Uncategorized
 
ایک بھولا بھالا نظر آنے والا خوب صورت بچہ مرغی کے  ننھے منے چوزوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ وہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگتاہے،انھیں پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور خوب کھلکھلاتا ہے۔پھر وہ ایک چوزہ پکڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور ہنستے ہنستے چوزے کی گردن مروڑ دیتا ہے۔
 
اناکارڈیم  بچوں کی شخصیت اکثر حوالے سے دہرے پن کا شکار ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کا واسطہ ایسے اناکارڈیم بچے سے پڑے جو آپ کے ساتھ کھیلتے کھیلتے آپ کے منہ پہ مکا مار  دے۔ جی ہاں! یہ بے حد سفاک ہو سکتے ہیں۔ ایسی ذہنیت کے مالک بچے باتیں بھی قتل کرنے، گولی، چاقو چھری مارنے کی کریں گے۔ دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور مرنے مارنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ یہ ظالم اور بے رحم ہوتے ہیں۔
لیکن تمام اناکارڈیم بچے ایسے نہیں ہوتے۔ کچھ اناکارڈیم بچے یا بڑے آگے چل کر انتہائی ڈرپوک، بزدل، نرم دل اور شرمیلے ہو سکتے ہیں۔اس قسم کے اناکارڈیم  ہر وقت ڈرے سہمے رہتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان رہتے ہیں۔ یہ ہر لمحہ کسی نہ کسی الجھن میں پھنسے ہوتے ہیں۔ وہ خواہ مخواہ سوری، معذرت اور راضی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ وہ اللہ کے عذاب، کسی کے دل دکھنے اور آہ لگنے سے بہت ڈرتے یا بچتے ہیں۔
 
اناکارڈیم بچوں بڑوں کا دماغ ہوا میں اچھالے گئے سکے کی مانند ڈانواں ڈول ہوتا ہے۔ان کے ذہن میں مستقل اتھل پتھل رہتی ہے۔ اکثر معاملے میں کنفیوژن ان کی سب سے خاص علامت ہے۔ ان کے لیے دکان پرکھڑے یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے کہ  کون سا بسکٹ لوں؟ میٹھا یا نمکین؟  میٹھے میں چاکلیٹ یا سٹرابری؟ ان کے لیے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ مثلاً دانت برش دائیں سائیڈ سے شروع کریں یا بائیں سے؟ شرٹ یہ والی پہنوں یا وہ والی۔ پہلے نہا لوں یا پہلے یہ کام کر لوں۔ یہ مسلسل تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ کھلونوں میں جہاز لوں یا گاڑی لوں؟ چاول کھاؤں یا روٹی کھاؤں؟ وہ سوچنے پر 
یہ قوت ِ فیصلہ سے محروم ہوتے ہیں۔طبیعت کا الجھاؤ ذہنی کارکردگی کو بے پناہ متاثر کرتا ہے۔ دماغ ہر معاملے میں انتشار کی وجہ سے یہ اپنا کوئی کام توجہ سے نہیں کر پاتے۔ شدید صورتِ حال میں  یہ ایک ایسی ذہنی حالت  کے حامل ہوتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یادداشت بہت خراب ہوتی ہے۔ اناکارڈیم کا مریض دکان سے کچھ لینے جاتا ہے تو بھول جاتا ہے کہ کیا لینے آیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دکان پر پہنچنے سے پہلے ہی بھول جائے کہ وہ کہاں جا رہا ہے اور کیوں جا رہا ہے؟ وہ ایک لسٹ بنا کر لے جائیں گے چاہے صرف تین چیزیں ہی خریدنی ہوں۔ ان کی تعلیمی کارکردگی بھی اسی ذہنی اتھل پتھل کی وجہ سے متاثر رہتی ہے۔ اولاً تو کسی مضمون پر فوکس نہیں کر پاتے۔ چار سطریں پڑھتےسمجھتے ہیں تو دماغ کا فوکس ہٹ جاتا ہے۔ ایک سوچ سے دوسری سوچ اور پھر تیسری سوچ کا سلسلہ چل نکلتا ہے جو روکے نہیں رکتا۔ یاد کیا ہوا سبق یکدم بھول جاتا ہے۔امتحان میں معروضی طرز کے سوالات ان کے لیے ایک معمہ ہوتے ہیں کیونکہ ہر سوال کے جواب میں چار آپشنز ہوتے ہیں اور ان میں  سے کسی ایک کا انتخاب کرنا اناکارڈیم کے لیے اصل امتحان ہوتا ہے۔ ان کا دماغ بھول بھلیاں کی مانند ہوتا ہے   جہاں ہر موڑ پر کئی راستے ہیں اور اناکارڈیم بچہ یا بڑا ان بھول بھلیوں میں کھویارہتا ہے۔
شدید ذہنی کشمکش بہت سے ڈر، خوف اور فوبیاز کو جنم دیتی ہے۔ امتحان کا خوف انھیں گھیرے رکھتا ہے۔ میں پاس ہو جاؤں گا ؟  اگر میں فیل ہو گیا؟  نہیں! میں کر کے دکھاؤں گا۔اگر میں نہ کر پایا؟ ایک سوچ آتی ہے جو کہ عموماً منفی اور پریشان کرنے والی ہی ہوتی ہے اور اُس کے مقابلے میں دوسری مثبت سوچ لانی پڑتی ہے۔ مگر یہ لائی گئی مثبت سوچ رکتی ٹھہرتی نہیں ہے اور منفی عجیب سوچیں زور کر کے آ جاتی ہیں۔ اندر ایک جنگ چلتی ہے۔
یہ خود کو ثابت کرنا چاہتے ہیں۔کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں مگر جو بھی یہ کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں کر پاتے۔ جو کچھ یہ کرنا چاہتے ہیں وہ عام طور پر کچھ انوکھا، مشکل اور عجیب ہوتا ہے۔ اور جب وہ  نہیں کر پاتے تو خود کا بری الذمہ قرار دے کر الزام دوسروں کے سر ڈال دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اپنی کارکردگی صفر ہوتی ہے مگر یہ دوسروں کو ہی قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا،ان کے اوپر پورا موافق آتا ہے۔ یہ اچھا پرفارم کر سکتے ہیں مگران کا حساسِ کمتری اور عدم خود اعتمادی انھیں آگے بڑھنے نہیں دیتی۔ ایک اناکارڈیم بچہ یا جوان جو امتحان کی اچھی تیاری کرتا ہے اور جانتا ہے کہ وہ پاس ہو جائے گا مگر اپنے ذہن میں آنے والے الٹے سیدھے خیالات کو کنٹرول نہیں کر پاتا۔ کنفوژ دماغ پاس یا فیل میں الجھ جاتا ہے اور یہ کشمکش اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ دماغ الجھ جاتا ہے اور بچہ سچ مچ فیل ہو جاتا ہے۔
 
