دو سال پہلے چار سالہ اکلوتے بیٹے کی والدہ نے ساہیوال سے واٹس ایپ پر رابطہ کیا۔ محترمہ بے حد پریشان تھیں۔ ان کے بیٹے کے مسائل انتہائی پیچیدہ نوعیت کے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ شائد ان کا بیٹا کسی حد تک ابنارمل ہے اور بیٹے کی ناقابلِ علاج صورت حال ان  کے اس خیال کو تقویت دیتی رہتی تھی۔ وحشیانہ انداز، مار پیٹ، ہر وقت رونا دھونا، ضد کرنا، شدید ہکلاہٹ (stammering)، احساس کمتری اور بہت سے عجیب و غریب مسائل صورت حال کو بدتر بنا رہے تھے۔ تفصیلی انٹرویو سے درج ذیل مسائل کی فہرست سامنے آئی۔
جسمانی مسائل۔ physical    issues
1۔ پیدائش کے بعد سے ہی اکثر چیسٹ انفیکشن (chest infections) کا مسئلہ رہتا تھا۔ سینہ جام ہو جاتا۔ سانس لیتے ہوئے کھرکھڑاہٹ کی آواز آتی۔ ناک بند ہو جاتی اور پھر تیز بخار ہو جاتا تھا۔ شروع میں تو ڈاکٹرز نے شربت والی دوائیاں دینا شروع کیا۔ پھرانٹی بائیوٹیکس کے کورس چلنا شروع ہوئے اور بالآخر انجیکشنز کے بغیر کچھ فائدہ نہ ہو پاتا۔ یہ صورت حال تقریباً ہر ماہ ہوتی تھی۔ اس بات سے قطع نظر کہ موسم کیسا ہے۔ شدید گرمی میں بھی چیسٹ انفیکشن اور سینے کی جکڑن کا سلسلہ جاری رہتا اور بے تحاشا دوائیں استعمال کروائی جاتی تھیں۔
2۔ پیٹ کے مسائل بہت زیادہ تھے۔ اکثر پیٹ خراب رہتا۔ لوز موشن (loose motion) کی تکلیف اتنی بڑھ جاتی کہ ہسپتال  داخل ہونا پڑتا اور مسلسل ڈرپس لگتی تھیں۔ 
3۔  معدے کے مسائل (stomach issues) بھی کچھ کم نہ تھے۔ دودھ ہضم ہی نہیں ہوتا تھا۔ دودھ پیتے ہی پیٹ خراب ہو جاتا تھا اور ساتھ الٹیاں شروع ہو جاتی تھیں۔ کئی کئی دن تک الٹی نہیں رکتی تھی۔ ڈرپس لگتی تھیں۔ پیٹ درد کی شکائت بھی اکثر رہتی تھی۔ ڈاکٹرز نے دودھ پینے سے منع کر دیا تھا۔ فوڈ الرجی بھی شروع ہو گئی۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ دودھ اور گندم سے الرجی (gluten & milk allergy) یعنی سیلیک ڈیزیزکی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔
4۔ آئے دن بخار ہو جاتا۔ بخار کے دوران سر شدید گرم ہو جاتا مگر باقی جسم ٹھنڈا رہتا تھا۔ کبھی کبھی بخار کی شدت اتنی بڑھ جاتی تھی کہ جسم کو جھٹکے لگتے تھے۔ 
5۔ گلا خرابی (throat infections) بھی ایک مستقل مسئلہ بن گیا تھا۔ ٹھنڈی اور کھٹی چیزیں بہت جلد اثرانداز ہوتی تھیں۔ گلا پک جاتا۔ منہ میں چھالے بن جاتے۔ ہونٹ سرخ ہو جاتے۔ ڈاکٹر کہتے تھے ٹانسلز کا مسئلہ ہے۔
6۔ سارا دن آرام سے نہ بیٹھتا  جس سے ٹانگوں میں بہت درد رہتا تھا۔ ہر رات ٹانگیں دبواتا تھا۔ پنڈلیوں کے پٹھوں میں بہت کھچاؤ ہوتا۔ ساری رات ٹانگیں اٹھا اٹھا کر بیڈ پر مارتا رہتا تھا۔ 
ذہنی و نفسیاتی مسائل۔  mental  &  psychological  issues
