showcase demo picture

ہائپوتھائیرائڈزم کیس، ہومیوپیتھک دوا، علاج اور فیڈبیک – حسین قیصرانی HYPOTHYROIDISM

تین ماہ اُدھر کی بات ہے کہ یورپ میں میری ایک کلائنٹ کی معرفت اِس خاتون نے رابطہ کیا۔ کہنے لگیں کہ میری بہن نے آپ کی بہت تعریف کی ہے۔ وہ ماشاءاللہ اتنے بڑے منصب اور عہدے پر ہے کہ اُسے متاثر کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ پھر بھی آپ میرے مسائل حل کر سکیں تو پتہ چلے۔ بولتی چلی گئیں مگر جب درمیان میں ذرا رکتیں تو یہ ضرور کہتیں کہ میں اپنی بہن کی طرح زیادہ تفصیلات میں بالکل نہیں جاؤں گی۔ اپنی ذاتی باتیں کسی سے بیان کرنا مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا۔ اور ہاں! میری باتیں کسی سے کرنی بھی نہیں ہیں۔

پہلے دو آن لائن انٹرویو بہت رسمی تھے۔ اُن میں اِدھر اُدھر کی باتیں تو بہت ہوئیں لیکن اُن کے اصل مسائل کھل کر سامنے نہ آ سکے۔ تین چار سیشن میں کیس کی جو تفصیلات حاصل ہوئیں وہ کچھ یوں ہیں۔

میری عمر 34 سال ہے۔ دس سال سے ہائپوتھائرائیڈ (Hypothyroidism) کی مریضہ ہوں اور بلاناغہ ناشتہ سے پہلے تھائراکسن (Thyroxine) لے رہی ہوں۔ اب تو تھائیراکسن کی بڑی طاقت لینی پڑتی ہے۔ کسی وجہ سے یہ ایک دن بھی چھوٹ جائے تو اِس کے اثرات پانچ چھ دن چلتے ہیں۔ میں سلم سمارٹ تھی مگر اب میرا وزن بڑھ چکا ہے۔ اگر تھائیراکسن (Thyroxine) چھوڑوں تو وزن تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ الرجی کا مسئلہ بھی مستقل ہے اور ہر بدلتے موسم کے ساتھ ناک بند ہو جاتا ہے اور سانس لینے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ یہ بہت تکلیف والا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے راتوں کی نیند اور دن کا سکون برباد ہو چکا ہے۔ روزانہ ایک انٹی الرجی گولی لیتی ہوں تو کچھ کام چلتا ہے۔ کمزوری، تھکاوٹ اور بے آرامی کو کنٹرول کرنے کے لئے ملٹی وٹامن وغیرہ لینا تو خیر روز کا معمول ہے۔

انہوں نے اپنا اصل مسئلہ تو صرف ایک ہی بتایا اور وہ یہ کہ مجھے بے حد غصہ آتا ہے — اپنے گھر والوں پر تو بہت ہی زیادہ۔ اتنا زیادہ کہ اب مجھے یہ ڈر پریشان کرنے لگا ہے کہ کہیں کچھ کر نہ دوں۔ مر جاؤں یا مار ہی نہ دوں۔ مجھے اپنے خاوند اور بچوں سے بہت پیار ہے مگر جب غصہ آتا ہے تو کچھ ہوش نہیں رہتا۔ حیض (مینسز) کے دوران تمام مسائل بڑھ جاتے ہیں مگر غصہ اور چڑچڑا پن خاص طور پر اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ پیریڈز (Menses / Periods) میں خون کافی زیادہ آتا ہے۔

