ڈاکٹر بنارس خان اعوان ہومیوپیتھی تدریس و تحریر میں اپنا ممتاز اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔ وسیع المطالعہ ہونے اور سلیس اسلوب نگارش کے طفیل وہ نہایت گہری بات جتنی سادگی سے کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں وہ صلاحیت پاکستان کی حد تک شاید ہی کسی اور ہومیوپیتھک ڈاکٹر میں ہو۔ بچوں کے مزاج اور علاج کے حوالہ سے ان کا بیان فرمودہ “جوناتھن شور” کا ایک کیس بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ میں نے اپنے کلینیکل تجربات میں بھی اِس امر کا مشاہدہ کئی بار کیا ہے۔

جوناتھن شور امریکن ہومیوپیتھ ہے اور گزشتہ چالیس سال سے یورپ امریکہ میں سیمینار کراتا ہے۔ اس کی کتاب Art of prescription بہت کام کی ہے۔
اپریل1989 کے سیمینار میں Suppression کے حوالے سے جوناتھن شور نے ایک بچے کے کیس کا ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
میرے کلینک میں ایک بچے کو اس کی ماں لے کر آئی۔ بچے کو کان کی تکلیف تھی۔ میں نے دیکھا بڑا شریف بچہ ہے۔ جب تک میرے کلینک میں رہا اِردگرد کے ماحول سے بے خبر خاموشی سے اپنے کھلونوں سے کھیلتا رہا۔ ذرا شرارت نہیں کی، چپ چاپ بیٹھا رہا اور کسی شے سے چھیڑ خانی نہیں کی۔ میں نے علامات کے مطابق مرکیورس (Mercurius Solubilis) دے دی۔
اگلی نشست میں اس کی ماں نے بتایا کہ میں نے ایلوپیتھک ڈاکٹر سے بھی مشورہ کیا ہے اور وہ کہتا ہے کہ بچے کے کان سے مواد آ رہا ہے اسے انٹی بائیوٹکس دینا پڑیں گی۔ میں نے اس بار نوٹ کیا کہ بچہ پہلے سے زیادہ فعال ہے۔ کلینک میں خوب بھاگ دوڑ رہا ہے اور شرارتیں کر رہا ہے۔ میں نے اس کی ماں سے پوچھا، یہ گھر میں کیسا ہے؟ اس کی ماں نے جواب دیا کہ بڑا ہی شریف بچہ تھا لیکن جب سے تمہاری دوا استعمال کرائی ہے اس نے ہر شرارت سیکھ لی ہے۔ گھر میں چھوٹی بہن کی خوب پٹائی کرتا ہے۔
میں نے اس کی ماں کو بتایا کہ یہ بچہ شریف اور مسکین نہیں تھا بلکہ بیماری کے زیرِ اثر اس کا اصلی مزاج دبا ہوا تھا۔ اب اسے درست مزاجی (ہومیوپیتھک) دوا ملی ہے تو اس کے اندر کا انسان سامنے آیا ہے۔ کان بہنے پر گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ انٹی بائیوٹکس کے استعمال سے اس کی بیماری دوبارہ دب جائے گی۔
وہ خاتون شاید میری دلیل سے مطمئن نہیں ہوئی اور اس نے انٹی بائوٹکس کا کورس کروا دیا۔ مجھے اس کا بہت افسوس ہوا اور بچہ پھر پہلے کی طرح شریف مسکین بن گیا۔

ہمارے اِرد گرد ایسے مساکین بچوں کی تعداد، لاتعداد ہے۔ آپ خود سٹڈی کریں، ایسے بچے جو متواتر انٹی بائیوٹکس کی زد میں رہتے ہیں۔ اُن کا Emotional level dry اور Intellectual level suppressed ہو جاتا ہے۔ ایسے بچے نہ صرف creative کام اور ریسرچ ورک کے لیے Unfit ہو جاتے ہیں بلکہ زندگی میں درپیش مشکل مقامات میں اُن کی ہمت جلد جواب دے جاتی ہے۔ مختلف قسم کے وہم، ڈر، خوف اور فوبیاز اُن پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جذباتی لحاظ سے عدم توازن کا شکار رہتے ہیں۔