showcase demo picture

غیر مستقل مزاجی، مستقل بے چینی، ذہنی بے قراری اور کشمکش – ہومیوپیتھک علاج – حسین قیصرانی

(اِس کیس کی تحریر و کمپوزنگ محترمہ ربیعہ فاطمہ کی مرہونِ منت ہے)۔

پچیس سالہ نوجوان چارٹرڈ اکاؤنٹینسی (CA) کے آخری ماڈیول (Module) میں ہیں۔ اپنی بہت سی نفسیاتی، جسمانی اور جذباتی شکایات کے متعلق مشورہ کرنے کے لئے 5 جولائی کو تشریف لائے۔ نوجوان کئی قسم کے ذہنی اضطراب (Anxiety) میں مبتلا تھے اور آتے ہی انہوں نے کہا کہ اب میری بس ہو گئی ہے۔ طرح طرح کے وہم، خدشات اور فوبیاز، جن کی تفصیل ذرا آگے چل کر آتی ہے، نے ان کی زندگی کو کربناک بنا رکھا تھا۔ تعلیم اور مستقبل کے متعلق بہت سے منصوبے ادھورے یا پھر التوا کا شکار تھے۔ کسی کاروبار یا جاب میں زیادہ دیر دلچسپی برقرار نہیں رہتی تھی۔ اگرچہ بہت محنت اور لگن سے مکمل تیاری کے ساتھ کام شروع کرتے لیکن تکمیل کے مراحل تک پہنچنے سے پہلے ہی جوش و جذبہ ختم ہو جایا کرتا۔ کہنے لگے کہ اور تو اور کھانا بھی پورا نہیں کھاتا؛ پانی بھی تھوڑا بچا دیتا ہوں۔ ذہنی طور پر ایک مستقل الجھاؤ (Confusion) اور انتشار (Anxiety) کی کیفیت رہتی ہے۔
ذہنی اضطراب کے دورے (Panic Attacks) بھی پڑتے تھے۔ ان سے بچنے کے لئے انہوں نے کئی احتیاطی تدابیر بھی اختیار کر رکھی تھیں۔ ان احتیاطوں نے ان کی زندگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔ والد صاحب بہت ہی سخت طبیعت کے مالک تھے۔ یہی ایک اہم وجہ نظر آتی ہے کہ وہ بچپن سے ہی کم گو اور عدم اعتمادی کا شکار تھے۔ فطرت کی کرم گُستری سے ذہن رسا پایا تھا سو محرومیوں اور کمزوریوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا ڈھب سیکھ لیا تھا۔ خود اعتماد اور مضبوط نوجوان ہونے کا تاثر دینے کے لئے اپنے اوپر ایک سخت مزاج اور جابر شخصیت کا خول چڑھا رکھا تھا۔ کامیاب اور مصروف شخصیت نظر آنے کی کوشش میں مختلف مشکل قسم کے تعلیمی پراجیکٹ ہر وقت جاری رکھے ہوئے تھے۔ دوسروں کو متاثر کرتے رہنے کو اپنی جذباتی اور ذہنی تسکین کرنا ہی اب زندگی کا اولین مقصد بن کر رہ گیا تھا۔

اس نوجوان کے معمولاتِ زندگی، پسند نا پسند، سونا جاگنا، فیملی ہسٹری اور طور اطوار کو ڈسکس کیا (ہومیوپیتھی میں اِسے ہی کیس لینا کہتے ہیں) تو بہت سی کڑیاں اپنے آپ جڑتی چلی گئیں۔ وہ بہت خوبصورت، سمارٹ اور لمبے قد کا نوجوان ہونے کے باوجود اس قدر کم اعتمادی کا شکار تھے کہ ملاقات کے دوران ایک دفعہ بھی مجھ سے نظریں نہیں ملائیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ملاقات کے لئے ٹائم بھی خود نہیں لیا بلکہ اپنے بھائی سے فون کروایا۔ جب تشریف لائے تو بھی نہ صرف اپنے بھائی کو ساتھ لائے بلکہ وہیں موجود رہنے پر اصرار کیا۔

بچپن سے ہی، اگرچہ، شرمیلے مزاج کے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس شرمیلے پن کو چھپانے کا کمال انہوں نے فن سیکھ لیا تھا۔ اس کے باوجود زندگی میں قدم قدم پر خود اعتمادی کی کمی کا احساس ہوتا رہتا تھا۔ خاص طور پر امتحانات اور انٹرویو کے دوران انہیں انتہائی خوف اور ٹینشن کا سامنا ہوتا جسے کنٹرول کرنا ان کے بس کا روگ نہ ہوتا۔ مکمل تیاری کے باوجود انٹرویو پینل کے سوالوں کا جواب دینا، پیپر حل کرنا، مصروف سڑک پر گاڑی چلانا، نئی یا اچانک پیدا ہونے والی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا؛ حتیٰ کہ فون یا ڈور بیل کا بجنا ہی ان کے اعصاب کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ اُن کے مطابق یہ کسی عذاب سے کم نہ ہوتا؛ ذہنی اضطراب کا دورہ پڑتا اور دل کی دھڑکن تیز ہونے لگتی، خوف سے گردن اور پورے جسم کے پٹھوں میں کھچاؤ کی سی کیفیت ہونے لگتی۔ دماغ ماؤف ہونا شروع ہو جاتا، زبان سے الفاظ صحیح طرح ادا نہ ہو پاتے اور خود کو لکنت سی محسوس ہونے لگتی۔

