محترم ۔۔۔۔۔ صاحب نے بذریعہ ای میل رابطہ فرمایا ہے اور ایسے کئی پیغامات مجھے روزانہ کی بنیاد پر موصول ہوتے ہیں۔ انہوں نے والدہ کی سالہا سال سے جاری دائمی اور ضدی قبض کا ہومیوپیتھک علاج پوچھا ہے۔ مریضہ کی اِس کے علاوہ کوئی تفصیل دستیاب نہیں کی گئی کہ وہ بلڈپریشر اور شوگر کی مریضہ ہیں۔ قبض کے لئے ہر طرح کی دوائیاں، ٹوٹکے اور نسخے استعمال کرتی آ رہی ہیں مگر صرف وقتی فائدہ ہوتا ہے۔ اُن کی خواہش ہے کہ انہیں کوئی مستقل علاج بتایا جائے۔

میرا جواب ملاحظہ فرمائیے:
شدید قبض یا کوئی بھی مرض جب کنٹرول میں نہ آئے تو ضروری ہے کہ مریض کا مکمل کیس لے کر علاج کروایا جائے۔ محض بیماری یعنی قبض کی بنیاد پر کوئی دوائی دینا (چاہے وہ ہومیوپیتھک ہو یا کوئی اَور) محض تُکا لگانا ہوتا ہے۔ تکے کبھی لگ بھی جائیں تو محض وقتی فائدہ ہی دے سکتے ہیں۔

باقاعدہ علاج کے لئے مریض کا ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے ملنا (یا کم از کم فون پر ہی سہی؛ تفصیلی کیس ڈسکس کرنا) ضروری ہوتا ہے۔ پرانے مسائل کے حل کے لئے ہر ہفتہ دس دن میں دوائی تبدیل کرنا پڑ سکتی ہے۔ بڑھاپے میں یا ویسے بھی جب بیماریاں بڑھ جائیں اور اُن بیماریوں کے لئے مختلفت دوائیاں لی جا رہی ہوں تو مسئلے کا مستقل حل عام طور پر نہیں نکلا کرتا۔ جیسے شوگر اور بلڈ پریشر کی دوا مستقل چلتی ہے؛ اِسی طرح ہومیوپیتھک دوا بھی جاری رکھنی پڑتی ہے۔

ایلوپیتھک علاج میں ذرا سہولت ہوتی ہے کہ آپ کوئی دوا لمبے عرصے تک جاری رکھتے ہیں لیکن ہومیوپیتھک علاج میں دوا، اُس کی خوراک اور پوٹینسی کو حسبِ ضرورت، حالات اور علامات تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کوئی بھی ہومیوپیتھک دوا لمبے عرصہ تک لینے سے فائدہ تو خیر کوئی ہونا ہی نہیں لیکن سخت نقصان کا امکان خاصا بڑھ جاتا ہے۔ وہی ہومیوپیتھک دوا جو کسی مسئلہ میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے اگر متواتر لمبا عرصہ لی جائے تو اُسی بیماری یا تکلیف کو بڑھانا شروع کر دیتی ہے۔

یہ وجہ ہے کہ ہومیوپیتھی میں علاج کا تصور ہے؛ بیماریوں کے نام پر صرف دوا بتانا کھانا ہومیوپیتھی اصولوں کے خلاف ہے۔ ایسا کرنے سے ہومیوپیتھک علاج کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور صحت یابی کا کوئی امکان بھی نہیں ہوا کرتا۔ شکریہ!

ہومیوپیتھی میں قبض کے علاج میں جو دوائیں بالعموم استعمال ہوتی ہیں اُن کی مختصر لسٹ کے لئے یہاں کلک کریں۔

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان ۔  فون 03002000210