—————
ایک آدمی فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے گھر واپس آیا۔ ناشتے کی میز پر بیوی نے اُس سے پوچھا:
“تم نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ اتنا عرصہ گھر سے باہر رہے اور ڈھیر سارا پیسہ خرچ کیا؛ اِس فلسفہ کا کوئی فائدہ تو ہمیں بتاو”۔
شوہر نے سامنے رکھے انڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“فلسفے کے ذریعے مَیں اِس انڈے کو ایک کی بجائے دو ثابت کر سکتا ہوں”۔
بیوی نے انڈے کو منہ میں رکھتے ہوئے کہا: “جو دوسرا انڈہ تم اپنے فلسفے سے ثابت کرو گے وہ خود کھا لینا”۔
—————
“فلسفی” بحث مَیں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں
ایسے مزاج کے لوگوں کی اکثر بیماریوں کے لئے کہ جو “فضول اور بے عقلی” کی بات کو برداشت نہ کر سکیں بالعموم ہومیوپیتھک دوا اناکارڈیم ANACARDIUM ORIENTALE مفید ثابت ہوتی ہے۔کلاسیکل ہومیوپیتھی میں مریض کے مزاج کو سمجھ کر دوا دینے کو CONSTITUTIONAL TREATMENT کہتے ہیں۔ اِس طرح جو دوا دی جاتی ہے وہ مریض کے تمام مسائل اور امراض کو محیط ہوتی ہے۔
حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور پاکستان – فون 03002000210۔