علاج اصل میں مریض کے صبر، ضبط اور معالج کی کوششوں کا امتحان ہوتا ہے۔ علاج میں ہتھیلی پر سرسوں جمانے، یعنی دو تین ماہ میں سب کچھ ٹھیک ہو جانے کی امید رکھنا نادانی کے سوا کچھ نہیں، خاص طور پر ہومیوپیتھک علاج میں جہاں مرض نہیں بلکہ مریض کا مجموعی مزاج اور فطری قوتِ شفا (Vital Force) زیرِ علاج ہوتی ہے۔
پروردگار ہم سب کو صحت اور سلامتی عطا فرمائے۔ آمین!!
خدا نخواستہ اگر آپ کو صحت کے مسائل درپیش ہوں تو بہت سوچ سمجھ کر طریقۂ علاج کا انتخاب کریں، پھر اسی طریقے کے ذمہ دار اور باصلاحیت معالج (چاہے وہ حکیم ہوں، روحانی معالج، ہومیوپیتھک ڈاکٹر یا ایلوپیتھک ڈاکٹر) کو چھان پھٹک کر منتخب کریں۔
جو معالج آپ کے مسائل توجہ سے سننے کا وقت اور حوصلہ نہ رکھتا ہو، وہ مسئلے کو سمجھے گا کیسے؟ اور جو سمجھے ہی نہیں، وہ علاج کیسے کرے گا؟
یاد رکھیں: بار بار ڈاکٹر تبدیل کرنے سے علاج کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے، خاص طور پر ہومیوپیتھی میں، اور ہر بار نئے سرے سے آغاز وقت اور رقم دونوں کا ضیاع ہے۔

