بعض مریض صرف جلدی بیماریوں کے ساتھ نہیں آتے، بلکہ اپنی پوری زندگی کی کہانی ساتھ لے کر آتے ہیں۔
مس زیڈ، عمر تقریباً چالیس سال، راولپنڈی سے تعلق، ایک تعلیمی ادارے میں انتظامی عہدے پر کام کرتی ہیں۔ بظاہر ایک مضبوط، محنتی، ذمہ دار اور منظم خاتون ہیں لیکن اندر ایک مسلسل جنگ جاری تھی۔
بچپن سے خوف، فوبیاز، احساسِ عدم تحفظ، لوگوں کے رویوں سے شدید متاثر ہونا، مسلسل جدوجہد، نفسیاتی جذباتی زخم ۔۔ اور ان سب کے ساتھ برسوں سے جاری جِلدی بیماریاں۔
ان کا کیس صرف سکن الرجی، سورائسیس کا کیس نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی محترمہ کی کہانی تھی جو برسوں سے اپنے اعصاب، جذبات، خوف اور جِلد کے ذریعے اپنی اندرونی تکلیف کا اظہار کر رہی تھی۔
کیس تو یہ سکن الرجی، سورائسس، ایگزیما، سر پر خارش، خشکی، بفہ، ڈینڈرف، بالوں کے گرنے کا تھا۔ مگر جیسے جیسے کیس کھلا، اصل کہانی سکن پر سپاٹ دانے خارش سے بہت آگے نکل گئی۔
آن لائن کنسلٹیشن کے ذریعے ڈسکشن ہوئی۔
بچپن سے ہی اسے اندھیرے کا شدید خوف تھا۔ جنات، بھوت پریت، آسیب اور غیر مرئی موجودگی کا احساس۔ رات کے وقت تنہائی اس کے لیے ایک اذیت بن جاتی تھی۔ کبھی نیند آتی بھی تو خوف کے ساتھ ٹوٹ جاتی۔
وقت کے ساتھ یہ خوف ڈیپریشن، انگزائٹی، غصہ اور پینک اٹیک میں تبدیل ہو گیا۔ ساتھ ہی جسم نے بھی ردِعمل دینا شروع کر دیا۔ جِلد پر سپاٹ دھبے، دانے، خارش، ایکزیما اور سورائسیس ظاہر ہونے لگے، الرجیز بڑھنے لگیں۔ سٹریس کے ساتھ علامات مزید شدت اختیار کرتی گئیں۔
یہ جذباتی سٹریس جسم کو کمزور کو کرتا گیا، سانس کی رکاوٹ یعنی دم گھٹنے کی سی کیفیت پیدا ہونا شروع ہو گئی۔
کیس کو ریپرٹرائز کیا گیا جس میں مندرجہ ذیل ہومیوپیتھی روبرک کو اہمیت دی گئی۔
Rubrics (MS Z Case Totality – Psoriasis, Eczema, Fear, Anxiety, Panic Attack Case)
Mind
Fear – darkness
Fear – alone, being
Fear – ghosts, spirits, jinns
Delusion – someone is near / presence
Anxiety – night
Anxiety – with skin complaints
Restlessness – night
Weeping easily
Sensitive – criticism
Ailments from – disappointment / betrayal
Anger – contradiction, from
Perfectionism / fastidiousness
Confidence – want of self-confidence
Panic attacks
Skin
Eruptions – eczema
Eruptions – psoriasis
Eruptions – itching
Eruptions – allergic
Eruptions – mental stress, from
Itching – scratching ameliorates
Eruptions – weather change aggravates
Eruptions – seasonal aggravation
Head
Hair – falling
Dandruff
Itching – scalp
Perspiration – scalp
General
Food – allergies
Food – peanuts – aggravates
Spices – aggravate (chili / hot food)
Weather – change – aggravation
Stress – aggravates skin conditions
Mental exertion – aggravates eruptions
Key Clinical Totality
Fear of darkness + fear of supernatural presence
Chronic eczema + psoriasis
Allergic constitution
Emotional hypersensitivity
Stress–skin correlation
Panic attacks + anxiety
Perfectionist + responsible nature with emotional suppression
Key Remedy Confirming Rubric Cluster
Sanicula Aqua (clinical matching cluster)
- Mind – Fear – darkness – alone
- Mind – Delusion – someone is near
- Skin – Eruptions – eczema / psoriasis
- Head – Dandruff + itching
- General – Allergic tendency
- Mind – Nervous sensitivity + irritability
Repertorization Summary (Clinical Weight)
Strongest Totality:
- Fear of darkness + fear of ghosts
- Chronic eczema + psoriasis
- Allergic constitution
- Emotional sensitivity + betrayal history
- Perfectionist + responsible personality
