بریسٹس (Breasts) خواتین میں ننھے گود کے بچوں کو دودھ پلانے کا ذریعہ ہیں۔ دودھ پلانے کی مدت میں کچھ تکالیف بہت عام ہیں جن کی وجہ سے جہاں ماں کو بہت تکلیف برداشت کرنا پڑتی ہے وہاں بچے کی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں۔
صفائی نہ رکھنے سے نپل سوج کر معمولی سی پھٹ جاتی ہیں۔ جب بچہ دودھ پیتا ہے تو بہت درد ہوتا ہے۔ اِس کے لئے بہت سی ہومیوپیتھک دوائیں مفید ہو سکتی ہیں تاہم میرے تجربہ میں یہ تین دوائیں بہت کامیاب رہتی ہیں۔ علامات کے مطابق کوئی ایک دوا ہی استعمال کروائی جائے گی۔: گریفایٹس (Graphites) یا رٹاہنیا (Ratanhia Peruviana) یا کارسی نوسن (Carcinosinum)۔
کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بچہ بریسٹ پر اپنا سر مار دیتا ہے (یا ویسے بھی کسی وجہ سے چوٹ لگ جاتی ہے) اور ورم پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے سخت درد ہوتا ہے۔ عموماً پھوڑے کی طرح حالت ہو جاتی ہے۔ شروع میں ہی ہومیوپیتھک دوا بیلاڈونا (Belladonna) دے دی جائے تو ایک دو دن کے اندر بہتری آ جاتی ہے۔ اگر تکلیف بڑھ جائے تو مندرجہ ذیل دواؤں میں سے کسی ایک کی ضرورت پڑسکتی ہے:
مرک سال (Mercurius Solubilis)
ہیپر سلفر (Hepar Sulphur)
سلیشیا (Silicea)

دودھ زیادہ چڑھ جائے اور چھاتی میں ورم کی طرح سختی ہو جائے تو: برائیونیا (Bryonia)۔
بریسٹ میں سخت گلٹیاں بن جائیں اور درد نہ ہو تو: کونیم (Conium Maculatum)۔
بریسٹس میں دودھ مگر حیض بند ہو جائے: بیلاڈونا (Belladonna)، پلساٹیلا (Pulstilla)، لائیکوپوڈیم (Lycopodium)، کلکیریاکارب (Calcarea Carbonicum)۔
نپلز سے کچھ مواد خارج ہوتا رہے یعنی رِستی رہیں: کارسی نوسن / کارسن(Carcinosinum)۔
سینے / چھاتیوں میں درد / کریمپ / مروڑ حیض کے حوالہ سے: پلساٹیلا (Pulsatilla)۔

(حیض کے مسائل اور اُن کے ہومیوپیتھک علاج کے لئے یہاں کلک کریں

۔ لیکوریا کے حوالہ سے تکلیفوں کے علاج کے لئے یہاں کلک کریں
نپلز (Nipples) اندر کی طرف گم ہونا شروع ہو جائیں (یہ بہت ہی فکرمندی کی بات ہے۔ مریضہ کینسر کا شکار ہو سکتی ہے۔): کارسی نوسن (Carcinosinum)۔

چھوٹی بڑی رسولیاں بن جائیں جو اکثر درد کریں۔ پہلے چھوٹی ہوں اور پھر بڑھتی رہیں۔ ان کے علاج کے لئے بہت تفصیل سے کیس لینا ضروری ہے۔ ایسے مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ مریضہ کینسر کا شکار ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی اَور مسئلہ نہ ہو تو ہومیوپیتھک دوا کونیم (Conium) سے علاج شروع کیا جا سکتا ہے۔ دوا کی خوراک اور پوٹینسی (طاقت) تفصیلی کیس کو سمجھنے کے بعد ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔ واضح بہتری نہ آئے تو باقاعدہ چیک اپ کروانا ضروری ہے۔
اگر خاندانی مزاج سرطانی (کینسر) ہے؛ فیملی میں یا خود مریضہ میں بڑی بیماریاں (مثلاً ٹی بی، دمہ، گردوں، پھیپھڑوں، جگر کی خرابی یا کینسر وغیرہ) موجود ہو تو کارسی نوسن بہت اچھی اور مفید دوا ہے۔ ایسی کسی صورتِ حال میں اپنے اعتماد کے ڈاکٹر سے رابطہ بہت ضروری ہے۔
دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ کی کمی ہو یا ہو جائے تو اگنس کاسٹس (Agnus Castus) یا فاسفورس (Phosphorus) فائدہ دیتی ہیں۔

