Aloe socotrina – Homeopathic Remedy – Materia Medica Viva George Vithoulkas

Aloe vera, Barbadensis vel Socotrina, Aloe Soccotrina N.O. Liliaceae Family: Jussieu [vegetable substance] - Hexandria monogynia, L. Mode of preparation: A tincture is made from the fiery red gum of the plant by trituration.   The essential features This is a remedy that primarily affects the digestive system and more especially the end of the large intestines. Its tendency is to produce an engouement of the veins causing fullness throughout the body, but more especially in the liver region, an abdominal, rectal and intestinal fullness. The main pathology in which you will find Aloe to be indicated is spastic or ulcerative colitis. I have found, however, that the great characteristic of this remedy is a preoccupation that the patient has with his pathology, that is to say with the whole cycle - eating to excreting. Aloe is easily disturbed by the intake of food, its digestion and its expulsion. If you should have such a case, and treat it for a long time before recognising it, you will find that the patient takes on a hypochondriacal attitude towards his "stool" and the disturbances that accompany it. The patient may complain constantly about being unable to have a normal stool, and though there may be several stools a day he remains unsatisfied. Actually Aloe can produce a state where the intestines work intensely, as if inflamed for a few days, where the patient may have several stools a day, and then for a certain period of time there may be total [...]

By |September 20, 2020|Categories: George Vithoulkas, Materia Medica, Professional|0 Comments

مسائل اور اُن کا حل

بھوک، پیاس، پیٹ خرابی، معدے کے مسائل میگرین، سر درد، اعصابی درد قبض، بواسیر، فسچلا، فشرز شدید غصہ، غم، کڑھنے رونے کا مزاج بچوں کے مسائل، بدمزاجی، بار بار بیمار ہونا نزلہ، زکام، بخار، چھینکیں اور الرجی شیاٹیکا، کمر اور جوڑوں کے درد محبت میں ناکامی کا دکھ، دھوکا اور غم منفی سوچیں، وسوسے، وہم، الجھن، کنفوژن، کشمکش، بھولنے کی بیماری نیند کے مسائل، ڈراونے خواب، صبح تھکا ہارا  اور آوازار اُٹھنا  خدا نخواستہ اگر ایسے کسی مسئلہ نے آپ کو تنگ کر رکھا ہے اور عام دوائیوں سے حل نہیں نکل رہا تو آپ کو کسی ماہر اور تجربہ کار کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے اپنا کیس ڈسکس کرنا چاہئے۔ ہومیوپیتھی میں تین ہزار (3000) سے زائد ادویات موجود ہیں۔ اِس لئے بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے۔ حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان ۔  فون 03002000210

By |September 17, 2020|Categories: About, Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Mental Health|0 Comments

Alopecia بالچر ۔ بال چر ۔ ایلوپیشیا ارییاٹا ۔۔۔۔۔ کامیاب ہومیوپیتھک علاج ۔ حسین قیصرانی

Alopecia بالچر ۔ بال چر ۔ ایلوپیشیا ارییاٹا ۔۔۔۔۔ ہومیوپیتھک کامیاب علاج  حسین قیصرانی     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان ۔  فون 03002000210

By |September 14, 2020|Categories: Homeopathic Awareness, Skin and Hair, Testimonials|0 Comments

How couples can avoid holiday conflict over money

Vestibulum ante ipsum primis Vestibulum ac diam sit amet quam vehicula elementum sed sit amet dui. Donec rutrum congue leo eget malesuada. Vestibulum ante ipsum primis in faucibus orci luctus et ultrices posuere cubilia Curae; Donec velit neque, auctor sit amet aliquam vel, ullamcorper sit amet ligula. Mauris blandit aliquet elit, eget tincidunt nibh pulvinar a. Praesent sapien massa Dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Mauris blandit aliquet elit, eget tincidunt nibh pulvinar a. Vestibulum ac diam sit amet quam vehicula elementum sed sit amet dui. Cras ultricies ligula sed magna dictum porta. Praesent sapien massa, convallis a pellentesque nec, egestas non nisi. Cras ultricies ligula sed magna dictum porta. Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Nulla quis lorem ut libero malesuada feugiat.

By |September 1, 2020|Categories: Psychology|0 Comments

خواتین کی صحت اور اینڈومیٹریوسز: ‘میرے درد کو سب لوگ تماشے کا نام دیتے تھے ۔۔ ترہب اصغر’