- Stress aggravation of skin
- Panic attacks + anxiety
کیس کا تجزیہ ۔ ہومیوپیتھک دوا علاج (ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)
سب سے پہلے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کیس صرف جلدی بیماریوں یعنی سورائسیس اور ایگزیما کا نہیں تھا۔ اگر دیکھا جائے تو مریضہ جلد کی شکایات، الرجی اور سر کے مسائل لے کر آئیں، لیکن جیسے جیسے کیس کھلتا گیا تو واضح ہوا کہ اصل مسئلہ ایک گہری اندرونی کیفیت ہے جس میں خوف، عدم تحفظ اور طویل عرصے کی ذہنی تھکن شامل تھی۔
ہومیوپیتھک پریکٹس میں ایسے کیسز بار بار سامنے آتے ہیں جہاں جسمانی علامات صرف ایک اظہار ہوتی ہیں۔ اصل بیماری انسان کے اندر موجود کوئی خاص جذباتی کیفیت ہوتی ہے۔ اس کیس میں بھی یہی صورت حال تھی۔ مریضہ میں بچپن سے ہی اندھیرے کا شدید خوف، جنات اور غیر مرئی موجودگی کا احساس، تنہائی میں گھبراہٹ اور رات کے وقت بڑھنے والی بے چینی ایک مستقل پیٹرن کے طور پر موجود تھا۔
یہ کیفیت آہستہ آہستہ اینگزائٹی اور پینک اٹیک میں تبدیل ہو گئی۔ جب ذہنی دباؤ بڑھتا تو جسم بھی ردعمل دیتا تھا۔ جِلدی بیماریاں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی تھیں۔ خارش بڑھ جاتی اور الرجی کے دورے شدید ہو جاتے تھے۔ یہ ایک واضح سائیکوسومیٹک کنیکشن تھا جو بار بار سامنے آتا رہتا تھا۔
مزاجی طور پر مریضہ ایک انتہائی ذمہ دار، پرفیکشنسٹ اور محنتی شخصیت رکھتی تھیں۔ ہر کام کو سسٹم اور ترتیب کے ساتھ کرنا ان کی عادت تھی۔ اسی مزاج کا ایک دوسرا پہلو یہ تھا کہ وہ لوگوں کو “نہ” نہیں کہہ پاتی تھیں۔ نتیجتاً لوگ ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ بار بار اعتماد ٹوٹنے کے تجربات نے ان کے اندر انگزائٹی اور انسیکیورٹی کو مزید بڑھا دیا۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسی کرانک سٹیٹ بنا رہے تھے جس میں جِلدی بیماریاں، اینزائٹی، پینک اٹیک ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے لئے صرف ڈائیگنوسس کافی نہیں ہوتا بلکہ مکمل کیس یعنی ٹوٹیلٹی کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔
علاج کے شروع میں نکس وامیکا دی گئی تاکہ اعصابی دباؤ، ذہنی تھکن اور سابقہ ایلوپیتھک ادویات کے اثرات کو توازن میں لایا جا سکے۔ اس کے بعد میڈورینم استعمال کیا گیا تاکہ گہری میازمی سطح پر موجود خوف، الرجک رجحان اور شدید جذباتی اتار چڑھاؤ کو ایڈریس کیا جا سکے۔
اس کے بعد بنیادی مزاجی دوا کے طور پر سینی کیولا ایکوا کو منتخب کیا گیا۔ اس دوا کی کلاسیکل تصویر میں وہ مریض آتے ہیں جن میں کرانک سکن ڈس آرڈرز، نروس حساسیت، الرجک کانسٹیٹیوشن، ایموشنل انسیکیورٹی اور اینگزائٹی ایک ساتھ موجود ہوں۔ اس کیس میں یہ تمام پہلو واضح طور پر موجود تھے۔
اگر ہومیوپیتھک ریپرٹری اور وتھالکس کمپاس کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کیس میں مائنڈ کے روبریکس جیسے خوف اندھیرے کا، خوف اکیلے رہنے کا، جنات یا غیر مرئی موجودگی کا وہم، رات میں بے چینی، اور پینک اٹیک واضح طور پر نمایاں تھے۔ اسی طرح سکن کے روبریکس میں ایگزیما، سورائسیس، خارش، الرجی اور سٹریس سے بڑھنے والی علامات بار بار سامنے آ رہی تھیں۔
جب علامات، مزاج، اظہار اور میازم ایک ہی سمت میں اشارہ کر رہے ہوں اور معالج کو صحیح سمجھ بوجھ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق حاصل ہو جائے تو پھر علاج کے نتائج نہ صرف واضح بلکہ دیرپا اور دور رَس بھی ہوتے ہیں۔
الحمدللہ اس کیس میں بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی۔ چند مہینوں کے اندر مریضہ کی ذہنی کیفیت میں واضح تبدیلی آئی۔ دل و دماغ پر چھایا مسلسل رہنے والا خوف اور یہ احساس کہ کچھ ہونے والا ہے کم ہونا شروع ہو گیا۔ تنہائی اور اندھیرے کا ڈر بھی مدھم پڑنے لگا اور پینک اٹیک میں واضح کمی آ گئی۔
