showcase demo picture

ڈپریشن، غصہ، وہم، وسوسے، منفی سوچیں، آسیب کا ڈر، خوف اور فوبیا ۔ کامیاب علاج ۔ حسین قیصرانی

گوجرہ کے 28 سالہ نوجوان آفیسر مسٹر ایم نے اپنے  مسائل کے بارے میں بات کرنے کے لیے وٹس اپ پر رابطہ کیا۔ ان سے بات چیت کا سلسلہ گھنٹہ بھر رہا۔ تین بچوں کے باپ ہیں مگر حصولِ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کافی عرصے سے کئی ذہنی اور جسمانی مسائل سے دوچار تھے جس کے لیے مختلف ایلوپیتھک، ہومیوپیتھک اور حکیموں کو آزما چکے تھے۔ نوجوانی کی ان تکالیف نے ان کے معیار زیست کے ساتھ ساتھ ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی (Emotional, Mental and Psychological) معاملات کو بھی خاصا نقصان پہنچایا تھا۔ تعلیم، دوستی، ازدواجی و معاشرتی زندگی، پیشہ وارانہ قابلیت، جسمانی صحت، جذباتی توازن اور قلبی سکون غرض زندگی کا کوئی پہلو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ دماغ منفی سوچوں کی آماجگاہ بن چکا تھا جہاں تازہ ہوا کے لیے کوئی روشن دان نہیں تھا۔ ٹیلیفونک گفتگو اور علاج کے دوران جاری رابطہ سے حاصل کی گئی تکالیف کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔

