showcase demo picture

پلسٹیلا مزاج کے بچے کیسے ہوتے ہیں؟

ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ
پلسٹیلا (Pulstilla) اگرچہ صنف نازک کی دوا سمجھی جاتی ہے تاہم جہاں تک بچوں کا معاملہ ہے اس میں دونوں طرح کے بچے شامل ہوتے ہیں یعنی لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی۔ لیکن سنِِ بلوغت کو پہنچنے سے پہلے پہلے اکثر لڑکے پلسٹیلا کے دائرہ کار سے باہر نکل کر دوسری مختلف مزاجی دواؤں میں چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لڑکے جو شروع میں گوری رنگت کے ہوتے ہیں بتدریج گندمی رنگ اختیار کر جاتے ہیں۔ پلسٹیلا بچے نہایت جذباتی، معصوم اور ہمدردی کے بھوکے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی ایسے بچے کو دیکھیں جو بڑی شرافت سے قدرے ڈرا سہما والدین کے ساتھ چمٹ کر لگا ہوا ہو تو آپ کو گمان کرنا چاہیے کہ یہ پلسٹیلا (Pulsatilla) ہو سکتا ہے۔ یہ بچے دوسروں کی قربت اور ہمدردی کے بھوکے ہوتے ہیں، روتے ہوئے بچے کو اٹھائیں اور سینے سے لگائیں تو ساتھ ہی بچہ چپ ہو جاتا ہے۔ یہ پلساٹیلا (Pulsatilla) بچے کی کلیدی علامت ہے۔
ڈاکٹر کے ویٹنگ روم میں اگر مختلف چیزیں مثلاً کتابیں کھلونے وغیرہ بھی پڑے ہوں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے باوجود بچہ آسانی سے والدین سے جدا ہو کر کھلونوں سے کھیلنے کی جرات نہیں کرتا۔ کسی محفل میں اگر آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سارے بچے کمرے کے فرش پر کھلونوں سے کھیل رہے ہیں لیکن ایک بچہ ماں کی گود نہیں چھوڑ رہا تو یہ پلسٹیلا ہو گا یا ہو گی۔ بلکہ یہ جتنا زیادہ بیمار ہو گا اتنا ہی والدین کے سینے سے چمٹا ہو گا، یا سکڑ کر گود میں بیٹھا ہو گا۔ جوں ہی ماں اسے ٹھا کر کمرے میں داخل ہوتی ہے ڈاکٹر کو دیکھتے ہی یہ بچہ مزید مضبوطی سے ماں کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ سلیشیا، سینی کیولا، انٹم کروڈم، کیموملا، ٹیوبرکلونیم اور سائنا ایسے بچے ہوتے ہیں جو ڈاکٹر کے ساتھ بڑے نان کواپریٹو ہوتے ہیں۔
یہ بچہ والدین سے دور ہو کر خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ اگر یہ بچہ کچن میں ماں کے پاس فرش پر بیٹھا ہوا ہے اور ماں کھانا پکا رہی ہے، اب اگر اس کی ماں برتن لینے کے لئے کھڑی ہوتی ہیں تو یہ اسی لمحہ رو کر ماں کی طرف جھپٹے گا اسے یہ خوف ہوتا ہے کہ ماں اسے چھوڑ کر جا رہی ہے۔ پلسٹیلا بچہ جب روتا ہے تو آنسوؤں کی جھڑی سی لگ جاتی ہے۔ ماں کے ساتھ سارا دن یہ ڈرامہ لگا رہتا ہے۔ ادھر ماں کسی کام کرنے کو ذرا دور ہوئی ادھر رونا دھونا شروع ہو گیا۔ ماں گھر کا کوئی کام تسلی سے نہیں کر سکتی، یہ ماں کے ساتھ ہر وقت TOE.CHAIN رہتا ہے۔ آرسینکم بچے بھی ماں کے ساتھ چمٹا رہنا پسند کرتے ہیں ۔آرسنکم بچے کو ماں جب گود سے نکال کر بستر پر لٹانا چاہتی ہے تو یہ بچے ماں کو خوب زور سے پکڑ لیتے ہیں اور نہیں چھوڑتے، ماں کو زبردستی اپنے آپ کو چھڑانا پڑتا ہے اس دوران بچے خوب چیخ و پکار کرتے ہیں۔ ریپرٹری کی زبان میں ایسے بچوں کو Clinging child کہا جاتا ہے۔ پلسٹیلا بچہ آپ کی آغوش میں آ کر موم ہو جاتا ہے، بڑی راحت محسوس کرتاہے لیکن جب آپ اسے گود سے نکال کر بستر پر لٹانا چاہتے ہیں تو بڑی اداس نظروں سے آپ کی طرف دیکھتا ہے اور یہ نظریں کہہ رہی ہوتی ہیں، ’’مجھے واپس گود لے لیں، پلیز، نیچے نہ اتاریں‘‘۔ آرسنک ذہنی عدم تحفظ کی جب کہ پلسٹیلا جذباتی عدم تحفظ کی دوا ہے۔