تفصیلی کیس لینے سے معلوم ہوا کہ پیاس بہت کم لگتی ہے اور رونا اکثر آیا ہی رہتا ہے۔ ٹانگوں میں درد، آنکھوں میں خارش، ہر موسم کی تبدیلی پر الرجی (Allergy) جس کے لئے متواتر انٹی الرجی (Anti Allergy) کی گولی ہر روز لیتی ہوں۔ چھوڑ دوں تو بہت دقت ہوتی ہے۔ ناک بند ہو جاتا ہے، گلے میں خارش کے ساتھ ساتھ سانس لینا دشوار ہو جاتا ہے۔ آپ تو یورپ میں وقت گزار چکے ہیں اِس لئے جانتے ہیں کہ یہاں گرمی تو اُس طرح نہیں ہوتی پھر بھی موسم دونوں ہی میرے لئے کٹھن ثابت ہوتے ہیں۔ کمر درد کی شکایت کافی عرصے سے ہے۔ بچوں کے لئے رات کو بار بار اٹھتی ہوں؛ اِس لئے میری نیند پوری نہیں ہو پاتی۔ ہر وقت تھکی ہاری ہونے کے وجہ سے گھر والوں کے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزار پاتی۔ جونہی ذرا فرصت نصیب ہو؛ بس سونے اور آرام کی طلب ہوتی ہے۔

بالوں کا گرنا بھی میرا مستقل مسئلہ ہے جس کے لئے کچھ ہربل طرز کی دوائی لیتی ہوں۔ اگر نہ لوں تو بال بہت زیادہ گرتے ہیں۔ اعتماد کی کمی ہے یا کچھ اَور مسئلہ مگر یہ حقیقت ہے کہ گروپ میں بات نہیں کر سکتی۔ مَیں کنڈر گارٹن میں کام کرتی ہوں اور وہاں کے بچوں کے والدین میری بہت تعریف کرتے ہیں۔ میں چونکہ میٹنگز میں زیادہ بات نہیں کر پاتی؛ اِس لئے میری کامیابیوں کے سہرے دوسروں کے سر چڑھ جاتے ہیں۔ پتہ نہیں کہ اِس کا تعلق میری بیماری سے ہے یا نہیں لیکن بتا دیتی ہوں۔ مَیں اپنے امتحان کے دنوں میں بھی بیمار ہو جایا کرتی تھی یا میرا پیٹ خراب ہو جایا کرتا تھا۔ ہر معاملہ مجھ پر گہرا اثر کرتا ہے۔ فیس بک وغیرہ پر کسی کو تکلیف میں دیکھوں تو دل مچل جاتا ہے اور گھنٹوں سوچتی رہتی ہوں کہ کیسے مدد کروں۔ اِس وجہ سے میں بچت نہیں کر پاتی۔ جو رقم بچتی ہے؛ ڈونیٹ کر دیتی ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔ کھیل کود یا مذاق میں بھی اگر مجھے کسی کا ہاتھ پاؤں ذرا سا زور سے لگ جائے تو میری چیخ نکل جاتی ہے۔

جانور؟ جانور سارے ہی ناپسند ہیں مگر بلی اور کتے سے ڈرتی بھی ہوں۔ ڈنمارک میں کتوں سے کنارہ کشی کرنا سخت بدتہذیبی شمار کیا جاتا ہے۔ بہت سارے خاندان کتوں کو اپنے بچوں کی طرح رکھتے اور پیار کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں کتوں سے ڈرنا ایسا ہی ہے کہ جیسے پاکستان میں کوئی بہت ہی معصوم اور پیارا بچہ آپ کی طرف لپکے اور آپ ڈر کے چیخیں مار کر بھاگیں۔ یہاں دن میں کئی بار کتوں سے ٹاکرا ہوتا ہے اور میری حالت دیکھنے والی ہوتی ہے۔
اوہ یاد آیا؛ وہ تھوڑا جذباتی ہو کر بولیں: گھوڑا وہ واحد جانور ہے جو مجھے بہت ہی زیادہ پسند ہے۔ گھوڑوں سے میرا لگاؤ ہے یا کچھ اَور کہ میں نے باقاعدہ گُھڑ سواری سیکھی۔ اب بھی میرے دل میں بھرپور خواہش مچلتی ہے کہ میرے پاس کم از کم ایک گھوڑا ہونا چاہئے۔ ویسے ڈاکٹر صاحب! آپ میرے علاج میں جانور کیوں گھسیڑ لائے؟ آپ مائینڈ تو نہیں کرتے نا؟ دراصل مَیں دل میں کچھ نہیں رکھتی؛ بول دیتی ہوں۔ کوئی بات یا معاملہ عجیب لگے تو اظہار کر دیتی ہوں۔ کہیں ذرا ہٹ کے بات سنتی یا دیکھتی ہوں تو دل کرتا ہے کہ کسی اپنے سے ضرور اس کا ذکر کروں۔ میرے قریبی لوگ کہتے ہیں کہ اِس نے بات کر دینی ہوتی ہے۔
کسی کو تکلیف دینا یا تکلیف میں دیکھنا برداشت نہیں ہوتا۔ اگر جھگڑا ناراضگی ہو جائے تو جلد ہی صلح کر لیتی ہوں۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ رات گئی؛ بات گئی والا معاملہ ہی ہوتا ہے۔ چند دن قبل میرا اپنی بہن سے خوب جھگڑا ہوا۔ دوسرے دن مَیں اُس کے گھر چلی گئی اور اُسے گلے لگا لیا۔ اگر میں ایسا نہ کرتی تو مجھے پتہ ہے کہ میری بہن شاید ہفتوں مجھ سے ناراض رہتی اور بہت زیادہ ڈسٹرب بھی۔ میں مسئلوں کو لمبا نہیں کھینچتی۔ جو معاملہ بات چیت سے حل ہو سکتا ہو؛ اُس پر کیوں کُڑھنا اور پریشان رہنا بھلا۔ میں ٹھیک کرتی ہوں نا ڈاکٹر صاحب؟

