پچھلے ایک سال سے میرے بیٹے کو، جو کہ اب 13 سال کا ہے، او سی ڈی (Obsessive      Compulsive   Disorder) کی شکایت تھی۔ یہ شکایت پہلے کم تھی صرف ہر بات پر دعا کرنے کی۔ آہستہ آہستہ یہ وہم بڑھتا گیا۔ وہ ہر وقت وہم، وسوسوں، ڈر اور خوف میں رہنے لگا۔
یہ سوچ آئی ہے اور اب وہ سوچ آئی ہے۔ کہیں یہ سچ نہ ہو جائے۔ اللہ ایسے تو نہیں کرے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔
بعد میں یہ وہم بہت بڑھتا چلا گیا ۔۔۔ وہ ہر وقت کپڑے تبدیل کرنے لگا۔ لمبے ٹائم یعنی بہت دیر تک نہاتے رہنا تاکہ پاک ہو جائے۔ ہر وقت صابن سے ہاتھ دھوتے رہنا اور سینیٹائز کا بے دریغ استعمال کرنا۔
میرے بیٹے کے ہاتھوں کی جلد اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اس کی جلد ( SKIN) سے  خون تک نکلنے لگتا۔
پڑھائی کے دوران بھی وہ بہت وہم رہتا تھا۔ ایک ہوم ورک کو بار بار لکھتا رہتا۔ ٹائپ کرتے وقت اگر کوئی خیال آ جاتا یا کوئی غلط لفظ لکھ بیٹھتا تو اُس کو ڈیلیٹ کر کے دوبارہ بار بار ٹائپ کرتا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے۔ ڈاکٹر حسین قیصرانی کے دو ماہ کے باقاعدہ علاج سے میرے بیٹے کی او سی ڈی (OCD)  70 فیصد ٹھیک ہو چکی ہے۔ نہ ہی اب وہ ہر وقت اپنے کپڑے تبدیل کرتا رہتا ہے اور نہ ہی ہاتھوں کو بار بار دھوتا رہتا ہے، الحمد للہ۔