شیزوفرینیا ایسی ذہنی بیماری ہے جس کا اثر فرد کی سوچ، احساسات اور کردار پر پڑتا ہے۔ اس میں انسانی ذہن بیرونی جسم سے تال میل نہیں کر پاتا تاہم تازہ ترین تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی دماغ کے علاوہ دیگر اعضا بھی اس بیماری سے شروع ہی سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔

یہ تو سائنس دانوں کو کافی عرصے پہلے سے معلوم تھا کہ عام آبادی کی نسبت شیزوفرینیا کے مریضوں میں جسمانی بیماریوں کی شرح زیادہ ہوتی ہے، اور اسی لیے ان میں ناگہانی اموات زیادہ ہوتی ہیں۔ شیزوفرینیا میں مبتلا افراد عام افراد کی نسبت اوسطاً 15سے 20 سال قبل فوت ہو جاتے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کی خراب جسمانی حالت ان کی بیماری کے ثانوی اثرات کے سبب ہے۔

مثال کے طور پر نفسیاتی امراض کی ادویات سے وزن بڑھنے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ مرض کے ساتھ مریض کے طرز زندگی میں بدلاؤ بھی ایک کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے افراد کے کم ورزش کرنے اور ناقص غذا استعمال کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ البتہ حالیہ سالوں میں سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا کہ شیزوفرینیا کے تازہ شکار افراد، جنہوں نے ادویات استعمال کرنا شروع ہی نہیں کی تھیں، جسمانی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ان کے مدافعتی نظام کا ردعمل زیادہ ہوتا ہے۔ کیا اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ شیزوفرینیا پورے جسم کی کوئی بیماری ہو؟ ہماری ٹیم نے شیزوفرینیا کے شروع ہونے کے بعد جسمانی تبدیلیوں کا جائزہ لیا اور ذہن کے اندر ہونے والی تبدیلیوں سے ان کا تقابل کیا۔ ہم نے مختلف تحقیقات سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔ سوزش، ہارمونز کی سطح، گلوکوز اور کولیسٹرول جیسے دل پر اثرانداز ہونے والے عوامل کی سطح کی جانچ کی۔ ہم نے دماغی ساخت، دماغ میں مختلف کیمیکلز کے تناسب اور ان کی سرگرمی کا جائزہ لینے والی مختلف تحقیقات سے ڈیٹا حاصل کیا۔

اس سے ظاہر ہوا کہ شیزوفرینیا میں اوائل ہی سے دماغ کی ساخت اور افعال میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ نیز اس سے جسم میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ ہم نے ان تبدیلیوں کا حجم معلوم کرنے کی کوشش کی۔ مشاہدے سے یہ امر سامنے آیا کہ شیزوفرینیا کی شروعات میں جتنی تبدیلیاں دماغ میں ہوتی ہیں اتنی ہی جسم میں ہوتی ہیں، جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ دراصل شیزوفرینیا پورے جسم کی بیماری ہے، اور اس کا علاج بھی اسی لحاظ سے ہونا چاہیے۔

تین ممکنہ وضاحتیں: ذہن میں تبدیلیوں کے ساتھ جسم میں تبدیلیوں کی تین ممکنہ وضاحتیں یا توجیہات پیش کی جا سکتی ہیں۔

اول، جسم میں پیدا ہونے والی کوئی بیماری یا خلل دماغ میں تبدیلیاں لاتا ہے جو بالآخر شیزوفرینیا کا باعث بنتا ہے۔ مثلاً بعض اقسام کے کینسر ، جن میں دافع جسم یا اینٹی باڈیزپیدا ہوتے ہیں، ذہن پر اثر ڈالتے ہیں جس سے نفسیاتی امراض جنم لیتے ہیں۔ اگر کینسر کے ٹیومر کو کاٹ دیا جائے تو نفسیاتی بہتری بھی ہوتی ہے۔

دوم، شیزوفرینیا سے جسمانی صحت میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر نفسیاتی امراض کے دوران پڑنے والا دباؤ سٹیرائیڈ ہارمون کورٹیسول کی سطح کو بڑھا دیتا ہے۔ کورٹیسول کی سطح کے بڑھنے سے وزن میں اضافے، ذیابیطس اور بلند فشار خون کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

سوم، شیزوفیرینیا اور جسمانی صحت کی علامات کی بنیادی وجہ ایک ہوتی ہے لیکن وہ مختلف میکانزم سے اثر ڈالتے ہیں۔

اس کی ایک مثال وہ عورت ہے جو ماں بننے والی ہے اور قحط سے گزر رہی ہے۔ اس کے بچے کو ذیابیطس اور شیزوفرینیا ہونے کا امکان زیادہ ہو گا۔ ماں میں غذائی کمی کی وجہ سے بچے کے ذہن کی نامناسب نمو شیزوفرینیا کا باعث بن سکتی ہے۔ ذیابیطس اس لیے ہو سکتی ہے کیونکہ ایسے بچوں میں گلوکوز کی جسمانی تحلیل کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ بہر حال شیزوفرینیا کی وجوہ اور نتائج کا پتا چلانے کے لیے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

تحریر: ٹوبی پلنجر (ترجمہ: رضوان عطا)۔

بشکریہ: دنیا نیوز