میٹھے کا ذکر ہوا تو کہنے لگیں کہ میٹھا بہت زیادہ پسند ہے۔ مٹھائی اور کیک تو ہر وقت کھانے کو تیار ہوں اور کھاتی بھی ہوں۔ ویسے ٹھنڈا میٹھا زیادہ پسند ہے۔ نمک زیادہ ہو تو کھانے کا اصل ذائقہ برقرار نہیں رہتا؛ اس لئے نمک زیادہ پسند نہیں۔

میں کہیں بھول نہ جاؤں کہ میں جب سو کر اُٹھتی ہوں تو میرے سارے جسم میں درد ہوتا ہے مگر خاص طور پر کمر اور کندھوں کے نیچے والا حصہ۔ مجھے اُٹھنے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ یہ میرا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ آپ کو شاید مذاق لگے مگر یہ حقیقت ہے کہ جب گرم پانی سے نہا کر نکلتی ہوں تو بہت فریش ہو جاتی ہوں جیسے کوئی درد تکلیف تھی ہی نہیں۔

اونچی آواز بہت تنگ کرتی ہے۔ گھر میں مجھے ہر وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرا خاوند اور بچے بہت اونچا بولتے ہیں۔ ہر وقت الجھتی رہتی ہوں کہ آہستہ بولیں۔ حالانکہ سب کہتے ہیں کہ کوئی اونچا نہیں بول رہا۔ جہاں آؤں جاؤں یا کسی سے ملوں اور بات تھوڑی سی اوپر نیچے ہو جائے تو لگتا ہے کہ میری بے عزتی ہو گئی ہے۔ پھر اپنی بے عزتی کو سر پر سوار کر لیتی ہوں اور گھنٹوں سوچ سوچ کر اپنے آپ کو ہلکان کر دیتی ہوں۔ بہت دفعہ تو لوگوں سے الجھ بھی پڑتی ہوں۔

مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ میں بہت بھولی بھالی ہوں اور یہ بات مجھے ڈسٹرب کرتی ہے کیونکہ یہ احساس ستاتا ہے کہ مجھے لوگوں کی چالاکیوں کا پتہ کیوں نہیں چل پاتا۔ صحیح بات مناسب مقام کرنے پر تو کرتی ہی ہوں مگر اکثر غلط موقع اور مقام پر صحیح بات کر کے صورتِ حال کو عجیب بنا دیتی ہوں۔

