بلڈ پریشر ہارٹ اٹیک کی منفی سوچیں
شدید انزائٹی، پینک اٹیک اور ڈپریشن
شدید انزائٹی اور ڈپریشن کی کیفیت تھی، دن کو سکون تھا نہ رات کو چین۔
ذہنی دباؤ اور اعصابی کمزوری بہت زیادہ تھی۔ مستقل معدے کا درد، تیزابیت، گیس، گھبراہٹ اور بوجھل پن رہتا تھا۔
دل کی دھڑکن بے قابو ہو جاتی تھی ۔ بلڈپریشر ، ہارٹ اٹیک کا ڈر اور بار بار ہسپتال جانا پڑتا تھا۔
ہیموگلوبن سے لے کر ایڈز تک تمام ٹیسٹ کروائے۔ سارے ٹیسٹ اینڈوسکوپی، ای سی جی ، بھی نارمل مگر تمام دوائیوں علاج کے باوجود مسئلہ مزید بڑھتا گیا۔
نیند نہ آنا ایک بڑا عذاب بن چکا تھا، دوائیوں کے باوجود گہری نیند نصیب نہیں ہوتی تھی۔
ہر وقت یہ خوف رہتا تھا کہ ابھی کچھ ہو جائے گا ۔۔ شدید ہیلتھ انگزائٹی نے زندگی تباہ کر دی تھی۔
موت ہارٹ اٹیک بلڈ پریشر کےمسائل اور ڈر خوف فوبیا کے باوجود مسلسل سگریٹ نوشی کرتا تھا۔
چار سال تک مختلف ٹاپ ڈاکٹرز سے علاج کروایا مگر فائدہ نہ ہوا۔
—-
اللہ کے فضل سے اب خود کو 90٪ سے زائد بہتر محسوس کر رہا ہوں۔
معدے کی تکالیف، موت کا ڈر خوف"
class="img-fluid"
style="max-width: 100% !important; height: auto !important;">