ڈاکٹر بنارس خان اعوان، جنرل سیکریٹری، سوسائیٹی آف ہومیوپیتھس پاکستان
آج کے سمینار میں آپ کو خوش آمدید
اس بار مزید کچھ نئے ساتھیوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔
سوسائٹی آف ہومیوپیتھس جو بلاشبہ پاکستان کی سئنیر ترین سوسائٹی ہے اور اس کی سروسز ملک کے اندر کسی بھی دوسری سوسائٹی یا ایسوسی ایشن سے کم نہیں۔ اور جس پابندی اورتسلسل سے سوسائٹی سال میں دو بار سیمینار کا انعقاد کروا رہی ہے اس کی مثال کہیں اَور نہیں ملتی۔ ہم سوسائٹی کے صدر، محترم محمد زبیر قریشی کے بھی ممنون ہیں کہ انتہائی مصروف رہتے ہوئے بھی وہ اپنے مشن کو نہیں بھولتے۔ اور ان کی ٹیم کے دست راست محترم خالد صادق صاحب کا بھی شکریہ۔ آپ کی Energatic
شخصیت پلان Activate کرنے میں useful رہتی ہے۔ ہم سوسائٹی سے Do More کی Demand تو نہیں ،Request ضرورکر سکتے ہیں۔
اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں ، میں یہ بات پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ ایجوکیشن اور کوالٹی کے لحاظ سے ہمارے سیمینار کسی بھی دوسرے سیمنیارز سے کسی صورت کم نہیں اور یہ کریڈٹ بھی زبیر قریشی صاحب کو جاتا ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بہت عرصہ سے انڈیا سے کوئی سکالر ہومیوپیتھ نہیں آ سکا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انڈیا سے ہمارے تعلقات کی کشیدگی ہے۔ اس بار بھی ہم آخر وقت تک کوشش کرتے رہے، لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔ لیکن ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اور یہ جو Learning Process ہے، اسے جاری رہنا چاہیے اور اللہ کے فضل سے جاری ہے۔
چونکہ وطن عزیز میں ہومیوپیتھس اور ہومیوپیتھی دونوں کسمپرسی کی حالت سے گذر رہے ہیں جس کے اسباب بے شمار ہیں، ہم ان کی تفصیل میں نہیں جاتے۔
سوسائٹی اپنے پلیٹ فارم پر کسی کی leg Pulling یا منفی پروپیگنڈہ پر یقین نہیں رکھتی۔ بلکہ مثبت انداز میں اور مستقل مزاجی سے ہومیوپیتھک مشن کو آگے بڑھانے پر نہ صرف یقین رکھتی ہے بلکہ عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔
موقع کی مناسبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ سے کچھ باتیں Share کرنا چاہوں گا۔
سوسائٹی ہر سیکھنے والے کو اپنے پلیٹ فارم پر خوش آمدید کہتی ہے۔ آپ سے گذارش ہے کہ خود بھی اس کی ممبر شپ حاصل کریں اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ کیونکہ علم ایسی شے ہے جو اکیلے اور لا تعلق ہو کر نہیں سیکھا جا سکتا۔ اسے Share کرنا ہوتا ہے۔ اگر آپ سیکھنا چاہتے ہیں تو share کرنا سیکھیں۔ اگر ہمارے پاس ہومیوپیتھک نالج نہیں تو ہمارا پریکٹس کرنا نہ کرنا بے کار ہے۔پھر ہماری کوئی شناخت نہیں۔
دماغ کے ساتھ دل کا دروازہ بھی کھلا رکھنا ضروری ہے کیونکہ Deduction ہو گی تو Induction ہو گی۔
جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں ہومیوپیتھی جاننے یاد کرنے یا رٹا لگانے کا نام نہیں ہے۔ اسے تو سمجھنا ہے، اس کا ادراک کرنا ہے اسے Perceive کرنا ہے۔
Any fool can know. The point is to understand.
