Uncategorized

سوچ کی سمت بدلنی ہو گی
رخ حیات گر بدلنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!

تغیر ہی زندگی ہے۔۔۔ایک لامحدود تغیر!۔
قرانِ کریم میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔”تو بےشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ بےشک دشواری کے ساتھ اور آسانی ہے۔”(سورۃ الم نشرح آیت 5تا6)
تکلیف سے تسکین، خوشی سے غم اور دکھ سے راحت تک کی مسافت تغیر کو ظاہر کرتی ہے۔ تبدیلی کا یہ مسلسل سفر ہماری آگہی کا ذریعہ بنتا ہے۔ غم سے ہی خوشی کی پہچان ممکن ہے۔ دکھ نہ ہوتو سکھ کی قدرومنزلت کون جانے لیکن یہ ضروری نہیں کہ کہ کسی ایک کا سکھ سب کے لیے مسرت کا باعث ہو۔ بالکل اسی طرح ہمیں لگتا ہے کہ ایک اچھا بدلاؤ وہی ہے جو ہماری مرضی کے مطابق ہو یا جیسا ہم چاہتے ہوں ویسا ہو۔ حالانکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بظاہر جو بدلاؤ ہماری طبیعت پر ناگوار گزر رہا ہے، بتدریج ہماری زندگی کو ایک بہتر اور صحت مند راستے پر گامزن کر دے۔ تغیر کی عدم موجودگی کا نام جمود ہے۔۔۔ ٹھہرا ہوا، غیر متحرک! لیکن درحقیقت “سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں”۔ جمود انسانی فہم کو تعفن زدہ کرکے فکر و نظر کی نشوونما میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ بطورِ انسان ہم اس ارتقائی کائنات کا حصہ ہیں اور ہماری ذات اس کائنات کی مظہر ہے۔ مشکلات کے باوجود مسلسل تجدید کے عمل سے گزرتے ہوئے اس آفاقی نظام کے ساتھ ہم آ ہنگ رہنے کا نام ہی ایک متوازن زندگی ہے۔

میں حیران تھی جب میری ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ اپنا ہومیوپیتھک علاج روک رہی ہے۔ میرے استفسار پر اس نے مزید بتایا کہ وہ ایک ماہ سے اپنے چار سالہ پرانے کمر درد کا ہومیوپیتھی علاج کروا رہی تھی۔ لیکن اب اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ کوئی بھی علاج نہیں کروائے گی کیونکہ ہر طرح کی کوشش اور علاج کے باوجود کوئی افاقہ تھا نہ درد میں کمی۔اگرچہ اس سے پہلے وہ اس تکلیف دہ مرض کے لیے بہت سی تھراپیز بھی کروا چکی تھی مگر سب بےسود تھا۔ اسی لیے میں نے اسے اپنے ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے علاج کا مشورہ دیا جن کے زیر ِعلاج میں بھی تھی اور میرا علاج کامیاب جا رہا تھا۔

میری دوست علاج چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی کیونکہ اس کی حالت میں کوئی بھی بدلاؤ نہیں آیا تھا مگر وہ اس سب سے بڑی تبدیلی کو دیکھنے سے قاصر تھی جو اس میں آ چکی تھی۔ مختلف قسم کے علاج کروا کروا کر اپنے وجود کو دواؤں کی آماجگاہ بنانے کی بجائے وہ سب علاج ترک کر دینے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ اس نے اپنے مسائل کو سمجھ لیا تھا اور درد کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ ایک ماہر ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے لیے یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی لیکن ایک مریض کے لیے اس حکمت کو سمجھنا مشکل تھا۔ تبدیلی کے اس فلسفے کی وضاحت کرنا تو شائد ممکن نہیں ہے لیکن یہ تحریر اس فلسفے کی کی ہلکی سی جھلک دکھانے کی ادنیٰ سی کوشش ہے۔

ایلوپیتھک علاج سے ہومیوپیتھی کی طرف آنے والے مریضوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فوری آرام چاہتے ہیں اور اسی کو علاج کی کامیابی سمجھتے ہیں۔ بظاہر یہ بات درست بھی ہے کیونکہ ہر مریض جب علاج کرواتا ہے تو اپنی تکلیف سے نجات چاہتا ہے البتہ آپ اسے مکمل صحت یابی نہیں کہہ سکتے۔ ضرورت اس امر کو سمجھنے کی ہے کہ درد سے فوری آرام کسی حد تک ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں بھی ممکن ہے لیکن اس کا بہت زیادہ انحصار اس بات پر ہے کہ مریض کس قدر متحمل مزاج ہے اگرچہ یہ معالج کا اولین مقصد نہیں ہوتا۔ دراصل ہومیوپیتھی علاج کے دوران مریض اس طریقہ علاج کے فلسفے کو نہیں سمجھتا۔ اس طریقہ علاج میں صرف علامات کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ معالج کا مقصد”آپ” کا علاج ہوتا ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں، کیا باتیں کرنا پسند کرتے ہیں اور کس انداز سےگفتگو کرتے ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی کیسے گزارتے ہیں۔ یہ تمام حقائق ایک ہومیوپیتھ کو آپ کے مسائل اور علامات کے اسباب سے آگاہ کرتے ہیں اور علاج کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