رما کہتی ہیں کہ ماہواری میں خون کا بہاؤ شروع ہوتے ہی ان کے جسم کے نچلے حصوں اور ٹانگوں میں شدد درد ہوتا تھا اور انھیں ایسا لگتا تھا کہ کوئی خنجر سے جسم کے اندرونی اعضا کاٹ رہا ہے 'ماہواری کے دنوں میں مجھے اتنی تکلیف ہوتی تھی کہ میں دعا کرتی تھی کہ میں مر جاؤں اور میں اپنے اسی درد اور تکلیف کو کم کرنے کے لیے اتنی بے تاب تھی کہ میں اپنے آپ کو زخمی بھی کرتی تھی۔' یہ کیفیت بیان کرتے ہوئے رما کی آواز لڑکھڑا گئی۔ 39 سالہ رما چیمہ کے مطابق جب وہ بالغ ہوئیں تو انھیں کسی نے نہیں بتایا تھا کہ جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو اس کے جسم میں کس قسم کی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس وجہ سے انھیں ماہواری اور اس سے جڑے معاملات کے بارے میں کوئی خاص آگاہی نہیں تھی۔ صوبہ پنجاب کے شہر چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والی رما کئی سال قبل پڑھائی کے لیے لاہور آئیں اور اسی دوران انھیں ماہواری شروع ہوئی۔ لیکن ان کی ماہواری باقی خواتین سے خاصی مختلف تھی۔ رما کے مطابق ماہواری کے پہلے تین دن ان کے لیے اذیت ناک ہوتے تھے۔ رما کہتی ہیں کہ ان کے ہاسٹل کی وارڈن اور دیگر عملے کو بھی معلوم ہوتا کہ ایسی صورت حال میں انھیں کون سی دوائی دینی ہے اور کون سا انجکشن لگوانا ہے۔ اپنی تکلیف کا تذکرہ کرتے ہوئے رما نے بتایا کہ ماہواری میں خون کا بہاؤ شروع ہوتے ہی ان کے [...]

By |August 27, 2020|Categories: Genitourinary|0 Comments

Back to Life with a Life Savior named Doctor Hussain Kaisrani – Review and Feedback

It was 7th month of last year when for the first time I talked to Dr. Hussain Kaisrani. Here is my journey with him but first let me introduce myself. I am one of those lucky persons on the ball of earth who was born with a silver spoon in their mouth. I was the most beloved child not only of my parents and siblings but also the whole family. My father never turned my words like my every word was a command for him to fulfil in just no time. Despite limited resources every wish of mine was always fulfilled. ALLAH blessed me with love and success on every step of life. This love from my family and blessings of ALLAH converted me into a strong and bold personality layered with confidence and courage. I was so bold and courageous that no one ever tried to mess with me or dared to talk rubbish in front of me. I was just walking on the ramp of life, holding the finger of my father, like a conqueror who has a solid ‘Don’t Care Attitude’ with no fears, no failures and no turning back. But then suddenly the ramp of my life turned when my father flew to the heavens leaving me behind. I was so much attached to my father that I could not move from the point where he left me. I rejected every hand of my family members and put myself in loneliness as a result of which [...]

By |August 26, 2020|Categories: Homeopathic Awareness, Mental Health, Testimonials|0 Comments

معدہ خرابی، انگزائٹی، پینک اٹیک، وسوسے، موت، ہارٹ اٹیک کا ڈر خوف فوبیا ۔ کامیاب علاج ۔ فیڈبیک

مجھے دو سال قبل اپنے والد صاحب کی وفات اور اس کے بعد والدہ کی شدید بیماری کی وجہ سے انگزائٹی (Anxiety) کا مسئلہ ہوا۔ گیسٹرک پرابلم (Gastric Problem) کی وجہ سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی تو شدید پریشانی میں کارڈیالوجی چلا گیا۔ الحمد للہ وہاں سب کچھ کلیئر تھا تو اس کے بعد کچھ بہتر ہوگیا لیکن معدے کے مسائل ہلکے پھلکے چلتے رہے۔ بلڈپریشر (Blood Pressure) بھی کبھی کبھار ہائی ہوتا تھا۔ اس سال کا آغاز میرے لیئے کچھ اچھا نہیں تھا۔ جنوری میں شدید بیمار ہوا۔ بخار نزلہ زکام کھانسی کی وجہ سے کافی کمزوری تھی۔ اس دوران مجھے ایک دن ہاتھ پر شدید قسم کی چوٹ لگی تو میرا دل گھبرایا آنکھوں کے آگے اندھیرا آیا اور میں گر گیا۔ یہ آغاز تھا اس برے وقت کا جس نے مجھے چار ماہ میں زندگی سے مایوس کر دیا۔ اس دن کے بعد سے مجھے تقریباً ہر روز پینک اٹیک (Panic Attacks) آنے لگے۔ ہاضمہ بلکل برباد ہو گیا، شدید تیزابیت (Acidity) رہتی اور بھوک بلکل ختم ہو گئی۔ فروری سے لے کر مئی تک میری یہی حالت رہی۔ اس دوران کاروبار بھی بند ہو گیا۔ میں گھر میں قید ہو گیا اور ہر دن میری پریشانیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان چار ماہ میں کچھ گھریلو دیسی ٹوٹکے کیئے لیکن وہ کسی کام نہ آئے۔ اپنی تکالیف کے حوالے سے گوگل انٹرنیٹ پر کچھ سرچ کرتا تو آگے سے مزید پریشان کن معلومات میری رہی سہی ہمت کو بھی ختم کر دیتی رہیں۔ [...]

