Blog

Children’s Diseases George Vithoulkas Homeopathic Awareness Homeopathy in Urdu Professional

صحت مند بچوں کی پیدائش کیسے ممکن ہے؟ جارج وتھالکس ۔ ترجمہ و تخلیص: حسین قیصرانی ۔ مہر النسا

[نوٹ: اِس آرٹیکل کی بنیاد مشہور یورپی مفکر، انجینئر اور انٹرنیشنل اکیڈیمی آف کلاسیکل ہومیوپیتھی کے فاونڈر پروفیسر ڈاکٹر جارج وتھالکس کے تحقیقی پیپر ?How can healthier children be born پر ہے]۔
 
یہاں پیش کیا جانے والا مفروضہ سالہا سال علاج معالجے کے دوران مختلف قومیتوں کے والدین سے تبادلہ خیال کے بعد پیش کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد مندرجہ ذیل دو بنیادی نکات پر بحث کرنا ہے۔
 
1۔ صحت مند بچوں کی پیدائش میں کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں؟
2۔ صحت مند بچے پیدا کرنے کے لئے والدین کا اپنی کن ذمہ داریوں سے آشنا ہونا ضروری ہے؟
 
پچاس سالہ پریکٹس کے دوران ایک سے زائد بچے رکھنے والے مختلف شادی شدہ جوڑوں کو زیر غور لایا گیا اور ایک بچے کا دوسرے بچے کی صحت سے موازنہ کیا گیا تاکہ ان عوامل پر غور کیا جا سکے کہ ایک ہی والدین کے ایک بچے کی  صحت دوسرے بچے سے بہتر کیوں ہے؟
 
گہرے مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ حمل ٹھہرنے کے وقت والدین کی آپس میں ذہنی اور جسمانی وابستگی بچے کی صحت میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ جنسی رابطے کے دوران والدین کی ذہنی، جسمانی، نفسیاتی کیفیات کی بھرپور انداز میں تسکین کے نتیجے میں جنم لینے والے بچے نہ صرف صحت مند ہوتے ہیں بلکہ والدین کی بہترین خصوصیات اپنے اندر لئے ہوتے ہیں۔ اس ریسرچ میں یہ فرض کیا گیا تھا کہ انسانی نسل کی تخلیقِ نو کے لیے یہ ضروری ہے کہ باہمی محبت پر مبنی ازواجی تعلقات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کی پیدائش  کو فروغ ملے۔
 
پس منظر:
نسل انسانی کی تخلیق نو ایک ایسا موضوع ہے جو عرصہ دراز سے زیر بحث رہا ہے۔ ایک مثالی انسان کی تخلیق کے لیے مختلف تجاویز پیش کی جاتی رہی ہیں جن کا مقصد ایک ایسے مثالی انسان کی تخلیق ہے جو ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی لحاظ سے بہترین خصوصیات کا حامل ہو۔ اگرچہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ تمام کوششیں بے سود ثابت ہوں گی  اور ایک آئیڈیل انسان کے بجائے عجیب الخلقت بچے جنم لیں گے۔
نسل انسانی کو از سرِ نو سنوارنے کے لیے زیادہ موثر اور فطری طریقہ موجود ہے  لیکن اس کے لیے  انسانی فطرت و جبلت اور نفسیات کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔
 
ابتدائی مشاہدہ:
مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک امریکہ، یورپ میں انتہائی سہل طرز زندگی اور بہترین طبی سہولیات میسر ہونے کے باوجود تیسری دنیا کے مکین زیادہ خوش حال اور آسودہ زندگی گزارتے ہیں ۔
 
اس فرق کی اہم وجہ یہ ہے کہ  ترقی پذیر ممالک میں  باہمی کشش اور محبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو زندہ رہنے کا موقع ملتا ہے جبکہ نام نہاد ترقی یافتہ ممالک میں ایسے غیر سنجیدہ قبل از وقت پہلی محبت کے نتیجے میں جنم لینے والے بچوں کو اسقاط حمل کے ذریعے ابدی نیند سلا دیا جاتا ہے۔
 
نوزائیدہ بچوں کی صحت میں مندرجہ ذیل عوامل کار فرما ہوتے ہیں:
 
۱۔  موروثی خصوصیات
۲۔  والدین کی میڈیکل ہسٹری، بیماری، حفاظتی ٹیکوں کا استعمال وغیرہ
 
ان دوعوامل پر خاطر خواہ کام کیا جا چکا ہے۔ اس لیے اس ریسرچ کا موضوع تیسرے بنیادی نقطے پر روشنی ڈالنا ہے۔ مختلف خاندانوں کے سالہا سال علاج کے بعد دیکھا گیا کہ ایک بچہ مکمل طور پر صحت مند جبکہ دوسرا بچہ  مسلسل بیمار رہتا ہے۔ ایک بچہ ملنسار اور ذہین ہے اور اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس دوسرا بچہ خاموش طبع، کم گو، غصیلا اور انتہائی حساس ہے۔ وہ لوگوں کا سامنا  کرنے اور اپنے جذبات کے اظہار کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔ ایک ہی خاندان کے دو بچوں میں اس قدر تضاد کیونکر ممکن ہے؟
 
