ڈاکٹر بنارس خان اعوان، واہ کینٹ
آج صبح ایک خاتون آئی۔ غیر شادی شدہ۔ منہ کا ذائقہ خراب،عجیب سا ہے۔ جیسے کسی جلی ہوئی شے کا ہو۔ لیکن میں اپ کو مزید واضح نہیں سکتی کہ کیسا ہے۔ اور ایک ہفتہ سے ایسا ہو رہا ہے۔
میں نے باقی جو بھی سوالات کیے اس نے خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ مطلب مجھے کوئی رہنما علامت نہیں ملی۔ ہر بات میں اس کا جواب، نہیں اور کچھ نہیں۔ اللہ کا شکر ہے۔ بس بھوک کم لگتی ہے۔ پیاس نارمل۔ ہاضمہ، نیند،غذا کی پسند ناپسند، پسینہ۔ حیض نارمل۔ کوئی غذا کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ کوئی کمی بیشی نہیں۔ بس آپ مجھے منہ کا ذائقہ ٹھیک کرنے کی دوا دیں۔
اس کی ساتھ والی نے کہا، بتاؤ نہ پیاس بھی کم ہے۔
میں نے دیکھا میرے ہر مزید سوال پر اس کے چہرے پر ناپسندیدگی اۤتی جا رہی تھی۔ غذا کے حوالے سے اس کے ساتھ اۤئی ہوئی خاتون نے کہا یہ نمک ذرا زیادہ ڈالتی ہے۔ میں دوا دینے سے پہلے تین سوالات مزید کیے۔
کیا آپ کے چہرے کی جلد چکنی ہے؟
جواب:  ہاں
اپنی باتیں دوسروں سے شئیر کرتی ہیں؟
نہیں
غصے کی حالت میں اگر کوئی دم دلاسہ دے تو؟ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس کی ساتھ والی بول پڑی۔ ہم اس کے نزدیک ہی نہیں جاتے۔ ورنہ بات بڑھ جاتی ہے۔
اس کے بیٹھنے کا انداز، غیرمعمولی سنجیدگی اور متانت، جواب دینے میں کنجوسی۔
میں نے ایک بار ایک ایسی بات کی کہ کوئی اور ہوتا تو ہنس پڑتا یا کم از کم مسکرا ضرور دیتا۔ اس کے ساتھ والی خاتون مسکرا دی لیکن مریضہ ٹس سے مس نہیں ہوئی۔
میں نے اس کے ناخن دیکھنے کی غرض سے ہاتھ آگے کرنے کو کہا تو  نہایت بد دلی سے ہاتھ بڑھایا اور فوری پیچھے کھینچ لیا۔ میری اسسٹنٹ نے بلڈ پریشر دیکھنے کے لیے عبایا جو موٹا تھا اوپر کرنے کو بولا تو اس نے کہا میرا بی پی ٹھیک ہے، رہنے دو، چیک کرنے کی ضرورت نہیں۔
علامات کے مطابق اس کی دوا شاید پلسٹیلا بنتی۔ لیکن میں نے مریضہ کی سٹیٹ پرنیٹرم میور دس ایم سنگل ڈوز اور ایک ہفتہ کی دوا دے کر رخصت کیا۔
دیکھیں اگلے ہفتے کیا نتیجہ آتا ہے۔