By |August 26, 2020|Categories: Digestive System, Homeopathy in Urdu, Mental Health, Testimonials|0 Comments

چنڈیاں، وارٹس، موہکے، مسے ۔ کامیاب کیس، دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی

کمپوزنگ اور کیس پریزنٹیشن: محترمہ مہرالنسا سولہ سالہ اکلوتی بیٹی کی والدہ نے خاصی پریشانی کی عالم میں دبئی سے فون کیا۔ ان کی بیٹی بہت تکلیف میں تھی۔ اس کے پیروں کے تلووں میں چنڈیاں بن گئی تھیں۔ یہ مسئلہ کوئی ایک ماہ پہلے شروع ہوا تو اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی مشاورت سے سرجری کروائی گئی مگر چند دن بعد یہ چنڈیاں واپس آ گئیں۔ اب کیفیت یہ تھی کہ بیٹی کا چلنا پھرنا تو دور کی بات ہے؛ صرف واش روم تک جان بھی دوبھر تھا۔ تفصیلی ڈسکشن کیے بغیر ظاہری علامات اور موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہومیوپیتھک دوا تھوجا (Thuja occidentalis) تجویز کی گئی جو کہ ہر طرح کی چنڈیوں (Corns)، وارٹس (Warts)، موہکے مسے ، تل (Moles) جیسے جلد کے کامیاب علاج کے لئے ٹاپ ہومیوپیتھک دوا سمجھی جاتی ہے۔ عام طور پر ہر سب ہومیوپیتھک ڈاکٹر بلکہ اب تو ایلوپیتھک ڈاکٹرز بھی ان مسائل کے لئے تھوجا تجویز کرتے پائے جاتے ہیں۔ تھوجا لینے سے فوری فائدہ ہوا اور تکلیف میں کافی کمی بھی آ گئی مگر بہتری کا یہ عمل مکمل ہونے سے پہلے رک گیا۔ چنڈیاں %40 بہتر ہو گئی تھیں۔  اس کے بعد ان میں بہتری نہیں آئی اور تکلیف برقرار رہی اگرچہ دوائی کی پوٹینسی اور خوراک میں کمی بیشی بھی کی گئی۔  یقیناً دوائی کا فیصلہ کرنے میں ہومیوپیتھی علاج کے تقاضے پورے نہیں کئے سو بہترین دوائی منتخب نہیں ہوئی۔ یہ مناسب طریقہ نہیں تھا کہ بغیر باقاعدہ کیس لئے صرف چنڈیوں کے نام یا پاوں کی تصویر دیکھ کر ہومیوپیتھک دوا تھوجا دی [...]

By |August 18, 2020|Categories: SOLVED CASES|0 Comments

مثانے پیشاب کی بیماریاں، گائنی کے مسائل، شدید جسمانی و نفسیاتی درد، ہائپوتھائیرائڈ، انگزائٹی اور موت کا ڈر خوف فوبیا – کامیاب کیس، دوائیں اور علاج ۔ حسین قیصرانی

مینہ وریا  پر  پانی  گھٹ  اے اکھاں  وچ  طغیانی گھٹ اے تینوں بُھلاں تے  لگدا  اے ساہ  دی آنی جانی  گھٹ اے تیری صورت  چار  چفیرے میری نظر نمانی،  گھٹ اے اک دن مڈھوں مک جاوے گی اج کل تیری کہانی  گھٹ اے !  دو بچوں کی والدہ 35 سالہ مسز ایس فیس بک پر کیس پڑھنے کے بعد ملنے کے لیے تشریف لائیں۔ ان کے مسائل بے پناہ تھے۔ کئی مرتبہ سرجری ہو چکی تھی۔ کھانا پینا نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا۔ چلنا پھرنا تو تھا ہی دشوار۔ انفیکشنز کی ایک لمبی فہرست تھی جن میں کچھ کے متعلق تو مجھے بالکل بھی علم نہ تھا۔ صحت کے حوالے سے حالات کافی پیچیدہ تھے۔ معدہ، مثانہ، گلا، یوٹرس، ٹانسلز، بواسیر اور گائنی کے بے حد پیچیدہ مسائل تھے جن کا علاج وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ امریکہ تک سے کروا چکی تھیں۔ صورت حال کو سمجھنے کے لیے طویل ڈسکشن درکار تھی۔ محترمہ کا کئی بار تفصیلی انٹرویو لیا گیا جس کا خلاصہ ذیل میں درج ہے۔ 1۔ مسز ایس کی کلائی میں درد رہتا تھا۔  جو رفتہ رفتہ تمام جوڑوں (joint  pains) تک پھیل گیا۔ سارا جسم درد کرتا تھا۔ ڈاکٹرز نے fibromyalgia  فائبرومائلجیاتشخیص کیا۔ درد اتنا شدید ہوتا تھا کہ بہت ہائی پوٹینسی کی پین کلرز اور سٹیرائڈز لینے پڑتے تھے۔ اتنی سخت دوائیاں لینے کے بعد فرق کوئی خاص نہیں پڑتا تھا۔ سارا جسم سوج جاتا تھا۔ خاص طور پر صبح کے وقت بدن تڑا مڑا سا محسوس ہوتا تھا۔ شدید اکڑاؤ کی کیفیت (body  [...]

آپ مریض کے مزاج اور تکلیفوں کا بڑا ذکر کرتے ہیں مگر بیماریوں کے ناموں کا نہیں۔ ایسا کیوں؟ ۔۔۔ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔۔ حسین قیصرانی

