Monthly Archives: April 2020

ہڈیوں کے امراض ۔ ہومیوپیتھک دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی

ہڈیوں کی عام تکلیفیں مندرجہ ذیل ہیں: ہڈیوں کی پرورش کا ناقص ہونا ہڈیوں کا ٹیڑھا ہونا ہڈیوں کا بڑھ جانا ہڈیوں کا بوسیدہ ہو جانا ہڈیوں کا نرم ہو جانا ہڈیوں کی ورمی کیفیات ہڈیوں کا درد ہڈیوں کی ٹی بی ہڈیوں کا کینسر یا سرطان ہڈیوں کے امراض کے بے شمار اسباب میڈیکل لٹریچر میں بیان کئے گئے ہیں۔ علاج کے لئے دوائیں بھی دستیاب ہیں اور سرجری آپریشن بھی بہت زیادہ ہو رہے ہیں لیکن، سوائے حادثات اور بیرونی چوٹوں کے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ علاج مستقل اور کامیاب ہو۔ ہڈیوں کے اکثر امراض موروثی مزاج کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ فیملی ہسٹری میں سفلس، ٹی بی یا کینسر کا ہونا پایا جاتا ہے۔ آتشک یعنی سفلس سب سے زیادہ اہم وجہ ہے۔ مریض کی ذاتی ہسٹری، مزاج اور فیملی ہسٹری کو خوب اچھی طرح سمجھ کر ضروری ہومیوپیتھک نوزوڈز استعمال کروانا بے پناہ اچھے نتائج دیتا ہے۔ اِن نوسوڈز کو ضرورت کے مطابق مگر لمبے وقفے سے دینا درد، تکلیفوں کے ساتھ ساتھ ہڈیوں میں جاری خرابی کو کنٹرول کر لیتا ہے۔ علامات کے مطابق باقی دوائیوں کی بھی بہت اہمیت ہے۔ ہڈیوں کے امراض کے مستقل علاج کے لئے مریض کا تفصیلی کیس لینا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ایک ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر [...]

ہڈیوں کے امراض ۔ ہومیوپیتھک دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی2020-05-12T01:13:14+05:00

یرقان، ہیپاٹائٹس اور جگر کی خرابی ۔ ہومیوپیتھک دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی

 یرقان (Jaundice) کا عارضہ جگر میں خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ خون میں زہریلے مواد جگر اپنے اندر جمع کرتا ہے۔ اس مواد سے صفرا پیدا کر کے پتہ میں پہنچتا ہے تو ضرورت کے مطابق صفراء معدہ میں داخل کرتا ہے۔ اس سے غذا ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے۔ خرابی جگر سے یہ صفراء مطلوبہ مقدار میں معدہ میں نہ پہنچے تو خون میں داخل ہو جاتا ہے جس سے پاخانہ کا رنگ و سفید ہو جاتا ہے۔ اور جسم جلد کا رنگ، آنکھیں وغیرہ پتلی ہو جاتی ہیں۔ اگر یہ صفرا جگر کی خرابی کے باعث معدہ میں زیادہ چلا جائے تو پاخانہ (Stool) کا رنگ سیاہی مائل یا سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے اسے کالا برقان (Hepatitis) کہتے ہیں۔ یہ بعض اوقات خطرناک ہو کر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ یرقان بہت چھوٹے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک کو ہو سکتا ہے۔ اگر بار بار ہو تو یہ بہت زیادہ فکرمندی کی بات ہے کیوں کہ اس طرح سرطان یعنی کینسر (Cancer) کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایسے مریض کے علاج میں بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو چاہئے کہ وہ مکمل کیس لے کر مریض کے موروثی مزاج کو سمجھ کر علاج کرے تو مریض کا یرقان بھی ٹھیک [...]

یرقان، ہیپاٹائٹس اور جگر کی خرابی ۔ ہومیوپیتھک دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی2020-05-22T23:57:49+05:00

موٹاپا ۔ 35 کلوگرام وزن کم ۔۔ شوگر، بلڈ پریشر، پینک اٹیک، انگزائٹی، شدید کھانسی اور معدہ خرابی مکمل کنٹرول ۔ کامیاب کیس، دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی

