خوش آمدید - صحت کی معلومات کا قابلِ اعتماد ذریعہ

کیپسیکم ہومیوپیتھک دوا – ڈاکٹرحسین قیصرانی

کیپسیکم

Capsicum Annuum – لال مرچ

کیپسیکم کا مریض کیسا ہوتا ہے؟

کیپسیکم لال مرچ سے بنی ہومیوپیتھک دوا ہے۔ اس کا مریض عموماً موٹا اور ڈھیلا ہوتا ہے۔ جسم میں ایک بے جانی ہوتی ہے۔ چہرہ سرخ رہتا ہے، خاص طور پر ناک کی نوک، آنکھیں اور گال سرخ نظر آتے ہیں۔ یہ سرخی باریک پھیلی ہوئی رگوں سے آتی ہے جیسی شرابیوں میں نظر آتی ہے۔ پیٹ بھاری اور لٹکتا ہوا۔ یہ دوا مردوں میں عورتوں کے مقابلے زیادہ دیکھی جاتی ہے۔

طاقت اور قوت کا احساس نہیں ہوتا۔ کھانا کھاتے ہیں مگر سب چربی بن جاتا ہے، جسم کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ اگر کیپسیکم کے مریض کو کیلکیریا کارب دی جائے تو موٹاپا مزید بڑھ جاتا ہے ۔۔۔ یہ فرق جاننا علاج میں بہت ضروری ہے۔

ذہنی کیفیت — دو مراحل

پہلا مرحلہ

ابتداء میں یہ لوگ بہت حساس ہوتے ہیں۔ معمولی بات پر دل پر لگ جاتی ہے۔ سماجی تعلقات میں اندر سے ڈر لگتا ہے، عدم تحفظ ہوتا ہے۔ مگر یہ اسے چھپانے کے لیے ملنسار بن جاتے ہیں۔ اس چھپاؤ کی وجہ سے ان کی اصل کیفیت سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گناہ کا احساس اور سزا کا ڈر بھی ہو سکتا ہے، بعض کیسز میں پولیس سے خوف۔

دوسرا مرحلہ

جب یہ حساسیت ناقابلِ برداشت ہو جائے تو یہ شخص تمام یادیں اور جذبات اندر دفن کر لیتا ہے۔ اب صرف سکون چاہیے۔ نہ کوئی نئی بات، نہ کوئی نئی چیز، نہ کوئی تبدیلی۔ ہر غیر متوقع بات ناپسند ہے۔ روٹین ہی پناہ ہے۔

کچھ حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے مگر محنت سے جی چراتے ہیں، آسان راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ ذہنی سستی بڑھتی جاتی ہے۔ اپنی حدود دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ جو چاہتے ہیں وہ ہو نہیں پائے گا۔ یہ ڈر رات کو جگا دیتا ہے۔ تقریباً رات دو بجے آنکھ کھلتی ہے اور پانچ بجے تک نیند نہیں آتی۔ صبح تھکا ہوا اٹھتا ہے۔

صحت کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ کام سے جی چراتے ہیں، نہ جسمانی اور نہ ذہنی۔ بے حسی فاسفورک ایسڈ جیسی گہری نہیں ہوتی بلکہ اندر ایک بے چینی رہتی ہے جو بڑھتی جاتی ہے۔

ہوم سِکنس

یہ کیپسیکم کی سب سے مشہور اور پہچانی جانے والی علامت ہے۔ اور یہ محض گھر یاد آنے کا نام نہیں۔

کیپسیکم کا مریض جذباتی طور پر ماضی میں جیتا ہے۔ بچپن، گزری زندگی کے مانوس لمحے — یہ یادیں اس پر اس قدر غالب ہوتی ہیں کہ دل ڈوبنے لگتا ہے۔ یہ ہوم سِکنس صرف گھر سے دور ہونے پر نہیں آتی بلکہ کسی بھی لمحے جب ماضی یاد آئے تو آ سکتی ہے۔ یادوں کا یہ بوجھ اتنا بھاری ہو جاتا ہے کہ لگتا ہے اس سے مر جائیں گے۔ اور یہ ہوم سِکنس بخار بھی پیدا کر سکتی ہے۔

