ہومیوپیتھک تشخیص اور ایلوپیتھک تشخیص: ڈاکٹر بنارس خان اعوان

تشخیص یعنی بیماری کا پتا چلانا بالعموم ایلوپیتھک پس منظر میں بولا جاتا ہے جب کہ ہومیوپیتھی میں اس کا مطلب مختلف ہے۔ ایلوپیتھی میں تشخیص کا مطلب اس وائرس، بکٹیریا یا مائکروب وغیرہ کا کُھرا ڈھونڈنا ہوتا ہے جو (ان کے خیال میں) بیماری کا اصل سبب ہوتا ہے۔ اگر سراغ مل جائے تو اس کا توڑ کرنے والی انٹی بائیوٹک، انٹی وائرل یا انٹی الرجک دوا تجویز کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف لیب ٹیسٹس، ایکس رے، سی ٹی سکین اور بے شمار دیگر ٹیسٹ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ اور اگر سراغ نہ ملے تو بیماری پر لاعلاج (یا پھر الرجی) کا لیبل لگا کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔ ان ٹیسٹ کے حق میں بہت کچھ کہا اور لکھا جاتا ہے اور یقیناً ان کی افادیت سے کسی کو انکار نہیں، ہومیوپیتھی کو بھی نہیں۔ طبِ ایلوپیتھی نے تشخیص اور سرجری میں بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔ بات ٹشو اور خلیے سے نکل کر جینز، ڈی این اے اور آر این اے تک جا پہنچی ہے اور شاید یہاں بھی ختم نہیں ہو گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بیماریوں پرتسلی بخش حد تک قابو پایا جا چکا ہے؟ یقیناً اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہمیں غور کرنا ہو گا، ایسا کیوں [...]