سر درد (Migraine) اکثر ہو جاتا ہے۔ حافظہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ دل و دماغ میں ایک مستقل کنفیوزن کی کیفیت ہے۔ ہر وقت شیشہ دیکھنے کا شدید رجحان ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ان کو کئی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پڑتیں۔ مشکل صورتحال کا وقت سے پہلے ہی اندازہ کر لیتے اور اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے پوری منصوبہ بندی کرتے رہتے۔ امتحان اورانٹرویو کی تیاری بھرپور طریقے سے کرتے اور بار بار دہراتے رہتے۔ بڑے جوش و خروش اور جذبے کے ساتھ ہر کام کا آغاز ہوتا مگر عین تکمیل کے مرحلے پر اس کام کو ملتوی کر دیتے یا ختم کر دیا کرتے۔ بہت اچھی جاب جب سیٹ ہونے لگتی تو استعفیٰ دے دیتے۔ متحدہ عرب امارات میں بہت پرکشش ملازمت چھوڑ کر وطن واپس آگئے۔اعلٰی تعلیم یافتہ اور بین الاقوامی سطح پر تجربہ کار ہونے کے باوجود، عملاً، گھر میں بے کار ہو کر بیٹھ چکے تھے۔ کسی بہت مشکل تعلیمی پراجیکٹ کو جاری و ساری رکھنا چاہتے تھے۔ ان کے مطابق ان کے لئے قطعی مشکل نہ تھا کہ وہ چارٹرڈ اکاؤٹینسی (chartered accountancy) کا آخری سال بخوبی مکمل کر لیتے مگر جب امتحان پاس کرنے کی امید نظر آنے لگتی تو جان بوجھ کر پیپر خراب کر دیتے تاکہ کوئی نہ کوئی تعلیمی سرگرمی کے جاری رہنے کی دلی تسلی رہے اور دوسروں کو بھی متاثر کر سکیں کہ وہ بہت اعلٰی اور مشکل ڈگری کے حصول کے لئے سرگرداں ہیں۔ کھانے پینے کے بہت شوقین ہیں مگر اچھے سے اچھا کھانا بہت رغبت سے کھاتے کھاتے درمیان میں چھوڑ دیتے۔ بھوک ہونے کے باوجود اچانک ان کا موڈ خراب ہو جاتا اور بیزار ہو کر کھانا ادھورا چھوڑ دیا کرتے۔ شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہونے کے باوجود فیملی کی ذمہ داری اٹھانے سے گھبراتے۔ تعلیم جاری ہونے کا بہانہ بنا رکھا تھا تاکہ نہ تعلیم پوری ہو اور نہ ہی عملی زندگی کا آغاز کرنا پڑے۔ اپنی چالاکی اور عیاری سے اوّل تو دوسروں کو اعتراض کرنے کا موقع ہی نہیں دیتے تھے اور اگر ذرا سا شائبہ ہو جاتا کہ گھر میں کوئی انہیں بیکار ہونے اور ان کے جاب چھوڑنے پر تنقید کر رہا ہے تو لڑنے جھگڑنے پر اتر آتے۔ اپنے اردگرد کے لوگوں کے بارے میں بہت حساس ہو چکے تھے۔ طنز و مزاح بالکل بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ اپنا رعب و دبدبہ قائم رکھنے اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے گھر والوں سے بات بے بات الجھتے رہتے۔ دوسروں پر تنقید اور اعتراض کرتے رہنا بھی ان کی حکمت عملی کا حصہ بن چکا تھا۔

دوستوں اور رشتے داروں کی تنقید سے بچنے کے لئے ان سے میل جول منقطع کر چکے تھے۔ اگر کسی سے ڈیل کرنا مشکل لگے تو لڑائی جھگڑے اور مرنے مارنے پر اتر آتے۔ کبھی بہت زیادہ گفتگو کرتے اور کبھی تنہا کمرے میں بند ہونے کو ترجیح دیتے۔