 ہومیوپیتھی علاج کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس میں صرف مرض، بیماری یا تکلیفوں کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ مریض کا علاج ہوتا ہے۔ کیس ٹیکنگ، مریض کے ہر پہلو کو مدِ نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ ہم مریض کی اُس صلاحیت (مدافعاتی نظام، امیون سسٹم، وِل پاور، وائٹل فورس) کو سمجھتے اور متوازن کرتے ہیں جو قدرت نے ہر انسان کے ساتھ اُس کے پیدائش کے ساتھ بھیجی ہے۔ ہومیوپیتھک دوائی بلکہ پوٹینسی کا کام مرض کو ٹھیک کرنا نہیں بلکہ امیون سسٹم یا وائٹل فورس کو پیغام دے کر متحرک کرنا ہے۔ اگر اُس سسٹم یعنی امیونیٹی کے اندر صلاحیت موجود ہے یا ہومیوپیتھک دوائی سے اُبھاری، بوسٹ یا متوازن کی جا سکتی ہے تو وہ طاقت یعنی قدرتی امیون سسٹم مریض کو ٹھیک کر دیتی ہے چاہے مرض کوئی بھی ہو یا بیماری کا نام کچھ بھی ہو یا اناٹومی فزیالوجی، میڈیکل سائنس، لیب رپورٹ کچھ بھی کہتی ہو۔ اِس لئے ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی زیادہ توجہ مریض کی اندرونی طاقت یعنی امیون سسٹم کو سمجھنے پر ہوتی ہے۔ مرض یا بیماریوں کے نام ایلوپیتھک سسٹم کا خاصا ہیں۔ ہومیوپیتھک سسٹم میں بھی مرض یا بیماریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن صرف بیماریوں کے ناموں پر ہومیوپیتھک علاج کرنا یعنی دوائی تجویز کرنا کوئی بڑا فائدہ نہیں دیا کرتا۔ جن محترمین کو ہومیوپیتھک سسٹم کا علم نہیں ہے وہ اپنی نا سمجھی اور کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھتے کہتے ہیں کہ اس مرض کی سمجھ ہی نہیں ہے تو علاج کیسے کامیاب [...]

By |August 8, 2020|Categories: About|0 Comments

معدے کے شدید مسائل، انگزائٹی، ڈر خوف اور فوبیا – کامیاب علاج – اوکاڑہ سے آن لائن مریض کا فیڈبیک

السلام علیکم ڈاکٹر قیصرانی صاحب الحمد اللہ یہ عید پچھلی عید سے بلکل مختلف تھی۔ عیدالفطر پر ابھی آپ کا علاج شروع نہیں کیا تھا تو پہلے دن ہی کھانے کے بعد معدے میں گیس گھبراہٹ بے چینی شروع ہو گئی تھی اور میں بہت ڈسٹرب ہو گیا تھا۔ انگزائٹی (Anxiety)، ڈپریشن (Depression) اور ڈر خوف (Fear and Phobia) سے میں بہت مشکل میں آ گیا تھا۔ میں کھانے پینے میں بے پناہ احتیاطیں کر رہا تھا۔ اس بار تو ڈرتے ڈرتے تھوڑا بہت گوشت اور کلیجی بھی کھا لیا ہے کل۔ میں بہت خوش ہوں اللہ کا شکر ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ جب سے مجھے انگزائٹی اور فوبیا ہوا تو میں خود شاپ نہیں کھول پاتا تھا۔ ایک لڑکا رکھا ہوا ہے۔ کل وہ نہیں آیا تھا اور میں قربانی میں مصروف تھا۔ آج پھر اس کی چھٹی تھی تو میں نے کم از کم تین ماہ بعد آج خود شاپ کھول کر کسٹمرز کو ڈیل کررہا ہوں۔ الحمداللہ کوئی پریشانی انگزائٹی نہیں ہو رہی۔ آپ کے صرف دو ماہ کے علاج سے میرے 90% مسائل حل ہوچکے ہیں۔ لمبے عرصہ کے بعد اپنے دوست احباب سے ملنا ملانا بھی شروع ہے۔ خوشی غمی میں اب اکیلا جانے لگا ہوں۔ ورنہ مجھے اکیلے سے بہت ڈر پریشانی (Panic and Anxiety Disorder) ہوتی تھی۔ باقی جو چھوٹی موٹی تکالیف ہیں وہ میرے خیال میں بیماری کے دوران آنے والی جسمانی کمزوری کی وجہ سے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں بھی کمی آ رہی ہے۔ الحمدللہ۔ [...]

By |August 7, 2020|Categories: Testimonials|0 Comments

مثانے پیشاب کی بیماریاں، گائنی کے مسائل، شدید جسمانی و نفسیاتی درد، ہائپوتھائیرائڈ، انگزائٹی اور موت کا ڈر خوف فوبیا – کامیاب علاج – فیڈبیک

