ڈاکٹر کے مخلص اور ماہرِ فن ہونے کے ساتھ ساتھ مریض کا سمجھ دار اور تعلیم یافتہ ہونا ہومیوپیتھک علاج کا ایک اہم ترین تقاضا ہے۔ دونوں میں سے اگر ایک بھی اس شرط کو پورا نہیں کرتا تو اچھے نتائج کا حاصل ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اِس کو ذرا وضاحت سے ڈسکس کرتے ہیں۔

ہومیوپیتھک ڈاکٹر اگر اپنے فن کا ماہر نہیں ہے اور مریض بھی سمجھدار نہیں ہے تو تکلیف اور مرض کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ اگر معالج کو اپنے کام پر عبور ہے مگر مریض جاہل ہے تو ڈاکٹر کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہت زیادہ امکان یہی ہے کہ پورے خلوص اور محنت کے باوجود مریض کو مکمل شفا حاصل نہ ہو گی۔ اور تیسری صورت میں (کہ جب معالج میں صلاحیتوں کی کمی ہے) تو کوئی تعلیم یافتہ، سمجھدار مریض کسی ایسے ڈاکٹر کے پاس نہیں جائے گا جو اپنے فن کا ماہر نہ ہو۔

پاکستان کی ستر فیصد آبادی کو اَن پڑھ یا غیر تعلیم یافتہ شمار کیا جاتا ہے اور ہمارے ہاں پڑھے لکھے جاہلوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان حالات میں ماہر، مخلص اور محنتی ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ موجودہ زمانے میں انٹرنیٹ اور فیس بک وغیرہ نے مسائل کو دو گنا کر دیا ہے۔ مثلاً مریض میسیج کرے گا کہ وہ 15 سال سے بہت علاج کروا چکا ہے مگر اُس کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ اُس کو معدے کا علاج بتایا جائے۔ کسی کو اپنے قد کا علاج پوچھنا ہے تو کسی کو بچپن سے جاری الرجی کے لئے دوائی معلوم کرنی ہے۔ اُن کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی کہ علاج کرنے اور کروانے کا کام ہے؛ بتانے یا پوچھنے کا نہیں۔ وٹس اپ پر کال فری ہے اور ڈاکٹر وقت بھی مفت دینے کو تیار ہے مگر وہ اپنا کیس ڈسکس نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے لوگ، ظاہر ہے، سالہا سال سے جو بھی علاج کروا رہے ہیں وہ نقصان تو دے سکتا ہے مگر فائدہ اُس سے ممکن نہیں۔

ایک اور قسم پڑھے لکھے جاہلوں کی ہے جو ہر طرف سے تھک ہار کر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے علاج کروانے آتے ہیں اور اُن کی توقع ہوتی ہے کہ کوئی معجزہ ہو جائے۔ علاج شروع کرنے سے پہلے یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ اُن کا علاج کتنے عرصے میں مکمل ہو جائے گا۔ ایک تیسری مگر دلچسپ قسم اپنے تئیں سمجھدار اور تعلیم یافتہ مریضوں کی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بہت سخت دوائیاں یعنی سٹیرائیڈز (Steriods)، کارٹی زونز (Cortisones)، انٹی بائیوٹیکس (Antibiotics)، پین کلرز (Pain killers)، ریلیکسنٹ (Relaxants) سالہا سال سے لے رہے ہوتے ہیں اور اُن کو اِس کا علم بھی ہوتا ہے مگر دوائی پکڑتے ہی یہ پوچھتے ہیں کہ ہومیوپیتھک دوائیوں کا کوئی سائیڈ افیکٹ (Side Effects) تو نہیں ہے۔ جواب سنے بغیر اگلا سوال ہو گا کہ ان میں سٹیرائیڈز یا کارٹی زون تو نہیں ہیں۔ ایک اور قسم کو اگرچہ لطیفہ سمجھا جاتا ہے مگر ایسے خواتین و حضرات سے بھی آئے دن واسطہ پڑتا ہے۔ وہ دنیا بھر کا گند کچرا، چربی میں تلے فرائی کھانے کھاتے ہیں۔ سگریٹ کی ڈبی کے ساتھ مختلف قسم کی سفید، کالی، نیلی اور پیلی بوتلیں یا ڈبے پکڑے ہوتے ہیں۔ اپنے معدے، سانس یا گلے کی خرابی کے علاج کے لئے آتے ہی پوچھتے ہیں کہ ہومیوپیتھک دوائیوں کے کوئی سائیڈ افیکٹ تو نہیں ہیں نا؟؟

اِن حالات میں ایک ایسے ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو ہزار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور جسے اپنے فن پر مہارت حاصل ہو۔ وہ مریض کے تمام مسائل کو خوب سوچ سمجھ کر علاج کرنا چاہے گا جب کہ مریض کی خواہش ہو گی کہ اُس کا وقتی مسئلہ حل ہو جائے چاہے اُس کی صحت تباہ ہو جائے۔ کم و بیش روزانہ کی بنیاد پر ایسے مریضوں کو معذرت کرنا پڑتی ہے کہ جو ایک ماہ میں اپنا وزن 15 کلوگرام کم کرنا چاہتی ہیں کیونکہ اُن کے بھائی، بہن یا سہیلی کی شادی ہے۔ نوجوان کی اگلے ماہ شادی ہے اور وہ ایسی دوائی کا طلبگار ہوتا ہے کہ جو اُس کی کئی سالوں کی غلط کاریوں کے اثرات کو فوراً ختم کردے۔ اُس کو معذرت کے ساتھ ساتھ سمجھانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوتی کہ ایسا کوئی علاج نہ کروائیں ورنہ گردے جواب دے جائیں گے اور زندگی کے لالے پڑ جائیں گے۔ کوئی اپنے چہرے کے داغ دھبے، دانے اور کیل صاف کروانے کے لئے بے تاب ہے چاہے اُس کی صحت بالکل برباد ہو جائے۔ قد میں اضافہ کا کورس بھجوانے کی پیغام ملتا ہے لیکن اپنا کیس ڈسکس نہیں کریں گے اور اصرار ہو گا کہ اَور کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر کسی طرح راضی ہو جائیں تو پتہ چلے گا کہ بھوک نہ ہونے کے برابر ہے، رونے دھونے کا مزاج ہے، خوب وہمی طبیعت ہے اور ڈر خوف بھی رہتے ہیں۔ ٹانسلز اور ناک کا آپریشن بھی ہو چکا ہے۔ نیند بہت خراب ہے اور عجیب سوچیں آتی ہیں۔ ڈسٹ الرجی ہے اِس لئے الرجی کی گولی تقریباً روزانہ لیتی ہیں۔ پیٹ بھی اکثر خراب رہتا ہے۔ علاج ۔۔۔۔۔۔۔ علاج مگر صرف قد بڑھانے کا کروانا چاہتی ہیں کیونکہ اُنہیں صحت کا کوئی اَور مسئلہ ہے جو نہیں۔

ان تمام مسائل کے باوجود اور جہالت کی تمام ضربیں سہہ کر بھی ہر ماہ کئی مریضوں سے معذرت کرنا زیادہ مناسب ہے بجائے اِس کے کہ محض تُکے، ٹوٹکے اور نسخوں سے کام چلا کر اُن کی صحت خراب کی جائے۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو ہومیوپیتھی کے تقاضوں اور صحت کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور، پاکستان فون نمبر 03002000210