1۔ طبیعت میں انتہا غصہ (extreme   anger) تھا۔ شدید قسم کا چڑچڑاپن رہتا۔ چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکتا۔ برتن توڑتا۔ ماں کو بالوں سے پکڑ کر کھینچتا تھا۔ غصے میں اتنا وحشی ہو جاتا کہ ماں کو بری طرح باقاعدہ مارتا پیٹتا تھا۔ وحشی پن اتنا کہ ماں کے کپڑے پھاڑ دیتا تھا۔ اگرچہ چھوٹا سا تھا اور جسمانی طور پر بھی کمزور لیکن غصے میں کسی کے قابو نہ آتا تھا۔ غصے مین شدت بڑھ جاتی تو اپنا ہی سر دیوار سے مارنے لگتا تھا اور اسے درد کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ 
2۔  ضدی (stubborn) طبیعت تھی۔ جس چیز کی فرمائش کرتا جب تک وہ مل نہ جاتی؛ ضد نہیں چھوڑتا تھا۔ دماغ کی سوئی کسی ایک بات پہ اٹک جاتی تھی پھر اس کا دھیان بٹانا مشکل تھا۔ اکثر اوقات اس کی ضد کسی ایسی چیز کی ہوتی تھی جس کا مہیا کرنا والدین کے لیے مشکل ہوتا تھا۔ شادی ہال میں کھانے کے دوران ضد کرنا کہ مجھے ابھی غبارہ چاہئے۔ اور اس کے لیے رونا، چلانا شروع کر دینا اور پھر غبارہ نہ ملنے کی صورت میں وہیں ماں کو مارنا شروع کر دینا اور اگر کسی طرح غبارہ مہیا کر دیا گیا تو کہتا مجھے تو فلاں رنگ چاہیے تھا، یہ والا نہیں لینا۔
3۔  ملنے ملانے سے کتراتا (anti  social) تھا۔ گھر کوئی مہمان آ جاتے تو بیڈ کے نیچے گھس جاتا یا پھر ماں سے کوئی فرمائش کر دیتا کہ ابھی چاہیے۔ یہ سارا کچھ اس لئے بھی تاکہ ماں مہمانوں کے پاس نہ جائے؛ اُس کے پاس رہے۔ اور اگر ماں اس کی بات نہ مانے تو وہی چیخ و پکار اور مار پیٹ کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ مہمانوں کے سامنے نہیں جاتا تھا۔ خود بھی مہمانوں کے پاس نہیں بیٹھتا تھا اور ماں کو بھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔
4۔ گھر سے باہر اکیلا نہیں جا سکتا تھا۔ ہر وقت ماں کے ساتھ رہتا۔ جب بچوں کے ساتھ کھیلتا تو ماں سے صرف اتنے فاصلے پر رہتا کہ ماں اس کی نظروں میں رہے۔ اگر کبھی ماں نظر نہ آتی تو شدید خوف زدہ حالت ہو کر گھر کی طرف دوڑ لگا دیتا۔ پھر ماں سے خوب لڑتا، روتا، چیختا چلاتا اور ماں کو مارنے لگتا کہ مجھے چھوڑ کر کیوں آئی۔
5۔ شدید عدم اطمینان تھا۔ اپنا گھر اچھا نہیں لگتا تھا۔ اکثر روتا تھا کہ فرش ٹوٹا ہوا یے۔ نیا فرش کیوں نہیں بنواتے؟ دیواروں پر اچھا پینٹ کیوں نہیں کرواتے؟ میرا کوئی بھائی یا بہن کیوں نہیں ہے؟ مجھے ابھی ابھی چھوٹی بہن چاہئے۔
6۔ پڑھنا لکھنا ناممکن تھا۔ لفظوں کی پہچان ہی نہیں تھی۔ لکھ نہیں پاتا تھا۔ کوئی سبق یاد نہیں ہوتا تھا۔ وہ پڑھائی پر توجہ مرکوز ہی نہیں کر پاتا تھا۔ زبان صاف نہیں تھی۔ گفتگو مبہم ہوتی اور لفظ گڈ مڈ ہو جاتے تھے۔ بات کرتے ہوئے اکثر الفاظ الٹے بولتا تھا۔ شروع میں لکنت اور ہکلاہٹ (Stuttering) کم تھی لیکن وقت کے ساتھ اس میں بھی شدت آ رہی تھی۔ ایک لفظ پر کافی دیر تک ہکلاتا رہتا اور جب نہ بول پاتا تو تنگ آ کر بات کرنا چھوڑ دیتا تھا۔
