میں روزے رکھ رہی ہوں! میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس مشکل اور کربناک حالت سے نکل کر کبھی روزے رکھ سکوں گی۔ ماہ رمضان سے مجھے عشق ہے عشق۔ اس کے ہر لمحہ سے مجھے محبت ہے۔ عید منانے کا جوش جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ چاہے عید سادہ ہی ہو مگر ابھی سے اس کے انتظار میں ہوں۔
اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ دل کی باتیں کی۔ اسے بتا دیا کہ جون میں جاب چھوڑ دوں گی اور شادی کرنا چاہتی ہوں۔ وہ سب بھی شیئر کیا جو پچھلے دس سالوں میں ابا جی نے میرے اور بیٹے کے ساتھ ناانصافی، نامناسب سلوک اور جھگڑے کئے۔ میں اب اس عذاب سے چھٹکارا چاہتی ہوں۔
میرے دل میں ایک گہری خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ میں ہنسوں کھیلوں، محبت کروں اور اپنا پورا وقت ۔۔۔۔ کے ساتھ گزاروں۔ اب یہ چاہت میرے دل و دماغ میں بس گئی ہے۔
میں گھر کے صحن میں ورزش شروع کرنا چاہتی ہوں چاہے صرف دس منٹ ہی کیوں نہ ہو۔ میرا جسم کھل جائے، مضبوط اور لچک دار بھی ہو۔
اب میں گھر کے کاموں کے بارے میں زیادہ پریشان نہیں ہوتی۔ کام والی چاہے آئے یا نہ آئے میں مسلسل سوچتی نہیں رہتی۔ میں چیزوں کو جیسے ہیں ویسے ہی پڑے رہنے دیتی ہوں۔
مجھے خوشی ہے کہ آج کل میری بہن میرے بیٹے کا خیال رکھ رہی ہے، جس سے میری ذمہ داریاں کچھ کم ہو گئی ہیں۔
اور سنو، ڈاکٹر حسین قیصرانی، میں نے عید کا جوڑا بھی سلوا لیا ہے۔ اس عید پر میں مہندی لگانا چاہتی ہوں اور عید کی نماز کے لیے مسجد بھی جانا چاہتی ہوں۔
مجھے افطار میں فروٹ کھانا بہت پسند ہے اور الحمدللہ روزانہ کھا بھی رہی ہوں۔
دل کی دھڑکنـوں میں، نئی آرزو جاگ گئی ہے"
class="img-fluid"
style="max-width: 100% !important; height: auto !important;">