بہت غوروغوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صحت مند بچوں کی پیدائش میں اس بات کی بے حد اہمیت ہے کہ والدین کی شادی (خاص طور پر عورت کے نقطہ نظر سے) لو میرج ہے، ارینج میرج ہے یا پھر  کسی مصلحت کے تحت  کیا جانے والا صرف ایک سمجھوتہ۔ باہمی مفادات کے لیے کی جانے والی ارینج میرج  میں پہلا بچہ جذباتی مسائل کا شکار ہوتا ہے جبکہ محبت کی شادی  کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں میں تیسرا یا چوتھا بچہ ان مسائل کا شکار ہوتا ہے کیونکہ اس وقت تک والدین میں محبت اور جذباتی کشش ماند پڑ چکی ہوتی ہے۔
 
اس مشاہدے سے یہ اندازہ ہوا کہ حمل ٹھہرنے کے دوران جب والدین ایک دوسرے کی محبت سے سرشار ہوں تو ایک “loveable child” کا وجود عمل میں آتا ہے اور یہ خوش نصیب والدین کی بہترین خصوصیات لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ارینج میرج میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ زیادہ مسائل کا شکار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شروع میں والدین ایک دوسرے کو بہتر طریقے سے نہیں جانتے؛ لہذا پہلے جنسی تعلق کے دوران والدین کے تحفظات و حساسیت اس بچے کی ذات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہے والدین ایک دوسرے کے قریب آتے جاتے ہیں۔ اس لیے اگلے بچے ذہنی اور جذباتی لحاظ سے تندرست اور متوازن ہوتے ہیں۔
 
والدین کے پہلے باہمی ملاپ کے دوران کی نفسیاتی کیفیات کے متعلق دریافت کرنے پراکثریت کے حافظے میں وہ کیفیت محفوظ نہیں تھی لیکن جو شادی شدہ جوڑے اس کیفیت کو یاد کرنے میں کامیاب رہے انہوں نے بیان کیا کہ اس وقت وہ باہمی محبت اور یگانگت کے جذبات سے مغلوب تھے۔ دیکھا گیا کہ ان شادی شدہ جوڑوں کے بچے والدین سے بھی زیادہ خوش شکل تھے اور یہ بچے والدین  کی بہترین جذباتی اور ذہنی کیفیات لے کرپیدا ہوئے تھے۔ آنے والے سالوں میں ان بچوں کو بہترین انداز میں پھلتا پھولتا دیکھ کر انہیں “children of love” قرار دیا گیا۔
 
مزید انکشافات:
کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے انسانی تخلیق و نشوونما  کے دو پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ انسانی تخلیق کے مراحل کے دوران عورت کے جسم میں کچھ کیمیائی مادوں کے خارج ہونے پر بچے کی نشوونما میں خلل (Teratogenesis) واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے بچے کسی نہ کسی جسمانی معذوری کا شکار ہوتے ہیں لیکن اس معذوری کے ازالے کے لیے وہ کوئی نہ کوئی متبادل راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔ بناوٹ میں کمی کا شکار بچے ایک متوازن زندگی گزارنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں جن کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔اگر جسم کے  حصے میں خون کی ترسیل رک جائے تو خون چھوٹی وریدوں کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ قدرت کا قانون ہے۔ اس قانون کے تحت بصارت سے محروم  افراد  کا جسم اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سننے اور سونگھنے کی حس کو بہت بڑھا  لیتا ہے۔  ہاتھوں سے محروم لوگ اپنے بہت سے کام  پیروں سے کرنے لگتے ہیں۔
اس ساری تحقیق نے ایک نئی سوچ کی ابتدا کی کہ اگر کوئی انسان ذہنی اور جذباتی سطح پر کسی کمی کا شکار ہو جائے اور اس کا دماغ اعلیٰ ذہنی کارکردگی سے محروم ہو جائے تو اس کی شخصیت میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ تخلیق کے دوران جسم مکمل طور پر نارمل ہو مگر نفسیاتی نشوونما میں کمی رہ جائے جس کے نتیجے میں ایسے بچے  پیدا ہوں جو چھوٹی عمر سے ہی مختلف خباثتوں اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہوں؟ 
اگر ایسا ہے تو اس کی کیا وجہ ہے اور اس کے ممکنہ نتائج سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
 