اس کا موڈ یوں بدلتا ہے کہ چہرے پر ابھی آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوتی ہے، رخسار ابھی خشک نہیں ہوتے کہ پیار کرنے پر ہنسنا بھی شروع کر دیتا ہے۔ پلسٹیلا بچے کو جب بھاگتے دوڑتے، کھیل کود کے دوران چوٹ لگ جائے تو آپ اس روتے بچے کو فوراً گود لے لیں، پیار کریں تو فوراً اپنی تکلیف بھول جاتے ہیں اور چپ ہو جاتے ہیں۔ یہ بچے ہر معاملہ کو رات گئی بات گئی کی طرح بھول جاتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ نیٹرم میور سے یکسر مختلف ہیں۔ نظر انداز کئے جانے کا خوف اس بچے میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ یہ پلسٹیلا کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اور یہ پلسٹیلا / پلساٹیلا کی کلاسیکل کلیدی علامت ہے۔ یہاں تک کہ اگر والدین اس کا خیال رکھنا چھوڑ دیں تو اسے بخار بھی ہو سکتا ہے۔ یا مثلاً پاپا نے کہہ دیا کہ آج میں آپ سے ناراض ہوں میں آپ سے بات نہیں کرتا اور واقعی اس دن اگر اس بچے سے بات چیت کرنا چھوڑ دیں تو ممکن ہے کہ شام تک بچے کو بخار ہو جائے اس بچے کو ہر لمحہ پیار اور محبت کی یقین دھانی کرانا پڑتی ہے۔ پلسٹیلا میں یہ بنیادی کمزوری ہے کہ یہ نظر انداز کئے جانے کے خیال سے بہت خوف کھاتا ہے اوریہ احساس بچے کی نفسیات میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔اگر والدین گھر میں آئے مہمانوں کو زیادہ وقت دیں تب بھی یہ بچے نظرانداز کئے جانے کے احساس سے اَپ سیٹ ہو جاتے ہیں۔ بار بار کمرے میں آ کر کسی نہ کسی بہانے مداخلت کرتے رہیں گے۔ ڈے کیئر سنٹر میں رکھے جانے والے بچے اکثر پلسٹیلا / پلساٹیلا کے مریض ہوتے ہیں۔
ماں جب ڈاکٹر کوبچے کی بیماری کے بارے میں بتاتی ہے تو اس دوران یہ بچہ شرم و جھجک کی وجہ سے نیچے فرش پر نظریں گاڑھے رکھتا ہے۔ یہ بچہ اوّل تو ڈاکٹر کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کرتا ہے تاہم بار بار پوچھنے پر یا تو نفی یااثبات میں گردن ہلا دے گا یا نہایت دھیمی آواز میں جواب دے گا۔ایسے بچوں سے معالج جب بلا واسطہ سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرتا ہے تو پلسٹیلا بچوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ان کی بجائے ان کے ماں باپ جواب دیں۔ یا مثلاً آپ بچوں سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کو کہاں درد ہوتی ہے تو بچہ جواب دینے کی بجائے ماں کے کان میں سرگوشی سے کہے گا ’’پیٹ میں‘‘۔ ماں یہ جواب سن کر آگے ڈاکٹر کو بتائے گی۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بچے کو ہر سوال کا جواب دینے کے لئے بڑی طاقت لگانا پڑتی ہے۔ جیسے سلیشیا (Silicea) کو پاخانہ پر زور لگانا پڑتا ہے۔ یہ بچے یوں سمٹ سمٹا کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ ابھی انہیں بلوغت تک پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔
خود اعتمادی کے فقدان اور جھجک کے حوالے سے یہ لائیکوپوڈیم سے ملتی جلتی ہے۔ بڑی نرم خو دوا ہے۔ طبیعت میں سختی، درشتگی، جارحیت یا کمینہ پن نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ دوسروں پر انحصار بہت کرتی ہے۔ مارکیٹ جانا ہو، کسی تقریب میں جانا ہو لازمی اسے کوئی ساتھ لے جانے والا ہو۔ ایسے بچوں سے آپ اکثر سنیں گے، ’’میں نے فلاں جگہ جانا تھا، کوئی ساتھ جانے والا ہی نہیں‘‘۔
یہ بچہ جب کسی محفل یا تقریب میں جاتا ہے تو سلیشیا، لائیکوپوڈیم یا برائٹا کارب کی طرح جھجک کے مارے وہاں پر موجود بچوں میں آسانی سے گھل مل نہیں سکتا۔ دور سے دوسرے بچوں کو کھیلتا دیکھتا رہے گا تاوقتیکہ کوئی فاسفورس یا سلفر بچہ آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ نہ تھام لے اور اسے کھیل میں شامل کرلے۔ اور یوں یہ ماحول میں گھل مل جائے گا۔ یہ بچے گھر کے مانوس افراد سے کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کرتے خوب ہنستے کھیلتے ہیں۔ لیکن نئے ماحول میں آسانی سے فٹ نہیں ہوتے، البتہ اگر گھر میں کسی بات پر روٹھ جائیں تو چپ سادھ لیتے ہیں اور منہ بسورے رکھتے ہیں۔ یہ بچے سلفر، لائیکو، ٹیوبر وغیرہ کی طرح کھلم کھلا احتجاج کرنے کی بجائے روٹھ جانا زیادہ پسند کرتے ہیں کیونکہ ان میں لیڈر والی کوالٹی نہیں ہوتی۔ اگر دورانِ کھیل ٹیم لیڈر انہیں کھیلنے سے منع کر دیں، نکال باہر کریں تو چپ چاپ روٹھ کر الگ ہو جائیں گے اور رونا بسورنا شروع کر دیں گے۔ جبکہ آخر الذکر ادویات یا تو مسئلے کا حل تلاش کرتی ہیں یا لیڈر سے جھگڑا کر لیتی ہیں۔ سٹیفی کی مانند اپنے حق کے لئے لڑنا پلسٹیلا کے لئے بھی ممکن نہیں ہوتا۔
پلسٹیلا بچہ اکثر اپنے والدین سے سوال کرتا ہے کہ پاپا آپ کو کون اچھا لگتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ والدین سب بچوں میں صرف اسی کے بارے میں کہیں کہ وہ انہیں بہت اچھا لگتا ہے ۔پیار اور محبت کے جواب میں پیار اور محبت کا شدید طلبگار ہوتا ہے۔ رات والدین کے پاس لیٹے ہوئے اکثر انہیں بوسہ دیتا رہے گا۔بڑا اطاعت شعار اور فرمانبردار ہوتا ہے۔
ایسے بچوں کی ماں اپنے بچے کے بارے میں بڑے فخر سے ڈاکٹر کو بتاتی ہے کہ اس کا بچہ (یا بچی) بڑا تابع فرمان ہے اور گھر کے کام کاج میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ اور جو کہا جائے فوراً مان جاتا ہے۔ کام کاج کے دوران یہ بچہ یقین دہانی کی خاطر بار بار سوال کرتا رہتا ہے۔ مثلاً، امی دیکھیں میں نے یہ تصویر ٹھیک بنائی ہے؟ کپڑے صحیح استری کئے ہیں، برتن ٹھیک دھوئے ہیں، میں نے سر کے بالوں کی کنگھی ٹھیک طرح سے کی ہے، دیکھیں یہ دوپٹہ مجھ پر کیسا لگ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