اپنے اندر دوہری شخصیت کی موجودگی کا سا احساس رکھتے تھے۔ کبھی بہت زیادہ اعتماد کا احساس تو کبھی بہت ہی زیادہ کمزور شخصیت کے حامل نظر آتے۔ کبھی نازک مزاج، نرم طبیعت اور سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک بن جاتے تو کبھی بالکل ہی دوسری انتہا پر جا پہنچتے اور سب کچھ تباہ و برباد کردینے، رشتے ناتے توڑنے اور ہر چیز چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیتے۔ ضرورت سے زیادہ سوچ بچار کے عادی ہوتے جا رہے تھے۔ کلاس میں سوال پوچھنے سے پہلے سو بار سوچتے کہ سوال پوچھوں یا نہ پوچھوں۔ ایک ہی بات ہر وقت دماغ میں گھومنے لگتی اور اندر متواتر کشمکش چلتی رہتی۔ کبھی پچھتاوے کا شکار ہونے لگتے کہ فلاں جاب کیوں چھوڑ دی؟ فلاں ڈگری مکمل کیوں نہیں کی؟ زیادہ خرچ کر دینے کی فکر بھی دل و دماغ کو ڈسٹرب رکھتی۔ ہر وقت نقصان ہو جانے کا خوف لگا رہتا۔ غلط اور صحیح، گناہ اور ثواب کے چکر میں پڑے رہتے۔ یہ کام کروں یا وہ کروں؟ یہ کپڑے اچھے لگیں گے یا وہ زیادہ بہتر ہیں؟ بزنس کروں، جاب کروں یا تعلیم جاری رکھوں؟ اسی طرح کی سوچیں ہر وقت دماغ میں چلتی رہتی تھیں اور کوئی حتمی فیصلہ کرنا ممکن نہ رہتا کہ جس پر دل مطمئن ہو سکے۔

ہومیوپیتھک علاج اور دوائیں
(ہومیوپیتھی سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کے لئے)
مریض کا میازم واضح طور پر ٹیوبرکولینم (Tuberculinum Miasm) تھا اور دوائی بھی ٹیوبرکولینم بنتی تھی تاہم مجھے کیس کو روایتی طریقوں کے بجائے مگر اصولوں کے اندر رہتے ہوئے اپنی سوچ کے مطابق حل کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ مریض کی اہم علامات ہومیوپیتھک دوا اناکارڈیم (Anacardium) کی طرف راہنمائی کرتی نظر آتی تھیں۔ میرا پہلا انتخاب اناکارڈیم 200 صرف ایک خوراک ہی تھا۔ مریض کو واضح فائدہ ہوا مگر صرف ایک ہفتہ بعد بہتری کی رفتار رک گئی۔ یہی دوا اور پوٹینسی دوبارہ دی گئی جو دس بارہ دن تک ہی مفید رہ سکی۔ اناکارڈیم 1000 کی خوراک دی گئی جس سے مریض کو بہت فائدہ ہوا۔ معدے (Stomach) کے تمام مسائل بالکل ہی ٹھیک ہو گئے کہ جیسے تھے ہی نہیں۔ ذہن کی کنفیوزن اور یادداشت (Memory) ٹھیک ہو گئے۔ ذہن میں جاری کشمکش میں ٹھہراؤ آ گیا۔
باقی رہ جانے والی علامات سے ٹیوبرکولینم (Tuberculinum) نکھر کر سامنے آ گئی۔ اگلی نشست میں مریض کا اعتماد قابلِ دید تھا۔ اُن کے مطابق وہ بالکل ٹھیک ہو گیا ہے اور اب بالکل بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ آخر میں کلکیریا فاس بائیوکیمک (Calcarea Phos 6X) میں دی گئی۔ 20 ستمبر یعنی ایک ماہ سے مریض کوئی دوا نہیں لے رہا اور اُس کے بقول وہ بہترین صحت میں ہے۔ ماشاء اللہ!

فیڈبیک اور کیس (انگریزی) بھی علیحدہ سے آن لائن کیا جا رہا ہے۔

حسین قیصرانی – سائکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور پاکستان – فون 03002000210۔

FEEDBACK

Started homeopathy treatment 3 months before. During all sittings with Dr Hussain Kaisrani issues were discussed in detail. Found him very helpful during all session. Basically treatment was regarding two main issues which were problematic from last few years. but has been recovered in a very good way.

This includes overestimating different things and events. and this was more specifically with certain events of pressure. this issue has been resolved.

And other thing lack of concentration,which is now improved.no more giving attention to irrelevant things. as small and sudden noises are not irritating. also an improved temperament regarding daily routine work. respond to general events is fast and improved.no more foggy mind, more alert.

Physical issues that has been addressed and resolved less than three month
1 No more frequently disturbing headaches.
2 Change in temperature is not causing any body ache.
3 Also during traveling no fever like feeling and headache.
4 when wake up feel fresh and energetic.
5 confusion and dual mindedness is no more.
6 sleeping cycle is improved very much.
7 no more neck stiffness.
8 no issue of sweating.
9 different sudden noises are not problematic.

In addition to above mentioned issue something’s have been improved positively includes
1 Feeling positive change in stomach as well as thirst and appetite.
2 no more issue with heighty places.

This was to the point and positive feedback regarding Homeopathic Dr Hussain Kaisrani treatment.

Related Posts

Posted in: Cases, Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Mental Health
Return to Previous Page

Leave a Reply

Your email address will not be published.

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]