میں سمجھتی ہوں کہ میں چاہے جو مرضی الفاظ استعمال کر لوں شائد کبھی بھی نہیں بتا پاؤں گی کہ جو بے پناہ فائدہ مجھے ڈاکٹر حسین قیصرانی کے علاج سے ہوا۔ میں ایک بیمار ماں کے بطن سے پیدا ہوئی۔ بچپن سے ہی بہت ساری بیماریوں کا گھیراؤ رہا۔ کبھی کوئی اسپیشلسٹ، کبھی کوئی ڈاکٹر، پاکستان ہو یا امریکہ (USA)، ہر جگہ ڈاکٹروں پر جا جا کر تھک چکی تھی۔ Hypothyroid اور fibromyalgia جیسی لاعلاج بیماریوں سے تنگ آ گئی تھی۔ اب تو ڈاکٹر ٹی بی اور کینسر کی باتیں کرنے لگے تھے۔ پھر ایک دن فیس بک کے ذریعے ڈاکٹر حسین قیصرانی میرے لیے فرشتہ بن کر آئے۔ بچپن میں ایک عشق کر بیٹھی جس نے ساری عمر نہ جینے دیا نہ مرنے۔ اس کو کھو کر زندہ تو تھی مگر اندر سے مر چکی تھی۔ gallbladder اور ٹانسلز کی سرجریز ہوئیں۔ پچھلے سال اپنڈیکس کا آپریشن ہوا۔ لیکن ان سب کے باوجود بیماریوں میں اضافہ ہوا۔ بہت زیادہ anxiety تھی کہ میں مر جاؤں گی اور میرے بچے میری طرح رل جائیں گے۔ bladder کا ایسا مسئلہ میرے ساتھ لگ گیا کہ جس کی وجہ سے میں ایک رات میں 20 مرتبہ واش روم جاتی۔ ان سب نے مل کر میرا سونا جاگنا محال کر دیا۔ ڈاکٹر حسین قیصرانی سے 5 مہینے کے علاج کے بعد الحمدللہ Hypothyroid ختم ہو گیا۔ اب تو ٹیسٹ بھی نیگیٹو ہیں۔ fibromyalgia کا درد %80 بہتر ہے۔ ان کے ساتھ انگزائٹی (Anxiety) اور ڈپریشن (Depression) بھی ختم ہیں۔ جو مسائل ایلوپیتھک [...]

By |August 7, 2020|Categories: Testimonials|0 Comments

کیا آپ علاج کی کامیابی یا بیماری ٹھیک ہونے کی گارنٹی دے سکتے ہیں؟۔۔۔ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔۔ حسین قیصرانی

میں صرف ایک معالج ہوں اور ہومیوپیتھی اصولوں کے مطابق علاج کرتا ہوں۔ ہر مرض یا مریض ٹھیک کرنا نہ ہومیوپیتھی سے ممکن ہے اور نہ ہی میرے جیسے محدود صلاحیتوں والے انسان کے بس کی بات ہو سکتی ہے۔ میرا مقصد گارنٹی کے فضول دعوے کر کے مریض جمع کرنا اور اُن سے پیسے بٹورنا نہیں۔ مشکل کیس پکڑ کر مریض کی بحالی صحت کے لئے دن رات محنت کرنا؛ میں نے اپنا شعار اور مشن بنایا ہے۔ اپنی اس محنت کا بھرپور معاوضہ لینا اپنا حق سمجھتا ہوں اور لیتا ہوں۔ عموماً صرف وہی کیس لیتا ہوں کہ جو کسی دوسرے طریقہ علاج یا ڈاکٹرز سے حل نہ ہو رہے ہوں۔ علاج شروع کرنے سے پہلے کم و بیش تین گھنٹے تک ایک کیس پر لگا دیتا ہوں۔ کبھی کبھار تو کئی کئی دن بھی لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دن میں پانچ سے زیادہ نئے مریض نہیں لیتا۔ اس قدر محنت کے باوجود کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ پروردگار برکت ڈال دے اور مریض تعاون کرے تو کمالات بھی ہو جاتے ہیں ورنہ مناسب حد تک فائدہ، بالعموم، ہو ہی جاتا ہے۔ کسی بھی علاج میں گارنٹی نہیں دی جاتی کیونکہ رزلٹ کا اختیار میرے پاس ہے ہی نہیں۔ مجھ سے تو کئی بار خود اپنا سر درد یا اپنے بیٹے بیٹی کا دانت یا پیٹ درد بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ اگر کوئی گارنٹی مانگے تو اُسے یہ جواب دے کر معذرت کر لی جاتی ہے کہ آپ غلط جگہ پر ہیں۔ میرا کام صرف [...]

By |August 7, 2020|Categories: About|0 Comments

ہومیوپیتھک علاج ناکام کیوں ہوتا ہے مگر آپ کا علاج کامیاب کیسے؟ ۔ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔ حسین قیصرانی

ہومیوپیتھک علاج کی ناکامی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ہومیوپیتھی میں میرے گرو ڈاکٹر جارج وتھالکس (George Vithoulkas) کی نظر میں یہ دو وجوہات بہت ہی اہم ہیں: ۔۔ ایک یہ کہ مریض اپنی پوری علامات نہیں دیتے یا نہیں دے پاتے۔ ۔۔ دوسرے یہ کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر اپنی جلد بازی، کم علمی یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے مکمل علامات نہیں لے پاتا۔ ہومیوپیتھک کیس ٹیکنگ، تشخیص اور علاج بے پناہ محنت، مطالعہ اور تحقیق کا معاملہ ہے۔ جو لوگ ہومیوپیتھی کو صرف دوائی لینا سمجھتے ہیں؛ اُن کو واقعی کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہ بے جا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ٹاپ ہومیوپیتھک ڈاکٹر (Top Homeopathic Doctor) سے علاج بھی کروایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اُن کو کون سمجھائے کہ چند علامات یا صرف بیماری کا نام بتا کر ہومیوپیتھک دوائی پوچھنا یا کھانا ہومیوپیتھک علاج ہے ہی نہیں تو اس کی کامیابی کی توقع کیسے کی جاتی ہے۔ رہا میرے علاج کی کامیابی کا معاملہ تو عرض ہے کہ اولاً یہ بات صحیح نہیں ہے کہ میرا علاج ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ میرے اکثر مریضوں کی صحت واضح بہتر ہو جاتی ہے تاہم بہت ساروں کو فائدہ نہیں بھی ہوتا۔ میرا یا معالج کا کام اصولوں کے مطابق پورے خلوص، توجہ اور محنت سے علاج کرنا ہے اور بس۔ رزلٹ کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے۔ میں صرف اُن مریضوں کا کیس لیتا ہوں جو علاج کے تقاضے پورے کرنے میں پوری طرح سے سنجیدہ ہوں۔ اگر کوئی [...]