7۔ خوداعتمادی (lack  of  confidence) بالکل نہیں تھی۔ اپنے قریبی رشتے داروں کا سامنا کرنے سے بھی کتراتا تھا۔ اپنے ماموں یا پھپھو کے پاس بھی نہیں جاتا تھا۔ ماں کے پیچھے ہی چھپا رہتا تھا۔ 
8۔ ایک طرف تو اتنا ظلم اور لڑائی مار کٹائی اور دوسری طرف دوسروں کے لیے حساسیت بہت زیادہ تھی۔ ایمبولینس کی آواز سن کر پریشان ہو جاتا، رونے لگتا، دعائیں مانگتا کہ اس میں جو کوئی بھی ہے اس کو کچھ نہ ہو۔
8۔ ہر وقت بے چین (restless) رہتا تھا۔ تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ مسلسل کسی توڑ پھوڑ میں مصروف رہتا یا روتا رہتا تھا۔ پر سکون نیند نہیں آتی تھی۔ ہر آہٹ پہ جاگ جاتا تھا۔ گہری نیند کبھی بھی نہیں سوتا تھا۔ 
9۔ گیند بہت زیادہ پسند تھی۔ گیندیں اکٹھی کرتا رہتا تھا۔ کھلونے جس ترتیب سے رکھتا تھا اس میں تبدیلی برداشت نہیں کرتا تھا۔ 
10۔ اپنے کپڑوں پر ہلکا سا بھی داغ دھبہ برداشت نہیں کرتا تھا۔ اگر کپڑوں پر پانی بھی گر جائے تو ضد کرتا تھا کہ فوراً ابھی کپڑے بدلوائیں۔
ڈر، خوف، فوبیاز  Fear  &  phobias
اکیلا رہنے سے بہت خوفزدہ تھا کسی بھی لمحے تنہا نہیں رہ سکتا تھا۔ پولیس کی گاڑی اور سائرن سے بہت ڈرتا تھا۔ 
اندھیرے سے بھی ڈر لگتا تھا۔
فیملی ہسٹری۔   Family  history
خاندان میں نفسیاتی عوارض (psychological  issues) کا رجحان بہت زیادہ تھا۔ 
پسند /  ناپسند  Likes  &  dislikes
پھل بہت پسند تھے خاص طور پر مالٹا، کنوں وغیرہ۔ آئس کریم جنون کی حد تک پسند۔ روٹی نہیں کھاتا۔ کسی ایک چیز کی فرمائش کرتا تو کئی دن تک وہی چیز کھاتا رہتا۔ پیاس بہت زیادہ لگتی۔
کیس کا تجزیہ، ہومیوپیتھک دوائیں اور علاج (ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)۔
کیس بہت پیچیدہ تھا۔ ہائپر ایکٹویٹی (Hyperactive)، اے ڈی ایچ ڈی (ADHD) اور آٹزم (AUTISM) کی علامات بڑی واضح تھیں۔ سیلیک ڈیزیز، گندم الرجی اور دودھ الرجی کے مسائل نے بھی بچے کی صحت اور نشوونما پر بہت گہرے جسمانی، جذباتی، نفسیاتی اور ذہنی اثرات چھوڑے تھے۔
بچے کی فیملی ہسٹری میں شدید دماغی، نفسیاتی، جذباتی مسائل کے شواہد تھے اور ہیپاٹائٹس کی بھی۔ پریگنینسی کے دوران گھریلو حالات میں خرابی، والد کی عدم توجہ، گھر کا مستقل ٹینشن زدہ ماحول، والدین کے روزمرّہ کے لڑائی جھگڑے، بچے کے مسائل کو بڑھانے اپنا اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔
ہائی پوٹینسی اینٹی بائیوٹک ادویات کا مسلسل اوربے دریغ استعمال نئے مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا تھا۔ چہرے پہ رونق نہیں تھی۔ عجیب سی پژمردگی چھائی رہتی تھی۔ جسم بہت لاغر اور کمزور تھا لیکن پھر بھی طبیعت میں ٹھہراؤ نہیں تھا۔ کسی بھی لمحے سکون سے بیٹھنے کا تصور ہی نہیں تھا۔
