About

Hussain Kaisrani

September 2020

مسائل اور اُن کا حل

By |2020-09-17T00:48:55+05:00September 17, 2020|Categories: About, Homeopathic Awareness, Homeopathy in Urdu, Mental Health|

بھوک، پیاس، پیٹ خرابی، معدے کے مسائل میگرین، سر درد، اعصابی درد قبض، بواسیر، فسچلا، فشرز شدید غصہ، غم، کڑھنے رونے کا مزاج بچوں کے مسائل، بدمزاجی، بار بار بیمار ہونا نزلہ، زکام، بخار، چھینکیں اور الرجی شیاٹیکا، کمر اور جوڑوں کے درد محبت میں ناکامی کا دکھ، دھوکا اور غم منفی سوچیں، وسوسے، وہم، الجھن، کنفوژن، کشمکش، بھولنے کی بیماری نیند کے مسائل، ڈراونے خواب، صبح تھکا ہارا  اور آوازار اُٹھنا  خدا نخواستہ اگر ایسے کسی مسئلہ نے آپ کو تنگ کر رکھا ہے اور عام دوائیوں سے حل نہیں نکل رہا تو آپ کو کسی ماہر اور تجربہ کار کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے اپنا کیس ڈسکس کرنا چاہئے۔ ہومیوپیتھی میں تین ہزار (3000) سے زائد ادویات موجود ہیں۔ اِس لئے بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے۔ حسین قیصرانی – سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ، لاہور پاکستان ۔  فون 03002000210

August 2020

آپ مریض کے مزاج اور تکلیفوں کا بڑا ذکر کرتے ہیں مگر بیماریوں کے ناموں کا نہیں۔ ایسا کیوں؟ ۔۔۔ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔۔ حسین قیصرانی

By |2020-08-11T00:55:47+05:00August 8, 2020|Categories: About|

 ہومیوپیتھی علاج کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس میں صرف مرض، بیماری یا تکلیفوں کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ مریض کا علاج ہوتا ہے۔ کیس ٹیکنگ، مریض کے ہر پہلو کو مدِ نظر رکھ کر کی جاتی ہے۔ ہم مریض کی اُس صلاحیت (مدافعاتی نظام، امیون سسٹم، وِل پاور، وائٹل فورس) کو سمجھتے اور متوازن کرتے ہیں جو قدرت نے ہر انسان کے ساتھ اُس کے پیدائش کے ساتھ بھیجی ہے۔ ہومیوپیتھک دوائی بلکہ پوٹینسی کا کام مرض کو ٹھیک کرنا نہیں بلکہ امیون سسٹم یا وائٹل فورس کو پیغام دے کر متحرک کرنا ہے۔ اگر اُس سسٹم یعنی امیونیٹی کے اندر صلاحیت موجود ہے یا ہومیوپیتھک دوائی سے اُبھاری، بوسٹ یا متوازن کی جا سکتی ہے تو وہ طاقت یعنی قدرتی امیون سسٹم مریض کو ٹھیک کر دیتی ہے چاہے مرض کوئی بھی ہو یا بیماری کا نام کچھ بھی ہو یا اناٹومی فزیالوجی، میڈیکل سائنس، لیب رپورٹ کچھ بھی کہتی ہو۔ اِس لئے ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی زیادہ توجہ مریض کی اندرونی طاقت یعنی امیون سسٹم کو سمجھنے پر ہوتی ہے۔ مرض یا بیماریوں کے نام ایلوپیتھک سسٹم کا خاصا ہیں۔ ہومیوپیتھک سسٹم میں بھی مرض یا بیماریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن صرف بیماریوں کے [...]