ایک یادگار کیس جو جارج وتھالکس نے بیان کیا: ایک مریض کا ماضی اس کے لاشعور پر اس قدر قابض تھا کہ وہ بار بار بچپن کے واضح اور دہرائے جانے والے خواب دیکھتا تھا — کیپسیکم نے اس کا علاج کیا۔

شدید ہوم سِکنس کے ساتھ سرخ گال ہوں، نیند نہ آتی ہو اور گلے میں جلن ہو تو کیپسیکم بلا تکلف دیں۔ ہوم سِکنس کی وجہ سے بے خوابی کیپسیکم کی طا ِقت ور علامت ہے۔

موڈ — ہنسی اور غصہ ساتھ ساتھ

کیپسیکم کا مزاج ایک جگہ نہیں رہتا۔ ایک لمحے میں ہنسی مذاق، گانا، خوش مزاجی۔ اگلے لمحے معمولی سی بات پر آگ بگولہ اور آنسو۔ کوئی چیز پیش کریں تو انکار کریں گے حالانکہ پہلے خود مانگ رہے تھے۔ دوسروں میں عیب نکالنا معمول ہے۔ کھانستے وقت غصہ آتا ہے۔ ہر بات کو برا مانتے ہیں اور فوراً ردِ عمل دیتے ہیں۔

جسمانی طور پر اناڑی — چلتے ہوئے چیزوں سے ٹکراتے ہیں، ٹھوکر لگتی ہے۔ سوچ میں الجھن ہوتی ہے، حساب میں غلطیاں۔

صبح اٹھتے وقت ڈر اور گھبراہٹ ہوتی ہے، چیخ نکل سکتی ہے — اور یہ ڈر سارا دن رہتا ہے۔

  کیپسیکم بچے 

موٹے بچے، سرخ چہرہ۔ ضدی اور اڑیل طبیعت۔ بغیر وجہ دنوں رو سکتے ہیں۔ جو کہو اس کا الٹ کریں گے۔ کیپسیکم کے بچے کیمومیلا اور سینا کی طرح ضدی ہو سکتے ہیں۔

اسکول میں جانے والی وہ بچیاں جو گھر کی یاد میں پڑھ نہیں پاتیں، بس گھر جانا چاہتی ہیں — ان کی دوا کیپسیکم ہے۔ صبح ڈر کر اٹھنا، چیخنا، اور یہ ڈر سارا دن رہنا — یہ بچوں میں کیپسیکم کی یادگار علامت ہے۔

جسمانی علامات

کھانسی

کیپسیکم کی کھانسی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ کھانستے وقت منہ سے بدبودار ہوا نکلتی ہے، تعفن کا احساس ہوتا ہے۔ یہ علامت اس دوا کی منفرد پہچان ہے۔

کھانسی کے ساتھ سر میں ایسا درد کہ کھوپڑی پھٹنے کا گمان ہو۔ کھانستے وقت مثانے میں، ٹانگوں میں اور کانوں میں بھی درد ہو سکتا ہے۔ رات کو سر تکیے پر رکھتے ہی کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔ تیز ہوا کے اثر سے کھانسی میں شدت ہو جاتی ہے، ٹھنڈے خشک موسم میں اور لیٹنے پر بڑھتی ہے۔

گلا

گلے میں جلن اور درد۔ نگلتے وقت کان میں درد ۔۔ یہ کیپسیکم کی خاص علامت ہے۔ سگریٹ اور شراب پینے والوں کے گلے میں یہ کیفیت عام ہے۔ آواز بھاری اور بھری ہوئی ہوتی ہے۔ ٹانسلائٹس اور گلے کے السر بھی ہو سکتے ہیں۔

کان اور ماسٹوائڈ

کان کے پیچھے کی ہڈی یعنی ماسٹوائڈ میں جلن اور درد — یہ کیپسیکم کا خاص میدان ہے۔ شدید ماسٹوائڈائٹس جس میں جلن نمایاں ہو، اس میں کیپسیکم تقریباً لازمی ضرورت ہوتی ہے۔ کان کے اندر سے گاڑھا پیلا پیپ، کان گرم اور پردہ پھٹنے کی نوبت۔ ان کیسز میں کیپسیکم دینی چاہئے۔