بچہ اپنے چاچو سے بہت قریب تھا۔ ماں کے علاوہ وہ صرف اپنے چاچو کے ساتھ باہر چلا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ تو کسی کے ساتھ بائیک پہ بھی نہیں بیٹھتا تھا۔ چاچو کے بیرونِ ملک جانے کے بعد بچے کے مسائل نے اتنی شدت اختیار کی کہ سمجھا جانے لگا کہ یہ بچہ ابنارمل ہے۔ ہکلاہٹ لکنت اور زبان کا اڑنا بہت شدت اختیار کر گیا۔ اس وجہ سے سکول میں بچے مذاق اڑانے لگے۔ ٹیچر کہتی تھی یہ عام بچوں کے ساتھ پڑھ نہیں پاتا۔ ماحول اور رویوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی۔
ایسے بچوں کے مسائل کو صحت مندی کی لانا بہت ہی مشکل مسئلہ ہوا کرتا ہے۔ عام طور پر فیملی بہت حساس ہوتی ہے اور وہ ہر چھوٹی تکلیف کے لئے بھی فوراً دوائی دینا ضروری سمجھتے ہیں سو ہومیوپیتھک علاج میں رکاوٹ آ جایا کرتی ہے۔ بچے کی فیملی نے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور انہوں نے اِسے نہایت خوبی سے نبھایا بھی۔ اِس دوران بچے کو شدید درجے کا بخار بھی ہوا، کھانسی کی شدت نے کئی دن تنگ رکھا، کمزوری حد درجہ بڑھ گئی مگر اُن کا اعتماد ڈسٹرب نہ ہوا۔
بے شمار ایلوپیتھک دوائیوں کے استعمال اور سخت غصہ کے پیشِ نظر پہلی ہومیوپیتھک دوا نکس وامیکا (Nux  Vomica) دی گئی۔ اس سے کوئی فائدہ محسوس نہیں ہو پایا۔ 
دس دن بعد میازم اور علامات کے مطابق ٹیوبرکولینم (Tuberculinum) کی ایک خوراک دی گئی۔ اس کے دیتے ہی بہتری کے بہت واضح آثار ہوئے۔ بچے کے اندر ٹھہراؤ، سکون اور نرمی پیدا ہوئی۔ شدید کمزوری اور ٹانگوں میں درد سے افاقہ ہوا۔
تقریباً دو ماہ بعد شدید بخار ہوا۔ چہرہ، سر اور ماتھا بہت ہی گرم تھا اور سرخ بھی جبکہ باقی جسم ٹھنڈا تھا۔ بچہ اول فول سوال کرتا تھا اور عجیب باتیں کرنے لگا۔ فیملی اگرچہ فکرمند بہت تھی مگر فیصلہ یہی رہا کہ اُن کو ہومیوپیتھک دوائی ہی جاری رکھنی ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے بیلاڈونا (Belladonna) دینے سے معاملات تین چار دن میں کنٹرول ہو گئے۔
بچے کا باقاعدہ علاج دس ماہ تک چلا، اِس میں مختلف لئیرز آئیں، سردیاں، گرمیاں اور برسات کے موسم بھی۔ نزلہ زکام، بخار، کھانسی، پیٹ کی خرابیاں، غصے کے شدید دورے بھی۔ پڑھائی اور تعلیم میں ناکامیاں اور کامیابیاں بھی۔ چاچو آئے بھی اور واپس گئے بھی۔ گھر میں جھگڑے، بچوں کے ساتھ کھیل کود اور مسائل بھی۔ حالات و واقعات کے مطابق فیملی سے مستقل رابطہ رہا۔ فیڈبیک اور ہر معاملہ کی تفصیل وٹس اپ میسیج یا وائس نوٹ سے ملتی رہی۔ علامات کے مطابق کوریئر کے ذریعہ دوائی بھجوائی جاتی رہی۔ ایسا بھی ہوا کہ کئی کئی دن بلکہ کئی بار تو ہفتوں کوئی دوائی نہیں دی گئی۔
