خوش آمدید - صحت کی معلومات کا قابلِ اعتماد ذریعہ

پروفیسر ڈاکٹر ایل ایم خان کا ایک کامیاب کیس (ترجمہ: حسین قیصرانی، لاہور)


یہ کیس ہے ایک پچیس سالہ، بے حد محنتی اور مہذب نوجوان کا. مستقل محنت اور کام کی زیادتی کی وجہ سے یہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ تفصیلی کیس لینے سے مندرجہ تکالیف و علامات پائی گئیں:
پیشانی میں بلکہ آنکھوں کے عین اوپر ہلکا درد
کام کے بعد تھکان
آنکھیں – جیسے پیچھے کھنچتی ہوں
کمرے کی گرمی میں تکالیف کا بڑھ جانا جبکہ کھلی ہوا میں بہتری
اپنے دفتر کی فائلوں اور چیزوں کو ترتیب میں نہ رکھنا
دل، دماغ اور سوچوں میں اضطراب و پریشانی
کسی معاملے کو نمٹانے میں مشکل
دفتر میں جو کچھ خراب ہے وہ خراب ہی رکھنے کا مزاج
مزاج ایسا ہو گیا ہے کہ کوئی کام مکمل نہیں ہو پاتا
بھوک اور پیاس میں واضح کمی
منہ خشک اور زبان پر تہہ جمی ہوئی
پلساٹیلا 200 ایک خوراک دی گئی۔ دو ماہ انتظار کے باوجود کچھ فرق نہیں پڑا۔ پلساٹیلا 1000 دی گئی اور ایک ماہ بعد تک بھی کوئی خاص فائدہ نہیں پایا گیا۔
کیس پر اَزسرِ نَو غور کیا گیا اور سینیکولا 30 (Sanicula) کی تین خوراکیں روزانہ تجویز کی گئیں۔ تیسرے دن ہی نوجوان میں خوشی اور کام میں سنجیدگی کے بھرپور احساسات نے جنم لینا شروع کر دیا۔ ماتھے پر جو مستقل ہلکا سا درد رہتا تھا؛ وہ بالکل ہی ختم ہو گیا۔ اپنے دفتری معاملات اور نظام کو ترتیب دینے اور نمٹانے کا عمل جاری ہو گیا۔ نیک خواہشات کے ساتھ پلاسبو کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔

عزیزانِ من! یہ کیس پیش کرنے کا مقصد جہاں ایک اہم ترین مگر بہت کم استعمال ہونے والی ہومیوپیتھک دوا کو متعارف کروانا تھا وہاں علاج میں ہونے والی غلطی بھی آپ سے شئیر کرنا ہے۔ غلطی کا ذکر ذرا آگے چل کر آئے گا۔

سینیکولا کا استعمال محدود ہے لیکن میں نے اِسے بہت مؤثر دوا پایا ہے۔ اِس کی علامات کئی پولی کرسٹ دواؤں سے ملتی جلتی ہیں۔ مَیں دواؤں کو سمجھنے کے لئے جتنا زیادہ مطالعہ کرتا ہوں؛ اُتنا ہی گہرے رازوں اور سُچے موتیوں تک رسائی ہوتی ہے۔

اب ذرا غلطی کا بھی تجزیہ کر لیتے ہیں۔
پلساٹیلا کا انتخاب تو جو تھا سو تھا ہی لیکن اُس کے نتائج کے اظہار کے لئے اتنا زیادہ وقت انتظار کرنا مناسب بات نہ تھی۔ ہومیوپیتھی میں کوئی بات یا معاملہ حتمی نہیں ہوتا۔ اِس میں اپنے آپ کو تعصب سے آزاد رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ہمارا رویہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ میری منتخب کردہ دوا ہی حتمی ہے؛ اِس لئے کیس پر غور کرنے کی بجائے پوٹینسی اور انتظار کو بڑھایا جاتا رہے۔ ہمیں آرگینن کی دفعہ (افورزم) 6 کو ہمہ وقت پیشِ نظر رکھنا چاہئے جس میں اِس معاملہ کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
———–
(Presented in Homeopathic True Lovers Group)

۔

Dr. Hussain Kaisrani Signature

Dr. Hussain Kaisrani

DHMS, BHMS, BSc, MSST (UK)

Psychotherapist & Homeopathic Consultant

Lahore, Pakistan

متعلقہ تحریریں Related Articles
TEETHING PROBLEMS – Main and Top Homeopathic remedies

TEETHING PROBLEMS – Main and Top Homeopathic remedies

CHAMOMILLA Most common remedy. Baby demands to be CARRIED AROUND. > cold things in mouth. Angry cry; kicks if put down....

Default image

The Substance of Homoeopathy Rajan Sankarn

Introduction As students of Homeopathy we found the whole system quite confusing – we could see no system, no order....

Default image

Contrasting Bronchitis in Three HomeopaHomeopathic Remedies for Bronchitis: Coccus Cacti, Antimonium Tartaricum, and Kali Bichromicumthic Remedies

Homeopathic Remedies for Bronchitis: Coccus Cacti, Antimonium Tartaricum, and Kali Bichromicum – Hussain Kaisrani In homeopathy, the focus is on...