نامکمل نفسیاتی نشوونما:
ماڈرن ترقی یافتہ معاشروں میں آئے روز اخلاقی لحاظ سے  نہائت مسخ شدہ سوچ اور جذبات دیکھنے میں آتے ہیں۔ اس کی مثال ایک ایسا بچہ ہے جو دس سال کی عمر میں  اپنے کلاس فیلو کو گولی مار دیتا ہے۔ اس قسم کی مجرمانہ حرکت کا کوئی بھی جواز تلاش کرنے سے عقل و خرد قاصر ہے۔ لیکن اگر ایسے لوگوں کا نفسیاتی معائنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب ایک خاص قسم کے جذباتی عارضے کا شکار ہیں۔ کیا ہٹلر ایک انسان تھا یا نہائت ذہین  لیکن احساسات و جذبات سے مکمل طور پر عاری انسان کے نام پر عفریت تھا؟
 
اگرچہ مجرمانہ ذہنیت اور منفی رجحاانات شدید نفسیاتی عارضوں میں نظر آتے ہیں اور ان کی شدت بھی کم درجے کی ہوتی ہے مگر اس کے باوجود مغربی ممالک میں لاکھوں لوگ اس اذیت میں مبتلا ہیں۔ وہاں ایسے لوگوں کی فراوانی ہوتی ہے جو شدید اذیت پسند، بے رحم، غلط کاریوں کے عادی اور جنسی بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بھی اکثریت ہوتی ہے جن کے دماغ انسانیت اور انسانوں کے لیے منفی خیالات پنپنے کی آماجگاہ  ہیں۔ اب اگر ایک اور مثال لی جائے تو وہ ایسے بچوں کی ہے  جن کا “IQ” یا ذہنی قابلیت  بے مثال ہوگی۔ غیر معمولی، ذہین فطین اور ہمیشہ امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے ان بچوں کا اگر باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو  معلوم ہو گا کہ یہ بچے خاندان ،دوستوں اور معاشرے میں جذباتی طور پر کسی سے بھی وابستہ ہونے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ ان بچوں  کے دماغ  کا وہ حصہ بناوٹ میں نامکمل ہوتا ہے جو جذبات کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان بچوں کے جنسی جذبات کی نشوونما بھی صحت مند بچوں کی طرح نہیں ہوتی۔
 
ایک  اور مثال اس سائنسدان  کی ہے جس نے تمام تر ذاتی، جذباتی، معاشرتی اور جنسی تعلقات  کو مکمل طور پر ختم کر کے اپنا آپ کام کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ انٹرویو کے دوران اس کی بیوی بتاتی ہے کہ اس کا شوہر ایک بہترین  سائنسدان ہے لیکن اسے مائکروسکوپ، وائرس اور بیکٹیریا کے علاوہ اپنی زندگی میں کسی چیز سے سروکار نہیں۔ کام سے واپسی  پر وہ کھانا کھا کر کتابیں لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ دس سال اس ذہنی کوفت کا شکار رہنے کے بعد اس کی بیوی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ علیحدگی کا فیصلہ کر لیتی ہے۔
اصل میں یہ بہترین سائنسدان جذباتی گہرائی  کے احساس اور اس کی اہمیت سے ناآشنا تھا۔ اپنی جذباتی کمی اور کمزوری سے نمٹنے کے لیے اس نے ارادتاً اور قصداً اپنی ذہانت پر کام کر کے اسے اس حد تک بڑھا لیا  کہ وہ اپنی اور دوسروں کی نظروں میں سرخرو ہو سکے اور خود کو ایک اہم انسان ثابت کر سکے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح کے متعصب لوگ  اگر جسمانی تعلقات استوار کر بھی لیں تو اس کے جنسی تقاضے جذبات سے عاری ہو کر ایک مشینی انداز سے پورے کرتے ہیں۔
 
ہم اپنے ارد گرد ایسی خواتین دیکھتے ہیں جنھیں اپنی زندگی میں کبھی بھی محبت بھرے تعلق کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایک ایسی لڑکی ہے جو سمجھتی ہے کہ وہ بد صورت ہے۔ اس نے اپنی اس کمی کو پورا کرنے کے لیے  اپنی ذہانت پر کام کیا، خوب محنت کی اور سکول کالج یونیورسٹی میں سب سے آگے رہی۔ اس کے کلاس فیلوز اس کی تعریف کرتے جس سے اس کی اس سوچ کو تقویت ملتی کہ اس طرح اس نے اپنی کمی پر قابو پا لیا ہے اور وہ ایک متوازن زندگی گزار رہی ہے۔ اس نے خود کو پڑھائی کے لیے وقف کر دیا۔ سکول ،کالج اور یونیورسٹی ہر جگہ ٹاپ کیا۔ اس نے شادی نہیں کی لیکن 29 سال کی عمر میں یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئی۔ زندگی کی بہاریں گزرتی رہیں اور وہ محبت کے لطیف جذبے سے ناآشنا  ہی رہی۔
 
