رمضان کریم میں کھانے پینے، سونے جاگنے اور زندگی کے اکثر معاملات میں واضح تبدیلی ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے بعض اوقات روزہ دار خواتین و حضرات کو صحت کے یہ وقتی مسائل عبادات کی بجا آوری میں مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں جن تکلیفوں کے مریضوں نے زیادہ تعداد میں رابطہ کیا اُن کی مختصر ترین علامات اور ہومیوپیتھک دوائیں پیش کی جائیں گی۔ ویسے تو یہ دوائیں ان مسائل کے علاوہ دیگر بے شمار بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔

یہ وضاحت بھی بہت ضروری ہے کہ یہ دوائیں صرف خالی معدہ یا روزہ دار کی تکالیف میں مدد دے سکتی ہیں اگر دوائی کے ساتھ درج علامت مریض میں موجود ہو گی۔ عام حالات میں یا اگر مسائل پرانے (Chronic) ہوں تو ڈاکٹر کے مشورہ سے ہی کوئی دوائی استعمال کی جائے۔ علاوہ ازیں کوئی بھی ہومیوپیتھک دوا متواتر لمبا عرصہ استعمال کی جائے گی تو وہ بیماری میں فائدہ دینے کے بجائے اضافہ کا باعث بن سکتی ہے۔

دوائی کے دس قطرے افطاری کے بعد اور سحری سے پہلے ایک چوتھائی گلاس سادہ پانی میں ڈال کر پی سکتے ہیں۔ کوشش کریں کہ دوائی لینے سے تیس منٹ پہلے اور بعد کچھ نہ کھائیں پئیں۔ سحری کے وقت اگر مجبوری ہو تو دوائی کے چند منٹ بعد کھا پی لیں۔

روزہ دار (خالی معدہ) کا پیٹ درد

روزے کے دوران یعنی جب معدہ خالی ہو تو پیٹ میں درد دباو (Pressing Pains) کے ساتھ ہو تو ہومیوپیتھک دوا پیٹرولیم (Petroleum 30)لینے سے کافی سہولت ہو جائے گی۔

پیٹ درد اگر پورے پیٹ میں درد میں ہو تو ڈلکامارا (Dulcamara 30) اس کیفیت کے مریضوں کو بے حد مفید ثابت ہوتی ہے۔
پیٹ درد اگر صرف کے معدہ کے ایریا میں ہو تو گریفائٹس (Graphites 30) فوری اثر دکھاتی ہے۔

روزہ دار کے پیٹ میں اگر متواتر مروڑ اُٹھنے والے درد ہوں تو زنکم (Zincum Metallicum) میرے تجربے میں بہت کامیاب رہی ہے تاہم ہومیوپیتھک لٹریچر میں اس تکلیف کے لئے گرینیٹم (Granatum) کا بھی ذکر ملتا ہے۔

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