By |July 28, 2020|Categories: About|0 Comments

کیس ڈسکشن کیا ہے اور اس کے بغیر آپ تشخیص علاج کیوں نہیں کرتے؟ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔ حسین قیصرانی

کیس ڈسکشن ایک پراسیس ہے جسے اختیار کئے بغیر ہومیوپیتھک علاج سے پورا فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ یہ کام صرف چند منٹ کی بات چیت یا فیس بُک یا ٹیکسٹ میسیجز میں سرانجام پانا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیس ڈسکشن میں جہاں یہ بات اہم ہے کہ کوئی مریض ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو اپنے کون کون سے یا کیا کیا مسائل بتاتا ہے؛ وہاں یہ نکتہ اس سے بھی زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے کہ وہ اپنے مسائل کس انداز، لہجے اور آواز سے یا کیسے بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک مریض بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل خود نہیں بتاتا یا بتاتی، اُسے ہومیوپیتھی ٹاپ دوا علاج (Top Homeopathic Medicine, best Doctor, Treatment) سے کوئی واضح فائدہ نہیں ہو سکتا۔ کیس ڈسکشن کے بعد ہی تشخیص ہو سکتی ہے۔ دوائی، پوٹینسی اور دوا کی خوراک کا فیصلہ مریض کے ساتھ کیس ڈسکس کرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ علاج کے دوران مریض کے بدلتے ہوئے حالات اور طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق دوائی، پوٹینسی اور خوراک میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے اور تکلیف کا سبب تلاش کرنے کے لئے یا مرض کی تہہ تک پہنچنے میں مریض سے براہِ راست انٹرویو کے لئے کم از کم تیس منٹ لگتے ہیں۔ بعض اوقات ایک گھنٹہ سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ سبب یا وجہ معلوم ہو جائے تو علاج میں بڑی سہولت ہو جاتی ہے — ڈاکٹر اور مریض دونوں کے لئے۔ جو لوگ بغیر تفصیلی بات چیت [...]

By |July 24, 2020|Categories: About|0 Comments

آپ کے علاج کی فیس کتنی ہے اور اس میں کیا کچھ شامل ہے؟ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔ حسین قیصرانی

فیس کی تفصیل جاننے سے پہلے ہومیوپیتھک علاج کے تقاضوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہومیوپیتھک علاج کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس میں علامات یا بیماریاں مختصر انداز میں نہیں؛ بلکہ بہت لمبی تفصیل سے ڈاکٹر کو سمجھنی ہوتی ہیں۔ علامات اور تفصیل جتنی کم ہوں گی علاج کی کامیابی کے اِمکانات بھی اُتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ علامات کی تفصیل لینے کو کیس ڈسکشن یا کیس لینا کہتے ہیں۔ فون پر یا ملاقات میں تیس چالیس منٹ کا انٹرویو ہوتا ہے۔ اُس کے بعد گھنٹہ بھر کی ریسرچ۔ پھر جا کر تین ہزار 3000 سے زائد دوائیوں میں سے کوئی ایک دوا منتخب ہوتی ہے جو (ہمیشہ کی نہیں بلکہ) صرف موجودہ یعنی سب سے اوپر کی سطح کے مسائل کو ٹھیک یا حل کرتی ہے۔ دس پندرہ دن بعد پھر یہ کاروائی (یعنی انٹرویو، سوال جواب بذریعہ فون یا ملاقات) دوبارہ ہوتی ہے اور نئی صورت حال کے مطابق پھر کوئی دوائی منتخب ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے تاآنکہ مریض سمجھتا ہے کہ اُس کی صحت بحال ہو چکی ہے اور مسائل حل ہو گئے ہیں یعنی اُس کے پاس بتانے کو کچھ نہیں رہتا۔ فیس کے متعلق حتمی طور پر تو کیس ڈسکس کرنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ کیس لینے کے بعد ہی اندازہ لگ سکے گا کہ مریض کے علاج پر کتنی محنت، توجہ، توانائی اور دوائی لگے گی۔ ایک نارمل کیس کے علاج کی کم از کم ماہانہ فیس آٹھ ہزار روپے (Rs. 8,000/= per    month) ہے۔ اس میں [...]