سکن کے مسائل بھی آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگے۔ سورائسیس اور ایگزیما میں واضح کمی آئی اور الرجی کی شدت کنٹرول ہوتی گئی۔ سب سے اہم تبدیلی مریضہ کے مجموعی رویے اور زندگی کے انداز میں آئی۔ وہ دوبارہ اپنی روٹین کی طرف واپس آئیں۔ زندگی میں ایک طرح کی روانی بحال ہو گئی۔
مریضہ کے مطابق وہ مسائل جو پہلے بہت بڑے اور ناقابل برداشت لگتے تھے، علاج کے ساتھ ساتھ میرے لئے عام بات ہوتی چلی گئی۔ اندھیرے کا خوف جو برسوں سے ساتھ تھا وہ بھی کمزور پڑ کر آخر کار تقریباً ختم ہو گیا۔
یہ کیس اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب مسائل پرانے ہوں اور عام کریموں دواؤں سے ٹھیک نہ ہو رہے ہوں تو ایسی صورت میں جذباتی، نفسیاتی مسائل (ڈر، خوف، وہم وسوسے، غم پریشانی، حسد، غصہ، ناکامی، دکھ دھوکہ، ریگریٹ، موڈ مزاج وغیرہ) کو بھی سمجھ کر علاج کرنا چاہئے۔ ایسے مسائل موجود ہوں تو علاج صرف سکن تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انسان کی مجموعی زندگی پر ہونا ضروری ہوتا ہے۔
نکس وامیکا – ابتدائی طور پر دی گئی۔
میڈورائینم – مہنیہ میں ایک بار
سینی کولا ایکوا ۔ حسبِ ضرورت دہرائی گئی کہ یہی مریضہ کی اصل دوائی تھی۔
اس کیس میں نہ صرف جسمانی علامات بہتر ہوئیں بلکہ ایک گہرا اندرونی خوف بھی ختم ہوا جو برسوں سے مریضہ کی زندگی پر اثر انداز تھا۔
اور یہی ہومیوپیتھی علاج کا اصل مقصد ہے — صرف بیماری کا علاج نہیں بلکہ انسان کی مکمل بحالی۔
یہ کیس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اکثر اوقات بیماری جِلد پر نہیں ہوتی، بلکہ انسان کے اندر ہوتی ہے۔ اور جب صحیح دوا مل جائے تو صرف جسم نہیں، پوری زندگی بدل سکتی ہے۔
علاج مکمل ہونے پر مریضہ کا فیڈبیک
Dr. Hussain Kaisrani Sb, Aoa,
Main bht behter feel kr rahi hn. Lagta hai keh mera ilaj Mukamal ho gia hai. Main dil say shukriya ada krna chahti hn k aik azaab tha mujh pr andhairy aur Jin bhoot ka khauf jo ab khatum ho gaya hai.
Aap tu jaanty hain jin halaat say guzar rahi hn un main meri kiya halaat bunti thi, ghussa rona dhona,depression, anxiety, panic attacks aur psoriasis.
Magar shukar hai din ka ghussa aur raat ka durr, dono he control main a gaye hain. Bachpun say he andhairay ka khauf, jin bhoot ki kahaniyan sun sun kr aisa chimta hua tha k andhairay main qadam rakhty aisa lagta k dil bahir a jaye ga mera.
Shaadi hui, husband UAE chalay gaye aur main susraal main jub akaili reh gayi tu aik azaab tha, main raat ko so nahi paati aur saari saari raat jaagti thi, so bhi jaati tu neend main dur jaati thi.
Magar ab tu main nay bilkul ain new jaga pr bilkul akaily toofan aandhi k mosum main akaily 2 months guzaar liye, AlhumdulilAllah!
Main nay aap say zikar kiya tha k main logon ko pehchaan nahi paati, magar is baar aisa nahi tha, meri sixth sense alert thi aur main mentally tayar thi is baar, bulky mujhy wahan say aaty huy feel ho gaya tha decision mera khilaf ho chuka hai. Aur main chutti pr aanay say pehly apni hard drive jis main meri saalon ki mehnat hai apnay saath lay kr ayi thi, main is baar hr trah k halaat k liye pehlay say tayar thi,
Psoriasis eczema skin allergy bilkul clear ho gayi hai, bus do chaar spots hain, peanut khany say is baar masla nahi hua bus dadar mirch say itching abhi hoti hai, magar bht bht behter hn pehlay say is maamly main bhi.
Head scalp pr abhi itching rehti hai magar wo main apna hair oil jo bnati hn us say manage kr ln gi in sha Allah. Thanks
.
