اٹھارہ ماہ پہلے ڈاکٹر حسین قیصرانی صاحب سے میں نے علاج شروع کیا۔ مشکل ترین دن تھے وہ۔ معدے کی مسلسل تکلیفیں تھیں جیسے تیزابیت معدے کی جلن، ایسڈ ریفلکس، بار بار ڈکاریں آنا، سانس کی تنگی، دل کی دھڑکن اچانک تیز ہو جانا۔ سوتے وقت یا جاگنے کے فوراً بعد ہارٹ اٹیک کا خوف میرے دل دماغ پر سوار رہتا۔
جسمانی مسائل کے ساتھ مجھے ڈپریشن اور اپنی صحت سے متعلق شدید انگزائٹی نے جیسے جکڑ رکھا تھا۔ کھانے پینے میں بے پناہ پرہیز۔ ذرا سی طبیعت خراب ہوتی تو ذہن میں منفی سوچیں وہم وسوسے عجیب خیال آنے لگتے، پینک اٹیک ہو جاتا تھا۔ ذہنی سکون بالکل ختم ہو چکا تھا۔ آرام سے بیٹھنا یا دفتر کے معاملات پر توجہ دینا ممکن نہ رہتا۔ہومیوپیتھک علاج سے پہلے میں نے ایلوپیتھک علاج بھی کروائے مگر فائدہ صرف وقتی رہا۔ ڈاکٹر قیصرانی صاحب کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف ایک ہومیوپیتھی ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ماہر سائیکالوجسٹ اور سائیکوتھراپسٹ بھی ہیں۔ وہ سکون سے سنتے سمجھتے ہیں۔ جسمانی ، نفسیاتی روحانی حساب سے جائزہ لیتے ہیں۔
الحمدللہ، علاج مکمل ہونے پر تمام تکلیفوں میں زبردست بہتری آ چکی ہے۔ اب یہ مسائل علاج سے پہلے کے مقابلے میں مشکل سے دس پندرہ فیصد ہی شاید باقی ہوں گے۔ اب میڈیسن فری ہو گیا ہوں اللہ کی مہربانی سے۔
ڈاکٹر حسین قیصرانی صاحب کی سب سے اہم بات ان کا خلوص ہے۔ واقعی محسوس ہوتا ہے کہ وہ دل سے مریض کی صحت یابی چاہتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں لگا کہ ان کی ترجیح صرف پیسہ ہے بلکہ ہمیشہ یہی محسوس ہوا کہ وہ سچے دل سے میری صحت کے لیے فکرمند ہیں۔
- تیزابیت (Acidity)
- معدے کی جلن (GERD)
- بار بار ڈکاریں آنا
- سانس کی تنگی
- دل کی دھڑکن کا اچانک تیز ہو جانا
- ہارٹ اٹیک کا خوف (سوتے یا جاگتے وقت)
نفسیاتی و ذہنی مسائل:
- ڈپریشن
- شدید ہیلتھ اینزائٹی
- کھانے پینے میں بے پناہ پرہیز
- منفی سوچیں، وہم و وسوسے
- پینک اٹیکس
- ذہنی سکون کا مکمل خاتمہ
- کام اور معمولات پر توجہ نہ دے پانا