انہیں بیماری کا ڈر بھی لگا رہتا ہے۔ کہیں مجھے کچھ ہو تو نہیں گیا۔ دھڑکن تیز ہو گی تو انہیں لگے گا کہ ہارٹ اٹیک ہے۔ اپنی صحت کے حوالے بھی ہر وقت  تشویش کا شکار رہتے ہیں۔ اپنے واہموں کی پرورش بڑے انہماک سے کرتے ہیں۔ نزلہ زکام بھی ہو گا تو انہیں یقین ہو گا کہ نظرِ بد کے اثرات ہیں۔ کھیلتے ہوئے جلدی آؤٹ ہو جائیں گے تو اس کا ذمہ دار وہ بچہ ہو گا  جو باؤنڈری پہ کھڑا انہیں گھور رہا تھا۔  تھوڑے بڑے ہوتے ہیں تو جادو ٹونے کا وہم پال لیتے ہیں۔سائیکل بھی خراب ہو گی تو سمجھیں گے کہ کسی  نےجادو کروایا ہے یا کسی نے سازش کی ہے۔ کسی منفی سوچ، بیماری یا خرابی کو انہوں نے ایسا پکڑا ہوتا ہے کہ لاکھ سمجھایا جائے، بات اندر جاتی ہی نہیں ہے۔ اس پر یہ قطعاً بھی کنفیوز یا دو دِلے (ڈبل مائنڈڈ) نہیں ہوتے۔ جس معاملہ (فکسڈ آئیڈیا) پر ان کی سوئی اڑی ہوتی ہے، اُس پر انہوں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہوتی ہے۔ اُس کو ثابت کرنے کے لئے اُن کے پاس بے شمار دلیلیں ہوتی ہیں اور وہ خوب بحث کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ اس پریشانی اور وہم پر نظرثانی کرنے پر قطعاً تیار نہیں ہوتے۔
 
جب اِن کے مسائل بڑھتے بڑھتے شدت اختیار کر جائیں تو کوئی بھی وہم وسوسہ یا عجیب و غریب سوچ پال لیتے ہیں۔ اُس پر دن رات گوگل یوٹیوب سے ریسرچ کرتے رہتے ہیں۔ آسیب، نظر، جن بھوت جادو کا واہمہ بھی عمر کے ساتھ ساتھ اکثر اناکارڈیم میں تقویت پکڑتا ہے۔ میرے پیچھے کوئی ہے ۔۔۔۔ ابھی کوئی چیز بجلی کی تیزی سے میرے قریب سے گزری ہے۔۔ میں نے ابھی ابھی وہاں ایک بلی دیکھی جو اگلے لمحے غائب ہو گئی۔۔ میں نے خود ایک بھوت دیکھا ہے۔ مجھے اپنے ساتھ ہر وقت کوئی نہ کوئی محسوس ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ دوسروں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انھیں کچھ لوگ مشکوک لگتے ہے۔ کسی کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کنگھی پر بھی چاقو کا گمان ہوتا ہے کہ شائد اب یہ مجھے قتل کرنے والا ہے۔ یہ بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار ہو سکتے ہیں۔
 