لباس کی تراش خراش کے حوالے سے یہ نیٹرم میور کی طرح خوش لباس ہوتا ہے تاہم ایک فرق جو اسے نیٹرم میور سے جدا کرتا ہے وہ یہ کہ نیٹرم میور کے لباس کے انتخاب میں سنجیدگی جبکہ پلساٹیلا (Pulsatilla) کے لباس میں بچگانہ پن نظر آتا ہے۔
پلسٹیلا صاف ستھرا رہنا اور کمرے کی صفائی ستھرائی دوسروں سے شاباش اور پیار محبت کے بول حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے جبکہ نیٹرم میور کے اندر سے کوئی شے اسے صفائی ستھرائی پر مجبور کرتی ہے۔ پلسٹیلا کی تعریف کریں تو خوشی سے پھول جاتی ہے، نیٹرم میور کی تعریف کریں تو مزید عجز و انکساری یا اپنی کجی کا اظہار کرنے لگتی ہے، جبکہ فاسفورس سب سے نمایاں اور ہر دلعزیز نظر آنے کی خاطر ہر طرح کے جتن کرتی ہے۔

قرب کی خاطر رات کو یہ بچے والدین کے پاس سونا پسند کرتے ہیں کئی بار رات کو جب انہیں جاگ آتی ہے تو اُٹھ کر اپنے والدین کے پاس جا لیٹتے ہیں اور یہ ساتھ لپٹنے کا رویہ کافی بڑی عمر تک رہتا ہے۔ پلسٹیلا اور فاسفورس جب کسی سے بغلگیر ہوتے ہیں تو خود سپردگی کے عالم میں خوب گھٹ کر ملتے ہیں۔ پنجابی میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ خوب جپھا مار کر ملتے ہیں۔
ان کو ہمیشہ اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ انہیں اس بھری دنیا میں کہیں اکیلا نہ چھوڑ دیا جائے۔ انہیں اس وقت بڑا جذباتی جھٹکا لگتا ہے جب اس گھر میں کوئی نیا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں چونکہ فطری طور پر والدین کی توجہ نومولود کی طرف ہو جاتی ہے جسے پلسٹیلا بچہ اپنے حقوق کی پامالی اور اپنے پیار محبت کے حق پر ڈاکہ سمجھتا ہے۔ اس کے دل میں حسد، چڑچڑاپن اور کئی جسمانی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں اور یوں چھوٹے بہن بھائی کے ساتھ اس کا حسد سامنے آتا ہے۔ مثلاً اگر ماں بچے کا پمپر تبدیل کرنا چاہتی ہے تو بڑے صاحب اپنی کوئی فرمائش جاری کر دیں گے تاکہ ماں پمپر بدلنے کے بجائے اس کی طرف متوجہ ہو جائے، چھوٹا فیڈر کے ساتھ دودھ پی رہا ہو تو یہ دوبارہ سے اپنے لئے فیڈر کی فرمائش کر دیں گے اگر والدہ توجہ کرنے میں ذرا سی دیر کردے تو فوراً آنسوؤں کی لڑی لگ جاتی ہے۔ یوں یہ حسد اتنا بڑھتا ہے کہ بسا اوقات چھوٹے کو ناجائز طور پر تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مثلاً چھوٹے کے کسی کھلونے پر زبردستی قبضہ کرکے دعویٰ کرنا کہ یہ ان کا ہے۔ یا مثلاً یہ ضد کرنا کہ میں نے بھی اسی ٖفیڈر سے دودھ پینا ہے جس میں چھوٹے میاں پیتے ہیں۔ یہاں تک کہ رات بستر پر ان کا پیشاب بھی نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر یہ سمجھ بیٹھیں کہ دوسرے بہن بھائیوں کے کھلونے ان سے بہتر ہیں تو حسد میں آکر ان کے کھلونے توڑ دیتے ہیں۔ یا ڈائننگ ٹیبل پر والدین کسی دوسرے بچے پر زیادہ توجہ کر رہے ہوں تو یہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں گے اور روٹھ جائیں گے۔ تجربہ کار والدین سمجھ جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کیا ہے۔
