کیس ڈسکشن ایک پراسیس ہے جسے اختیار کئے بغیر ہومیوپیتھک علاج سے پورا فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ یہ کام صرف چند منٹ کی بات چیت یا فیس بُک یا ٹیکسٹ میسیجز میں سرانجام پانا ممکن ہی نہیں ہے۔

کیس ڈسکشن میں جہاں یہ بات اہم ہے کہ کوئی مریض ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو اپنے کون کون سے یا کیا کیا مسائل بتاتا ہے؛ وہاں یہ نکتہ اس سے بھی زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے کہ وہ اپنے مسائل کس انداز، لہجے اور آواز سے یا کیسے بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک مریض بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل خود نہیں بتاتا یا بتاتی، اُسے ہومیوپیتھی ٹاپ دوا علاج (Top Homeopathic Medicine, best Doctor, Treatment) سے کوئی واضح فائدہ نہیں ہو سکتا۔

کیس ڈسکشن کے بعد ہی تشخیص ہو سکتی ہے۔ دوائی، پوٹینسی اور دوا کی خوراک کا فیصلہ مریض کے ساتھ کیس ڈسکس کرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ علاج کے دوران مریض کے بدلتے ہوئے حالات اور طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق دوائی، پوٹینسی اور خوراک میں تبدیلی کی جاتی ہے۔

کسی بھی مسئلے اور تکلیف کا سبب تلاش کرنے کے لئے یا مرض کی تہہ تک پہنچنے میں مریض سے براہِ راست انٹرویو کے لئے کم از کم تیس منٹ لگتے ہیں۔ بعض اوقات ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ سبب یا وجہ معلوم ہو جائے تو علاج میں بڑی سہولت ہو جاتی ہے — ڈاکٹر اور مریض دونوں کے لئے۔

جو لوگ بغیر تفصیلی بات چیت کئے دوائی دینا اور لینا چاہیں وہ ہومیوپیتھک علاج سے کبھی اچھے اور دیرپا نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ جو لوگ دو چار منٹ میں سالوں پرانی بیماری کی ٹاپ دوا پوچھتے بتاتے ہیں؛ وہ تُکے، ٹوٹکے اور اندازے ہی ہوتے ہیں جو کبھی کبھار چل بھی سکتے ہیں مگر اکثر بڑے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ انسانی صحت کے معاملات کو بہت ذمہ داری سے دیکھنا، سمجھنا اور حل کرنا چاہئے۔

اِسی طرح جب کوئی صاحب یا صاحبہ قد میں اضافہ، موٹاپے یا وزن میں کمی، بے اولادی، کمر درد، چہرے کے دانے، بالوں کا گرنا، شیاٹیکا، ڈیپریشن، انگزائٹی، نیند کی کمی، شدید غصہ، زنانہ یا مردانہ مسائل کی دوا پوچھنے پر اِصرار کرتے ہیں؛ وہ اپنا وقت، پیسہ اور صحت برباد کرنا چاہتے ہیں۔ مریض کی تمام علامات اور تفصیلات جانے بغیر کوئی دوائی علاج بتانا ممکن ہی نہیں۔

اگر کیس ہی ڈسکس نہ کیا گیا ہو یا مریض (اگر مریض چھوٹا بچہ ہے تو اُس کی والدہ) سے ڈائریکٹ بات چیت نہ کی جا سکے تو میرا علاج کوئی فائدہ نہیں دے سکے گا۔

میں، ہومیوپیتھک علاج کے تمام تر تقاضوں کو پیشِ نظر رکھ کر ہی تشخیص اور علاج کرتا ہوں۔ سبب، علامات کی تفصیل اور مریض کے تفصیلی انٹرویو اور جائزہ پر گھنٹہ بھر لگاتا ہوں۔ یہ تفصیل معلوم ہو جائے تو پھر کافی محنت، وقت اور توانائی ریسرچ تحقیق پر لگانا ہوتی ہے۔ ان مراحل کے بعد تشخیص کر کے تین ہزار سے زائد ادویات میں کوئی دوا منتخب کرتا ہوں۔ جو دوا بہترین معلوم ہوتی ہے تو پھر اُس کی پوٹینسی (طاقت) اور خوراک کا فیصلہ کرنے پر وقت اور توجہ لگتی ہے۔ یہ دوا دس پندرہ دن ہی کے لئے ہوتی ہے۔ اس دوا کے عمل اور ردِعمل کو پیشِ نظر رکھ کر دو تین ہفتہ بعد اگلی دوا کا اِنتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لئے پھر کیس ڈسکشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور ۔ فون 03002000210