مشہور یورپی ہومیوپیتھک ڈاکٹر اور میرے گرو جارج وتھالکس (George Vithoulkas) نے ہومیوپیتھک علاج میں ناکامی کی وجوہات پر ایک لیکچر دیا تھا۔ اُس وقت تک وہ ساٹھ ہزار سے زائد آن ریکارڈ مریضوں کا علاج کر چکے تھے۔ ساٹھ ہزار کہنا آسان ہے لیکن یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے اپنے سالہا سال کے تجربات کی بنیاد پر ہومیوپیتھک علاج کی ناکامی کی پہلی دو اور سب سے اہم وجوہات یہ بتائی ہیں:

1۔ ایک یہ کہ مریض اپنی پوری علامات نہیں دیتے یا دے پاتے۔
2۔ دوسرے یہ کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر اپنی جلد بازی، کم علمی یا نا تجربہ کاری کی وجہ سے مکمل علامات نہیں لے پاتا۔

وتھالکس نے بتایا تھا کہ وجہ چاہے پہلی ہو یا دوسری، دونوں صورتوں میں علاج ہمیشہ اور بُری طرح ناکام ہی ہوگا۔

ہومیوپیتھی میں میری دلچسپی جارج وتھالکس کو سننے، پڑھنے اور اُن کے تجربات سے سیکھنے کے بعد ہوئی۔ میں نے اپنی پریکٹس اُن ہی کے انداز پر جاری رکھی ہوئی ہے۔ پاکستان میں گنتی کے شاید دو چار ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز ہوں گے جو اِس انداز سے علاج معالجہ میں مصروف ہیں۔

مجھ سے متعلق مریض بخوبی جانتے ہیں کہ ہر مریض کے پہلے انٹرویو کے لئے کم از کم 40 منٹ کا وقت رکھتا ہوں۔ زیادہ سے زیادہ وقت کی تو خیر کوئی حد ہی نہیں ہوا کرتی کیونکہ کئی کیس دو تین سیشن کے بعد ہی واضح ہو پاتے ہیں۔

کوئی بھی مریض اپنا کیس ڈسکس کرنا چاہے تو فون پر بھی وقت دینے کے لئے تیار ہوتا ہوں لیکن ہمارے ہاں مریضوں کی ذہنی کیفیت پریشان کن حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اُن کا سارا زور دوا یا علاج پوچھنے پر ہوتا ہے۔ بجائے اِس کے کہ وہ اپنے تمام چھوٹے بڑے مسئلے ڈسکس کر کے اپنا اصل مسئلہ سمجھیں یا علاج کروائیں؛ وہ صرف ظاہری تکلیف کو کم کرنے کی دوائی یا نسخہ پوچھنے کے لئے منت سماجت کرنے پر ہی اپنا اور ڈاکٹر کا وقت ضائع کرتے ہیں۔ اُن کو کون سمجھائے کہ یہ کام تو گوگل (Google.com) یا ہومیوپیتھک سٹور پر موجود سلیزمین ایک منٹ میں کر دیتا ہے۔

میری اپنے قارئین سے یہ درخواست ہے کہ جب ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے رابطہ کریں تو اپنی ہر چھوٹی بڑی، نئی پرانی، ذاتی، خاندانی، جسمانی، جذباتی، ذہنی اور نفسیاتی تکلیفوں کو کھول کھول کر ڈسکس کریں۔ اگر کسی وجہ سے آپ ایسا نہیں کر سکتے تو ہومیوپیتھک علاج آپ کے لئے نہیں ہے۔

حسین قیصرانی ۔ سائیکوتھراپسٹ & ہومیوپیتھک کنسلٹنٹ ۔ لاہور پاکستان فون نمبر 03002000210۔