By |July 20, 2020|Categories: About|0 Comments

کیا وجہ ہے کہ آپ میسیج یا فیس بک پر کبھی بھی علاج نہیں بتاتے؟ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔ حسین قیصرانی

علاج بتانے کی چیز ہے ہی نہیں تو کیسے بتائیں۔ علاج کروایا جاتا ہے۔ اگر علاج پوچھنے سے مراد کسی مرض کی دوائی پوچھنا ہے تو اس کا بھی کبھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ دوائی بتانے سے کوئی مرض یا مریض ٹھیک ہو سکتا ہوتا تو سارے ہسپتال اور کلینک ویران پڑے ہوتے۔ جس طرح ہر کام کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اسی طرح ہومیوپیتھک علاج بھی ایک مکمل پراسیس ہے جس میں مرحلہ وار کام کیا جاتا ہے۔ حالات کے مطابق ایک دوائی کے بعد دوسری اور پھر تیسری کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔۔ اگر مسئلہ پرانا ہو تو اس کے علاج میں کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ اس دوران علامات کے مطابق کبھی دوائی تبدیل ہوتی ہے تو کبھی پوٹینسی اور کبھی خوراک ۔۔ اس پراسیس یعنی علاج کے آغاز میں تکلیف، مسئلہ اور مرض کے ساتھ ساتھ مریض کو بھی سمجھنا ہوتا ہے۔ مریض سے بے شمار سوالات جوابات ہوتے ہیں۔ یہ مرحلہ تیس چالیس منٹ اور بھرپور توجہ لیتا ہے۔ اس کے بعد کوئی گھنٹہ بھر ریسرچ کرنی ہوتی ہے۔ یہ وجہ ہے کہ میسیج یا فیس بک پر بیماری کا نام یا چند علامات بتا کر دوائی بتانا نا ممکن ہے۔ اس طرح جو دوائی بتائی جاتی ہے اُس سے فائدہ تو کچھ بھی نہیں ہوا کرتا؛ البتہ نقصانات یقینی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ویسے بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مفت کے مشورے اکثر مہنگے ہی پڑا کرتے ہیں۔ کسی مریض کی صحیح دوائی، پوٹینسی اور خوراک کا فیصلہ کرنے کے لئے [...]

By |July 17, 2020|Categories: About|0 Comments

Successful Treatment of Low self esteem, Sexual weakness, Depression, Stress and Anxiety – Feedback

Alhamdulillah .. After a long time I am back to a healthy life and looking forward to much more. I was deeply disturbed psychologically. Specially communication always proved a hard pill to swallow. Sexual sphere was highly disturbed. If I sum up .... I was miserable.. But by the grace of Allah Kareem, Psychotherapy, Online Homeopathic treatment of Dr. Hussain Kaisrani I found myself with self esteem. My confidence level is more than 80% improved. Sexual weakness is 100% cured. I can communicate effectively. I managed fasting after 13 years. Suspicious attitude improved 80%. Stress management enhanced. My way of dealing with customers is better, concentration is good. Anxiety and Depression is not disturbing me anymore. Dr. Kaisrani always pays attention. He is very polite. He makes me feel confident and comfortable. He always encourages me.. because of him I am a confident person now. ============ Please Click HERE or visit the following link for complete Case in Urdu and medicines: اعتماد کی کمی، معدہ خرابی، جنسی کمزوری، انگزائٹی، ڈر خوف اور فوبیاز – کامیاب کیس، علاج اور دوائیں – حسین قیصرانی

By |July 11, 2020|Categories: Testimonials|0 Comments

Owais Liaqat Kalyar recommends Hussain Kaisrani Psychotherapist & Homeopathic Consultant Facebook Review

ALHAMDU LILLAH! For the last Ten Years my whole Family had been extremely satisfied with your treatment and consultation and for being an excellent listener as a doctor. Highly recommended person not only as a Doctor but as a wonderful human being MA SHA ALLAH. Keep the good work and healing going 👍 ---------- Hussain Kaisrani - Psychotherapist & Homeopathic Consultant - Lahore Pakistan Phone Number 03002000210

By |July 5, 2020|Categories: Treatment|0 Comments

فسچلا ، فسچلہ، فسٹولا، فسٹلا، بھگندر کا بغیر آپریشن کامیاب علاج ۔ فیڈبیک

الحمد للہ کہ میرا فسچولا بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔ میری بیٹی کے علاج کے سلسلے میں ہومیوپیتھک ڈاکٹر حسین قیصرانی سے میرا تعارف چار سال پہلے سے تھا۔ بیٹی چار ماہ کی تھی جب اسے سخت کھانسی ہو گئی۔ اس کے بعد اسے چیسٹ انفیکشن کا شدید مسئلہ رہنے لگا۔ اُسے اکثر اینٹی بائیوٹک ادویات دینی پڑتی تھیں۔ ٹاپ سپیشلسٹ ڈاکٹرز سے بھی علاج کروایا مگر سب کی دوائیں ملتی جُلتی تھیں یعنی انٹی بائیوٹیک۔ ایک دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ ڈاکٹر حسین قیصرانی سے بیٹی کا علاج کرواؤں لیکن میرے والدین اور بہن بھائی ہومیوپیتھی علاج کو بہت فضول سمجھتے تھے۔ یہی میرے سسرال کی بھی سوچ تھی۔ مجبوراً ہم ہومیوپیتھی کی طرف آئے۔ اللہ نے کرم کیا اور بیٹی کو دو ہفتے کے اندر واضح بہتری آ گئی۔ اُس کے بعد شاید اب تک ایک بار کسی مجبوری میں انٹی بائیوٹیک دینی پڑی ہے۔ اب وہ ماشاء اللہ بالکل ٹھیک ہے۔ تقریباً دو سال پہلے میں نے ڈاکٹر حسین سے اپنے فسچولا (Anal Fistula) کے لئے رابطہ کیا۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا اور ڈاکٹرز نے اس کا واحد حل سرجری بتایا تھا۔ جب میں نے ڈاکٹر قیصرانی سے فون پر ڈسکس کیا تو انھوں نے مجھے تسلی دی اور کہا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اگر ہم اس کو ہر حوالہ سے سوچ سمجھ کر حل کریں تو یہ پانچ چھ ماہ کے علاج سے بغیر آپریشن سرجری بالکل ٹھیک ہو سکتا ہے۔ میرا آن لائن علاج شروع ہوا۔ انہوں نے میری بیماری [...]