کیا آپ علاج کی کامیابی یا بیماری ٹھیک ہونے کی گارنٹی دے سکتے ہیں؟۔۔۔ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔۔ حسین قیصرانی

By |2020-08-08T00:18:46+05:00August 7, 2020|Categories: About|

میں صرف ایک معالج ہوں اور ہومیوپیتھی اصولوں کے مطابق علاج کرتا ہوں۔ ہر مرض یا مریض ٹھیک کرنا نہ ہومیوپیتھی سے ممکن ہے اور نہ ہی میرے جیسے محدود صلاحیتوں والے انسان کے بس کی بات ہو سکتی ہے۔ میرا مقصد گارنٹی کے فضول دعوے کر کے مریض جمع کرنا اور اُن سے پیسے بٹورنا نہیں۔ مشکل کیس پکڑ کر مریض کی بحالی صحت کے لئے دن رات محنت کرنا؛ میں نے اپنا شعار اور مشن بنایا ہے۔ اپنی اس محنت کا بھرپور معاوضہ لینا اپنا حق سمجھتا ہوں اور لیتا ہوں۔ عموماً صرف وہی کیس لیتا ہوں کہ جو کسی دوسرے طریقہ علاج یا ڈاکٹرز سے حل نہ ہو رہے ہوں۔ علاج شروع کرنے سے پہلے کم و بیش تین گھنٹے تک ایک کیس پر لگا دیتا ہوں۔ کبھی کبھار تو کئی کئی دن بھی لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دن میں پانچ سے زیادہ نئے مریض نہیں لیتا۔ اس قدر محنت کے باوجود کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ پروردگار برکت ڈال دے اور مریض تعاون کرے تو کمالات بھی ہو جاتے ہیں ورنہ مناسب حد تک فائدہ، بالعموم، ہو ہی جاتا ہے۔ کسی بھی علاج میں گارنٹی نہیں دی جاتی کیونکہ رزلٹ کا اختیار میرے [...]

July 2020

ہومیوپیتھک علاج ناکام کیوں ہوتا ہے مگر آپ کا علاج کامیاب کیسے؟ ۔ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔ حسین قیصرانی

By |2020-07-28T16:26:46+05:00July 28, 2020|Categories: About|

ہومیوپیتھک علاج کی ناکامی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ہومیوپیتھی میں میرے گرو ڈاکٹر جارج وتھالکس (George Vithoulkas) کی نظر میں یہ دو وجوہات بہت ہی اہم ہیں: ۔۔ ایک یہ کہ مریض اپنی پوری علامات نہیں دیتے یا نہیں دے پاتے۔ ۔۔ دوسرے یہ کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر اپنی جلد بازی، کم علمی یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے مکمل علامات نہیں لے پاتا۔ ہومیوپیتھک کیس ٹیکنگ، تشخیص اور علاج بے پناہ محنت، مطالعہ اور تحقیق کا معاملہ ہے۔ جو لوگ ہومیوپیتھی کو صرف دوائی لینا سمجھتے ہیں؛ اُن کو واقعی کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہ بے جا شکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ٹاپ ہومیوپیتھک ڈاکٹر (Top Homeopathic Doctor) سے علاج بھی کروایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اُن کو کون سمجھائے کہ چند علامات یا صرف بیماری کا نام بتا کر ہومیوپیتھک دوائی پوچھنا یا کھانا ہومیوپیتھک علاج ہے ہی نہیں تو اس کی کامیابی کی توقع کیسے کی جاتی ہے۔ رہا میرے علاج کی کامیابی کا معاملہ تو عرض ہے کہ اولاً یہ بات صحیح نہیں ہے کہ میرا علاج ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ میرے اکثر مریضوں کی صحت واضح بہتر ہو جاتی ہے تاہم بہت ساروں کو فائدہ نہیں [...]