ان مثالوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دماغ کا وہ حصہ جو جنسی خیالات و احساسات پیدا کرتا ہے، پیدائش کے وقت ہی مکمل طور پر ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ دیگر مسائل کی بھی ایک نہ ختم ہونے والی لمبی فہرست شامل ہے۔
 
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ ایسی انسان نما عفریت کیوں جنم  لیتی ہے؟
انسانی جسم ذہنی سطح پر بھی ناکارہ حصوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کسی متبادل صلاحیت میں اضافہ کر لیتا ہے۔ ایسے لوگ ذہانت، مہارت اور کسی خاص فن کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں جو ان کو معاشرے میں قابلِ قبول مقام اور داد و تحسین کے لائق بناتا ہے لیکن اندرونی طور پر کسی روبوٹ کی طرح مہربانی، شفقت، محبت اور ہمدردی کی بنیادی خصوصیات سے مکمل طور پر عاری ہوتے ہیں۔ یہ جسمانی لحاظ سے مکمل اور صحت مند لوگ، لیکن جذبات سے یکسر غافل  لوگ نہ صرف اپنے لیے خطرناک ہوتے ہیں بلکہ ان کی اس کمی کا خمیازہ پورے معاشرے کو ایک بڑے پیمانے پر بھگتنا پڑتا ہے۔
 
مطلوبہ مفروضہ:
ان مشاہدات کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ قوانین قدرت سے پہلو تہی کرنے کی وجہ سے”teratogenesis” ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ انسانی تولیدی خلیوں (سپرم اور ایگ) میں نئے جنم لینے والے بچے کے لیے ذہنی، جسمانی اور جذباتی سطح پر ایک خاص کوڈ ہوتا ہے۔ ان مشاہدات سے یہ بات بہت اچھی طرح عیاں ہوتی ہیں کہ بچے کے اس خاص “کوڈ” پہ والدین کے ملاپ کے دوران کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی کیفیات واضح نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ عارضی لمحاتی کیفیات ساری زندگی کے لیے بچے کی ذات کا خاصہ بن جاتی ہیں۔
 
انسانی ملاپ یعنی جنسی تعلق کے دوران مختلف کیفیات:
اگرچہ انسانی ملاپ کی اتنی ہی صورتیں اور کیفیات ہو سکتی ہیں جتنے کرہ ارض پر انسان۔ یہ سب صورتیں منفرد ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں۔ اگرچہ تمام جسمانی تعلقات میں موروثی اور میڈیکل ہسٹری کا کردار بھی اثرانداز ہوتا ہے تاہم جسمانی ملاپ کا مطالعہ تین بنیادی صورتوں کے تحت کیا جا سکتا ہے۔
 
پہلی صورت:
یہ دو انسانوں کا ایسا خوبصورت اور مثالی ملاپ ہے جو اپنی زندگی کے ساتھی سے خوش ہیں۔ اس بہترین ملاپ میں دونوں میاں بیوی محبت، توازن اور تسکین کے مساوی درجے پر وارفتگی کی انتہا پر ہوتے ہیں۔ اس متوازن وصل کے دوران ایک ایسے “طفلِ محبت”  کا وجود عمل میں آتا ہے جو بہترین خصوصیات کا حامل، متوازن اور صحت مند ہوتا ہے۔
 
دوسری صورت:
یہ دو انسانوں کا صرف اور صرف جسمانی سطح پر جذبات سے عاری  بے معنی ملاپ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ دو لوگ وقتی جنسی کشش کی بنیاد پر ایک دوسرے کی طرف مائل ہوں اور اس مطلوبہ جنسی تسکین کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جائیں لیکن ذہنی و جذباتی طور ہرگز مطابقت نہ رکھتے ہوں بلکہ ایک دوسرے سے متضاد ہوں۔
اس تعلق سے پیدا ہونے والا بچہ والدین  کے ذہنی اور جذباتی سطح کے اختلافات لے کر پیدا ہوتا ہے اور ساری زندگی بیک وقت متضاد کیفیات کا شکار رہتا ہے۔ یہ بچہ ساری زندگی اپنے آپ کو مکمل محسوس نہیں کرتا اور پیدائشی طور پر غیر متوازن ہونے کے ساتھ ساتھ والدین سے جذباتی نا آسودگی ورثے میں لے کر پیدا ہوتا ہے۔ کبھی تو یہ بچے اس حد تک متاثر ہوتے ہیں کہ ایک ہی انسان میں دو متضاد شخصیات  کے وجود کا گمان ہوتا ہے۔ “Schizophrenia – Split Personality”  کے مریض ایسے ہی بچوں کی مثالیں ہو سکتے ہیں۔
یہ بچے جذباتی خامیوں کا شکار ہوتے ہیں اور ساری زندگی اسی ادھورے پن کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ باہمی محبت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کے برعکس یہ بچے کبھی اپنے آپ کو مکمل اور مطمئن محسوس نہیں کرتے۔
 