معدہ

معدہ کمزور، ایک ڈھیلی بوری کی مانند۔ کافی پینے کی خواہش لیکن کافی متلی پیدا کرتی ہے یا قے ہو جاتی ہے۔ فوری انرجی دینے والے شربت، کافی، کھانوں اور مصالحے دار چیزوں کی طلب ہوتی ہے۔ پاخانے کے بعد پیاس لگتی ہے ۔۔ یہ عجیب مگر بہت اہم علامت ہے۔

بواسیر

مقعد میں مرچ جیسی جلن — یہ کیپسیکم کی بواسیر کی سب سے واضح پہچان ہے۔ بواسیر اور سرخ چہرہ ایک ساتھ ہوں تو کیپسیکم اور ایسکولس دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

گرمی سردی

کیپسیکم سردی سے تکلیف اٹھاتا ہے اور گرمی سے آرام ملتا ہے۔ یہ اس دوا کی بنیادی کیفیت ہے۔ ہوا کا ذرا سا جھونکا برداشت نہیں، چاہے گرم ہو یا ٹھنڈا۔ باہر کھلی ہوا میں جانے سے ڈر لگتا ہے۔ تاہم جو علامت اندر سے جلن کی ہو جیسے ماسٹوائڈ میں، بواسیر میں، گلے میں  وہ جلن گرمی کے باوجود رہتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ تضاد ہے جو کیپسیکم کی خاصیت ہے — باہر سے سردی پسند، اندر جلن۔

مائنڈ میتھڈ کی نظر میں کیپسیکم

سہگل میتھڈ کہتا ہے کہ دوا کی روح ڈھونڈو، علامتوں کی فہرست نہیں۔ کیپسیکم کی روح کیا ہے؟

یہ وہ انسان ہے جو ماضی میں جیتا ہے اور حال سے بھاگتا ہے۔ اس کی پوری شخصیت اس ایک بات کے گرد گھومتی ہے۔ جسم کا موٹاپا، سستی اور ڈھیلاپن اس اندرونی کیفیت کا جسمانی اظہار ہے۔ نئے تجربے سے انکار، روٹین سے محبت، پرانے طریقوں سے چمٹے رہنا — یہ سب اسی ایک مرکز سے نکلتے ہیں۔

سہگل صاحب کی نظر میں کیپسیکم کا مریض اندر سے ڈرا ہوا ہے اور یہ ڈر اسے نئے تجربات، نئے لوگوں اور نئی ذمہ داریوں سے دور رکھتا ہے۔ ہوم سِکنس اس ڈر کا سب سے گہرا اظہار ہے۔

ملتی جلتی دوائیں

کیلکیریا کارب سے موٹاپا اور سستی ملتی ہے مگر کیلکیریا کارب، کیپسیکم کے مریض میں موٹاپا مزید بڑھا دیتی ہے۔

فاسفورک ایسڈ میں بھی بے حسی ہے مگر وہ گہری اور مختلف قسم کی ہے ۔۔ کیپسیکم میں موڈ کا اتار چڑھاؤ ہے جو فاسفورک ایسڈ میں نہیں۔

نیٹرم میور میں بھی ہوم سِکنس اور ماضی کا لگاؤ ہے مگر وہ مریض موٹا نہیں ہوتا اور چہرہ سرخ نہیں ہوتا۔ نیٹرم میور کو کیپسیکم کی کرانک دوا کہا جاتا ہے۔

برائیونیا میں بھی ہوم سِکنس ہے مگر برائیونیا کا مریض حرکت سے بچتا ہے جبکہ کیپسیکم کو حرکت سے آرام ملتا ہے۔

کیپسیکم ۔۔ سوال و جواب

سوال: کیپسیکم کس چیز سے بنتی ہے؟
جواب: کیپسیکم لال مرچ یعنی Cayenne Pepper سے تیار کردہ ہومیوپیتھک دوا ہے۔

سوال: کیپسیکم کا مریض کیسے پہچانا جاتا ہے؟
جواب: موٹا اور ڈھیلا جسم، سرخ چہرہ خاص طور پر ناک کی نوک اور گال، جسمانی سستی اور بے جانی ۔۔ یہ پہلی نظر میں نظر آنے والی علامات ہیں۔ ذہنی طور پر یہ شخص پرانی یادوں اور پرانے طریقوں سے چمٹا رہتا ہے، نئی بات اور نئے تجربے سے ڈرتا ہے۔