وقتی تکالیف کے علاوہ جو ٹاپ ہومیویپتھی دوائیاں اِس کیس کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں؛ وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
ٹیوبرکولینم بووینم کینٹ
اناکارڈیم اورینٹل
آرسنیک البم
فاسفورک ایسڈ
سٹرامونیم
میڈورینم
سفلینیم
بیلاڈونا
بارائٹا کارب
 اللہ نے کرم کیا اور بچے کی مجموعی صحت بہت بہتر ہوئی۔ سکول اور تعلیم میں کارکردگی نارمل ہو گئی۔ وہ کھیل کود اور نئی نئی چیزیں بنانے کی کوشش کرتا اور خوش ہوتا ہے۔ لکنت اور ہکلانا ٹھیک ہو چکا ہے۔ فر فر باتیں کرتا ہے اور کھیل کود میں دل لگاتا ہے۔
والدہ کا فیڈبیک ملاحظہ فرمائیں۔
میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ اس کی عمر اب چھ سال ہے۔ میری دنیا اسی کے گرد گھومتی ہے۔ وہ شروع سے ہی حساس تھا۔  میں اسکا بہت خیال رکھتی لیکن پھر بھی اس کو ٹھنڈ لگ جاتی۔ سردی کا موسم  ٹاپ ڈاکٹرز کے کلینکس پر گزرتا۔ گرمی آتے ہی ہیضے کی شکائت ہونے لگتی۔ کبھی الٹیاں کبھی لوز موشن، اس کو کچھ نہ کچھ ہوا رہتا تھا اور میں دوائیں دیتی رہتی تھی۔ ڈاکٹر کہتے تھے کہ اسے گندم گلوٹن الرجی اور دودھ الرجی ہے۔
مسلسل اینٹی بائیوٹک کھانے سے اب دوائیں اس پر اثر ہی نہیں کرتی تھیں۔ بہت کمزور ہو گیا تھا۔  شدید ضد کرتا تھا۔ چیزیں توڑتا تھا۔ غصے میں وحشیوں کی طرح پیش آتا تھا۔ اسے اپنے آپ پر کنٹرول نہیں رہتا تھا۔ مجھے بری طرح مارتا تھا۔ میرے کپڑے پھاڑ دیتا تھا۔ جب وہ ضد کرتا تو کسی بھی طرح نہیں مانتا تھا۔ دماغ کسی بات پر اٹک جاتا تو وہ مسلسل اسی کے بارے میں سوچتا۔ شدید ڈرپوک تھا۔ اکیلے باہر نہیں جاتا تھا۔ ہر وقت میرے ساتھ رہتا تھا۔ کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ میں نے اپنے بھائی کی شادی کا سارا فنکشن اس کو گود میں اٹھا کر اٹینڈ کیا کیونکہ وہ کسی کے پاس نہیں جاتا تھا۔ اس میں کسی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ گھر میں مہمان آ جاتے تو وہ میرے پیچھے چھپ جاتا یا پھر بیڈ کے نیچے گھس جاتا تھا۔ پڑھنے کی طرف کچھ دھیان ہی نہ تھا۔  کچھ یاد نہیں کر سکتا تھا۔  پھر زبان بھی ہکلانے لگی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں۔ میں نے پیار سے  سمجھا کر بھی دیکھا اور پٹائی بھی کی لیکن اس پر کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوا۔
ایک فیملی فرینڈ نے ڈاکٹر حسین قیصرانی کے آن لائن علاج بارے میں بتایا۔  میں نے انھیں کال کی۔ انھوں نے میری کہانی شروع سے آخر تک سنی اورمجھے دلاسہ دیا کہ وہ میرے بیٹے کے علاج کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ علاج شروع  ہوا۔