ایلوپیتھی طریقہ علاج ایک محدود تناظر میں کام کرتا ہے اور مریض کو بھی اسی محدود پیمانہ صحت کا عادی بناتا ہے جہاں صرف درد کا علاج کیا جاتا ہے نہ کہ اس کے اسباب کا۔ بدقسمتی سے مریض اس حقیقت سے ناآشنا ہیں کہ صدیوں پہلے کے عظیم معالجین اس قسم کے طریقہ ہائے علاج کو نامعتبر قرار دے چکے ہیں اور صحت کی بحالی کے لیے یہ طریقہ علاج فرسودہ ہو چکا ہے اگرچہ ادویات کے میدان میں ابھی بھی اسی دقیانوسی طریقہ علاج کی مشق جاری ہے جہاں مریض کے علاج کے لیے بیمار عضو کو الگ کر دیا جاتا ہے یا درد کش ادویات سے صرف ظاہری طور پر علاج کر دیا جاتا ہے۔ یہاں ہم مریض کو مورودالزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ ایک مریض یہی سمجھتا ہے کہ ایک ڈاکٹر کی اولین ترجیح اسے کسی بھی قیمت پر درد سے آزاد کرنا ہے یہ جانے بغیر کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے مریض کو اس تکلیف دہ درد سے دوچار کیا ہے۔

درد کا علاج مشکل ہوتا ہے خاص طور پر ایمرجنسی صورتِ حال میں جب مختلف ادویات سے درد کو فوری ختم کر دیا جاتا ہے جس کے منفی اثرات کچھ نئے مسائل کی شکل میں سامنے آتے ہیں لیکن ہم اپنی صحت کے حوالے سے اس بات کو ذہنی طور پر تسلیم کر چکے ہیں کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ درد سے نجات کے لیے کچھ نئے درد مول لیے جاتے ہیں۔ بخار، کھانسی، سوجن، معدے کی خرابی یا کسی بھی قسم کا درد ہو، تمام ڈاکٹرز فوری مگر عارضی آرام کی فراہمی کے لیے علامات کو یکسر نظرانداز کر تے ہوئے ایسی ادویات تجویز کرتے ہیں جو ان علامات کو دبا دیتی ہیں۔ اس علاج کے نتیجے میں ہونا تو یہ چاہیے کہ مریض صحت یاب ہو جائے اور پھر جلدی بیمار نہ ہو مگر ایسا نہیں ہوتا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہسپتال پیچیدہ اور شدید قسم کی بیماریوں کے شکار مریضوں سے بھرے رہتے ہیں۔ چھوٹی عمر سے ہی ہسپتال جانا معمول بن چکا ہے۔ مریض علاج کروا کر جاتے ہیں اور ہر بار نئے مسائل کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس لوٹ آتے ہیں۔ لیکن ایک ماہر ہومیوپیتھ کے لیے یہ مسائل اور ان کی علامات ایک سراغ کی طرح کی ہوتی ہیں جن کے ذریعے وہ مریض کی ان علامات کا کھوج لگاتا ہے جنہیں دبا دیا گیا تھا اوراب وہ مزید شدت سے کچھ نئے مسائل کی شکل میں سامنے آ رہی تھیں۔

ایلوپیتھی علاج کروانے والے مریض اسی چکر میں الجھ کے رہ جاتے ہیں۔ ایک مرض کی دوا کھاتے ہیں اور اس دوا کے اثرات سے کوئی نئی بیماری پال لیتے ہیں۔ یہ جدید ادویات اصل مسئلے کو سمجھے بغیر صرف علامات کو ختم کرنے کا کام کرتی ہیں اور بنیادی تکلیف اور اس کی وجوہات اندر ہی اندر ناسور بنتی رہتی ہیں۔ بخار کم کرنے والی دوائیں، درد کش گولیاں اور الرجی کی ادویات سب ایسے کیمیائی مادے ہیں جو ہماری علامات کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔ انہی علامات کے ذریعے ہمارا جسم ہمیں بتاتا ہے کہ اندر کیا چل رہا ہے۔