By |July 3, 2020|Categories: Testimonials|0 Comments

فسچلا بھگندر، معدہ خرابی، میگرین سر درد ۔ کامیاب کیس، دوا اور علاج ۔ حسین قیصرانی

29 سالہ مسز K  دو سال قبل انہی دنوں میں علاج کے لیے تشریف لائیں۔ محترمہ بہت پریشان تھیں۔ پچھلے چھ ماہ سے ایک زخم تکلیف دے رہا تھا۔ مسئلہ زیادہ بڑھا تو معائنہ کروایا۔ ڈاکٹر نے فسچولا (Anal Fistula)  تشخیص کیا اور فوری سرجری کا مشورہ دیا۔ محترمہ گومگو کی کیفیت میں تھی۔ جسمانی تکلیفیں تو تھیں ہی، ساتھ ساتھ ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل بھی تھے۔ علاج سے پہلے تفصیلی ڈسکشن ہوئی اور جو صورت حال سامنے آئی وہ درج ذیل ہے۔ 1۔ چھ ماہ پہلے مقعد کے قریب ایک دانہ بنا۔ شروع میں یہ زیادہ تکلیف نہیں دیتا تھا۔ پھر اس میں چبھن کا احساس ہونے لگا۔ کچھ عرصہ بعد اس دانے نے پیپ والی پھنسی کی شکل اختیار کر لی۔ یہ دانہ سوج جاتا اور بیٹھنے میں بہت تکلیف ہوتی۔ خاص طور پر مینسز کے دنوں میں سوجن بہت بڑھ جاتی اور جلن ناقابلِ برداشت ہو جاتی۔ گاڑی یا بائیک سے اترنے کے بعد پندرہ بیس منٹ تک کھڑے رہنا پڑتا کیوں کہ بیٹھنے سے درد ناقابلِ برداشت ہو جاتی۔ کچھ دوائیاں وغیرہ لیں مگر یہ مسئلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ ہر وقت ہلکا ہلکا بخار رہتا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ یہ بھگندر، فسٹولا یا فسچولا (fistula) ہے اور اس کا واحد علاج سرجری ہے۔ اس بات کی کوئی کنفرمیشن نہیں تھی کہ سرجری کے بعد دوبارہ تو نہیں ہو جائے گا۔ 2۔ منفی سوچیں(negative thinking)  بہت زیادہ تنگ کرتی تھیں۔ ذرا سی بات پر دماغ انتہائی خراب صورت حال کا تصور کر لیتا تھا۔ اگر بائیک [...]

By |July 2, 2020|Categories: SOLVED CASES|0 Comments

حسین قیصرانی سے آن لائن علاج ایک شاندار تجربہ ۔ فیس بیک ریویو ۔ ربیعہ فاطمہ، لاہور

میرا نام ربیعہ فاطمہ ہے اور میں لاہور کی رہائشی ہوں۔ مجھے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ڈاکٹر حسین قیصرانی سے کنسلٹ کرتے ہوئے تقریباً دو سال ہونے کو ہیں۔ اس دوران مجھے بہت سہولت رہی ہے کہ مجھے کسی میڈیکل ڈاکٹر کو کنسلٹ کرنے اور ایلوپیتھک دوا استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اللہ کا کرم ہوا اور ڈاکٹر صاحب بھی اتنا اچھا گائیڈ کرتے رہے ہیں کہ مجھے پہلے بچوں کی صحت کے حوالے سے جو ٹینشن رہتی تھی، اس کا مسئلہ حل ہو گیا۔ میرے بچوں کو بچپن سے ہی کبھی گلے کا انفکشن، کبھی چھاتی اور کبھی پیٹ کا انفکشن رہتا تھا اور کبھی سکن کے مسائل۔ لہذا اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال تقریباً مسلسل ہی جاری رہتا تھا۔ ڈاکٹر قیصرانی سے رابطہ کے بعد انٹی بائیوٹیک وغیرہ سے مکمل جان چھوٹ چکی ہے۔ اب میں نے اپنے سب سے چھوٹے بچے کے لیے پیدائش کے ساتھ ہی صرف ڈاکٹر صاحب سے رابطہ رکھا ہے اور ہومیوپیتھی کے استعمال سے اس کے تمام مسائل حل ہو رہے ہیں اور ابھی تک اس کا کوئی مسئلہ مسلسل نہیں چل رہا۔ میرا یہ بچہ باقی سب بچوں کی نسبت زیادہ صحت مند اور ایکٹو بھی ہے۔ ما شاء اللہ چونکہ میں پریگنینسی سے پہلے ہی ڈاکٹر صاحب سے کنسلٹ کر رہی تھی تو پریگنینسی کے دوران بھی میں نے ہومیوپیتھی کو ہی ترجیح دی۔ اگر پچھلی پریگنینسی سے موازنہ کیا جاے تو اس دفعہ متلی قے کے روٹین کے مسائل کے علاوہ مجھے کئی طرح کی [...]

By |July 1, 2020|Categories: Testimonials|0 Comments
Load More Posts