سب سے پہلے تبدیلی جو میرے بیٹے میں آئی وہ نیند میں بہتری تھی۔ وہ گہری اور پرسکون نیند سونے لگا۔ آہستہ آہستہ اس میں بہتری آنے لگی۔ غصہ کچھ بہتر ہوا۔ ضد میں کمی آئی لیکن ہکلاہٹ بڑھتی رہی۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت توجہ اور لگن سے میرے بیٹے کا علاج کیا۔ میں  ڈاکٹر صاحب کو اپنے بیٹے میں آنے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلی سے وٹس اپ آگاہ کرتی تھی۔ علاج کے دوران کئی اتار چڑھاؤ آتے رہے۔ شدید بخار، ڈر، خوف، جسمانی کمزوری اور بڑھتی ہوئی ہکلاہٹ سے میں پریشان ہو جاتی تھی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے مجھے حوصلہ ہارنے نہیں دیا۔ کبھی مسائل میں شدت آجاتی اور کبھی کچھ بہتری۔
چھ ماہ بعد مجھے اپنے بیٹے میں واضح بہتری نظر آنے لگی۔ اس کی بھوک بہتر ہوئی۔ اعتماد کچھ بحال ہوا۔ اب اپنی پھپھو اور ماموں سے گھل مل جاتا۔ باہر کھیلنے چلا جاتا۔  البتہ ہکلاہٹ اور سٹیمرنگ میں بہتری سب سے آخر میں آئی۔  لیکن یہ بہتری بہت ہی شاندار تھی کیونکہ ہکلاہٹ ایسے غائب ہوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔
الحمد للّٰہ میرا بیٹا اب روانی سے بولتا ہے۔ پڑھنے لگا ہے۔  چہرے پر رونق ہے۔  صحت بہتر ہو رہی ہے۔  دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ خوب باتیں کرتا ہے۔  خود کو کچھ نہ کچھ بنانے میں مصروف رکھتا ہے۔ ڈرائنگ بہت شوق سے کرتا ہے۔ اب وہ خوب ہنستا ہے اور مجھے بہت اچھا  لگتا ہے۔
گندم اور دودھ کی الرجی بالکل غائب ہو گئی یے۔ جو اُس کا دل کرتا ہے کھاتا پیتا ہے۔ کوئی پرہیز یا احتیاط بالکل بھی نہیں ہے۔ کھانسی، بلغم کنٹرول میں ہے۔ پورے اعتماد کے ساتھ سائیکل پہ اور پیدل گلی محلے میں گھومتا ہے۔ اس کا علاج دس ماہ جاری رہا اور میں یہ فیڈبیک علاج مکمل ہونے کے آٹھ ماہ  بعد لکھ رہی ہوں۔ اس آٹھ مہینے کے دوران میرے بیٹے کو کسی قسم کی دوائی کی ضرورت نہیں پڑی۔ اللہ کے کرم اور ڈاکٹر صاحب کی محنت سے میرا بیٹا نارمل انداز میں زندگی گزارنے کے قابل ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میرے بیٹے کے مسائل نہایت عجیب نوعیت کے تھے اور اس کے علاج میں ڈاکٹر صاحب  کی ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں مہارت اور تجربے نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی انتھک لگن اور مریض کی صحت یابی کے لیے ہر وقت کوشاں رہنے کے جذبے نے میرے بیٹے کی زندگی بدل دی جس کے لیے میں ہمیشہ ان کی شکر گزار رہوں گی۔
میں چاہوں گی کہ وہ تمام والدین جن کے بچے میرے بیٹے کی طرح مسائل میں ہیں وہ  ڈاکٹر حسین قیصرانی سے ضرور مشورہ کریں۔

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور، پاکستان فون نمبر 03002000210