناک کان آنکھوں میں خارش کافی بہتر ہے۔ وہ ہر وقت ٹشو اور رومال ہاتھ میں رکھنا جس سے میں کافی تنگ تھا تقریباً چھوٹ گیا ہے۔
۔
یاد داشت گو کہ مکمل بہتر نہیں ہوئی لیکن پہلے سے کافی بہتر ہے۔
ہر کام جلدی جلدی کرنا اور غلط کر دینا اور بھول جانا بھی کافی بہتر ہے۔
جریان کی تکالیف جو اکثر رہتی تھی وہ بھی کافی کم ہو گئی ہے۔ ابھی تکلیف باقی ہے مگر اب کبھی کبھار ہوتی ہے۔
بارش ہونے پر یا میرے سوئے ہوئے بارش شروع ہو جاتی تھی تو کھانسی اور دم گھٹنے کے دورے جاری ہو جاتے تھے۔ اب کھانسی کے دورے اور دم گھٹنے کی کیفیت بھی ختم ہو گئی ہیں۔ ساون کے موسم میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور میری تمام تکالیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور ایک مدت گزر گئی ہے ساون کی بارشوں میں نہائے ہوئے اور ساون کی بارشوں میں نہانا بہت اچھا لگتا ہے لیکن اس تکلیف کی وجہ سے نہیں نہا سکتا تھا۔ لیکن اس دفعہ لگتا ہے کہ حسرت پوری ہو گی۔ الحمد للہ

نچلی ٹانگوں اور انگلیوں میں کڑل پڑتے تھے وہ بھی کافی کم ہو گئے ہیں۔
قبض کا مسئلہ ابھی باقی ہے لیکن جو تین چار دن بعد فراغت ہوتی تھی ویسا نہیں ہے۔ کچھ گزارا ہو جاتا ہے۔
اور سب سے بہتر یہ ہوا کہ میرا طرز زندگی اور پریکٹس کا سٹائل تبدیل ہوگیا ہے اور ظاہری بات ہے جب آپ کے رویوں میں تبدیلی آتی ہے تو وہ محسوس ہوتی ہے اور لوگوں سے میل جول اور مریضوں سے معاملات طے کرنے میں بھی کافی بہتری محسوس کر رہا ہوں۔ اور جب جسمانی، ذہنی اور جذباتی سطح پر اوکے کی رپوٹ ہوتی ہے تو آپ کے معاشی حالات میں بہتری آتی ہے۔ کیونکہ انسان کا اخلاق دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ جب ڈاکٹر جسمانی اور جذباتی سطح پر صحت مند ہو گا تو مریض بھی صحت مند ہوں گے۔
جیسے فارسی کی ایک ضرب المثل ہے کہ
پیر ہمیشہ دبلا پتلا پکڑو جس نے ریاضت اور مجاہدہ سے اپنے آپ کو مار دیا ہو لیکن طبیب صحتمند پکڑو تبھی وہ تمہارا علاج اچھے سے کرے گا۔
اسلام علیکم

————–

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