کاہلی اور سستی (Lethargy and Laziness) نے مسٹر کو بہت پریشان کر رکھا ہے۔ کوئی بھی کام وقت پر نہیں ہوتا۔ با صلاحیت ہونے کے باوجود  لمبے عرصے سے کوئی بھی ہدف، پلان اور منصوبہ پورا نہیں کیا جاتا۔ آرام پسندی شخصیت کے تمام مثبت اوصاف پر حاوی تھی۔
قوت ارادی (Will Power) اور استقامت کی انتہائی کمی (Lack of Consistency) ہے۔ کافی عرصےسے کچھ  تعلیمی امتحان بلا کوشش ہی ملتوی کیے جا رہے ہیں۔ امتحان کی تیاری کرنے کی طرف دھیان نہیں جاتا اور پیپر والے دن جانے کو دل نہیں کرتا۔ طویل عرصے سے سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے کی جد و جہد میں مسلسل ناکامی ضبط نفس کی بے پناہ کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایڑھیوں میں درد رہتا تھا۔ پاؤں کے تلوؤں میں 15 سے 20 جگہوں پر گانٹھیں اور چنڈیاں بن گئی تھیں۔ ان میں درد رہتا تھا اور دبانے سے سوئی جیسی چبھن محسوس ہوتی تھی۔
زکام اکثر شدید ہوتا تھا۔ پیلا اور بدبودار مواد (yellowish smelly mucus) بہتا تھا۔ بائیں کان کے اندر بدبو اور ہلکی سی نمی جاری رہتی تھی۔ یہ کئی سال پرانی ہے کیوں کہ کان مسلسل بہتے رہتے تھے۔
ناف سے اوپر کے جسم میں سردی بہت لگتی تھی۔ پانی بہت ٹھنڈا لگتا ہے۔
معدہ اکثر خراب (Stomach Disorder) رہتا ہے۔ کبھی قبض (Constipation) رہتی ہے، کبھی مروڑ اٹھتے ہیں اور کبھی لوز موشن کی شکایت ہو جاتی ہے۔
بیکری آئٹم کھاتے ہی شدید گیس بن جاتی ہے۔
دماغ ہر وقت کچھ نہ کچھ سوچتا (Over Thinking) رہتا ہے۔ اہم کاموں پر توجہ فوکس نہیں ہو پاتی۔ ذہن غیر ضروری باتوں میں الجھا رہتا ہے۔
دوسروں سے بہت جلدی بدگمانی ہو جاتی ہے۔ کہیں تھوڑی سی اونچ نیچ ہو جائے تو لگتا ہے کہ میری بے عزتی ہو گئی ہے یا مجھے اگنور (Ignore) کیا گیا ہے۔ دل میں کڑھتا رہتا ہوں اور سوچوں میں جواب دیتا رہتا ہوں۔ دو لوگ بات کر رہے ہوں تو اسے لگتا ہے کہ یقیناً میرے خلاف کوئی کھچڑی پک رہی ہے۔ سوچوں کا رخ ہمیشہ منفی (Negative thoughts) رہتا ہے۔ اب کچھ عرصہ سے اپنے جذبات پر کنٹرول کرنے کی عادت اپنا لی ہے۔ غصہ حد سے بڑھ جائے یا کسی کے ساتھ مسئلہ شدت کی نوعیت اختیار کر لے تو ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ غصہ یا جذبات کے اظہار کے وقت دل دھڑکتا ہے، جسم کانپتی ہے اور آواز لرزتی ہے۔ ویسے جوانی میں اپنی توانائی خود اپنے ہاتھوں بے حد ضائع کی ہے۔ اُن کے خیال میں اُن کے اکثر مسائل کی وجہ اپنی غلطیاں ہی ہیں۔
بہت شدید ڈپریشن (Depression) رہتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے سر میں برف رکھی ہوئی ہے۔ دماغ سن محسوس ہوتا ہے۔ ہر وقت دل آہیں بھرتا رہتا ہے۔ انتہائی بے چارگی اور مجبوری (Hopelessness and Helplessness) کا احساس ہوتا ہے۔
نیند نہ ہونے کے برابر (Sleeplessness and Insomnia) ہے۔ نیند کا دورانیہ تین گھنٹے ہوتا ہے اور اس میں بھی کئی بار آنکھ کھلتی ہے۔ کچی اور بے سکون نیند۔ پر سکون نیند یاد نہیں کہ کب میسر آئی تھی۔ ایسا بھی اکثر ہوتا ہے کہ نیند کے دوران دماغ مسلسل جاگتا رہتا ہے اور ارد گرد کی تمام آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔ دن کے وقت نہیں سوتا کیوں کہ سونے سے طبیعت مزید ڈسٹرب جاتی ہے اور نتیجتاً رات کی تھوڑی بہت نیند سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔
غصہ اور چڑچڑاپن (Anger and Irritation) بہت زیادہ ہے مگر غصہ پی جاتے ہیں۔ رویوں میں بہت شدت پسندی ہے۔ محبت ہے تو شدید محبت اور نفرت ہے تو شدید نفرت۔ مذہبی رجحان کے باعث کوشش کرتے ہیں کہ جذبات کو کنٹرول میں رکھیں۔ ویسے بھی جب غصہ آتا ہے تو اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ اپنے غصے سے ڈر لگتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے گھر کا ماحول خاصا خراب ہے۔ خانہ جنگی کی کیفیت رہتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر ہنگامہ ہو جاتا ہے۔ بےضرر معاملات کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جس کی وجہ سے بیوی سے تعلقات بہت خراب رہتے ہیں
کتابیں پڑھنے کا شوق ہے لیکن اب دماغ حاضر نہیں رہتا۔ غائب دماغی (Absent Mindedness) کی وجہ سے مطالعے سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں رہا۔
سردی میں کچھ زیادہ ٹھنڈا کھا لینے سے گلا خراب ہو جاتا ہے۔ گلے میں سوزش (Inflammation) ہو جاتی ہے۔ گلے میں تھیلیاں (Sore Throat) بن جاتی ہیں اور ان میں پس (Puss) پڑ جاتی ہے۔
کسی بھی کام کو توجہ سے نہیں کر پاتا۔ ذہنی یکسوئی مقفود ہے۔ کتاب سامنے ہوتی ہے مگر ذہن کہیں اَور بھٹک جاتا ہے۔
کچھ میٹھا کھا کر اگر نمکین نہیں کھایا تو طبیعت عجیب سی ہو جاتی ہے۔ نمک سے عجیب سی محبت ہے۔
دل بہت نرم ہے کسی کی تکلیف دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہوں۔ دل کرتا ہے کاش اتنا پیسہ ہوتا کہ اس کے سب درد دور کر دیتا۔
بچپن سے یعنی جب بچے کو غم اور خوشی کا شعور بھی نہیں ہوتا؛ اس وقت سے دکھی گانے اور غزلیں بہت پسند ہیں۔
کالے سیاہ بادل اور ہوا سے عشق ہے۔ بارش ہو چکنے کے بعد جب ماحول میں ایک چمک آ جاتی ہے تو بہت برا لگتا ہے بہت ہی زیادہ برا۔
وزن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چہرے پر پژمردگی چھائی رہتی ہے۔

