16 03, 2018

پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان کا ایک کامیاب کیس (ترجمہ: حسین قیصرانی، لاہور)۔

By |2018-03-16T18:27:18+05:00March 16, 2018|Categories: Uncategorized|Tags: |0 Comments

یہ کیس ہے ایک پچیس سالہ، بے حد محنتی اور مہذب نوجوان کا. مستقل محنت اور کام کی زیادتی کی وجہ سے یہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ تفصیلی کیس لینے سے مندرجہ تکالیف و علامات پائی گئیں: پیشانی میں بلکہ آنکھوں کے عین اوپر ہلکا درد کام کے بعد تھکان آنکھیں - جیسے پیچھے کھنچتی ہوں کمرے کی گرمی میں تکالیف کا بڑھ جانا جبکہ کھلی ہوا میں بہتری اپنے دفتر کی فائلوں اور چیزوں کو ترتیب میں نہ رکھنا دل، دماغ اور سوچوں میں اضطراب و پریشانی کسی معاملے کو نمٹانے میں مشکل دفتر میں جو کچھ خراب ہے وہ خراب ہی رکھنے کا مزاج مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ کوئی کام مکمل نہیں ہو پاتا بھوک اور پیاس میں واضح کمی منہ خشک اور زبان پر تہہ جمی ہوئی پلساٹیلا 200 ایک خوراک دی گئی۔ دو ماہ انتظار کے باوجود کچھ فرق نہیں پڑا۔ پلساٹیلا 1000 دی گئی اور ایک ماہ بعد تک بھی کوئی خاص فائدہ نہیں پایا گیا۔ کیس پر اَزسرِ نَو غور کیا گیا اور سینیکولا 30 (Sanicula) کی تین خوراکیں روزانہ تجویز کی گئیں۔ تیسرے دن ہی نوجوان میں خوشی اور کام میں سنجیدگی کے بھرپور احساسات نے جنم لینا [...]

13 02, 2018

پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان کے ڈینگی کیس کا رواں اردو ترجمہ (حسین قیصرانی)۔

By |2018-02-13T09:48:11+05:00February 13, 2018|Categories: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Professional, SOLVED CASES|Tags: |0 Comments

اکیس سالہ نوجوان ڈینگی / ڈینگو کے حملے کا شکار ہوا (پاکستان میں اسے ڈینگی اور انڈیا میں بالعموم ڈینگو بولا جاتا ہے)۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں ڈینگی دراصل جریانِ خون کے ذیل میں آتا ہے۔ مریض کی ہڈیوں میں سخت درد تھا۔ لیبارٹری ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ پلیٹلیٹس بہت ہی کم ہو چکے ہیں۔ درد کی کیفیت، جو کہ مریض نے بیان کی، آرنیکا کی تھی تاہم درد بہت ہی شدت کا تھا اور سر سے پاؤں تک گویا سارے بدن میں۔ انکھوں کے ڈھیلے سخت درد جیسے وہاں زخم ہوں۔ بخار اکثر صبح کو ہوتا جس میں پیاس بہت کم تھی۔ یوپیٹوریم پرف 200 تجویز کی گئی۔ دوا کا فوری اثر یہ ہوا کہ پلیٹلیٹس کی تعداد بڑھ گئی۔ اگلے دو دن میں نوجوان کا بخار بالکل اُتر گیا مگر کمزوری اور بے پناہ تھکاوٹ میں کوئی کمی واقع نہ ہو سکی۔ جونہی بخار اُترا اور طبیعت ذرا سنبھلی، مریض نے آرام اور خوراک کی احتیاط چھوڑ دی۔ دوبارہ بخار ہوا اور بہت تیز جس میں کپکپاہٹ اور کمزوری عروج پر تھی۔ آنکھ کے ڈھیلے میں بھاری پن کا احساس نمایاں ہونے کے ساتھ ساتھ چکر بھی آنے لگے۔ کمر میں سردی کی لہر کی سی [...]

