ہومیوپیتھک علاج کی ناکامی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ہومیوپیتھی میں میرے گرو ڈاکٹر جارج وتھالکس (George Vithoulkas) کی نظر میں یہ دو وجوہات بہت ہی اہم ہیں:
۔۔ ایک یہ کہ مریض اپنی پوری علامات نہیں دیتے یا نہیں دے پاتے۔
۔۔ دوسرے یہ کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر اپنی جلد بازی، کم علمی یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے مکمل علامات نہیں لے پاتا۔

ہومیوپیتھک کیس ٹیکنگ، تشخیص اور علاج بے پناہ محنت، مطالعہ اور تحقیق کا معاملہ ہے۔ جو لوگ ہومیوپیتھی کو صرف دوائی لینا سمجھتے ہیں؛ اُن کو واقعی کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہ بے جا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ٹاپ ہومیوپیتھک ڈاکٹر (Top Homeopathic Doctor) سے علاج بھی کروایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اُن کو کون سمجھائے کہ چند علامات یا صرف بیماری کا نام بتا کر ہومیوپیتھک دوائی پوچھنا یا کھانا ہومیوپیتھک علاج ہے ہی نہیں تو اس کی کامیابی کی توقع کیسے کی جاتی ہے۔

رہا میرے علاج کی کامیابی کا معاملہ تو عرض ہے کہ اولاً یہ بات صحیح نہیں ہے کہ میرا علاج ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ میرے اکثر مریضوں کی صحت واضح بہتر ہو جاتی ہے تاہم بہت ساروں کو فائدہ نہیں بھی ہوتا۔ میرا یا معالج کا کام اصولوں کے مطابق پورے خلوص، توجہ اور محنت سے علاج کرنا ہے اور بس۔ رزلٹ کا اختیار ہمارے پاس نہیں ہے۔

میں صرف اُن مریضوں کا کیس لیتا ہوں جو علاج کے تقاضے پورے کرنے میں پوری طرح سے سنجیدہ ہوں۔ اگر کوئی مریض خود کیس نہیں دیتا یا اپنے مکمل معاملات یا فیڈبیک سے آگاہ نہیں کرتا تو اُس کا کیس لینے سے معذرت کر لیتا ہوں ۔۔۔ چاہے وہ کتنی ہی بڑی رقم کی آفر کرے یا منت سماجت کرے۔کئی خواتین و حضرات کی مجھ سے ناراض ہونے کی یہی وجہ ہے۔

میرا موقف یہ ہے کہ علاج کی یقینی ناکامی کے بعد ناراض ہونے سے بہتر ہے کہ وہ بغیر علاج کروائے ناراض ہو جائیں۔

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور ۔ فون 03002000210