showcase demo picture

ہومیوپیتھک دوا برائی اونیا ایلبا / برائیونیا البا؛ گھر گھر کی ضرورت – ایک تعارف – حسین قیصرانی

گذشتہ دنوں ہم نے اپنے فیس بک گروپ (All About Homeopathy) میں ایکونائٹ (Aconite) کو ڈسکس کیا تھا کہ یہ ایسی ہومیوپیتھک دوا ہے کہ جس کی ضرورت ہر گھر میں چھوٹے بڑے، مرد و خواتین، بچوں بوڑھوں کو اکثر پڑ سکتی ہے۔

آج ہم ایک اہم ترین اور بے شمار تکلیفوں میں استعمال ہونے والی ہومیوپیتھک دوا برائی اونیا ایلبا (Bryonia Alba) کی بات کرتے ہیں۔ اِس دوا کی تفصیل تو بہت طول طویل ہے تاہم اپنے اُن قارئین کو سادہ انداز میں سمجھانے کی کوشش کریں گے جو تجربہ کار ہومیوپیتھک ڈاکٹر نہیں ہیں۔

گرم اور خشک مزاج
حرکت سے تکلیف میں اضافہ
مزاج میں سخت چڑچڑاپن اور غصیلی طبیعت
اکیلا رہنے کی خواہش
زیادہ پانی کی پیاس

اگر کسی مریض میں اوپر ذکر کی گئی علامات موجود ہیں؛ مسائل زیادہ پرانے اور شدید بھی نہیں ہیں تو آپ اُن کی ہر تکلیف کا علاج برائی اونیا سے کر سکتے ہیں۔ تکلیف چاہے سخت کھانسی ہو، بخار ہو، سانس کی نالیوں کی سوزش ہو، نمونیہ ہو، قبض ہو، پسلیوں، کمر، پٹھوں کا درد ہو، اسہال ہو، پیچش ہو، ڈپریشن ہو یا کوئی بھی اَور۔

اب کچھ مزید تفصیل:

ہمارا موجودہ معاشرتی، سخت مقابلے اور بھاگ دوڑ کا نظام ایسی تکلیفیں پیدا کر دیتا ہے کہ جس کے لئے برائی اونیا کی اکثر ضرورت پڑتی ہے۔ بے پناہ محنت اور ہر وقت کام کی فکرمندی سے کئی بار انسان اتنا تنگ آ جاتا ہے کہ دل کرتا ہے کہ گھر بلکہ اپنے بستر سے بھی باہر نہ نکلے، دیوار کی طرف منہ کر کے لیٹا رہے کیونکہ آنے جانے والوں کو دیکھنا بھی ایک کوفت سے کم نہیں ہوتا۔ روشنی، آواز، بولنا اور چلنا پھرنا بھی بہت بُرا لگتا ہے۔ دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ رہنے کی خواہش ہوتی ہے۔ ڈیپریشن کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ غصہ، چڑچڑاپن اور آوازاری پائی جاتی ہے۔ تکلیف کے دوران اگر کوئی دلجوئی کرے یا حال احوال پوچھے تو بھی سخت غصہ آ جاتا ہے۔ گھر میں خواتین جب بار بار پوچھیں کہ چائے بنا دوں، پنکھا چلا دوں یا کچھ کھاؤ گے تو مریض کو بہت چڑ چڑھتی ہے۔ چائے پانی اور جوس وغیرہ اِن کو بہت اچھے لگتے ہیں۔ اگر سامنے لا کر رکھ دئے جائیں تو مزے سے پی لیں گے لیکن اگر پوچھا جائے تو جواب دینا یا بات کرنا اِن کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔
مریض کی خواہش ہوتی ہے اُسے اکیلا چھوڑ دیا جائے۔ ایسے مریض مداخلت برادشت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اپنی پریشانی یا تکلیف کو کسی طور ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتے۔ اِن کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کو اپنے مسائل اور معاملات خود حل کرنے دیں۔ خاموش رہنا اِن کا وطیرہ ہو جاتا ہے۔

تکلیف چاہے کوئی بھی ہو مگر اگر حرکت سے اس میں اضافہ ہوتا ہو تو برائی اونیا ہی ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے ذہن میں آتی ہے۔ چند مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آنکھوں کو ذرا سا گھمانے سے سر درد میں اضافہ ہو جائے، سر کو اوپر نیچے کرنے سے چکر آئیں یا درد بڑھ جائیں، اُٹھنے بیٹھنے یا ہلنے جلنے سے کمر درد، اعصابی تکلیفیں یا جوڑوں میں درد بڑھ جائے، ایسی کھانسی جس سے سر، جسم یا گلے کے درد میں زیادتی ہو، گھٹنے اور کمر کا درد جو آرام سے بہتر اور چلنے پھرنے سے بڑھ جاتا ہو، الغرض مسئلہ کوئی بھی ہو حرکت سے اس میں اضافہ ہو جائے اور آرام کرنے سے کمی تو برائی اونیا اہم ترین دوائی ثابت ہو سکتی ہے۔

برائی اونیا ایسے سر درد یا میگرین کی کیفیت کی بھی دوا ہے کہ جس میں درد کن پٹیوں سے ہوتے ہوئے سارے سر میں پھیل جائے۔ عموماً یہ سر درد بائیں طرف سے شروع ہو کر پورے سر کو لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ دبانے سے تکلیفوں کو وقتی آرام ملتا ہے یعنی جسم کے جس حصہ میں تکلیف ہے اُسے باندھ دیا جائے یا کوئی چیز اوپر رکھ دی جائے تو راحت ملتی ہے۔ جونہی دباؤ کم ہو گا مریض کی تکلیفیں بڑھ جائیں گی۔ بات وہی ہے کہ حرکت سے تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