جہاں تک بغض اور حسد کا معاملہ ہے، پلسٹیلا اپنے سے بعد آنے والی بہن بھائیوں سے کرتا ہے؛ اپنے سے بڑوں سے نہیں کرتا کیونکہ اس نے اپنا ہوش سنبھالنے پر محبت کا جو انداز دیکھا ہوتا ہے اس میں صرف بعد میں آنے والے بہن بھائی ہی (اس کے خیال میں) اس کی محبت کا حصہ چراتے ہیں۔ دوسروں کی محبت اور چاہت حاصل کرنے کی خاطر یہ بڑی خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ بچے دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہر وہ کام کرنا پسند کرتے ہیں جو دوسروں کو پسند ہو۔ یہ بچے والدہ کی توجہ حاصل کرنے کی خاطر چھوٹی عمر کے بچوں کی طرح کی حرکات شروع کر دیتے ہیں۔
یہ بچے گھر میں نئے آنے بہن بھائی کی آمد پر جسمانی عوارض مثلاً دمہ، برونکائٹس، بخار وغیرہ کا شکار ہو جاتے ہیں مثلاً پلسٹیلا بچے کی ماں ڈاکٹر کو بتاتی ہے جس دن سے اس کی بہن پیدا ہوئی ہے تب سے اسے فلاں شکایت ہے۔ کسی بھی موجودہ کیفیت یا ماحول سے نئی صورتِ حال میں جانا ان کے لئے بڑا مشکل ہوتا ہے مثلاً اس کے لئے اپنا بستر یا کمرہ شفٹ کرنا، ماں کا دودھ چھڑانا، فیڈر چھڑانا، سکول بھیجنا، سنِ بلوغت کو پہنچنا وغیرہ۔ یہ لوگ جب کسی کے گھر مہمان جائیں تو انہیں نئے بستر پر نیند نہیں آتی۔ ایسے کئی بچے جب سنِ بلوغت کو پہنچتے ہیں تو بستر پرپیشاب کرنا یا انگوٹھا چوسنا شروع کر دیتے ہیں۔
اداسی اور صدمے کی کیفیت میں یسے بچوں (اور بڑوں میں بھی) کی کیفیت ناقابلِ فہم ہوتی ہے۔ یہ بھرے گھر میں اپنے آپ کو تنہا تنہا محسوس کرتے ہیں، خاموش خاموش، والدین پوچھتے ہیں کیا ہوا؟ کچھ نہیں ۔۔۔۔ کیا کوئی مسئلہ ہے؟ نہیں ۔۔۔۔ درد ہو رہی ہے؟ نہیں ۔۔۔۔ سپاٹ لہجے میں جوب ملتا ہے۔ ایسے میں یہ اپنے چاہنے والوں سے بالکل بے تعلق ہو جاتے ہیں۔
نیٹرم میور اور پلسٹیلا کو اس حالت میں ہمدردی جتانے پر یہ فرق ہے کہ نیٹرم میور ہمدردی اور دلاسے کے بول سن کر مزید اپ سیٹ ہو جاتا ہے جبکہ پلسٹیلا اس کا کچھ اثر نہیں لیتی۔ یہی وجہ ہے کہ ریپرٹری میں RUBRIC: CONSOLUTION Agg میں
نیٹرم میور ملتی ہے جبکہ MIND:INCONLABLE میں پلسٹیلا ملتی ہے۔ کسی دوست عزیز کی جدائی میں اگر نیٹرم میور کام نہ کرے تو پلسٹیلا پر غور کر لینا چاہئے۔

گھر کا بڑا بچہ جب سکول جانے لگتا ہے تو چھوٹا (اگر پلسٹیلا ہے تو) اس جدائی کو بہت محسوس کرتا ہے۔ جب خود انہیں سکول جانا پڑتا ہے تو شروع کے دنوں میں بہت روتے ہیں پھر آہستہ آہستہ نئے ماحول سے مانوس ہو کر خوشی خوشی سکول جانا شروع کر دیتے ہیں اور اچھے دوست بنا لیتے ہیں لیکن جب دوست بنا لیتے ہیں تو پھر ان کی توجہ اور قربت چاہتے ہیں۔ ان سے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
پلسٹیلا بچے کی ماہانہ سکول رپورٹ تسلی بخش ہوتی ہے۔ یہ بچے اپنا ہوم ورک بھی نیٹرم میور کی طرح خوب مکمل کرتے ہیں البتہ ان بچوں سے ٹیچر کو شکایت رہتی ہے کہ یہ ساتھ بیٹھے کلاس فیلو سے باتیں بہت کرتے ہیں۔ ایسے بچے جنہیں سکول سے چھٹی ہونے پر ان کے والدین لینے آتے ہیں اگر کسی وجہ سے والدین چند منٹ بھی لیٹ ہو جائیں تو یہ چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ کلاس میں اگر یہ بچے محسوس کریں کہ ان کا دوست (یا سہیلی) ان کی بجائے کسی دوسرے کی طرف متوجہ ہے اور اسے نظر انداز کر رہا ہے تو اتنی سی بات ان کا موڈ آف کرنے کے لئے کافی ہے۔ اپنی محبت میں بہت خود غرض ہے کسی کا ’’شریکا‘‘ برداشت نہیں کر سکتی۔ اس دن چھٹی کر کے گھر میں داخل ہوتے ہی ان کی ماں بچے کی رونی صورت، سوجا ہوا چہرہ اور آنسو بھری آنکھیں دیکھ کر جان جائے گی کہ بچے کاموڈ آف ہے، پوچھنے پر ان کی زبان کھلنے سے پہلے آنسوؤں کی لڑی گرنی شروع ہو جائے گی۔ تاہم ان کا موڈ ٹھیک کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے، والدین اسے جی بھر کر پیار کریں یا اس کے کسی دوست کو گھر بلا لیں سب اچھا ہو جائے گا۔ یعنی رات گئی بات گئی۔
اس کے برعکس نیٹرم میور اپنے جذبات اورآنسوؤں کو حتی الامکان کنٹرول کئے رکھتے ہیں، بڑے ریزرو بچے ہوتے ہیں۔۔ پلسٹیلا کے ہاں جذبات کا دبایا جانا نہیں پایا جاتا۔ اس کی یہ صفت اسے سٹیفی، اگنیشیا اور نیٹرم میور سے جدا کرتی ہے۔ تاہم گھر میں والدین کی لڑائی یا ناچاقی کو نیٹرم میور کی طرح برداشت نہیں کرتی۔ نیٹرم میور والدین میں صلح صفائی کے لئے دلیل کا سہارا لیتی ہے جب کہ پلسٹیلا پیار اور جذبات کا۔ مثلاً ’’امی میری خاطرمان جائیں۔۔ ۔۔ ابو میری خاطر چپ ہو جائیں ۔۔۔۔ اس کا تکیہ کلام ہو گا‘‘۔ گھر میں دوسروں کے غصہ کا سامنا کرنے کی بجائے ادھر ادھر کھسک جانا پسند کرتی ہے۔
پلسٹیلا اور اگنیشیا کو اگر کھلونوں سے تشبیہ دی جائے تو پلسٹیلا روئی اور کاٹن کا بنا ہوا کھلونا ہے، نرم و نازک ڈھیلا ڈھالا، سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے۔ جبکہ اگنیشیا کی مثال کانچ کی ایسی گڑیا کی سی ہے جس پر لکھا ہو HAND WITH CARE۔اب ٹوٹی کہ ٹوٹی۔
صحت کی حالت میں یہ بچے بڑی خوش مزاج اور دوسروں کو خوشیاں بانٹنے والے ہوتے ہیں، محفل میں جی جان سے حصہ لیتے ہیں، بڑے سوشل ہوتے ہیں، چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش رکھنے والے بچے۔ اس صفت میں ان پر فاسفورس کا گمان ہوتا ہے۔
گھر میں اکیلے ہوں تو ریڈیو، ٹی وی آن کر دیتے ہیں تاکہ آواز تو آتی رہے جو احساسِ تنہائی کو کم کر سکے۔ دوستوں کو فون کر کے گپ شپ لگاتے رہتے ہیں۔
پلسٹیلا اور فاسفورس دونوں جذباتی ہیں لیکن دونوں میں ایک فرق ہے، پلسٹیلا کے جذبات اس کی ذات کے گرد گھومتے ہیں جبکہ فاسفورس کے جگر میں سارے جہاں کا درد ہوتا ہے۔ فاسفورس دوسروں کی ہمدردی میں اپنا دکھ بھول جاتا ہے۔ پلسٹیلا دوسروں کی ہمدردی کا بھوکا ہوتا ہے۔ چوبیس گھنٹے چاہے جانے کی خواہش رکھتا ہے (یا رکھتی ہے)۔ پلسٹیلا اپنے آپ کو ترجیح دیتی ہے لہٰذا اس میں حسد بھی پایا جاتا ہے مثلاً کھیل کے میدان میں بچے کھیل رہے ہوں پلسٹیلا اپنے پرس میں موجود ٹافیوں میں سے شاید ہی کسی دوست کو ایک آدھ ٹافی دے، اگر دے گی بھی تو بڑے’’اوکھے حال‘‘ سے لیکن فاسفورس دوستوں میں ٹافیاں بانٹنا شروع کرے تو شاید ہی اس کے پاس اپنے لئے بچیں۔ پلسٹیلا اپنی طرف کھینچتی ہے، فاسفورس کچے دھاگے سے کھنچا چلا آتا ہے۔ پلسٹیلا کی اس حرص و کنجوسی کی صفت کے لئے ریپرٹری Avarice کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ اور یہاں یہ آرسنک البم کے ہم پلہ ہے۔