تیسری صورت:
یہ دو لوگوں کا ایسا جنسی ملاپ ہے جس کی بنیاد جنسی ہیجان یا اشتعال ہے۔ تشدد اور جارحیت  پہ قائم ہونے والے ان ازواجی تعلقات کا تولیدی خلیوں (ایگ اور سپرم) پر گہرا اور واضح نشان  رہ جاتا ہے۔ اس طرح سے پیدا ہونے والے بچے طاقت اور جارحیت کے زور پہ اپنی ذات کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں اور محبت حاصل کرنے کے لیے ایسی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں جن کا عملی طور پر حصول محبت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
 
 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ والدین ازواجی تعلقات  قائم کرنے سے پہلے اپنے آپ کو شادی شدہ جوڑے کی حیثیت سے کس مقام پر پاتے ہیں اور اس کا بچے کی صحت سے کتنا تعلق ہے؟
 
پہلی صورت کا  باقی دو صورتوں کے ساتھ موازنہ:
میاں بیوی کے ملاپ کی پہلی صورت میں دونوں باہمگی کی ایسی کیفیت سے سرشار ہوتے ہیں جہاں انا پرست خود آگاہی نہ ہونے کے برابر  ہوتی ہے۔ قدرت نے اس کیفیت کا پانے کا جو سب سے سہل طریقہ دیا ہے  وہ “باہمی محبت” ہے  جسے یونانی لفظ “Eros” سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی محبوب ہستی کے ساتھ یکجان ہونے کی شدید آرزو اور طلب ہے۔ یہ یکجانیت کی قطعی اور حتمی شکل ہے۔ اس طلب کی تسکین کی مادی سطح  پرعکاسی ازواجی تعلقات کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس طرح سے  پیدا ہونے والے بچے فطری طور پر انسانی نسل کی تخلیقِ نو کا سبب بنتے ہیں۔
 
ازدواجی زندگی کے آغاز میں “Eros”  کا تجربہ مشکل ہوتا ہے؛ خاص طور پر جسمانی سطح پر، جب ذہنی ہم آہنگی زیادہ نہیں ہوتی۔ اس دوران جذبات، احساسات اور دلفریب تخیلات کی آبیاری ہوتی رہنی چاہیے۔ پھر جب خواہشات کی تسکین کا فطری تقاضا پورے جوبن سے انسان پر حاوی ہو، گہری طمانیت اور مسرت کا ایسا احساس جس میں دونوں ایک دوسرے کے وجود کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے خودسپردگی کے عالم میں  ہوتے ہیں۔ یہ جذباتی تسکین ایک دوسرے کی ذات کو مکمل طور پر تسلیم کرنے سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ ذہنی اور جسمانی سطح پرمزاحمت کے بٖغیر آزادانہ ملاپ ہے جس میں خود آگاہی مکمل طور پر دم توڑ دیتی ہے۔ یہاں قدرت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دونوں ساتھی اپنی بہترین خصوصیات اور جذبات کو بروےکار لاتے ہوئے ایک نئے انسان کی تخلیق کا کام سرانجام دیں جو ہر لحاظ سے مکمل ہو۔ یہ جاندار، مثبت اور موافق جذباتی کیفیات بچے کی شخصیت کو توازن عطا کرتی ہیں۔
 
یہ کیفیات جنہیں یونانی لفظ “Eros” سے بیان کیا جاتا ہے، زیادہ دیرپا نہیں ہوتی اور 20 سے 30 سال تک ہی عروج پر رہتی ہیں جب والدین نوجوان اور تندرست ہوتے ہیں۔ صحت مند بچے کی تخلیق کے لیے بھی یہی وقت مناسب تصور کیا جاتا ہے۔
 
ایسی مثالی صورت حال تیز رفتار ترقی یافتہ معاشرے میں مقفود دکھائی دیتی ہے۔ جہاں صرف سہولت کی خاطر ایسے بچوں کی پیدائش کو ناکام اور ناممکن  بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں ایک غیرشادی شدہ جواں سال حاملہ کو یہ کہہ کر حمل ضائع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے “ابھی اس بچے کا باپ بے روزگار ہے” یا “ابھی تمہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے”۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی سہولت اور تن آسانی کے لیے یہ مفروضہ گھڑ لیتے ہیں کہ اس بچے کو دنیا میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
 