جن لوگوں سے میرا اچھا تعلق بن جائے تو اُسے نباہنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہوں۔ اچھے تعلق بننے اور بنانے کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ یہ قطعاً مبالغہ نہ ہو گا کہ اگر میں یہ کہوں کہ مجھے اپنے اچھے تعلق والوں سے محبت سی ہو جاتی ہے۔اُن سے بات کر کے، اُن کو دیکھ اور مل کر طبیعت جیسے کِھل اُٹھتی ہے اور ساری تکلیفیں بھول جاتی ہوں۔ اپنے خاندان، بچوں اور قریبی عزیزوں سے بہت پیار کرتی ہوں۔ اُن کے ساتھ خوب باتیں کرنا، کھیلنا اور پکڑ پکڑ کر پیار کرنا اچھا لگتا ہے۔ کنڈرگارٹن کے بچوں کو پکڑنا اور پیار کرنا کچھ اچھا نہیں سمجھا جاتا لیکن مجھ سے رہا ہی نہیں جاتا۔ باقی لوگ تو ایسا نہیں کرتے مگر میں ایسا کیوں کرتی ہوں۔

ایک اور مسئلہ، جو میری ترقی اور تعلقات میں رکاوٹ کی اہم وجہ رہا ہے، یہ ہے کہ میں تنقید اور اختلاف برداشت نہیں کر سکتی۔ ایسے مواقع پر مَیں لڑ پڑتی ہوں اور اپنی سالہا سال کی محنت ضائع کر بیٹھتی ہوں۔ ڈاکٹر صاحب! آپ بار بار کہتے ہیں کہ ہر چھوٹا بڑا مسئلہ بتائیں کہ جو کوالٹی آف لائف کو ڈسٹرب کر رہا ہو۔ تو کیا آپ میری اِس عادت کو بھی ٹھیک کر سکتے ہیں؟

آپ کو کیسے پتہ چلا کہ تھوڑی سی خراش کہیں لگے تو میرا خون نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہاں! میں ناخن کاٹتی ہوں اور ذرا سی بے احتیاطی ہو تو خون اُبل پڑتا ہے۔ کوئی چھوٹا سا دانہ ہو جائے یا خراش لگ جائے تو بھی خون نکل آتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب! میں نے آپ کا پروفائل دیکھا ہے کہ آپ کلاسیکل موسیقی کے فروغ میں اہم کام کر رہے ہیں۔ مجھے بھی موسیقی جنون کی حد تک پسند ہے۔ میں بچپن سے گاتی چلی آ رہی ہوں۔ پتہ نہیں کیوں مگر اب کچھ عرصے سے مَیں میوزک نہیں سُن سکتی۔
بادل کی گرج چمک اور بارش سے اب اُس طرح نہیں ڈرتی مگر پہلے میری حالت بہت بُری ہو جایا کرتی تھی۔ مجھے آج کل بارش سے پہلے والا موسم اچھا لگتا ہے۔ ایسا موسم اور ماحول کہ جب گھٹا چھائی ہو مگر ابھی گرجے برسے نہ۔ یہ طے ہے کہ بارش مجھے کوئی خاص پسند، بہرحال، نہیں ہے۔ مگر ڈاکٹر صاحب! مجھے بالکل بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ اِن سب باتوں کا میرے ہائیپوتھائرائیڈازم (Hypothyroidism) سے کیا تعلق ہو سکتا ہے۔

اظہار کے تمام ذرائع کھل کر اختیار کرتی ہوں۔ اپنی کمیونٹی کے سالانہ پروگرامز میں بھرپور حصہ لیتی ہوں۔ فرسٹ انعام اکثر میرے ہی نام آتا ہے۔ ایک طرف مَیں اتنی کھل کر بات کرنے والی ہوں مگر دوسری طرف اپنی آفس میٹنگز وغیرہ میں مجھ سے جائز اور ضروری بات بھی نہیں ہوتی۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