ڈر، خوف اور فوبیاز (Fear and Phobias)۔
سٹیج پر چڑھنے کا سوچتے ہی ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں اور شدید گھبراہٹ ہونے لگتی یے (Strong Fear and Phobia of Stage)۔ اپنی آواز خود کے لیے اجنبی ہو جاتی ہے۔ سٹیج سے نیچے اترتے ہی سیکڑوں لوگوں کو ہدایت دینا، کام کروانا اور چوہدری بن جانا بڑا اچھا لگتا ہے۔ بس سٹیج کا شدید خوف محسوس ہوتا ہے اور آواز کی کپکپاہٹ بہت واضح ہوتی ہے۔ ہاتھوں پر پسینہ بھی آنے لگتا ہے۔
اپنی پشت پر کسی آسیب کے حملے کا خوف رہتا ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ لیٹتے وقت کمر دیوار کی طرف ہو۔ کمر اور دیوار کے مابین فاصلہ نہ ہو اور نہ ہی کچھ حائل ہو۔ یا پھر گھر کا کوئی فرد ان کی پشت پر موجود ہو۔

کیس کا تجزیہ اور ہومیوپیتھک ادویات

مسٹر ایم کے مسائل بے پناہ الجھے ہوئے تھے۔ اُس کی اہم وجہ مختلف نوعیت کی ادویات کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔ میں نے علامات کی بجائے مزاج کو بنیاد بنا کر دوا (Constitutional Remedy) منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ مزاجی دوا کا انتخاب صحیح ہو تو وہ علامات اور تکالیف کو بھی بڑے اچھے طریقے سے حل کر دیتی ہے۔ میری توجہ ہومیوپیتھک دوا لائیکوپوڈیم (Lycopodium Clavatum) اور سٹیفی سیگریا (Staphysagria) کی طرف گئی۔
اُن کی سب سے اوپری سطح (Upper Most Layer) میں یہ معاملہ واضح تھا کہ پروفیشنل معاملات میں اُن کو اگنور کر دیا جاتا ہے اور وہ اِسے اپنی بہت بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔ اس معاملے پر دن رات سخت غصے اور پریشانی میں کڑھتے رہتے ہیں لیکن بات کر کے معاملہ کلئر نہیں کر رہے۔ یہ مزاج اور علامات واضح طور پر سٹیفی سیگریا (Staphisagria (Staph.) کی تھیں۔
دن کو نہ سونا، اگر سو گئے تو طبیعت کا آوازار ہونا اور پھر رات کو نیند نہ آنا۔۔۔ غصہ اور جذبات کو کنٹرول کرتے رہنے مگر اندر بہت ڈسٹرب رہنے کا مزاج۔۔۔ جذبات کے اظہار کے وقت جسم کانپنا، دل دھڑکنا اور آواز کانپنا۔۔۔ جوانی کی بہت غلطیاں اور اُس وجہ سے کمزوری۔۔۔ ۔۔۔ یہ ایسے معاملات تھے کہ جنہوں نے میری راہنمائی ہومیوپیتھک دوا سٹیفی سیگریا (Staphysagria) کی طرف کی۔
اُن کے بیشتر مسائل، اللہ کے کرم سے سٹیفی سیگریا (Staphysagria) لینے سے حل ہو گئے۔ علاج کے دوران اُن کی کمر میں شدید درد اُٹھا جس کے لئے علامات کے مطابق رہس ٹاکس (Rhus Tox) اور برائی اونیا (Bryonia Alba) وغیرہ دینے کی ضرورت پڑی مگر کمر درد میں کوئی خاص بہتری نہ آ سکی۔ تھوجا (Thuja Occidentalis) کی علامات واضح ہونے پر تھوجا بھی دی گئی مگر کمر درد میں مکمل افاقہ نہ ہوا۔
کیس کا از سرِ نو جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ کمر درد بہت پرانا ہے اور اس کا تعلق جنسی معاملات و معمولات سے ہے۔ کمر درد، جنسی معاملات اور آسیب کے ڈر خوف کی بنیاد پر میازمیٹک نوسوڈ میڈورائینم (Medorrhinum) تجویز کی جس سے کمر درد کی تکلیف کافی حد تک بہتر ہو گئی۔
اپنی کسی ذاتی مجبوری کی وجہ سے وہ اپنا علاج مکمل نہ کروا سکے ہیں جس سے کمر درد اور جنسی معاملات کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود اُن کی زندگی اب بہت ہی بہتر ہے۔ تفصیل مسٹر ایم کے فیڈبیک میں ملاحظہ فرمائیں۔