6 02, 2018

The Art of Homeopathic Prescribing by LM Khan – Urdu translation by Hussain Kaisrani

By |2018-02-06T23:31:04+05:00February 6, 2018|Categories: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Professional|Tags: |0 Comments

حُسن نام ہے توازن کا؛ صحیح توازن و تناسب کو ملحوظِ خاطر رکھنا ایک آرٹ ہے، ہنر ہے اور فن۔ ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو اپنی پریکٹس کے دوران توازن کو ہمہ وقت برقرار رکھنا ہوتا ہے تاہم دوائی کے انتخاب کے وقت بطورِ خاص اس کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔ ایسا اِس لئے ضروری ہے کہ ہمارے پیشِ نظر علامات کی طول طویل فہرست ہوتی ہے؛ اِن علامات کو اُن کے صحیح مقام، توازن اور تناسب پر رکھنے سے ہی ہم سنگل ریمیڈی تک پہنچ سکتے ہیں۔ کسی دور دراز دیہات کی باسی اَن پڑھ خاتون یہ آرٹ بخوبی جانتی ہے (وہ اپنی علامات اور تکالیف کو صحیح توازن اور بھرپور تناسب سے ہی بیان کرتی ہے)۔ سنگل ریمیڈی تک پہنچنے میں توازن برقرار رکھنے کے کچھ تقاضے ہیں جو پورے کرنا بہت ضروری ہیں: — ہم ہمہ وقت سیکھنے کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھیں۔ — مطالعہ کی عادت کو مستقلاً اپنا لیں۔ — مشاہدہ کے لئے اپنی آنکھیں، دل اور دماغ کو کُھلا رکھیں۔ یاد رکھئے عزیزانِ مَن! ۱۔ سیکھنا صحیح سمت میں ہونا چاہئے۔ ۲۔ مطالعہ ہونا چاہئے مستند اساتذہ کا اور ہومیوپیتھی کے اصولوں پر کاربند ڈاکٹرز کا۔ ۳۔ مشاہدہ ہو کُھلے دل و دِماغ [...]

22 01, 2018

ہومیوپیتھک علاج میں نایاب پوٹینسی کا اِستعمال – ڈاکٹر ایل ایم خان (انڈیا) کے ساتھ ایک علمی نشست کا احوال

By |2018-01-26T23:10:10+05:00January 22, 2018|Categories: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Professional|Tags: |0 Comments

آج، اتوار کے دن، پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان سے مخصوص اور نایاب پوٹینسی پر گفتگو ہوئی۔ میرے لئے نایاب پوٹینسی کا معاملہ بالکل ہی نئی بلکہ اچنبھے کی بات تھی۔ ہومیوپیتھک لٹریچر میں جب اور جہاں نایاب پوٹینسی کا تذکرہ ملتا ہے وہاں، بالعموم، صرف دو امور پر بحث ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ اِس کا دستیاب نہ ہونا اور دوسرے اِس کے اِستعمال پر بے یقینی کا اظہار۔ اِن حالات میں اگر کہیں علاج میں پھرپور کامیابی کسی مخصوص پوٹینسی کے ضمن میں پڑھتے بھی ہیں تو وہ معاملہ صرف علمی حد تک محدود رہتا ہے۔ اب جب ڈاکٹر خان نے پوٹینسی کے ضمن میں اپنے گہرے علم اور اُس کی کلینیکل اہمیت کو پیش کیا تو نایاب پوٹینسی پر ہمارا یقین پُختہ کر دیا۔ انہوں نے عظیم ہومیوپیتھس مثلاً ڈاکٹر گورینسی، ڈاکٹر نیش، ڈاکٹر بیکر اور ڈاکٹر کلارک کے عام ادویات کی نایاب پوٹینسیوں کے استعمال پر تفصیل بیان کی۔ اُن کی تلقین تھی کہ اس معاملے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ کئی نایاب پوٹینسیوں پر بخوبی کلینیکل تجربات کئے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر ایل ایم خان کا یہ نکتہ بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے کہ کینٹ فلاسفی کے لیول کو پوٹینسیوں کی مروجہ [...]