سوال: ہوم سِکنس کیا ہے اور کیپسیکم سے اس کا کیا تعلق ہے؟
جواب: ہوم سِکنس یعنی گھر کی شدید طلب اور ماضی سے گہرا جذباتی لگاؤ ۔۔ یہ کیپسیکم کی سب سے مشہور اور منفرد علامت ہے۔ کیپسیکم کا مریض جذباتی طور پر ماضی میں جیتا ہے۔ بچپن اور گزری زندگی کی یادیں اس پر اس قدر غالب ہوتی ہیں کہ دل ڈوبنے لگتا ہے۔ یہ ہوم سِکنس بخار بھی پیدا کر سکتی ہے۔

سوال: کیپسیکم کی کھانسی کی خاص علامت کیا ہے؟
جواب: کھانستے وقت منہ سے بدبودار ہوا نکلنا ۔۔ یہ کیپسیکم کی منفرد پہچان ہے۔ اس کے ساتھ کھانسنے پر سر میں شدید درد، مثانے میں اور کانوں میں درد بھی ہو سکتا ہے۔ رات کو تکیے پر سر رکھتے ہی کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔

سوال: کیا کیپسیکم صرف کھانسی کی دوا ہے؟
جواب: نہیں۔ کیپسیکم ایک گہری آئینی یعنی Constitutional دوا ہے۔ کھانسی اس کی ایک علامت ہے مگر اصل کام یہ دوا ذہنی اور جذباتی سطح پر کرتی ہے۔ ہوم سِکنس، موٹاپا، ماسٹوائڈ کا درد، گلے کی جلن اور بواسیر سب اس کے دائرے میں ہیں۔

سوال: ماسٹوائڈ میں کیپسیکم کب دی جائے؟
جواب: جب کان کے پیچھے کی ہڈی میں جلن اور درد ہو، کان سے گاڑھا پیلا پیپ نکلے اور جلن نمایاں ہو تو کیپسیکم یاد کریں۔ شدید ماسٹوائڈائٹس میں یہ دوا تقریباً لازمی ہو جاتی ہے۔

سوال: کیپسیکم اور کیلکیریا کارب میں فرق کیا ہے؟
جواب: دونوں میں موٹاپا اور سستی ملتی ہے مگر ایک اہم بات یاد رہے ۔۔ اگر کیپسیکم کے مریض کو کیلکیریا کارب دی جائے تو موٹاپا مزید بڑھ جاتا ہے۔ کیپسیکم میں سرخ چہرہ اور ہوم سِکنس نمایاں ہے جبکہ کیلکیریا کارب میں ٹھنڈا پسینہ اور ہڈیوں کی کمزوری نمایاں ہوتی ہے۔

سوال: کیپسیکم اور نیٹرم میور کا کیا تعلق ہے؟
جواب: نیٹرم میور کو کیپسیکم کی کرانک دوا کہا جاتا ہے۔ دونوں میں ماضی کا لگاؤ اور ہوم سِکنس ہے مگر نیٹرم میور کا مریض موٹا نہیں ہوتا اور چہرہ سرخ نہیں ہوتا۔

سوال: بچوں میں کیپسیکم کب دی جائے؟
جواب: موٹے بچے جو ضدی اور اڑیل ہوں، صبح ڈر کر اٹھیں اور وہ بچیاں جو اسکول میں گھر کی یاد میں پڑھ نہ پائیں ۔۔ ان میں کیپسیکم کام کرتی ہے۔

سوال: کیپسیکم گرمی پسند کرتی ہے یا سردی؟
جواب: کیپسیکم کا مریض سردی سے تکلیف اٹھاتا ہے اور گرمی سے آرام ملتا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بھی برداشت نہیں ہوتا۔ البتہ اندرونی جلن جیسے گلے میں، بواسیر میں یا ماسٹوائڈ میں وہ اپنی جگہ رہتی ہے۔ باہر سے سردی ناپسند، اندر سے جلن ۔۔ یہ کیپسیکم کا دلچسپ تضاد ہے۔