تین ماہ علاج کے بعد مسٹر ایم کا فیڈبیک

تقریباً تین ماہ قبل کی بات ہے کہ میں نے وٹس اپ (Whatsapp) پر جب محترم ڈاکٹر حسین قیصرانی سے علاج کے لئے رابطہ کیا۔ اس سے پہلے بھی میں کافی جگہوں سے علاج کروا چکا تھا۔ ہومیوپیتھی کا سٹوڈنٹ ہونے کے حوالے سے بھی کسی ڈاکٹر کا مجھے مطمئن کرنا ایک کارِ دشوار تھا۔ بہرحال قصہ مختصر میری بڑی بڑی شکایات درج ذیل تھیں:
1۔ شدید قسم کا ذہنی دباؤ (Depression / Stress) رہتا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ذہن سویا ہوا ہے۔ میں بگڑے ہوئے حالات پر کڑھتا رہتا تھا۔ بیوی کی تیکھی باتوں سے شدید جذباتی دھچکا (Mental Shock) لگتا تھا اور انتہائی غصہ (Anger) آتا تھا۔ لیکن میں اپنا غصہ پی جاتا تھا لیکن بے حد بے بسی محسوس ہوتی تھی۔ معلوم نہیں کہ اب حالات بالکل بدل گئے ہیں یا پھر میں بدل گیا ہوں۔ گھر میں کوئی بھی بات ہو میں نظر انداز کر دیتا ہوں۔ اپنی بیوی کے لیے کوئی گفٹ لے کر جاتا ہوں اور اگر کوئی ناخوشگوار بات ہو تو موضوع ہی بدل دیتا ہوں۔ میں خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہوں۔ میرے ذہن پر اب بوجھ نہیں ہوتا۔
2۔ سستی اور کاہلی اتنی تھی کہ مسلسل کئی سال سے کچھ پیپر چھوڑ رہا تھا، دے نہیں پاتا تھا۔ کتابیں سامنے پڑی ہوتی تھیں لیکن میں پڑھتا نہیں تھا۔ کام چوری میری فطرت تھی۔ لیکن الحمد للہ اب میں تمام پیپرز ایک ایک رات پڑھ کر بہترین انداز میں دے چکا ہوں۔
3۔ قوت ارادی انتہائی کمزور (Weak Will Power) تھی۔ اپنے فیصلے پر قائم نہیں رہ پاتا تھا۔ پچھلے کئی سال سے میں کئی بار سگریٹ چھوڑ کر پھر شروع کر دیتا تھا اور اس پر میرا اچھا خاصا مذاق بن چکا تھا۔ مگر اب میں اس عادت سے چھٹکارا پا چکا ہوں۔
4۔ لوگوں کے بارے میں منفی میری سوچ بہت منفی (Negative Thinking) ہو گئی تھی اور دل و دماغ میں کڑھتا رہتا تھا۔ غیر متوقع رویے مجھ سے برداشت نہیں ہوتے تھے۔ کیونکہ میں تو دوسروں کے لیے خون دینے کے لیے تیار ہو جاتا اور دوسرے لوگ دس روپے دینے پر راضی نہیں ہوتے۔ مگر اب میرا رویہ مثبت ہوتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں شدت پسندی ختم ہو گئی ہے۔
5۔ طبیعت بہت وہمی تھی۔ مجھے لگتا تھا ہر کوئی میرے بارے میں کوئی غیر اخلاقی بات ہی کر رہا ہے۔ میرا سوچنے کا انداز بدل گیا ہے اور اب میں بلا وجہ بدگمان نہیں ہوتا۔
6۔ پیٹ یعنی معدہ (Stomach) کے پرانے اور دائمی مسائل کا شکار تھا۔ کبھی شدید قبض (Constipation) اور کبھی موشن اور مروڑ وغیرہ بھی مستقل جاری رہتے تھے۔ ڈکار آتے ہی رہتے تھے۔ گیس کا مسئلہ بہت زیادہ تنگ کرتا تھا۔ مگر اب یہ تکلیف %90 بہتر ہے۔
7۔ بہت جھگڑالو طبیعت تھی۔ میں غصے میں کوئی بڑا قدم اٹھا لیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا؛ اس لئے غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ غصے کی حالت میں اندر ایک لاوا ابلتا رہتا تھا۔ کھانا پینا سب ڈسٹرب ہو جاتا تھا۔ کسی کے غلط رویے پر کڑھتا رہتا تھا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب میں بے فکر اور ریلیکس رہتا ہوں۔