ان کو لگتا ہے کہ ان کی ایک کندھے پر ایک فرشتہ بیٹھا ہے اور دوسرے پر شیطان۔ اب یہ دونوں یعنی فرشتہ اور شیطان کنفوژ  رکھتے ہیں۔ اس وہم کو حقیقت سمجھتے ہیں اور صحیح اور غلط کے مستقل جھمیلے میں الجھے رہتے ہیں۔ یہ کروں گا تو ثواب ملے گا ۔۔۔ ایسا کرنے سے گناہ تو نہیں ہو گا ۔۔ کیا مجھے پھر سزا ملے گی۔۔  مثبت اور منفی سوچیں برسرِپیکار رہتی ہیں۔ پہلے غصہ کرتے ہیں، مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔اس کے فوری بعد احساسِ گناہ  حاوی آ جاتا ہے اور معافیاں مانگنے لگتے ہیں۔پھر اس وہم میں گھلتے رہتے ہیں کہ اب میں نے غلط کیا ہے  مجھے گناہ ملے گا۔ سزا ملے گی۔ بات بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ بد دعائیں اور گالیاں دیتے ہیں۔انہیں اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہے کہ انہیں کسی کی آہ نہ لگ جائے۔ مذہبی رحجان رکھتے ہیں اور ہر وقت  گناہ و ثواب کی کشمکش میں گھلتے رہتے ہیں۔
 
جب خوش ہوتے ہیں تو بے انتہا خوش ہوتے ہیں اور جب غمزدہ ہو تے ہیں تو بھی بے حد غمگین ہوتے ہیں۔ خوشی کے موقع پر اداس ہونا اور دکھ کی گھڑی میں ہنستے رہنا بھی ان کی شخصیت کا خاصا ہو سکتا ہے۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا چاہتے ہیں۔ انتشار سے بھرپور دماغ ہر وقت صحیح اور غلط کے تانے بانے بنتا رہتا ہے اور اناکارڈیم کو مسلسل انرجی درکار ہوتی ہے ورنہ وہم وسوسے اور سوچیں بے پناہ تنگ کرتی ہیں۔ اس لیے یہ چاہتے ہیں کہ دماغ کی طرح منہ بھی چلتا رہے۔ یہ بچے زیادہ دیر تک اپنا معدہ خالی نہیں رکھ سکتے۔ وقت پر کھانے پینے کو کچھ نہ ملے تو اِن کے جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی مسائل بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ کچھ نہ کچھ کھاتے رہیں تو ٹھیک رہتے ہیں۔ بھوکا رہنے سے طبیعت خراب ہوتی ہے۔انہیں اپنے منہ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی ذائقہ درکار ہوتا ہے۔ اس لئے خطرہ ہوتا ہے کہ یہ کسی نشہ میں نہ پڑ جائیں۔ چیونگم ہر وقت منہ میں رکھنا، سگریٹ، پان، سپاری، نسوار وغیرہ کی عادت اِن میں زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ جب تک ان کے ارد گرد سب کچھ ان کی مرضی سے چلتا رہے یہ ٹھیک رہتے ہیں۔ جیسے ہی کچھ ان کے مزاج  کے خلا ف ہو، ان کی طبیعت بگڑنے لگتی ہے۔ یہ سب کچھ اپنے طریقے سے کر نا چاہتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر حاکمانہ شخصیت رکھتے ہیں۔ لیکن جب ان کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا تو یہ شدید بےبسی محسوس کرتے ہیں اور بیمار ہو جاتے ہیں۔
 
ان میں معدے کے مسائل اکثر اور زیادہ ہوتے ہیں۔ جلن اور تیزابیت محسوس ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سانس کی نالی میں کچھ اٹکا ہوا ہے۔ قبض کی شکایات بھی ملتی ہیں۔ قبض ہو یا کچھ اَور مسئلہ؛ درحقیقت اِن کو کہیں کچھ پھنسا ہوا محسوس ہوتا ہے جس سے انگزائٹی، ڈپریشن اور ٹینشن لیتے ہیں۔ انہیں اپنے ارد گرد کسی نہ کسی مخصوص بد بو کا شائبہ رہتا ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ راکھ کی بو آ رہی ہے اور کبھی محسوس ہوتا ہے کہ کہیں فوم وغیرہ  جلنے کی بو پھیل رہی ہے۔

Write a Comment