کیس ڈسکشن کیا ہے اور اس کے بغیر آپ تشخیص علاج کیوں نہیں کرتے؟ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔ حسین قیصرانی

By |2020-07-24T20:38:06+05:00July 24, 2020|Categories: About|

کیس ڈسکشن ایک پراسیس ہے جسے اختیار کئے بغیر ہومیوپیتھک علاج سے پورا فائدہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ یہ کام صرف چند منٹ کی بات چیت یا فیس بُک یا ٹیکسٹ میسیجز میں سرانجام پانا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیس ڈسکشن میں جہاں یہ بات اہم ہے کہ کوئی مریض ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو اپنے کون کون سے یا کیا کیا مسائل بتاتا ہے؛ وہاں یہ نکتہ اس سے بھی زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے کہ وہ اپنے مسائل کس انداز، لہجے اور آواز سے یا کیسے بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک مریض بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل خود نہیں بتاتا یا بتاتی، اُسے ہومیوپیتھی ٹاپ دوا علاج (Top Homeopathic Medicine, best Doctor, Treatment) سے کوئی واضح فائدہ نہیں ہو سکتا۔ کیس ڈسکشن کے بعد ہی تشخیص ہو سکتی ہے۔ دوائی، پوٹینسی اور دوا کی خوراک کا فیصلہ مریض کے ساتھ کیس ڈسکس کرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ علاج کے دوران مریض کے بدلتے ہوئے حالات اور طبیعت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت کے مطابق دوائی، پوٹینسی اور خوراک میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے اور تکلیف کا سبب تلاش کرنے کے لئے یا مرض کی تہہ تک پہنچنے میں مریض سے [...]

آپ کے علاج کی فیس کتنی ہے اور اس میں کیا کچھ شامل ہے؟ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔ حسین قیصرانی

By |2020-11-29T23:48:04+05:00July 20, 2020|Categories: About|

فیس کی تفصیل جاننے سے پہلے ہومیوپیتھک علاج کے تقاضوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہومیوپیتھک علاج کے اپنے تقاضے ہیں۔ اس میں علامات یا بیماریاں مختصر انداز میں نہیں؛ بلکہ بہت لمبی تفصیل سے ڈاکٹر کو سمجھنی ہوتی ہیں۔ علامات اور تفصیل جتنی کم ہوں گی علاج کی کامیابی کے اِمکانات بھی اُتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ علامات کی تفصیل لینے کو کیس ڈسکشن یا کیس لینا کہتے ہیں۔ فون پر یا ملاقات میں تیس چالیس منٹ کا انٹرویو ہوتا ہے۔ اُس کے بعد گھنٹہ بھر کی ریسرچ۔ پھر جا کر تین ہزار 3000 سے زائد دوائیوں میں سے کوئی ایک دوا منتخب ہوتی ہے جو (ہمیشہ کی نہیں بلکہ) صرف موجودہ یعنی سب سے اوپر کی سطح کے مسائل کو ٹھیک یا حل کرتی ہے۔ دس پندرہ دن بعد پھر یہ کاروائی (یعنی انٹرویو، سوال جواب بذریعہ فون یا ملاقات) دوبارہ ہوتی ہے اور نئی صورت حال کے مطابق پھر کوئی دوائی منتخب ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے تاآنکہ مریض سمجھتا ہے کہ اُس کی صحت بحال ہو چکی ہے اور مسائل حل ہو گئے ہیں یعنی اُس کے پاس بتانے کو کچھ نہیں رہتا۔ فیس کے متعلق حتمی طور پر تو کیس ڈسکس کرنے کے بعد [...]

کیا وجہ ہے کہ آپ میسیج یا فیس بک پر کبھی بھی علاج نہیں بتاتے؟ ایک سوال اور اُس کا جواب ۔۔ حسین قیصرانی