تین ماہ قبل علاج شروع کیا۔ الحمدللہ! انہوں نے اس عرصے میں ایک بار بھی کوئی ایلوپیتھک یا ہربل دوائی نہیں لی۔ جن لوگوں کو تھائیرائیڈ کے توازن خراب ہونے کا مسئلہ ہو اور وہ تھائیراکسن لے رہے ہوں؛ اُن کو بخوبی اندازہ ہے کہ تھائیراکسن کو چھوڑنا کتنا مشکل بات ہے۔ یہی کیفیت انٹی الرجی دوائی چھوڑنے کی ہے۔ اِن دوائیوں کو چھوڑنے سے اُن کو بھی وقتی دقت آئی مگر اللہ تعالیٰ کے کرم، سائیکوتھراپی اور ہومیوپیتھک سپورٹ سے اُنہوں نے اب اپنے تمام جسمانی، جذباتی، نفسیاتی اور ذہنی مسائل سے 80 فی صد تک چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔ علاج کا سلسلہ ابھی چلنا ہے۔ ہم ان کا کیس بمعہ ہومیوپیتھی دوائیوں کی تفصیل بھی مناسب موقع پر یہاں فراہم کریں گے۔
اِس پیج کے قارئین کی ایک بڑی تعداد ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور ہومیوپیتھی سے دلچسپی رکھنے والوں کی بھی ہے؛ اُن کی سہولت کے لئے عرض ہے کہ یہ فاسفورس (Phosphorus) کیس ہے۔ اگرچہ وقتی مسائل کے حل کے لئے برائی اونیا (Bryonia)، نکس وامیکا (Nux Vomica) اور رہس ٹاکس (Rhus Tox) بھی استعمال کروائی گئی ہیں تاہم ہمارا انحصار فاسفورس ہی پر رہا ہے کیونکہ یہی محترمہ کی مزاجی دوا (Constitutional Homeopathic Remedy) ہے۔ ان تین ماہ میں دوائی انہیں کبھی کبھار اور حسبِ ضرورت ہی دی گئی ہے۔
میری خواہش پر انہوں نے علاج کے تین ماہ مکمل ہونے پر اپنا جو فیڈبیک دیا ہے وہ اگرچہ انگریزی میں ہے تاہم سادہ اور دلچسپ ہے۔ جیسا کہ آپ نے اِس تحریر کے آغاز میں ملاحظہ فرمایا ہے؛ انہوں نے شروع میں کہہ دیا تھا کہ میرے کیس اور علاج کے معاملات کسی سے ڈسکس نہیں کرنے تاہم جب علاج سے اُن کو اس قدر فائدہ ہوا تو اب وہ چاہتی ہیں کہ اُن کا کیس ضرور شئیر کیا جائے۔ جیسے اُن کی زندگی میں بہتری آئی ہے؛ اَور لوگ بھی اپنے مسائل ڈسکس کرکے ہومیوپیتھک علاج سے فائدہ اُٹھائیں۔ انہوں نے اپنے معاملات جس خوبی، خوبصورتی اور وضاحت سے بیان کئے ہیں اور کہیں کوئی ڈھکی چھپی نہیں رکھی؛ اِس لحاظ سے، مَیں اِسے بہترین فیڈبیک سمجھتا ہوں۔

محترمہ کا فیڈبیک ملاحظہ فرمائیں کہ وہ اپنے علاج سے، ماشاءاللہ کتنی خوش ہیں۔

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان ۔  فون 03002000210

—————-

Dear Dr Hussain Kaisrani Sahib,

I hope and pray that you and your family are fine by the grace of Allah Almighty!

First of all, I would thank to God Almighty as with the grace and blessings of Allah Taala, I am feeling much better than before – especially 80% of my quality of life is positively changed. The credit goes to you Dr Sahib, Homeopathy and your way of treatment. I had already experienced homeopathy for some small issues like influenza, cough and fever etc but the way of your treatment helps, it is amazing and very reliable. I would like to share my quality of life before and after your treatment with the readers of your website and facebook page. The stories and feedback from the patients on your website are very helpful in understanding your treatment methodology. I hope that you will publish my feedback of three months treatment.

