showcase demo picture

ہومیوپیتھک دوا کے انتخاب اور علاج میں مزاج کی اہمیت – حسین قیصرانی

انڈہ ایک یا دو؟
—————
ایک آدمی فلسفہ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے گھر واپس آیا۔ ناشتے کی میز پر بیوی نے اُس سے پوچھا:
“تم نے فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ اتنا عرصہ گھر سے باہر رہے اور ڈھیر سارا پیسہ خرچ کیا؛ اِس فلسفہ کا کوئی فائدہ تو ہمیں بتاو”۔
شوہر نے سامنے رکھے انڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“فلسفے کے ذریعے مَیں اِس انڈے کو ایک کی بجائے دو ثابت کر سکتا ہوں”۔
بیوی نے انڈے کو منہ میں رکھتے ہوئے کہا: “جو دوسرا انڈہ تم اپنے فلسفے سے ثابت کرو گے وہ خود کھا لینا”۔
—————

اِس لطیفے میں ایک مزاج “شوہر” کا ہے اور دوسرا بالکل مختلف مزاج “بیوی” کا۔ ہومیوپیتھک طریقہ علاج میں مزاج کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ فلسفی مزاج کا اِنسان اگر کسی مرض میں مُبتلا ہو گا تو اُس کی اہم وجہ اُس کا طرزِ زندگی اور اندازِ سوچ بھی ہو گا۔ یہ لوگ عام طور پر Introvert ہوتے ہیں۔ سوچوں، خیالوں اور اپنی دنیا میں گم رہتے ہیں۔ نہانے دھونے، لباس اور اپنی وضع قطع پر توجہ نہیں دیتے۔ شاعر، منصوبہ ساز، ادیب اورمصور اِسی اندازِ زیست کو پسند کرتے ہیں۔ جسمانی محنت یا ورزش سے ان کی جان جاتی ہے۔ ایسے مزاج کے لوگوں کی اکثر بیماریوں کا علاج ہومیوپیتھک دوا سلفر SULPHUR سے ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس “بیوی” کا مزاج ہے جو سیدھا، سادہ مگر عملی ہے۔ ایسے لوگ عملی زندگی میں مصروفِ عمل رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ عام طور پر یہ لوگ Extrovert، ملنسار اور لوگوں کے دکھ سکھ میں شریک ہونے والے ہوتے ہیں۔ فلسفیانہ مزاج کے لوگوں سے انہیں چِڑ سی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ فلسفیانہ باتوں، شاعری اور شاعروں میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ اُن پر طنز کے نشتر چبھونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ اُن کا موٹو ہوتا ہے:
“فلسفی” بحث مَیں نے کی ہی نہیں
فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

ایسے مزاج کے لوگوں کی اکثر بیماریوں کے لئے کہ جو “فضول اور بے عقلی” کی بات کو برداشت نہ کر سکیں بالعموم ہومیوپیتھک دوا اناکارڈیم ANACARDIUM ORIENTALE مفید ثابت ہوتی ہے۔

کلاسیکل ہومیوپیتھی میں مریض کے مزاج کو سمجھ کر دوا دینے کو CONSTITUTIONAL TREATMENT کہتے ہیں۔ اِس طرح جو دوا دی جاتی ہے وہ مریض کے تمام مسائل اور امراض کو محیط ہوتی ہے۔

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ – لاہور پاکستان – فون 03002000210۔

Related Posts

(Visited 18 times, 1 visits today)
Posted in: Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu Tagged: , ,
Return to Previous Page

Comments: ہومیوپیتھک دوا کے انتخاب اور علاج میں مزاج کی اہمیت – حسین قیصرانی

    Anonymous
    Commented:  November 9, 2017 at 6:33 PM
    اگر کان میں رات کے وقت سوتے ۂوے مکھی وغیره پڑ جاے تو کون ریمڈی کام کرے گی
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

About - Hussain Kaisrani

Hussain Kaisrani, The chief consultant and director at Homeopathic Consultancy, Lahore is highly educated, writer and a blogger kaisrani.blogspot.com He has done his B.Sc and then Masters in Philosophy, Urdu, Pol. Science and Persian from the University of Punjab. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic College, Lahore and is a registered Homeopathic practitioner from National Council of Homeopathy, Islamabad He did his MBA (Marketing and Management) from The International University. He is working as a General Manager in a Publishing and printing company since 1992. Mr Hussain went to UK for higher education and done his MS in Strategic Management from University of Wales, UK...
read more [...]

HOMEOPATHIC Consultants

We provide homeopathic consultancy and treatment for all chronic diseases.

Contact US


HOMEOPATHIC Consultants
Bahria Town Lahore – 53720

Email: kaisrani@gmail.com
Phone: (0092) 03002000210
Blog: kaisrani.blogspot.com
Facebook:fb.com/hussain.kaisrani
read more [...]