علاج بتانے کی چیز ہے ہی نہیں تو کیسے بتائیں۔ علاج کروایا جاتا ہے۔

اگر علاج پوچھنے سے مراد کسی مرض کی دوائی پوچھنا ہے تو اس کا بھی کبھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ دوائی بتانے سے کوئی مرض یا مریض ٹھیک ہو سکتا ہوتا تو سارے ہسپتال اور کلینک ویران پڑے ہوتے۔

جس طرح ہر کام کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اسی طرح ہومیوپیتھک علاج بھی ایک مکمل پراسیس ہے جس میں مرحلہ وار کام کیا جاتا ہے۔ حالات کے مطابق ایک دوائی کے بعد دوسری اور پھر تیسری کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔۔ اگر مسئلہ پرانا ہو تو اس کے علاج میں کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ اس دوران علامات کے مطابق کبھی دوائی تبدیل ہوتی ہے تو کبھی پوٹینسی اور کبھی خوراک ۔۔
اس پراسیس یعنی علاج کے آغاز میں تکلیف، مسئلہ اور مرض کے ساتھ ساتھ مریض کو بھی سمجھنا ہوتا ہے۔ مریض سے بے شمار سوالات جوابات ہوتے ہیں۔ یہ مرحلہ تیس چالیس منٹ اور بھرپور توجہ لیتا ہے۔ اس کے بعد کوئی گھنٹہ بھر ریسرچ کرنی ہوتی ہے۔ یہ وجہ ہے کہ میسیج یا فیس بک پر بیماری کا نام یا چند علامات بتا کر دوائی بتانا نا ممکن ہے۔ اس طرح جو دوائی بتائی جاتی ہے اُس سے فائدہ تو کچھ بھی نہیں ہوا کرتا؛ البتہ نقصانات یقینی ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ویسے بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مفت کے مشورے اکثر مہنگے ہی پڑا کرتے ہیں۔

کسی مریض کی صحیح دوائی، پوٹینسی اور خوراک کا فیصلہ کرنے کے لئے مریض کی مکمل تفصیل، پیدائش، بچپن، جوانی، خاندانی اور موروثی مزاج، اُٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، ملنا ملانا، ہنسنا کھیلنا، بھوک پیاس، پیار محبت، غصہ نفرت، پسند نا پسند، سردی گرمی وغیرہ وغیرہ کو ہر پہلو سے سمجھنا ہوتا ہے۔ بات چیت یا فون کال پر بات سے بات نکلتی ہے جو کہ میسیج میں ممکن ہی نہیں ہے۔

اس لیے یہاں پر علاج یا دوا پوچھ اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ اس مقصد کے لئے گوگل، ہومیوپیتھک سٹورز اور سوشل میڈیا پر بے شمار ہومیوپیتھک گروپ موجود ہیں۔

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور ۔ فون 03002000210