8۔ پاوں کے نیچے بہت سے سخت چھالے (Blister) یا چنڈیاں () تھیں جن میں درد ہوتا تھا اور دبانے پر چبھن کا احساس ہوتا ہے۔ اللہ کے کرم سے اس تکلیف سے بھی جان چھوٹ گئی ہے۔
9۔ سردی کے موسم میں الرجی (Allergy) کی کیفیت پیدا ہو جاتی تھی۔ زکام بہت تنگ کرتا تھا۔ پیلی، بدبودار بلغم خارج ہوتی تھی جو اتنی بڑھ جاتی تھی کہ کان بھی بہنے لگے تھے۔ مگر اس بار شدت کی سردی کے باوجود مجھے کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہوا۔ الحمد للہ
10۔ موسم سرما میں زیادہ ٹھنڈا کھانے پینے سے اکثر گلا فوراً خراب (Sore Throat) ہو جاتا تھا۔ کوا سرخ ہو جاتا تھا۔ گلا سوج جاتا تھا اور تھیلیاں بن جاتی تھیں جن میں بہت تکلیف رہتی تھی۔ مگر یہ سردیاں سکون سے گزر رہی ہیں۔
11۔ رات کو سوتے وقت ایسا لگتا تھا جیسے کوئی آسیب پیچھے سے حملہ کر دے گا۔ میں خوف زدہ رہتا تھا اور پشت کو دیوار کے ساتھ لگا کر سوتا تھا یا پھر میری کوشش ہوتی تھی کہ میرا کوئی فیملی ممبر میری پشت پر موجود ہو۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ اس خوف سے مجھے نجات مل گئی ہے۔ اب تو رات کو قبرستان میں بھی سو سکتا ہوں کیونکہ مجھے اب بالکل بھی ڈر نہیں لگتا۔
12۔ مجھے نیند بہت کم (Sleeplessness / Insomnia) آتی تھی۔ میں تین گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتا تھا اور ان تین گھنٹوں کی نیند بھی پُر سکون اور گہری نہیں ہوتی تھی۔ میں اچھی نیند کو ترسا ہوا تھا۔ اللہ کا شکر ہے اب میں چھ گھنٹے سوتا ہوں اور جاگنے کے بعد فریش محسوس کرتا ہوں۔
13۔ میرے چہرے کی رونق بالکل ختم ہو گئی تھی۔ لیکن اب سکونِ قلب چہرے سے اطمینان کی صورت جھلکتا ہے۔
14۔ میں بہت زیادہ غائب دماغ (Absent Minded) رہنے لگا تھا جس کی وجہ سے مطالعہ نہیں ہو پاتا تھا۔ مگر اب میں ذوق و شوق سے کتابیں پڑھتا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری لمبی لمبی متعلقہ اور غیر متعلقہ گفتگو کو ڈاکٹر صاحب نے ہمیشہ بہت دلچسپی کے ساتھ سنا اور ایک ماہر آرٹسٹ کی طرح درجہ بہ درجہ میری مدد کرتے چلے گئے۔ ایک اچھے دوست اور بہترین سامع کی طرح مریض کے مسائل کو سن کر اس کو ہلکا پھلکا کر دیتے ہیں۔ جسمانی مسائل کے ساتھ گزارہ کیا جا سکتا تھا لیکن ذہنی حالت کو اس طرح معجزانہ طور پر بدل دینا ہومیوپیتھی (Homeopathy) کا ہی خاصہ ہے اور ڈاکٹر حسین قیصرانی کی محنت کا کمال ہے۔ میرے الفاظ میں جو تعریف نظر آ رہی ہے وہ بہت کم ہے اور میری خواہش ہے کہ اس کو اسی طرح لوگوں تک پہنچایا جائے کیونکہ میں جانتا ہوں قیصرانی صاحب تعریف کے بہاو میں بہنے والے آدمی نہیں ہیں اور اس کو زیادہ پسند بھی نہیں کرتے۔ والسلام ۔

===================
حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔
===================

Related Posts

(Visited 1 times, 1 visits today)
Posted in: Cases, Homeopathy in Urdu, Mental Health
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]