پلسٹیلا اور اگنیشیا دونوں اپنے آپ کو جذباتی طور پر غیر محفوظ خیال کرتی ہیں اس لئے بار بار دوسروں سے پیار محبت کی یقین دھانی کراتی رہتی ہیں ’’تم مجھے چھوڑ کر تو نہیں چلے جاؤ گے‘‘۔ مارکیٹ یا گہما گہمی کی تقریب میں یہ بچے کسی صورت والدین سے دور ہونے کا رسک نہیں لیتے۔ انہیں یہ وہم اور خدشہ ہوتا ہے کہ وہ گم ہو جائیں گے زبردستی والدین کی انگلی پکڑ کر رکھیں گے ماں ایسے بچوں سے انگلی چھڑاتی ہے تو فوراً سے قمیض پکڑ لیتے ہیں۔ بچے ہوں یا بڑے ہمیشہ جسمانی لمس کی خواہش رکھتے ہیں یہ بچے والدین کی گود میں بیٹھے رہنے کا بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔
پلسٹیلا جب اندر سے خوش ہوتی ہے تو باہر سے بہت خوبصورت اور دلربا نظر آتی ہے ایسے میں اس کے اندر فاسفورس جیسی کشش پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا، “میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو زندگی کتنی خوبصورت ہے”
لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، حیا کی شوخیوں سے اٹھتے اٹھتے اس کی معصوم نظریں جھک جاتی ہیں۔ بڑے ہو کر پلسٹیلا اپنے نازو ادا کے اس ہتھیار کو بوقتِ ضرورت نہایت کامیابی سے استعمال کرنے کے فن سے آگاہ ہوتی ہیں۔ خوشی اورچاہے جانے کے عالم میں زندگی سے لطف اندوز ہونا خوب جانتی ہے۔
جھجک، بزدلی اور ڈر کے حوالے سے سلیشیا اور پلسٹیلا دونوں ایک جیسی ہیں؛ دونوں اجنبی لوگوں سے آسانی سے متعارف نہیں ہوتیں۔

پلسٹیلا، نیٹرم میور اور اگنیشیا بچے والدین سے اپنی ہر جائز اور ناجائز ضدیں منوا منوا کر بگڑ جاتے ہیں۔ ذاتی پسند ناپسند میں ذرا برابر تبدیلی بھی برداشت نہیں کرتے۔ ریپرٹری میں ایسے بچوں کو FUSSYاور CONSCIENTIOUS کا لفظ استعمال ہوا ہے اس حوالے سے یہ بچے نیٹرم میور، اگنیشیا اور آرسنکم کا مقابلہ کرتے ہیں۔
رونے دھونے سے پلسٹیلا کے دل و دماغ کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ ریپرٹری میں Rubric: Weepin Amel.ہے۔ اس میں پلسٹیلا نمایاں ہے۔ والدین سے ناراض ہونے پر پلسٹیلا بچہ اکثر روتے ہوئے ماں کی گود میں اپنے آپ کو گرانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ بچے بہت جلد کسی ایک کام سے اکتا جاتے ہیں، ذرا سی چوٹ لگنے پر لائیکوپوڈیم کی طرح رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ مثلاً بچے کا ایسا کان درد جس میں بچہ آنسوؤں کی جھڑی کے ساتھ دلدوز انداز میں روتا ہے اور ماں باپ کی شفقت اور قرب کا شدت سے خواہاں ہوتا ہے پلسٹیلا کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کے رونے پر نہ صرف والدین بلکہ پڑوسیوں کے دل بھی پسیج جاتے ہیں۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلسٹیلا پر دماغ کی بجائے جذبات کی حکمرانی ہوتی ہے۔ بعض دوائیں مثلاً اگنیشیا، لیکسس، فاسفورس، پلمبم، سٹیفی سیگریا اور نیٹرم میور بڑی جذباتی دوائیں ہیں۔ پلسٹیلا مصیبت، پریشانی یا جذباتی کشمکش کا شکار ہونے پر یہ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ سکتی۔ مثلاً ہوٹل میں مینو کا انتخاب کرنا ہو، کپڑے خریدنے ہوں، سلوانے ہوں، پہننے ہوں، سکول کا انتخاب، سکول میں مضامین کا انتخاب، کسی گیم میں حصہ لینا ہو، کہیں سفر پر جانا ہو، اس کے لئے فیصلہ کی گھڑی بہت مشکل ہوتی ہے بہت دیر کر دیتی ہے۔ ریپرٹری میں اس کی Rubric: Irresolution بنتی ہے۔