محبت بھرے رشتے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں اور ایک بے ربط اور  بے محل جنسی تعلق کی پیدوار میں واضح فرق ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک ایسے ساتھی کے ساتھ ممکن ہے جہاں ہر سطح پر ہم آہنگی اور حسن ترتیب ہو۔ افسوس کہ مغربی معاشرے میں اس امکان کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بد قسمتی سے زیادہ تر مغربی ممالک میں ایسے طرز زندگی کا فقدان ہے جہاں نسل انسانی کی تخلیق ِنو ممکن ہو سکے۔ ترقی یافتہ، تہذیب یافتہ مغربی ممالک میں تعلقات کی بنیاد پیار اور محبت  کی بجائے ذاتی مفاد پرستی اور خود غرضی ہے۔ اس وجہ سے ان معاشروں میں محبت بھرا ملاپ ناممکن ہے۔
 
یہاں یہ بات دلچسپی کی حامل ہے کہ آنے والے دنوں میں جدید دنیاوی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے ذریعے ہی نوعِ انسان  کی  تشکیلِ نو کے امکانات ہیں۔ یونانی، مصری اور ہندوستانی ادوار میں پائی جانے والی صفاتِ بنی آدم  بعد میں آنے والے انقلابی  دور میں یکسر غائب ہو گئیں۔ ان کی جگہ اس دور کے تہذیب یافتہ سماج نے لے لی جو اپنی حیوانی جبلت کی طرف لوٹ چکا تھا۔ ان کے جنسی تعلقات وقتی خوشی سے لے کر بے حسی  کی منازل طے کرتے ہوئے خوفناک تجربات میں ڈھل جاتے ہیں جن کے نتائج  زیادہ تر اسقاطِ حمل کی صورت میں نکلتے ہیں۔ اس  کے بعد اگر خاتون شادی کر بھی لے اور اپنے ساتھی کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہو تو متعدد حمل ضائع ہونے کی وجہ سے حمل ٹھہرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ پےدرپے حمل ضائع  ہونے سے رحم کی اندرونی تہہ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح کا شادی شدہ جوڑا ایک بھرپور تعلق سے محروم رہتا ہے۔ صحبت کے دوران خاوند ذہنی طور پر معاشی اور پیشہ وارانہ  مسائل میں الجھا ہوتا ہے اور بیوی کو اولاد نہ ہونے کی پریشانی نے گھیرا ہوتا ہے۔ اس طرح کی پریشانی اور سراسیمگی کے عالم  میں حمل کا ٹھہرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پریشانی اور  بے چینی کی کیفیات سے رحم کی اندرونی تہہ حمل کے لیے ناسازگار ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے پریشان شادی شدہ جوڑے جب علاج کے لیے آتے ہیں اور صحیح دوا تجویز کی جاتی ہے تو وہ خود بیان کرتے ہیں کہ “اب میں بہتر محسوس کرتا / کرتی ہوں”۔ یہی سکون اور ٹھہراؤ کی کیفیت حمل کے لیے نہائت موزوں اور سازگار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہومیوپیتھک دوا علاج سے بانجھ پن کے علاج  میں بہت مثبت اور کامیاب نتائج ملتے ہیں۔
 
دوسری  صورت کی ایک مثال میں ایک نوجوان لڑکی محبت کے نتیجے میں ٹھہرنے والے حمل کو کم عمری یا کئی دوسری وجوہات کی بنا پر ضائع کروا دیتی ہے اور اپنے محبوب سے بھی تعلق توڑ دیتی ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ نیا تعلق استوار کر لیتی ہے جس کا انجام بھی، عام طور پر، پہلے سے مختلف نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔ تیس سال کی عمر میں اسے اپنا من چاہا ساتھی مل جاتا ہے جس سے وہ شادی کر لیتی ہے۔ اس سارے عرصے میں یہ خاتون جذباتی اتار چڑھاؤ سے گزرتی  ہے اور اس دوران بہت سے جذبات اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنے ازواجی تعلق میں ذہنی وجسمانی وابستگی کی اس سطح تک نہیں پہنچ  پاتی جو اس کے لیے کامل تسکین کا باعث ہو جس کے نتیجے میں وہ بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکا ر ہو جاتی ہے۔ اس طرح کا بے ربط تعلق یا جذبات کا سپریشن اسے بیمار بنا دیتا ہے ۔
 
جدید معاشرے کے تقاضوں کے پیش نظر ہمارے گہرے اور بنیادی جذبات کو جڑ سے اکھاڑ کر کچل دیا جاتا ہے اور آخرکار یہ لطیف احساسات  ایک غیر حقیقی اور غیر فطری معیار زندگی  کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
 
اگلی مثال ایک خوب صورت، صحت مند اور خوش مزاج نوجوان خاتون کی ہے جو کچھ ناخوشگوار جذباتی تجربات کے بعد اپنا شباب اور شگفتگی کھو دیتی ہے۔ مسلسل غم اور عدم اطمینان رفتہ رفتہ اسے جذباتی طور پر بے حس بنا دیتے ہیں۔
 