اٹک کے رہائشی، دو بچوں کے والد، چالیس سالہ احمد زمان (مریض کی خواہش پر نام دیا جا رہا ہے)، پیشے کے لحاظ سے معلم ہیں۔ جاسوسی کہانیاں پڑھنے کے شوقین ہیں۔ موٹاپے کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ پہلے بھی ہومیوپیتھک علاج (Homeopathic Treatment) کروا چکے تھے لیکن کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا۔ ویب سائٹ پر کیسز پڑھنے کے بعد رابطہ کیا۔ ان کے مطابق، سب سے بڑا مسئلہ بڑھتا ہوا وزن تھا جو کسی بھی طرح کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔ مستقل خشک کھانسی نے بھی تنگ کر رکھا تھا۔ معدہ اکثر خراب رہتا تھا۔ ساتھ ہی انزائٹی (Anxiety) اور پینک اٹیک (Panic Attack) بھی ہوتے تھے۔ گھنٹہ بھر تفصیلی انٹرویو کے بعد اور اگلے چند سیشن میں یہ مسائل بھی سامنے آئے۔ 1 ۔بھوک بہت شدید (extreme hunger) لگتی تھی۔ شدت کا ندیدہ پن (pinched for food) رہتا تھا اور کبھی بھوک مٹنے کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ کھانے پر درندوں کی طرح ٹوٹ پڑنے کی عادت تھی۔ بڑے بڑے نوالے بغیر زیادہ چبائے نگل لیتے تھے۔ کافی مقدار میں کھانے (over eating) کے باوجود پیٹ نہیں بھرتا تھا۔ روزے نہیں رکھ پاتے تھے۔ 2۔سستی  (laziness) بہت زیادہ رہتی تھی۔ کسی کام کو دل نہیں کرتا تھا۔ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر بھی بائیک یا گاڑی پر جاتے تھے۔ چلنے پھرنے کی طرف طبیعت مائل [...]

موٹاپا ۔ 35 کلوگرام وزن کم ۔۔ شوگر، بلڈ پریشر، پینک اٹیک، انگزائٹی، شدید کھانسی اور معدہ خرابی مکمل کنٹرول ۔ کامیاب کیس، دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی2020-04-24T19:45:16+05:00

چہرے کے کیل، دانے، مہاسے، ایکنی، پمپل ۔ ہومیوپیتھک دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی

جلد (Skin) پر کہیں بھی کچھ نکلے تو اس کا مطلب ہے کہ خون میں غلیظ مواد بن رہا ہے جسے مدافعتی نظام (Immune System) باہر نکال رہا ہے۔ بلوغت میں پہنچ کر اکثر بچے بچیوں کو چہرہ یا منہ پر باریک، موٹے یا پیپ والے دانے نکلتے ہیں۔ عام زبان میں انہیں کیل، دانے یا مہاسے کہتے ہیں۔ انہیں اوپر سے کچھ لگا کر ختم (Suppress) کرنے کی کوشش بالعموم کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس طرح سپریس کرنے سے امیون سسٹم (immune System) ڈسٹرب ہو جائے تو پھر یہ سلسلہ سالوں تک چلتا ہی جاتا ہے۔ کوئی علاج حتیٰ کہ ٹاپ لیزر تھراپی سے بھی یہ کیل دانوں کا معاملہ نہیں رکتا۔ بہت سارے نوجوان کیل مہاسوں اور دانوں کا علاج کرتے کرواتے جذباتی اور نفسیاتی مسائل مثلاً ڈپریشن، سٹریس اور انگزائٹی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہومیوپیتھی میں اس کا علاج سادہ ہے اگر شروع میں ہی اِسے اختیار کر لیا جائے۔ ہومیوپیتھک دوا سے ایکنی (Pimples / Acne) کو نکال کر ختم کیا جاتا ہے نہ کہ دبا کر۔ اس بات کی سمجھ نہ ہونے کی وجہ یا کیل دانے صرف تین دن میں ختم کرنے کی گارنٹی دینے والے اشتہارات سے متاثر ہو کر نوجوان توقع کرتے ہیں کہ صبح آٹھتے ہی چہرہ سکن صاف ہو۔ علاج [...]

چہرے کے کیل، دانے، مہاسے، ایکنی، پمپل ۔ ہومیوپیتھک دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی2020-04-11T13:13:14+05:00

بالوں کے مسائل ۔ بال گرنا، سفید، خشکی اور ڈینڈرف ۔ ہومیوپیتھک دوائیں ۔ حسین قیصرانی