سوال: کیپسیکم کی بواسیر کیسی ہوتی ہے؟
جواب: مقعد میں مرچ جیسی شدید جلن ۔۔ یہ کیپسیکم کی بواسیر کی سب سے واضح پہچان ہے۔

سوال: کیا کیپسیکم نیند کی تکلیف میں کام کرتی ہے؟
جواب: ہاں۔ ہوم سِکنس اور اندرونی گھبراہٹ کی وجہ سے نیند متاثر ہوتی ہے۔ رات کو تقریباً دو بجے آنکھ کھلتی ہے اور پھر صبح پانچ بجے تک نیند نہیں آتی۔ صبح تھکا ہوا اٹھتا ہے۔

  موٹاپا اس ہومیوپیتھک دوا سے واضح کم ہو جاتا ہے؟ کیا کیپسیکم وزن کم کرنے یا موٹاپے کی ٹاپ دوا ہے؟

یہ بہت ضروری سوال ہے اور سیدھا جواب یہ ہے کہ نہیں ۔۔ کم از کم براہِ راست تو نہیں۔

کیپسیکم موٹاپا کم کرنے کی دوا نہیں ہے۔ جارج وتھالکس نے یہ نہیں لکھا کہ کیپسیکم دینے سے وزن کم ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ ضرور لکھا کہ یہ مریض موٹا ہوتا ہے اور یہ موٹاپا غذا کے غلط جذب ہونے کی وجہ سے ہے۔

ہومیوپیتھی کا اصول یہ ہے کہ جب صحیح دوا دی جائے تو جسم اپنا توازن خود بحال کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اگر کیپسیکم واقعی اس مریض کی دوا ہو تو غذا کا جذب بہتر ہو سکتا ہے، جسمانی قوت واپس آ سکتی ہے اور ذہنی سستی کم ہو سکتی ہے۔ یہ سب بالواسطہ طور پر وزن پر اثر ڈال سکتے ہیں مگر یہ ایک طویل عمل ہے۔

ایک اہم بات جو جارج وتھالکس نے لکھی وہ یاد رکھیں ۔۔۔ اگر کیپسیکم کے مریض کو کیلکیریا کارب دی جائے تو موٹاپا مزید بڑھ جاتا ہے۔ یعنی غلط دوا نقصان دے سکتی ہے۔

مختصر یہ کہ کیپسیکم موٹاپے کی علامتی دوا نہیں ہے ۔۔ یہ اس انسان کی دوا ہے جو اتفاق سے موٹا بھی ہے۔ موٹاپے کا براہ راست علاج اس دوا سے توقع رکھنا درست نہ ہوگا۔

حسین قیصرانی

سائکوتھراپسٹ اینڈ ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور

kaisrani.com 

Dr. Hussain Kaisrani Signature

Dr. Hussain Kaisrani

DHMS, BHMS, BSc, MSST (UK)

Psychotherapist & Homeopathic Consultant

Lahore, Pakistan

متعلقہ تحریریں Related Articles
Default image

نرگسیت شخصیت کا عارضہ: ہومیوپیتھک دوا علاج ۔ حسین قیصرانی

نرگسیت شخصیت کے عارضے (NPD) کا ہومیوپیتھک نقطہ نظر خود سے محبت کرنا تعلقات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے،...

Default image

Dr Hussain Kaisrani – A Psychotherapist and homeopathic doctor review

آپ کے کام اور اپنے مریضوں کے ساتھ آپ کی خلوص نیت کے لیے میری دلی دعائیں قبول فرمائیں۔ میں...

Mirgi k dore | epilepsy jhatke Fits seizures | Homeopathic medicine ilaj | Urdu Hindi | مرگی دورے Hussain Kaisrani

Mirgi k dore | epilepsy jhatke Fits seizures | Homeopathic medicine ilaj | Urdu Hindi | مرگی دورے Hussain Kaisrani

مرگی کے جھٹکے دورے ایپیلیپسی ۔ سیزرز ایپی لیپسی کا علاج ہومیوپیتھک دوا علاج ۔۔ حسین قیصرانی Mirgi k dore...