I am 34 years old living in Denmark. I am married and got two beautiful daughters. I work in a nursery (kinder-garden / Kindergarten. My husband works in Spain in summers and lives in Denmark in winters. I was experiencing HYPOTHYROID since 10 yeas. I used to take following medicines on very regular basis:

High potency of thyroxine
1 multivitamin tablet
1 tablet D-vitamin with calcium
1 fish oil capsule
1 capsule to control my hair fall issue
That was my daily routine. Besides that if I was having allergy for which I had to take an anti allergy tablet. Even though I was taking all those medicines yet still I was experiencing:

depression,
pessimism,
anxiety,
stress,
headache,
sleeping disorder,
lower back pain / backache,
pain in thighs,
hair loss,
weight gain,
Fear of Dogs
low D-vitamin
allergy,
Fear and phobias
Irritation and anger
stomach problems etc etc
The thing I was really worried and tired about was my extreme anger or aggressive attitude towards myself, my kids, my husband and my family members. I was disturbed at my work as well. I always faced difficulties in taking important decisions in my personal and professional life.

I would also thank to my dearest sister who searched you on internet and told me that Dr Hussain Kaisrani sahib is an experienced, intelligent and well known homeopathist and psychotherapist.

During my first consultancy interview, my expression was like “Why is he asking so many irrelevant questions? Or why do I have to reply about my personal matters etc.
When I was told that there is no need to take those medicines which I was taking since 10 years, It was taken a back. For my satisfaction, it was decided that I can take THYROXINE if there is some real need. I promised to follow the plan but I was not very sure especially for thyroxine. To be honest with you, I concluded that treatment would fail to help me as I was addicted to my medicines like thyroxine. If sometimes in the past, I forgot to take thyroxine; I could feel just in 5 days that I have a lack of thyroxine. I could not wake up early, my weight gained very faster, felt sleepy and tired all the time.

I remember that day when you prescribed my first medicine (only one tablet in the morning and night), I slept deeply at that night, the next morning I was not tired at all. My energy level was significantly better.

Doctor Sahib! The next consultancy session when you asked about my behavior, I was amazed to notice that it was almost changed positively. Actually, this helped me to decide to continue homeopathy treatment.

Alhamdollillah! I am still under homeopathy treatment and therapies. I am very satisfied with the improvement within 3 months treatment. More than 80% of my problems have been solved now. Dr Hussain Sahib, Sir! I feel your ability as a homeopathist is a blessing of Allah Almighty. I really appreciate and admire your way of treatment. I have been under treatment from homeopathists in Denmark and London but you are different, better and special. It’s sensible and adorable that you are very good listener rand provide proper time and concentration. During consultancy session, I feel that you pick up some small things which I never had an idea that could be related to my health. For example; I used to take coffee everyday and I was afraid of dogs etc etc. You have treated all my small and big issues. I have never taken any allopathic medicine including Thyroxine during last 3 months. It seems unbelievable to me but it is 100% true. To my surprise;

I am feeling better than EVER before.
I have lost weight – Yes, I used to fit in L size and in M outfits but my size is S now. I am sure that soon it will be Zero. And I have not started any diet plan or exercise for that. It is only due to your multidimensional treatment. Here in Europe, beauty means smartness not the colour.
No pain in lower back and thighs
Enjoying life and spending quality as well as quantity time with my family and kids
No more depressed feeling, stressed and angry.
Danish health system is well known in western countries. Allopathic Doctors are free here and we get offer (discounts and concessions) or sometimes free medicine but still there is a huge difference in both treatments. Homeopathic Medicine is available in very low cost but Doctors charges heavy fees. My personal Doctor (allopathic) has not much time to listen all the things. After listing few problems; he / she suggests, “You need to give blood test then we will talk in next consultation. But I found completely difference in your way of treatment even though many a time, I have been very irritative for you. You are a blessing Sir!

I would like to recommend to all those who are suffering from physical or emotional issues to contact you. Most important thing is that when I request you to pray for me and my family, you always accept my request. I can only thank you for being such a nice towards me and my family. I pray that Allah Almighty reward you for your good work.

Jazakalkah and Wasalam.

Sendt fra min iPhone
———————

http://kaisrani.com/hypothyroidism-homeopathic-treatment-feedback-denmark-hussain-kaisrani/

Related Posts

Posted in: Homeopathy in Urdu, Mental Health, Testimonials
Return to Previous Page
About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]