میں نے ایک فیملی فرینڈ کے کہنے پر ڈاکٹر حسین قیصرانی سے رابطہ کیا۔ میری طبیعت بہت خراب تھی۔ سانس کی تکلیف اتنی بڑھ چکی تھی کہ میرے لیے ڈاکٹر صاحب سے بات کرنا بھی مشکل تھا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب سے بات کرنے کے دوران مجھے اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی۔ مجھے لگا کہ وہ میری بات کو میرے نقطہ نظر کے مطابق سمجھ رہے ہیں۔ بات کرنے کے دوران میری سانس پھول رہی تھی لیکن ڈاکٹر صاحب نے بیزاری کا کوئی تاثر نہیں دیا۔ انہوں نے میری بات نہایت توجہ اور شفقت سے سنی۔ میں نے اپنی کیفیات کو تفصیل سے بیان کیا۔ اور اس طرح میرا علاج شروع ہوا۔

دوائی کے ساتھ میری سائیکوتھراپی (Psychotherapy) بھی جاری رہی۔ میں نے انھیں علاج کے سلسلے میں بہت فرض شناس پایا۔ انگلینڈ اور پاکستان کی ٹائمنگ میں بہت فرق ہے لیکن ٹائمنگ کا فرق بھی ڈاکٹر صاحب سے رابطہ پر کبھی اثر انداز نہیں ہوا۔ دن ہو یا رات مجھے جب بھی ضرورت محسوس ہوئی، ڈاکٹر صاحب کو میسر پایا۔ ان کا طریقہ علاج بے حد قابلِ تعریف ہے۔ میرے بہت ہی الجھے ہوئے مسائل کو بہت ٹیکنیکل انداز میں حل کیا۔

میری سانس کی تکلیف اب %90 بہتر ہے۔ میں آرام سے بات چیت کر لیتی ہوں۔ پہلے تو سانس اتنا پھولا (Short  Breath) رہتا تھا کہ کچھ کھانا بھی مشکل ہو جاتا لیکن اب میں سہولت سے کھانا کھاتی ہوں۔
میری نیند بالکل ختم ہو چکی تھی۔ میں آنکھیں بند کیے نیند کا انتظار کرتی تھی مگر میرا دماغ ہر وقت سوچوں میں میں گھرا رہتا تھا۔ اس لیے میرے لیے سکون سے سونا بھی ایک خواب ہو گیا تھا۔ مگر اب میں پہلے سے بہتر اور سکون والی نیند لیتی ہوں۔

میں بہت زیادہ انگزائٹی (Anxiety and Panic Attack) میں اور بے چین تھی۔ ہر وقت اپنے مسائل کے بارے میں سوچتی رہتی تھی (Overthinking) جس کی وجہ سے کوئی بھی کام بھرپور توجہ سے نہیں کر پاتی تھی۔ مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اب میں اپنے کام دل سے کرنے لگی ہوں۔ اپنی فیملی کے ساتھ وقت گزارنے لگی ہوں۔

پہلے غصہ (Anger) بہت آتا تھا۔ شور برداشت نہیں ہوتا تھا۔ مگر اب میں مطمئن رہتی ہوں۔ میری حساسیت (Hypersensitivity) میں بہت بہتری آئی ہے۔ میں چھوٹی چھوٹی بات پہ پریشان ہو جاتی اور اسے انا کا مسئلہ بنا لیتی تھی مگر اب مجھ میں غیر ضروری باتوں کو نظر انداز کرنے کی قابلیت پیدا ہو گئی ہے۔ میں خود کو پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس کرتی ہوں۔

 

ذہنی ٹینشن (Mental   Stress) ختم ہو چکا ہے۔ جن لوگوں کی وجہ سے میں نے ٹینشن (Tension  and  Depression) لی اور میری صحت بے حد خراب ہو گئی اب میں اُن باتوں کو ایشو نہیں بناتی۔ میں سمجھتی ہوں کہ اب میں پاکستان جا کر ان کے ساتھ اچھا وقت گزار سکتی ہوں۔ ان سے باتیں کر سکتی ہوں اور اپنی گاڑی بھی شئیر کر سکتی ہوں۔

 

میں ڈاکٹر حسین قیصرانی کی بے حد شکر گزار ہوں جن کی بھر پور محنت، توجہ اور لگن سے میں ایک بھرپور زندگی کی طرف لوٹ آئی(Back   to   Happy   and Healthy   Life)۔


 

حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان۔ فون 03002000210