بال گرنا آج کل اتنا عام ہے کہ تقریباً ہر دوسرا انسان بالخصوص ہر دوسری خاتون اس مسئلے کا شکار ہے۔ یہ علامت عام طور پر بالوں کو اپنی غذائیت نہ ملنے کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ سر میں خشکی، سکری اور بفہ (Dandruff) پیدا ہونے سے بھی بال گرنے لگتے ہیں۔ مستقل خارش، کھجلی اور جلد کی بیماریاں بھی بال گرنے کا سبب بنتی ہیں۔ بعض مرض مثلا ٹائیفائڈ بخار یا کینسر کیموتھراپی کے بعد بھی سر بلکہ تمام بدن کے بال گر سکتے ہیں۔ بال گرنے کا کامیاب، صحیح اور مستقل علاج تب ہی ہو سکتا ہے کہ جب اس کے پیچھے جاری سبب یا وجہ کو ڈھونڈ کر سمجھا اور حل کیا جائے۔ بالوں کے گرنے کی بے شمار وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم پاکستان کے ماحول اور کلچر میں جو عام دیکھی ہیں وہ یہ ہیں: ڈپریشن، انگزائٹی، ٹینشن، نزلہ زکام الرجی، دوائیوں کا لمبا استعمال، جذبات کو سپریس کرنا، بہت زیادہ حساسیت، شدید غم دکھ میں ہونا یا گزرنا، نوجوانی کی غلط کاریاں، مینوپاز، تھائیرائیڈ کے مسائل، مستقل سر درد، میگرین، ہارمون کی خرابی، لیکوریا، نیند کی کمی، حمل، بچے کی پیدائش اور دودھ پلانے کے دوران۔بال گرنے یا مردوں میں گنجہ پن کا سبب موروثی مزاج بھی ہوتا ہے۔ ہومیوپیتھی حوالہ سے زیادہ تر آتشکی [...]

بالوں کے مسائل ۔ بال گرنا، سفید، خشکی اور ڈینڈرف ۔ ہومیوپیتھک دوائیں ۔ حسین قیصرانی2020-09-16T14:31:44+05:00

موٹاپا ۔ 35 کلوگرام وزن کم ۔۔ شوگر، بلڈ پریشر، پینک اٹیک، انگزائٹی، شدید کھانسی اور معدہ خرابی مکمل کنٹرول ۔ فیڈبیک ۔ احمد زمان اٹک۔

  مکمل کیس اور تفصیلات کے لئے یہاں کلک کریں۔ احمد زمان صاحب کا فیڈبیک میری ڈاکٹر حسین قیصرانی سے شناسائی سوشل میڈیا کے ذریعے 2018میں ہوئی۔ میں ویب سائٹ پر ان کے کیسز پڑھتا رہا اور اپریل 2019 میں علاج کے لیے رابطہ کیا۔ اس وقت میرا وزن 135 کلوگرام تھا اور کمر کا سائز 54 انچ۔ میں بیک وقت شوگر، بلڈ پریشراور معدے کے لیے صبح شام کئی ایلوپیتھک ڈرگز کا استعمال کر رہا تھا مگر میرے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ  رہے تھے۔ مستقل شدید خشک کھانسی اور جلد کے اندر محسوس ہونے والی خارش بہت تکلیف دہ تھی۔ الحمدللہ ڈاکٹر صاحب کے علاج سے میرے اکثر مسائل مکمل طور پر حل ہو چکے ہیں اور میں بالکل ایک نئے انداز کا انسان بن چکا ہوں۔ مجھے یہ تفصیل شئیر کرتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ 1۔ میرا بہت آگے نکلا ہوا پیٹ واپس اپنے مقام پر آ چکا ہے۔ بے پناہ موٹاپا اب ختم ہو گیا ہے۔ میں نے 35 کلوگرام سے زائد وزن کم کیا ہے اور میری کمر کا سائز 54 انچ سے کم ہو کر 38 انچ ہو گیا ہے۔ 2۔ پہلے میں کھانے پینے میں شدید ندیدے پن کا شکار تھا۔ اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ کتنا کھا چکا ہوں لیکن پیٹ نہیں بھرتا [...]

موٹاپا ۔ 35 کلوگرام وزن کم ۔۔ شوگر، بلڈ پریشر، پینک اٹیک، انگزائٹی، شدید کھانسی اور معدہ خرابی مکمل کنٹرول ۔ فیڈبیک ۔ احمد زمان اٹک۔2020-04-28T01:09:43+05:00

LATEST POSTS

Top Sliding Bar

This Sliding Bar can be switched on or off in theme options, and can take any widget you throw at it or even fill it with your custom HTML Code. Its perfect for grabbing the attention of your viewers. Choose between 1, 2, 3 or 4 columns, set the background color, widget divider color, activate transparency, a top border or fully disable it on desktop and mobile.

Fusce ut ipsum tincidunt, porta nisl sollicitudin, vulputate nunc. Cras commodo leo ac nunc convallis ets efficitur.

RECENT TWEETS

CONTACT US

  • 12345 North Main Street, New York, NY 555555
  • 1.800.555.6789
  • support@yoursite.com