Albert Einstein
آپ میں سے جو ساتھی ابھی نئے ہیں یا پریکٹس میں آئے ہوئے دو تین سال ہوئے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ روڈ میپ بنائیں۔
اگر اس سال آپ نے سو دوائیں استعمال کی ہیں تو اگلے سال ان کی تعداد ڈبل ہو جانی چاہیے۔
اگر اس سال آپ نے دس کتابوں کا مطالعہ کیا تو اگلے سال ان میں پانچ کا اضافہ ہونا چاہیے۔
اگر اس سال آپ نے پانچ ہزار مریض دیکھے ہیں تو اگلے سات ہزار دیکھ سکیں۔
حصول علم کے لئے اگر اس سال آپ نے دو شہروں کا سفر کیا تو اگلے سال تین کا کریں۔
ہومیوپیتھک Friendship میں اضافہ کریں۔
غیر ضروری Social Activities کو کم کر کر کے زیادہ وقت Study پر Invest کریں۔
آج اگر آپ کے پاس سائیکل ہے تو 2015 میں Bike اور اللہ چاہے تو 2020 میں سوزوکی کار تو آ جانی چاہیے۔
اور اگر ایسا نہیں ہے تو سوچیں اور غور کریں، کہیں نہ کہیں کوئی رکاوٹ ہے، کوئی Obstacle ہے۔ اور آپ دیکھیں گے کہ وہ Obstacle آپ کی ذات کے اندر ہی ہو گی۔ اسے تلاش کیجیے اور دور کیجیے۔
آپ کا گراف Desend نہ ہو ،Ascend ہو۔
اور اگر آپ ایسا کر سکیں، اگر آپ ہومیوپیتھی کو اوڑھنا بچھونا بنا سکیں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کا مستقبل روشن، آپ کا ضمیر مطمئن اور آپ کے وقار میں اضافہ ہو گا۔
ورنہ بہت سارے ساتھی ہیں، جب انہیں ملو اور حال پوچھو تو جواب میں کہتے ہیں
وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔
ہمیں ایسا نہیں کرنا، ہمیں Detrack نہیں ہونا،ہم نے شارٹ کٹ نہیں ڈھونڈنے۔
آپ ساتھیوں کو میرا مشورہ ہے کہ اپنی روزمرہ پریکٹس میں Computer soft ware کو Introduce کرائیں۔ کتابوں سے Consult کرنا بہت Time consuming ہے۔ سافٹ ویر کی مدد سے آپ کا

Time save ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے آپ کو گائیڈ لائن کی ضرورت ہو تو مجھ سے مشورہ کر سکتے ہیں۔
جب تک ہماری پریکٹس Result Oriented نہیں ہو گی۔ ہم سوسائٹی میں کوئی مقام حاصل کر سکیں گے اور نہ حکومت ہمیں گھاس ڈالے گی۔ محض کرپشن کا رونا رونے سے کام نہیں چلے گا۔
ضرورت ہے ایسے مخلص ساتھیوں اور تنظیموں کی ہے جو نفع و نقصان سے بے نیاز ہو کر تعلیمی مشن کو لے کرآگے بڑھیں۔
As a Gen. secretary of Society of Homeopaths Pakistan
میں ایک بار پھر آپ کو آج کے Educational seminar میں خوش آمدید کہتا ہوں۔

اور جیسا کہ میں ہر بار اپنی Services کی پیش کش کرتا ہوں۔ Students اور Layman ہومیوپیتھس مجھ سے بذریعہ Cell ،skype اور Facebook فری Consultation لے سکتے ہیں۔
SMS کے حوالے سے عرض کروں
مجھے کچھ SMS ایسے ملتے ہیں۔ جو مجھے حیرانیوں میں ڈال دیتے ہیں۔۔ ایک دو Sample آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
ٖڈاکٹر صاحب ھیپاٹائٹس کی کوئی اچھی سی دوا بتا دیں جس سے مریض فوری ٹھیک ہو جائے۔ پیریڈز نہیں ہو رہے، پلسٹیلا دی تھی، اب کیا دوں؟