بدعنوانی، دھوکہ دہی اور جنسی آزادی سے بھرپور معاشرے میں نوجوان اکثر وقت سے پہلے اور ضرورت سے زیادہ جذباتی بہاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ کسی بھی حوالے سے کشش محسوس نہیں کرتے۔ ایسے نوجوان جذباتی  لحاظ سے ناقابل تحریک  ہو جاتے ہیں اور ان کے احساسات منجمد ہو چکے ہوتے ہیں۔ بہت سی نوجوان لڑکیاں جذبات کو پسِ پشت ڈال کر  ایسے شریک حیات کا انتخاب کرتی ہیں جو صرف معاشی لحاظ سے مستحکم ہو۔ اس طرح وہ اپنی چاہتوں کا گلا گھونٹ کر سونے کے پنجرے میں زندگی گزار دیتی ہیں اور صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
 
جس جسمانی تعلق میں فطری جذبات کو نظرانداز کیا جائے اور خودغرضی اور لالچ غالب ہوں تو اس صورت حال میں پیدا ہونے والے بچے محبت، شفقت اور قوتِ تخلیق جیسے احساسا ت سے عاری ہوں گے۔ ایسے بچے انسانیت کی خدمت اور دوسروں کی مدد سے حاصل ہونے والی طمانیت کو محسوس کرنے سے محروم ہوں گے۔ بظاہر یہ تمام تصورات بہت سادہ  لگتے ہیں لیکن یہ ایک مضبوط معاشرے کی  بنیاد ہیں جنھیں موجودہ تعلیمی نظام یکسر نظرانداز کرتا ہے۔
 
ایک مثال کے ذریعے  ازواجی تعلق  کی تیسری صورت کی مثال پیش کی گئی ہے۔ ایک ایسی صورت حال  کو زیر غور لایا گیا جہاں شوہر شدید ہیجانی کیفیت کا شکار ہے اور بیوی کے جذبات مسل دئیے جاتے ہیں۔ اس طرح کے کیسز میں میاں بیوی کا ملاپ وحشیانہ کیفیات کا حامل ہوتا ہے۔ کام کے دباؤ سے پریشان یا شراب میں دھت شوہر گھر آتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی ہمسائے سے گپ شپ میں مصروف ہے۔ شوہر غصے سے پاگل ہو جاتا ہے اور بیوی کو بری طرح پیٹنے لگتا ہے۔ بیوی روتی چیختی ہے۔ یہ ساری صورت حال ایک جنسی ملاپ کی صورت میں اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔ اس دوران تخلیق پانے والا بچہ اپنے اندر وہی کیفیات لے کر پیدا ہو سکتا ہے جن سے ماں باپ اس ملاپ میں دوچار ہوتے ہیں۔
 
پہلی صورت میں ایک محبت بھرے لمحے میں وجود میں آنے والے بچے اپنے والدین کی بہترین جسمانی،  ذہنی اور جذباتی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسری اور تیسری صورت میں بچے ذہنی، نفسیاتی، جذباتی اور جسمانی سطح پر ایک غیر متوازن  ملاپ کے نتیجے میں جنم لیتے ہیں اور ماں باپ کے خصائل ان کی شخصیت میں نمایاں ہوتے ہیں۔
 
محبت سے بھرپور وصل سے پیدا ہونے والے بچے (children of love) سب سے زیادہ متوازن، مطمئن اور مسرور ہوتے ہیں۔ لوگوں سے گھل مل جاتے ہیں۔ تخریبی سرگرمیوں میں پڑنے کی بجائے زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی محبت سے مزین ہوتی ہے۔ اگر ایسے نوجوانوں کو سیاسی، عسکری یا سائنسی میدان میں کام کرنے کا موقع ملے تو یہ بہترین فیصلہ سازی کر سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ متعصب سماج میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اگر یہ کسی ریاست کے حکمران یا فوج کے سربراہ بن بھی جائیں تو عہدِ حاضر کا سیاسی و سماجی نظام انہیں قبول نہیں کرتا۔ ایک غیر مستحکم معاشرے کے سرمایہ دارانہ اور جنگی نظام کی سربراہی  کے لیے ایسے بچوں کو موزوں سمجھا جاتا ہے جو دوسری اور تیسری صورت  کے ملاپ کی پیداوار ہوں؛ جن کے والدین بے شک با مقصد تو تھے مگر خوش نہ تھے۔
 
دوسری صورت کے ملاپ سے تخلیق پانے والے بچے بہترین سائنسدان تو بن سکتے ہیں مگر یہ بچے ایک ادھورے پن کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ساری زندگی ایک ایسی سچی محبت کی کھوج میں سرگرداں رہتے ہیں جو ان کے والدین کی ازواجی زندگی میں مفقود تھی۔ ہر بچے کا اس محبت کی تلاش کا انداز الگ ہوتا ہے۔ یہ اپنے جذباتی ادھورے پن کو پورا کرنے کے لیے اپنی فیلڈ میں بے حد محنت کر کے سب پر سبقت لے جاتے ہیں اور تعریف و تحسین  پاتے ہیں۔
 
