ہومیوپیتھک علاج کا باقاعدہ طریقہ تو یہی ہے کہ مریض کا تفصیلی کیس لیا جائے جس میں مسئلہ کو ہر پہلو سے پرکھ اور سمجھ کر دوا منتخب کی جائے۔ تاہم ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور ہومیوپیتھی میں گہری دلچسپی رکھنے والے خواتین و حضرات کی خواہش کے احترام میں وقتاً فوقتاً اپنے اور اساتذہ کے کلینکل تجربات شیئر کیا کریں گے تاکہ اُن کو دوائی تک پہنچنے کے لئے راہنمائی میسر آ سکے۔ اس مقصد کے لئے ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس کا لنک نیچے درج ہے۔

آج کی نشست میں، ہومیوپیتھک دوا کلکیریاکارب (Calcarea Carbonicum) کا ایک اہم ترین نکتہ (Guiding or Striking Symptom) یا علامت ڈسکس کریں گے۔
جن بچوں کو سوتے ہوئے سر پر پسینہ آئے؛ اُن کی تمام تکالیف کی واحد دوا کلکیریا کارب ہے۔
ایسے بچوں میں اگر خارش اور جلدی اُبھار (دانے، پھوڑے یا چھپاکی وغیرہ) موجود ہوں تو پہلے سلفر 200 (Sulphur) کی صرف ایک خوراک دی جائے اور دو ہفتہ بعد کلکیریا کارب 200 (Calcarea Carbonicum) کی صرف ایک خوراک دی جائے تو بچے میں تندرستی اور توانائی کے واضح اثرات نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
دوائی دینے کے بعد چند دن کے اندر اگر بچے کی صحت میں کوئی وقتی خرابی (Homeopathic Aggravation) از قسم نزلہ زکام، بخار، پیٹ کی خرابی وغیرہ ظاہر ہو تو اُس کے لئے دوائی نہ دی جائے کیونکہ یہ تکلیف محض عارضی ہوتی ہے اور خود ہی ایک آدھ دن ، دراصل میں ختم ہو جاتی ہے۔ یہ عارضی تکلیف، دراصل اندر موجود بیماری کو باہر نکالنے کی قدرتی مدد ہوتی ہے۔

حسین قیصرانی – سائکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور پاکستان – فون 03002000210۔

ہومیوپیتھک گروپ (All About HOMEOPATHY) کا لنک:
https://www.facebook.com/groups/233228550616337/?source_id=929851510455370