کبھی سوال پوچھا جاتا ہے۔۔
ایک خاتون ہے اس کو دس سال ہو گئے کوئی اولاد نہیں ہے، کیا کریں۔ ان سے پوچھو مریضہ کی کوئی علامات؟ جواب ملتا ہے سب اچھا ہے کوئی اور شکایت نہیں ہے۔ کھانا پینا ٹھیک کر رہی ہیں ۔بس پٹھے درد کرتے ہیںْ

ایک ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے دوا پوچھی؟
کوئی ایسی دوا بتائیں جس میں Platelets کم ہو جاتے ہیں
میں نے جواباً Crot. Hor sms send کیا۔
پھر پوچھا گیا؟ اس دوا کو کس کتاب میں سٹڈی کیا جائے؟
میں نے لکھا۔۔ میٹیریا میڈیکا کی کسی بھی کتاب میں
سوال آیا؟ یہ کتاب کہاں سے مل سکتی ہے؟ نیز اس کے مصنف اور پبلشر کا نام بھی لکھیں
ہائے کیا بات تھی جس بات پہ رونا آیا۔۔
میں نے آپ کا کافی وقت لیا۔دراصل میں اپنے اندر کی بے قراری اور اداسی کو آپ کے ساتھ Share کرنا چاہتا تھا
کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ Participent میں جو خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہیے تھا، وہ ہو نہیں رہا۔ اس کی وجہ یہ کہ ہم خود متاثر
نہیں ہو رہے، ہماری Vital Forec Stimulate نہیں ہو رہی۔ ورنہ ہم ضرور دوسروں کو بھی دعوت دیتے۔ ہم
ہومیوپیتھی کے سفیر ہوتے۔ میری دعا ہے۔کہ اللہ آپ کے بحر کی موجوں میں اضطراب پیدا کر دے۔ اور ہومیوپیتھی کا سچ آپ پر آشکارا کر دے۔

میں ڈاکٹر زبیر قریشی صاحب سے بھی درخواست کروں گا کہ سیمینار کو ایک کی بجائے دو دن کا رکھا کریں اور دوسرا دن Live cases لیں اور Open discussion رکھیں۔ اور ایک گھنٹے کا written Test رکھیں۔ اور ٹاپ کرنے والے تین ساتھیوں کو معقول انعام دیا جائے۔
بلکہ میں موقع کی مناسبت سے یہ درخواست بھی کروں گا کہ وہ سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے Academy of Classical Homoeopathy کے قیام کا بھی اعلان کریں جہاں مستقل بنیادوں پر Young Doctors کو سیکھنے اور Experienced doctors کو Knowledg share کرنے کا موقع ملے۔
ایک ہومیوپیتھ کے لئے محض کالج کی تعلیم پر بھروسہ کر کے بیٹھ جانا ناکافی ہے۔
اور میں سمجھتا ہوں یہ اکیڈمی ایک جانب سوسائٹی کی نیک نامی کا سبب بنے گی، دوسری جانب ہومیوپیتھس کو فائدہ ہو گا، تیسری
جانب Result oriented practice سے عوام اور حکومت کی نظروں میں ہمارے اعتبار اور وقار میں اضافہ ہو گا۔
میرے لہجے کی تلخی اگر کسی ساتھی نے محسوس کی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔
میں نے جو کچھ یہاں بیان کیا، نیک نیتی سے، آپ اور Profession کی بہتری کے لئے بیان کیا۔
میری دعا ہے کہ اللہ آپ کی پریکٹس میں مریضوں کے لئے شفایابی رکھ دے۔
میں امید کرتا ہوں کہ اگلی بار انشاء للہ جب ہم ملیں گے تو آپ دوستوں کے تعاون سے یہ تعداد ڈبل ہو گی۔۔
آپ سب کی تشریف آوری کا بہت شکریہ۔