ہمارا وجود مسلسل اپنی مرمت میں مصروف رہتا ہے اور اس کا اظہار مختلف علامات کے ذریعے کرتا ہے مگر جب ہم ان علامات کو دواؤں سے ختم کر دیتے ہیں تو ہمارا مدافعتی نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم کے اندر تجدید کا قدرتی عمل رک جاتا ہے۔ ہومیوپیتھی میں علامات کو اس طرح ختم کر دینے کا نام علاج نہیں ہے۔ ہومیوپیتھی سائنس اور آرٹ کا ایک حسین امتزاج ہے جس کی بنیاد قدرتی علاج کے اصولوں پر رکھی گئی ہے اور اس کا مقصد علاج کے اس دستور کو بدلنا ہے جو عرصہ دراز سے رائج ہے تاکہ لوگ بار بار رونما ہونے والی بیماریوں کے چکر سے نکلیں ، مستقل بنیادوں پر ایک تندرست زندگی گزاریں اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل پائے۔
ہومیوپیتھی علاج کے دوران مریض جو سب سے سنگین غلطی کرتے ہیں وہ علاج کو درمیان میں ہی ترک کر دینا ہے۔ عام طور پر مریض ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ایلوپیتھی کی طرح فوری نتائج نہیں ملتے۔ دراصل ہومیوپیتھی میں علاج کا انحصار مریض کی اپنی استعداد پر ہوتاہے۔ ایک مریض کا مرض جتنا پرانا ہوتا ہے اس کے مسائل اتنے ہی پیچیدہ ہو چکے ہوتے ہیں اور ادویات کے بے دریغ استعمال سے مریض ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس ساری صورتِ حال میں ماحولیاتی اور سماجی دباؤ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسائل جتنےگھمبیر اور پرانے ہوتے ہیں مریض کو اتنی ہی زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اچھا ہومیوپیتھ مستقل مزاجی سے اپنے مریض کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اس کے اندر آنے والی چھوٹی سے چھوٹی تبدیلی کو بھی نظرانداز نہیں کرتا کیونکہ یہی تبدیلیاں علاج کی حکمت عملی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

علاج کے دوران مریض کو سمجھنا چاہیے کہ آنے والا ہر بدلاؤ مثبت پیش رفت کا باعث ہوتا ہے۔ درحقیقت انسان خود ہی اپنا دوست بھی ہے اور دشمن بھی اور علاج ہمیں اس دوست یا دشمن سے روشناس کرواتا ہے۔ ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ اپنے ہر مسئلے کے ذمہ دار ہم خود ہیں اور ان سے چھٹکارہ پانے کے لیے بھی ہمیں ہی کوشش کرنی ہے۔ صحت مند زندگی کے حصول کے لیے ہومیوپیتھی آزمودہ طریقہ علاج رہا ہے۔ ہومیوپیتھی سے ہم اس ذہنی معیار سے چھٹکارہ حاصل کر لیتے ہیں جس میں علامات کو ہم اپنا دشمن سمجھتے ہوئے ختم کر دیتے ہیں۔ ہم یہ جان لیتے ہیں کہ یہ علامات ہمارے اندر کی آواز ہیں جو ہمیں بتا رہی ہیں کہ کہ توجہ طلب وجوہات کون سی ہیں جو مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ یہ وجوہات ذہنی، جسمانی اور جذباتی کسی بھی سطح پر ہو سکتی ہیں۔

ہومیوپیتھی قدرت کے اصول وضوابط پہ کام کرتی ہے۔ ہر گزرتا ہوا دور ان اصول و ضوابط کی توثیق کرتا ہے۔ یہ طریقہ علاج ہمارے جسم کو تیار کرتا ہے کہ وہ فطری انداز میں از سرِ نو اپنی تجدید کرے۔ ہومیوپیتھی ادویات قوت حیات کو تقویت دیتے ہوئے اس تجدید میں ایک مددگار کا کام کرتی ہیں۔ مریض کی تشخیص سے حاصل ہونے والی معلومات کے تحت انہی خصوصیات کی حامل دوا تجویز کی جاتی ہے۔ یہ سادہ سا فلسفہ ہے جو شائد ازل سے کار فرما ہے مگر آج تک گمنام ہے کیونکہ صحت کا میدان ایسے لوگوں کی تحویل میں رہا جن کا اولین مقصد مریضوں کے علاج سے پیسہ کمانا تھا۔ ایسے مریض جو اپنے دائمی امراض کے لیے مسلسل دوائیں لیتے ہیں اور جب تک زیرِ علاج رہتے ہیں، صحت یاب نہیں ہوتے۔ مسلسل علاج انہیں مستقل بنیادوں پر تکالیف سے دوچار رکھتا ہے۔

انتخاب کا اختیار ہمارے پاس ہے۔ہمیں خود کو بدلنا ہے یا اس متحرک کائنات میں بے حس وحرکت رہنا ہے۔ صحت کے حصول کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا ہمیں بدلتی ہوئی دنیا کو ایک خاموش تماشائی بن کر دیکھتے رہنا ہے اور اپنے وجود کو دوسروں کے حوالے رکھنا ہے کہ وہ ہماری صحت کے لیے ایسے فیصلے کریں جن کا خمیازہ ہم ساری زندگی بھگتتے رہیں۔ اگر ہمیں خود کو بدلنا ہے تو اس کے لیے ہمیں خود کوشش کرنا ہو گی۔ ہمیں درد سے ڈرنا نہیں بلکہ سمجھنا ہے کہ وہ درد کس مسئلے کی نشان دہی کر رہا ہے۔ لیکن فکری جمود اور سہولت پسندی نے کامل صحت کا گلا گھونٹ دیا ہے اور علامات کی جگہ مدد کی ایک پکار نے لے لی ہے۔ ہمارا وجود تبدیلی کا خواہاں ہے تاکہ وہ از سرِ نو تازہ دم ہو سکے۔ انتخاب کا اختیار کل بھی ہمارے پاس تھا اور آج بھی ہے۔ ہمیں صرف صحیح فیصلہ کرنا ہے۔

Write a Comment