 تیسری صورت میں بچوں کے مجرمانہ کاروائیوں میں ملوث ہونے کے امکانات ہوتے ہیں کیونکہ ان  کے والدین  کا ازواجی تعلق تشدد اور جارحیت پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ اپنے جارحانہ اور فسادی رویے کے بل بوتے پر ہر جگہ اپنا لوہا منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
اگر ہم نسلِ انسانی کی تشکیلِ نو اور ایک صحت مند معاشرے کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ آنے والے بچے محبت کی پیداوار ہوں اور انھیں دنیا میں آنے سے پہلے ہی ضائع نہ کیا جائے۔
 
ماحصل:
انسانی نسل کی تخلیقِ نو کے لیے میاں بیوی کے ازواجی تعلق کے دوران  دونوں کی ذہنی و جذباتی حالت پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
 
آج کے نوجوان بچے بہت ہی چھوٹی عمر میں جنسی تعلقات استوار کر کے اپنی زندگی میں رونما ہونے والی سب سے خوب صورت جذبے اور احساس یعنی محبت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ سکول کالجز میں جنسی تعلیم دیتے ہوئے نوجوان نسل کو باریکی سے سمجھانے اور یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ “محبت” ایک ہیجانی جذبے کا نام نہیں ہے بلکہ اس سے بہت اوپرکی چیز ہے۔
 
20 سے 30 سال کی عمر سے پہلے جنسی خواہشات کی اندھا دھند تقلید سے اجتناب برتنا بہتر ہے۔ تاکہ صحیح وقت پر صحیح ساتھی کے ساتھ ازواجی تعلقات استوار کیے جا سکیں۔
 
کم سنی میں جنسی بے راہ روی  نہ صرف صحیح ساتھی کے انتخاب کو مشکل بناتی ہے بلکہ آنے والے سالوں میں اگر ایسا کوئی ساتھی مل بھی جائے تو اس کو پہچان پانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
 
والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو آگاہی فراہم کریں اور ایسے بچوں کو دنیا میں لانے کی حوصلہ افزائی کریں جو جسمانی طور پر صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور جذباتی طور پر متوازن ہوں اور آگے چل کر معاشرے کو مزید شکست و ریخت  سے بچانے کا سبب بن سکیں۔
 
خلاصہ کلام:
روزمرّہ زندگی میں ہمیں بہت سے ایسے بچے دیکھنے کو ملتے ہیں جن کی زندگی  کا سب سے بڑا مقصد اپنی نفسیاتی و جذباتی الجھنوں کا پہاڑ سر کرنا ہوتا ہے۔ وقت کے سیلِ رواں میں بہتے بہتے یہ عمر کی منازل طے کرتے چلے جاتے ہیں لیکن ان کی زندگی سے یہ بےنام تشنگی ختم نہیں ہوتی۔ ساری عمر اپنی زندگی کے پزل کو جوڑ کر تکمیل کی خواہش میں رہتے ہیں لیکن ساری زندگی اسی “ادھورے پن” کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
 
اچھے سے اچھا معاشرتی نظام، بہترین ڈگری، اور دولت کی فراوانی، غرض کوئی بھی چیز ان کی روح کی اس تشنگی کو کم نہیں کر پاتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بظاہر میں یہ نارمل لگتے ہیں لیکن ہمیشہ اپنی “تکمیل کی خواہش” اور اپنی ذات کے گم گشتہ حصوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ یہی ادھورا پن اور کمی آگے چل کر عدم تحفظ بن جاتا ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ یہ عدم تحفظ ان سے ایسے کام کروا جاتا ہے جس کی ان معصوم بچوں کے پاس کوئی منطق نہیں ہوتی۔
 
اس تحقیق کے غیر جانبدارانہ تجزیے کے بعد جو سب سے اہم وجہ معلوم ہوتی ہے وہ والدین کی ذہنی و جذباتی کیفیات کا “عدم اتحاد” ہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ خاندان، معاشرے اور ملک و قوم  کو یہ قابلِ رحم “بظاہر نارمل بچے” یا نفسیاتی و جذباتی طور پر صحت مند بچے دینے کا فیصلہ بہت حد تک والدین کے اختیار میں ہے۔ لہٰذا والدین پر یہ اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں صحت مند بچوں کی پیدائش کے لیے اپنے باہمی تعلقات کو مثبت ومضبوط بنا کر انسانی نسل کی تخلیقِ نو کے لیے اپنے فرائض سر انجام دیں۔
 
——————

Write a Comment