جن مریضوں کی دوا برائی اونیا ہو گی؛ اُن میں عام طور پر پیاس کافی زیادہ ہوتی ہے۔ بخار، خشک کھانسی، گلے کی خرابی، نزلہ، زکام، جسم اور جوڑوں میں درد اگر حرکت سے بڑھیں اور مریض گلاس بھر بھر کر پئے تو برائی اونیا لینے سے واضح فائدہ ہو جاتا ہے۔

جن بچوں کی نکسیر سوتے میں رات تین چار بجے پھوٹتی ہے اُن کی واحد دوا برائی اونیا ہے۔

یہ تو ہوا اُن تکلیفوں اور دردوں کا ذکر کہ جو (Acute) ہوں یعنی ابھی یا چند دن پہلے شروع ہوئے ہوں۔ اوپر بیان کی گئی کوئی بھی تکلیف ہو اُس کے لئے برائی اونیا (Bryonia Alba 30) کی تین خوراکیں چار دن روزانہ دینے سے، اللہ کے کرم سے واضح بہتری آ جائے گی۔ اس دوا کو متواتر استعمال کرنا سخت نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔ اگر فائدہ آنا ہوتا ہے تو ہفتہ دس دن کے اندر ہی آ جاتا ہے۔

اب کچھ تفصیل پرانی اور لمبی جسمانی، ذہنی، جذباتی یا نفسیاتی مسائل کی۔

روشنی، زندگی کی چکا چوند اور رونق والے ماحول کو یہ مریض سخت ناپسند کرتے ہیں۔ انہیں ہلکی تاریکی والا ماحول اچھا لگتا ہے۔ اگر گھر والے لائٹ جلائیں گے تو یہ چیخیں اور روکیں گے۔ روشنی سے بچنے کے لئے آنکھیں حرکت کرتی ہیں اور اتنی معمولی سی تبدیلی بھی برداشت نہیں ہوتی۔

جسم کے جس حصے میں درد یا تکلیف ہو، مریض کو اُسی کروٹ لیٹنے سے راحت ملے گی کیونکہ وہ حصہ دب جائے گا۔ جونہی دباؤ ہٹتا ہے تو اعصاب واپس اپنی جگہ پر آنے کے لئے حرکت کرتے ہیں اور اتنی سی حرکت بھی تکلیف کو بہت بڑھا دیتی ہے۔

ڈپریشن کے مریضوں میں اپنی مالی حالت یا کاروبار کی بہت زیادہ پریشانی ہو جاتی ہے۔ اُنہیں اپنے مستقبل کی بہت زیادہ فکر ہوتی ہے؛ اِس لئے اُن کا رویہ مادہ پرستانہ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کلامی یا ہذیان میں بھی کاروبار کی باتیں کرتے ہیں۔ ان کو ہر حوالہ سے خشکی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کو بالعموم پیاس بہت لگتی ہے اور ایک وقت میں پورا گلاس یا اُس سے بھی زیادہ پینا چاہیں گے۔
اندر کی خشکی کی وجہ سے قبض ہو جانے کا امکان ہوتا ہے۔ ان کی جِلد، ذہن حتیٰ کہ جذبات تک بھی خشک ہوتے ہیں۔ یہ بہت سنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کو لطیفے سنانا تو درکنار سننا بھی برداشت نہیں ہوتا۔ نفع نقصان کے گرد ہی ان کا دل و دماغ گھومتا رہتا ہے۔ کنجوسی یعنی پیسہ کو بچا بچا کر خوش ہونا ان کا مزاج ہوتا ہے۔ خشکی اور کنجوسی مزاج کے ہر پہلو میں اس قدر راسخ ہو جاتی ہے کہ ایسے مریض فضا اور ہوا بھی کھلی برداشت نہیں کرتے۔ مریض کو غریب ہو جانے کا خوف اور فوبیا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کئی کئی انشورنس کرواتا ہے اور مختلف سکیموں میں پیسہ لگاتا ہی جاتا ہے۔ ان کا دماغ پیسوں اور غربت سے تحفظ کے متعلق ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔ ہمارے بڑھے بوڑھے ہسپتال جاتے ہی گھر جانے کی رٹ لگا دیتے ہیں تو اکثر اُن کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ اُن کے یا اُن کے بچوں کے پیسے خرچ ہو رہے ہیں۔ ایسے بزرگوں کی کئی تکالیف بھی برائی اونیا کی چند خوراکوں سے بہتر ہو سکتی ہیں۔

اگر تکلیفیں پرانی ہو جائیں یا شدت بہت زیادہ ہو تو مریض اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ اُسے گھر کی یاد (Home Sickness) ستاتی ہے. مریض اصرار کرتا ہے کہ مجھے گھر لے چلو۔ بعض اوقات گھر میں ہوتے ہوئے بھی وہ کہے گا کہ مجھے گھر جانا ہے۔ ان مریضوں کی تمام تکلیفیں رات نو بجے کے قریب خاص طور پر بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

یوں تو برائی اونیا کی تقریباً ہر تکلیف حرکت کرنے سے بڑھتی ہے اور بستر پر آرام کرنے سے بہتر؛ لیکن چکروں کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ مریض کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بستر کے اندر دھنستا چلا جا رہا ہے۔ ایسے چکروں میں اگر وہ کسی وجہ سے بستر سے اٹھتے ہیں تو انہیں شدید متلی اور قے کی کیفیت ہو جاتی ہے۔ اگر اس طرح سر چکرائے تو برائی اونیا ہی دوا ہو گی۔

ان مریضوں میں گوشت کھانے کی رغبت بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان ۔ فون 03002000210

Related Posts

Posted in: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Materia Medica, Mental Health
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]