اس صفت کے حوالے سے مجھے منیر نیازی کی نظم یاد آ رہی ہے جو ہومیوییتھی پلسٹیلا پر فٹ بیٹھتی ہے۔

ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو حقیقت اَور تھی کچھ اس کا جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
پلسٹیلا کے لئے اوّل تو فیصلہ کرنا ہی مشکل ہوتا ہے لیکن اگر کرے تو اس پر قائم رہنا اس کے لئے مشکل تر ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ پلساٹیلا (Pulsatilla) کی شخصیت ہر معاملے میں تذبذب اور پس و پیش کی شکار رہتی ہے۔
کپڑوں کے انتخاب میں نیٹرم میور کو بھی مشکل پیش آتی ہے تاہم دونوں میں فرق یہ ہے نیٹرم میور (Natrum Muriaticum) اس لئے ڈریس پر ڈریس بدلتی ہے اور ایسے آئیڈیل لباس کی تلاش میں ہوتی ہے کہ کسی کو اس پر تنقید کرنے یا ہنسنے کا موقع نہ ملے۔ جبکہ پلسٹیلا کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ کوئی لباس اس پر جچ رہا ہے یا نہیں۔ بار بار دوسروں سے اس کی یقین دہانی چاہتی ہے۔
پلسٹیلا لڑکے اپنی قوتِ فیصلہ کی کمی کے سبب دوسرے لڑکوں کے مذاق کا نشانہ بنے رہتے ہیں اور بعض لڑکے لڑکیوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں ایسے بچے لڑکوں کے بجائے لڑکیوں کے ساتھ کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ جب دوسرے لڑکے انہیں چھیڑتے ہیں تو مردانہ وار مقابلہ کرنے کی بجائے دفاعی اور معذرت خو اہانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور رونے دھونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مثلاً پلسٹیلا بھائی اپنی ماں سے یوں شکایت کرے گا،’’امی دیکھیں چھوٹی نے مجھ سے کھلونا چھین لیا ہے‘‘۔ پلسٹیلا جن پر تکیہ کرتی ہے جب وہی پتے ہوا دینے لگتے ہیں تو اس کی ساری پریشانیاں عروج پر آ جاتی ہیں۔ بڑی حد تک دوسروں پر انحصار کرنے والی دوا ہے۔
ریپرٹری میں Rubric: Dependent to others میں پلسٹیلا تین گریڈ کی ہومیوپیتھک واحد دوا ہے۔
بعض پلسٹیلا بچوں میں غیر معمولی فعالیت پائی جاتی ہے تاہم یہ اس نوع کی دوسری دواؤں کی طرح توڑ پھوڑ نہیں کرتے۔ اپنی غیر معمولی فعالیت کے دوران بھی یہ اپنے والدین کے گردو پیش ہی رہتے ہیں۔’’ماما یہ دیکھیں‘‘ ان کا خاص تکیہ کلام ہوتا ہے۔ ٹیوبرکلونیم، میڈورینم، لائیکوپوڈیم (Lycopodium) کے برعکس ان کا رویہ بڑا بھولا بھالا اور پیارا ہوتا ہے۔ اس پیار بھرے رویے میں یہ ہومیوپیتھک دوا فاسفورس (Phosphorus) کے ہم پلہ ہے۔

Related Posts

(Visited 21 times, 1 visits today)
Posted in: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Materia Medica, Professional
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]