چھاتیاں / پستان / بریسٹس (Breasts) چھوٹی ہوں یا چھوٹی ہو جائیں یعنی سوکھ جائیں یا ایک بریسٹ کا سائز دوسرے سے واضح فرق ہو تو اُس کے پیچھے اصل وجہ کو سمجھ کر ہی علاج کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کے علاج سے صحت میں بہتری کے ساتھ ساتھ سائز میں بھی مناسب حد تک اضافہ ہو جاتا ہے۔ عام طور پر چھ سات ماہ لگ جایا کرتے ہیں۔ اگر آپ انگریزی پڑھ سمجھ سکتے ہیں تو یہاں کلک کر کے دیکھیں کہ ایسے کیس کو کس طرح ڈیل کیا جاتا ہے اور کتنا وقت لگ جایا کرتا ہے۔ ان مسائل میں جلد بازی یا خود علاج کرنے کی کوشش بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہومیوپیتھک دوائیں سیبل سر (Sabal Serrulata)، کونیم (Conium Maculatum)، آیوڈم (Iodum)، سلیشیا (Silicea Terra)، سیکیل کار (Secale Cornutm)، فیرم میٹ (Ferrum Mettallicum)، اونسموڈیم (Onosmodium Virginianum) میں سے کوئی ایک، مریض کی علامات کے مطابق، دینے سے اچھے نتائج نکلتے ہیں۔

کئی جوان بچیوں کے ان مسائل کا حل اُن کے ہارمون کی خرابی کو دور کرنے سے یا خوراک کی کمی کا علاج کرنے سے بہت کامیابی سے کیا ہے۔ اِن دوائیوں کا غلط یا زائد استعمال صحت کی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سوکھا پن سارے جسم کا ہے تو پہلے اُس کا علاج ضروری ہے۔ سوکھے یا کمزور جسم (Atrophy / Marasmus) کے ہومیوپیتھک علاج کی تفصیل پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بریسٹ بہت بڑے ہوں (Enlarged Breasts) یا کسی وجہ سے بڑے ہو جائیں تو اُس وجہ کا علاج کرنے سے مناسب سائز میں واپس آ جا تے ہیں۔ اگر پھر بھی بہتری نہ آئے تو ہومیوپیتھک دوا چمافلا (Chimaphila Umbellata) اِس حوالہ سے بہت مفید ہے۔ لندن میں دوارانِ تعلیم وہاں کے مشہور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور اساتذہ سے بیلیس پرینس (Bellis Perennis) کی بہت تعریف سنی۔ ایک سینئر پلاسٹک سرجن جو سرجری کے بعد صرف ہومیوپیتھک دوائیں استعمال کرنے کا دعویٰ کرتا تھا، اُس نے بھی بڑے بریسٹ سائز کو توازن میں لانے کے لئے بیلیس پرینس (Bellis Perennis) کامیاب ترین قرار دیا۔ پاکستان میں مجھے ایسے کیسز کا علاج کرنے کا ابھی تک زیادہ موقع نہیں مل سکا تاہم جو دو چار کیس کامیاب ہوئے ہیں؛ اُن میں بیلیس پرینس کے بجائے چمافلا (Chimaphila Umbellata) نے بہت اچھا کام کیا ہے۔
———————————

(یہ ادویات عام معلومات اور راہنمائی کے لئے ہیں تاکہ آگاہی ہو سکے کہ ہومیوپیتھی میں بریسٹس کے مسائل کا علاج موجود ہے۔ باقاعدہ علاج کے لئے اپنے اعتماد کے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ وہ مکمل کیس لے کر مریض اور مرض کی نوعیت اور علامات کے مطابق صحیح ہومیوپیتھک دوا، دوا کی طاقت یعنی پوٹینسی اور مقدار یعنی خوراک کا انتخاب کر سکے۔)

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان ۔ فون 03002000210