اوہ میرے خدایا! ۲۰۲۰ کا سال میرے لیے ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا۔ اس سال نے میری زندگی کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔ مایوسی کے اتنی گہرائی میں ڈوب گیا تھا کہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا کہ مر جانا ہی اب میرے مسائل کا حل ہے۔
بے چینی، انگزائٹی، ڈپریشن، سٹریس، پینک اٹیک، وزن بہت کم ہو جانا، بالوں کا جھڑنا، خود اعتمادی بالکل ختم ہو جانا، شدید جسمانی درد، نیند تقریباً ختم، کھانے سے دل اچاٹ۔ قصہ مختصر یہ کہ میں بکھر چکا تھا۔ لگتا تھا جیسے موت کے کنارے پر کھڑا ہوں۔
پھر میری ایک کولیگ نے ہومیوپیتھک ڈاکٹر حسین قیصرانی سے تعارف کروایا۔ ڈاکٹر صاحب نے آن لائن میرا کیس لیا، میری تکلیفوں کو سمجھا۔ بہت ہمدردی سے پیش آئے، حوصلہ دیا اور پورے خلوص و توجہ سے میرے تمام مسائل کو سنا، سمجھا اور تجزیہ کیا۔
علاج دوا شروع کرنے کے چند ہی دنوں میں مجھے اپنے اندر تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ میں خود کو بہتر محسوس کرنے لگا۔ الحمدللہ پانچ چھ ماہ علاج کے بعد زندگی واپس روٹین میں آ گئی۔
میں دل کی گہرائیوں سے ڈاکٹر حسین قیصرانی کا شکرگزار ہوں۔ انہوں نے مجھے مایوسی کے دھند اندھیروں سے نکال کر روشنی کے راستے پر ڈال دیا۔