میں سمجھتی ہوں کہ میں چاہے جو مرضی الفاظ استعمال کر لوں شائد کبھی بھی نہیں بتا پاؤں گی کہ جو بے پناہ فائدہ مجھے ڈاکٹر حسین قیصرانی کے علاج سے ہوا۔

میں ایک بیمار ماں کے بطن سے پیدا ہوئی۔ بچپن سے ہی بہت ساری بیماریوں کا گھیراؤ رہا۔ کبھی کوئی اسپیشلسٹ، کبھی کوئی ڈاکٹر، پاکستان ہو یا امریکہ (USA)، ہر جگہ ڈاکٹروں پر جا جا کر تھک چکی تھی۔ Hypothyroid اور fibromyalgia جیسی لاعلاج بیماریوں سے تنگ آ گئی تھی۔ اب تو ڈاکٹر ٹی بی اور کینسر کی باتیں کرنے لگے تھے۔ پھر ایک دن فیس بک کے ذریعے ڈاکٹر حسین قیصرانی میرے لیے فرشتہ بن کر آئے۔

بچپن میں ایک عشق کر بیٹھی جس نے ساری عمر نہ جینے دیا نہ مرنے۔ اس کو کھو کر زندہ تو تھی مگر اندر سے مر چکی تھی۔ gallbladder اور ٹانسلز کی سرجریز ہوئیں۔ پچھلے سال اپنڈیکس کا آپریشن ہوا۔ لیکن ان سب کے باوجود بیماریوں میں اضافہ ہوا۔

بہت زیادہ anxiety تھی کہ میں مر جاؤں گی اور میرے بچے میری طرح رل جائیں گے۔ bladder کا ایسا مسئلہ میرے ساتھ لگ گیا کہ جس کی وجہ سے میں ایک رات میں 20 مرتبہ واش روم جاتی۔ ان سب نے مل کر میرا سونا جاگنا محال کر دیا۔

ڈاکٹر حسین قیصرانی سے 5 مہینے کے علاج کے بعد الحمدللہ Hypothyroid ختم ہو گیا۔ اب تو ٹیسٹ بھی نیگیٹو ہیں۔ fibromyalgia کا درد %80 بہتر ہے۔ ان کے ساتھ انگزائٹی (Anxiety) اور ڈپریشن (Depression) بھی ختم ہیں۔ جو مسائل ایلوپیتھک علاج، آپریشن اور سرجریز سے پیدا ہوئے، ان میں انتہا کی بہتری آ چکی ہے۔ مثانے اور گائنی کے مسائل بھی حل ہو گئے۔ بیماریوں کے ساتھ ساتھ پتہ نہیں کب وہ عشق بھی کھرچا گیا۔ آج مجھے اپنی زندگی پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اللہ کے کرم سے میرا دل ہلکا ہو گیا ہے اور کندھوں سے بوجھ اتر گیا ہے۔

ڈاکٹر حسین قیصرانی ایک ماہر ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان بھی ہیں۔ وہ صرف اپنی محنت کا حق یعنی ماہانہ فیس لیتے ہیں اور بس۔ اس کے علاوہ ان میں کسی قسم کا لالچ نہیں ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ کام صرف پیسے کے لیے کرتے ہیں۔ بات بہت دھیان سے سنتے اور سمجھتے ہیں۔

اللہ کے فضل سے مجھے اور میرے گھر والوں کو فیملی ڈاکٹر مل گیا ہے۔ اب مجھے کسی بھی بیماری سے ڈر نہیں لگتا۔ اگر لاعلاج بیماریاں صرف چند مہینوں میں ٹھیک ہو سکتی ہیں تو یقین مانیے باقی تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور ۔ فون 03002000210

— کورونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف آن لائن علاج کی سہولت دستیاب ہے۔ —-