By |2020-07-17T00:54:11+05:00July 17, 2020|Categories: About|

علاج بتانے کی چیز ہے ہی نہیں تو کیسے بتائیں۔ علاج کروایا جاتا ہے۔ اگر علاج پوچھنے سے مراد کسی مرض کی دوائی پوچھنا ہے تو اس کا بھی کبھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ دوائی بتانے سے کوئی مرض یا مریض ٹھیک ہو سکتا ہوتا تو سارے ہسپتال اور کلینک ویران پڑے ہوتے۔ جس طرح ہر کام کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے اسی طرح ہومیوپیتھک علاج بھی ایک مکمل پراسیس ہے جس میں مرحلہ وار کام کیا جاتا ہے۔ حالات کے مطابق ایک دوائی کے بعد دوسری اور پھر تیسری کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔۔ اگر مسئلہ پرانا ہو تو اس کے علاج میں کئی مہینے لگ جاتے ہیں۔ اس دوران علامات کے مطابق کبھی دوائی تبدیل ہوتی ہے تو کبھی پوٹینسی اور کبھی خوراک ۔۔ اس پراسیس یعنی علاج کے آغاز میں تکلیف، مسئلہ اور مرض کے ساتھ ساتھ مریض کو بھی سمجھنا ہوتا ہے۔ مریض سے بے شمار سوالات جوابات ہوتے ہیں۔ یہ مرحلہ تیس چالیس منٹ اور بھرپور توجہ لیتا ہے۔ اس کے بعد کوئی گھنٹہ بھر ریسرچ کرنی ہوتی ہے۔ یہ وجہ ہے کہ میسیج یا فیس بک پر بیماری کا نام یا چند علامات بتا کر دوائی بتانا نا ممکن ہے۔ [...]

July 2016

About Homeopathy

By |2016-08-09T20:22:32+05:00July 23, 2016|Categories: About, Homeopathic Awareness|Tags: , , , |

Homeopathy is a therapeutic system of medicine which is based upon the principle of similars - like cures like – it means that a substance that can cause certain symptoms in a healthy person can cure similar symptoms in an unhealthy person. Homeopathy aims to aid and stimulate the body’s own defense and immune processes. Homeopathic medicines are derived from a variety of plants, animal materials and minerals. These medicines are prescribed to fit each individual’s needs, given in much smaller and less toxic doses than traditional medications, and are used for both prevention and treatment. Established 200 years ago by German physician Samuel Hahneman, and is recognized by the World Health Organization as the second largest therapeutic system in the world. —————————————————————- Homeopathy is a system of medicine, which was discovered and developed by a German allopathic physician, Dr. Samuel Hahnemann, between 1792 and 1842. The then prevalent system of medicine was not at all scientific (in its modern sense). The knowledge of anatomy, physiology, pathology etc. was not advanced enough. Most of these sciences were still in their infancy in the 18th century. Most of the disease causing organisms and conditions were still unknown to the medical fraternity. [...]

August 2015

Hussain Kaisrani

By |2021-01-19T12:00:12+05:00August 21, 2015|Categories: About|

HUSSAIN KAISRANI DHMS, BHMS (UoP), B.Sc. MS ST (University of Wales, UK) MBA (TIU), MA (Philosophy, Urdu, Persian & Political Science). Brief Profile Hussain Kaisrani (aka Ahmad Hussain) is a distinguished Psychotherapist & Chief Consultant at Homeopathic Consultancy, Lahore. He is highly knowledgeable, experienced and capable professional who regularly contributes to various publications and runs a widely read specialized blog on health issues. Mr. Hussain is one of the most sought after speakers at conferences and seminars on health and well being. Mr. Hussain has a strong academic and professional background. Studied DHMS in Noor Memorial Homeopathic Medical College, Lahore (No. 163N/LR/99-2000) and is a registered Homeopathic practitioner (No. 129825) from The National Council of Homeopathy, Government of Pakistan, Islamabad, Pakistan. Completed his degree program – Bachelor of Homeopathic Medicine and Surgery (BHMS) – from The University of Peshawar (FHMC-843). At the University of Wales, UK, Mr. Hussain did his MS SM and completed his dissertation under the supervision of Prof. Dr Abhijit Ganguli at British Institute (BITE), London. While in London, he attended an advanced course on Homeopathic Philosophy & Psychiatry (No. Ph-04753), which greatly enhanced his understanding of human psychology. Besides, he also attended many international seminars [...]